Showing posts with label نصر غزالی. Show all posts
Showing posts with label نصر غزالی. Show all posts

Tuesday, 1 November 2022

تعبیر جانتی ہے سر دار کیوں ہوئے

 تعبیر جانتی ہے سر دار کیوں ہوئے

ہم خواب دیکھنے کے گنہگار کیوں ہوئے 

بازار طوطا چشم سے لوٹو تو پوچھنا

ہم بے مروتی کے خریدار کیوں ہوئے 

ہم پر عتاب دھوپ کا ہے تو سبب بھی ہے 

دشتِ الم میں سایۂ دیوار کیوں ہوئے 

Tuesday, 15 March 2022

رخ بہار پہ عکس خزاں بھی کتنی دیر

 رخ بہار پہ عکس خزاں بھی کتنی دیر

مخالفت پہ تُلا آسماں بھی کتنی دیر

کسی کا نام کسی کا نشاں بھی کتنی دیر

ہو جسم خاک تو پھر استخواں بھی کتنی دیر

شکست و ریخت کی اس منزل پریشاں میں

یقیں کی عمر بھی کتنی گماں بھی کتنی دیر

Wednesday, 19 January 2022

رشتہ بدن کا ختم ہوا اپنی جان سے

 رشتہ بدن کا ختم ہوا اپنی جان سے

ملتی ہے شکل شہر کی میرے مکان سے

خواہش کو اس کی جیسے کوئی دخل ہی نہ تھا

یوں اس نے مجھ کو پھینک دیا آسمان سے

کیسی لگی ہے آگ کہ بجھتی نہیں کبھی

اک سلسلہ ہے کب سے دھویں کا چٹان سے

Monday, 17 January 2022

وہ خوف جاں تھا کہ لب کھولنا گوارا نہ تھا

 وہ خوف جاں تھا کہ لب کھولنا گوارا نہ تھا

صدائیں سہمی کچھ ایسی سخن کا یارا نہ تھا

تمام اپنے پرائے کٹے کٹے سے رہے

چھری جو چمکی تو اس نے کسے پکارا نہ تھا

رخ کماں تھا ادھر, تیر کا نشانہ ادھر

ہمارا دوست تو تھا اور مگر ہمارا نہ تھا

Saturday, 15 January 2022

باہر باہر دیکھ چکا تو اب کچھ اپنے اندر دیکھ

 باہر باہر دیکھ چکا تُو، اب کچھ اپنے اندر دیکھ

نظارے کا لطف یہی ہے الگ الگ ہر منظر دیکھ

اوپر اوپر بہتا پانی،۔ نیچے نیچے آگ دبی

جلتی بجھتی آگ کے اندر صحرا دیکھ سمندر دیکھ

آگ پہ چلنا، دار پہ چلنا، دن کے نگر کا قصہ یہ

شب کی کہانی یہ کہ بدن پر بے خوابی کی چادر دیکھ

Monday, 12 July 2021

دن کی دہلیز پہ ٹھہرے ہوئے سائے بھی گئے

 دن کی دہلیز پہ ٹھہرے ہوئے سائے بھی گئے

رات کیا آئی کہ اپنے بھی پرائے بھی گئے

عکس تعبیر کا اُبھرے، یہ تمنا ہی رہی

آئینے خواب کے آنکھوں کو دکھائے بھی گئے

تہمت خوشۂ گندم ہے ابھی تک سر پر

ہم اُچھالے بھی گئے ہم کہ گرائے بھی گئے