Showing posts with label سلام مچھلی شہری. Show all posts
Showing posts with label سلام مچھلی شہری. Show all posts

Thursday, 6 October 2022

مجھ کو آپ سے شکوہ ہے

مجھ کو آپ سے شکوہ ہے


پہلے جب دل رکھ ہی لیا تھا آپ نے پھر دل کیوں‌ توڑا؟

پہلے جب کچھ آس دلائی، آپ نے پھر منہ کیوں ‌موڑا؟

مجھ کو آپ سے شکوہ ہے

مجھ کو آپ سے شکوہ ہے

٭

میں نے آپ کو خط بھیجا تھا

آپ نے بھی زحمت کی تھی

Friday, 7 May 2021

تھوڑی دیر اے ساقی بزم میں اجالا ہے

 تھوڑی دیر اے ساقی بزم میں اجالا ہے

جام خالی ہونے تک چاند ڈھلنے والا ہے

صبح کی حسیں کرنیں ناگ بن کے ڈس لیں گی

میں انہیں سمجھتا ہوں میں نے ان کو پالا ہے

بزمِ نو کی شمعوں کو یہ خبر نہیں ہو گی

کس نے ظلمتِ شب کو روشنی میں ڈھالا ہے

Sunday, 4 December 2016

جنگل کا ناچ جنگلی لباس میں ایک پیکر

جنگل کا ناچ

جنگلی لباس میں ایک پیکرِ گداز
چل رہا ہے جھاڑیوں میں سانپ جھوم جھوم کر
اڑ رہا ہے مور اپنے بال چوم چوم کر
جھیل مانگنے لگی شام کی ہوا سے ساز
ایک بار تین بار
دستِ صندلی اٹھے

وہ اک مزدور لڑکی ہے

مزدور لڑکی

وہ اک مزدور لڑکی ہے
بہت آساں ہے میرے لیے اس کو منا لینا
ذرا آراستہ ہو لوں
مِرا آئینہ کہتا ہے
کسی سب سے بڑے بت ساز کا شہکار ہوں گویا

سات پینٹنگ تصویر وہ بناؤں کہ مسحور ہو سکوں

سات پینٹنگ 

تصویر وہ بناؤں کہ مسحور ہو سکوں
ایسے خطوط کھینچوں کہ مغرور ہو سکوں

(1)
اک نوجواں کو شہر میں تشویشِ روزگار
اور دور ایک گاؤں میں برسات کی بہار
ہاتھوں میں اک حسینہ کے ٹوٹا ہوا ستار

سڑک بن رہی ہے

سڑک بن رہی ہے

مئی کے مہینے کا مانوس منظر
غریبوں کے ساتھی یہ کنکر یہ پتھر
وہاں شہر سے ایک ہی میل ہٹ کر
سڑک بن رہی ہے

زمیں پر کدالوں کو برسا رہے ہیں
پسینے پسینے ہوئے جا رہے ہیں

Friday, 11 November 2016

کاش تم سمجھ سکتیں زندگی میں شاعر کی ایسے دن بھی آتے ہیں

کاش تم سمجھ سکتیں زندگی میں شاعر کی ایسے دن بھی آتے ہیں
جب اسی کے پروردہ چاند اس پہ ہنستے ہیں، پھول مسکراتے ہیں
اب تو میرے شہپارے جو تم ہی سے تھے منسوب، یوں جھلک دکھاتے ہیں
دور ایک مندر میں کچھ دِیے مرادوں کے، جیسے جھلملاتے ہیں
تم نے کب یہ سمجھا تھا، میں نے کب یہ سوچا تھا زندگی کی راہوں میں
چلتے چلتے دو راہی ایک موڑ پر آ کر، خود ہی چھوٹ جاتے ہیں

کبھی کبھی عرض غم کی خاطر ہم اک بہانہ بھی چاہتے ہیں

کبھی کبھی عرضِ غم کی خاطر ہم اک بہانہ بھی چاہتے ہیں 
جب آنسوؤں سے بھری ہوں آنکھیں تو مسکرانا بھی چاہتے ہیں
وہ دل سے تنگ آ کے آج محفل میں حسن کی تمکنت کی خاطر
نظر بچانا بھی چاہتے ہیں،۔ نظر ملانا بھی چاہتے ہیں
مزا جب آئے کہ انتقاماً میں دل کا آئینہ توڑ ڈالوں 
مِرے ہی ہاتھوں سجے ہیں اور اب مجھی پہ چھانا بھی چاہتے ہیں

یہ تازہ خبر شاید تم نے بھی سنی ہو گی

شکست تخیل

یہ تازہ خبر شاید تم نے بھی سنی ہو گی
کل شب کسی شاعر نے، جب چاندنی چھائی تھی
ہنستے ہوئے خود اپنے اشعار جلا ڈالے
اس شہرِ نگاراں کے مشہور مصور نے
اپنی ہی محبت کے شہکار جلا ڈالے
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں، بس وجہ یہی ہو گی

Friday, 4 November 2016

بہت دنوں کی بات ہے فضا کو یاد بھی نہیں

بہت دنوں کی بات ہے
فضا کو یاد بھی نہیں
یہ بات آج کی نہیں
بہت دنوں کی بات ہے
شباب پر بہار تھی
فضا بھی خوشگوار تھی

مشورہ آپ مہ جبین ہیں، خوب جانتا ہوں میں

مشورہ

آپ مہ جبین ہیں، خوب جانتا ہوں میں
جی! بہت حسین ہیں، یہ بھی مانتا ہوں میں
لیکن اپنے حسن پر اس قدر غرور کیوں
اڑ رہی ہیں آسماں پہ آج کل حضور کیوں
جب بھی کوئی بات کی، بات ٹال دی گئی
مسکرا کے میز پر کتاب ڈال دی گئی

اندیشہ آرٹسٹ اپنی یہ تصویر مکمل کر لے

اندیشہ

آرٹسٹ! اپنی یہ تصویر مکمل کر لے
ہاں یہ ہونٹ اور بھی پتلے ہوں، یہ آنکھیں اور بھی مست
لیکن ان آنکھوں کی سرخی کو ذرا کم کر دے
میں نے شاید انہیں مرجھایا ہوا پایا ہے
ہلکے آنسو سے ان آنکھوں کو ذرا نَم کر دے
میں نے افسردہ نگاہوں سے یہی سمجھا ہے