Sunday, 4 December 2016

سڑک بن رہی ہے

سڑک بن رہی ہے

مئی کے مہینے کا مانوس منظر
غریبوں کے ساتھی یہ کنکر یہ پتھر
وہاں شہر سے ایک ہی میل ہٹ کر
سڑک بن رہی ہے

زمیں پر کدالوں کو برسا رہے ہیں
پسینے پسینے ہوئے جا رہے ہیں
مگر اس مشقت میں بھی گا رہے ہیں
سڑک بن رہی ہے

مصیبت ہے کوئی مسرت نہیں ہے
انہیں سوچنے کی بھی فرصت نہیں ہے
جمعدار کو کچھ شکایت نہیں ہے
سڑک بن رہی ہے

جواں، نوجواں اور خمیدہ کمر بھی
فسردہ جبیں بھی، بہشت نظر بھی
وہیں شامِ غم بھی جمالِ سحر بھی
سڑک بن رہی ہے

جمعدار سائے میں بیٹھا ہوا ہے
کسی پر اسے کچھ عتاب آ گیا ہے
کسی کی طرف دیکھ کر ہنس رہا ہے
سڑک بن رہی ہے

یہ بے باک الفت، یہ الہڑ اشارا
بسنتی سے رامو تو رامو سے رادھا
جمعدار بھی ہے بسنتی کی شیدا
سڑک بن رہی ہے

اگر سر پر پگڑی تو ہاتھوں میں ہنٹر
چلا ہے جمعدار کس شان سے گھر
بسنتی بھی جاتی ہے پوشیدہ ہو کر
سڑک بن رہی ہے

سمجھتے ہیں لیکن ہیں مسرور اب بھی
اس طرح گاتے ہیں مزدور اب بھی
بہرحال واں حسبِ دستور اب بھی
سڑک بن رہی ہے

سلام مچھلی شہری

No comments:

Post a Comment