تعبیر جانتی ہے سر دار کیوں ہوئے
ہم خواب دیکھنے کے گنہگار کیوں ہوئے
بازار طوطا چشم سے لوٹو تو پوچھنا
ہم بے مروتی کے خریدار کیوں ہوئے
ہم پر عتاب دھوپ کا ہے تو سبب بھی ہے
دشتِ الم میں سایۂ دیوار کیوں ہوئے
تعبیر جانتی ہے سر دار کیوں ہوئے
ہم خواب دیکھنے کے گنہگار کیوں ہوئے
بازار طوطا چشم سے لوٹو تو پوچھنا
ہم بے مروتی کے خریدار کیوں ہوئے
ہم پر عتاب دھوپ کا ہے تو سبب بھی ہے
دشتِ الم میں سایۂ دیوار کیوں ہوئے
رخ بہار پہ عکس خزاں بھی کتنی دیر
مخالفت پہ تُلا آسماں بھی کتنی دیر
کسی کا نام کسی کا نشاں بھی کتنی دیر
ہو جسم خاک تو پھر استخواں بھی کتنی دیر
شکست و ریخت کی اس منزل پریشاں میں
یقیں کی عمر بھی کتنی گماں بھی کتنی دیر
رشتہ بدن کا ختم ہوا اپنی جان سے
ملتی ہے شکل شہر کی میرے مکان سے
خواہش کو اس کی جیسے کوئی دخل ہی نہ تھا
یوں اس نے مجھ کو پھینک دیا آسمان سے
کیسی لگی ہے آگ کہ بجھتی نہیں کبھی
اک سلسلہ ہے کب سے دھویں کا چٹان سے
وہ خوف جاں تھا کہ لب کھولنا گوارا نہ تھا
صدائیں سہمی کچھ ایسی سخن کا یارا نہ تھا
تمام اپنے پرائے کٹے کٹے سے رہے
چھری جو چمکی تو اس نے کسے پکارا نہ تھا
رخ کماں تھا ادھر, تیر کا نشانہ ادھر
ہمارا دوست تو تھا اور مگر ہمارا نہ تھا
باہر باہر دیکھ چکا تُو، اب کچھ اپنے اندر دیکھ
نظارے کا لطف یہی ہے الگ الگ ہر منظر دیکھ
اوپر اوپر بہتا پانی،۔ نیچے نیچے آگ دبی
جلتی بجھتی آگ کے اندر صحرا دیکھ سمندر دیکھ
آگ پہ چلنا، دار پہ چلنا، دن کے نگر کا قصہ یہ
شب کی کہانی یہ کہ بدن پر بے خوابی کی چادر دیکھ
دن کی دہلیز پہ ٹھہرے ہوئے سائے بھی گئے
رات کیا آئی کہ اپنے بھی پرائے بھی گئے
عکس تعبیر کا اُبھرے، یہ تمنا ہی رہی
آئینے خواب کے آنکھوں کو دکھائے بھی گئے
تہمت خوشۂ گندم ہے ابھی تک سر پر
ہم اُچھالے بھی گئے ہم کہ گرائے بھی گئے