مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
پہلے جب دل رکھ ہی لیا تھا آپ نے پھر دل کیوں توڑا؟
پہلے جب کچھ آس دلائی، آپ نے پھر منہ کیوں موڑا؟
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
٭
میں نے آپ کو خط بھیجا تھا
آپ نے بھی زحمت کی تھی
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
پہلے جب دل رکھ ہی لیا تھا آپ نے پھر دل کیوں توڑا؟
پہلے جب کچھ آس دلائی، آپ نے پھر منہ کیوں موڑا؟
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
٭
میں نے آپ کو خط بھیجا تھا
آپ نے بھی زحمت کی تھی
تھوڑی دیر اے ساقی بزم میں اجالا ہے
جام خالی ہونے تک چاند ڈھلنے والا ہے
صبح کی حسیں کرنیں ناگ بن کے ڈس لیں گی
میں انہیں سمجھتا ہوں میں نے ان کو پالا ہے
بزمِ نو کی شمعوں کو یہ خبر نہیں ہو گی
کس نے ظلمتِ شب کو روشنی میں ڈھالا ہے