اکیلے رہنے کے اوقات بھی خراب ہوئے
الگ بھی ٹھیک نہ تھے ساتھ بھی خراب ہوئے
ستارے توڑ کے لایا تھا اس کو دینے کو
اسے دئیے بھی نہیں ہاتھ بھی خراب ہوئے
محبت اوروں کی قسمت سنوار دیتی ہے
یہ کیا کہ میرے تو دن رات بھی خراب ہوئے
اکیلے رہنے کے اوقات بھی خراب ہوئے
الگ بھی ٹھیک نہ تھے ساتھ بھی خراب ہوئے
ستارے توڑ کے لایا تھا اس کو دینے کو
اسے دئیے بھی نہیں ہاتھ بھی خراب ہوئے
محبت اوروں کی قسمت سنوار دیتی ہے
یہ کیا کہ میرے تو دن رات بھی خراب ہوئے
تیری تلاش کے ماروں کی نیند پوری ہو
ذرا تو بیٹهو، کہ پیروں کی نیند پوری ہو
وصال کر کے جدائی کا نام تک نہ رہے
پهر اتنا جاگیں کہ برسوں کی نیند پوری ہو
خدا تو چاہے گا خوابوں میں سب رہیں مصروف
خدا تو چاہے گا بندوں کی نیند پوری ہو
ترے بغیر تِرے ساتھ، ایک جیسے تھے
کہ ہجر و وصل کے لمحات ایک جیسے تھے
پھر ایک دن وہ سحر خیز میرے پاس آیا
وگرنہ میرے بھی دن رات ایک جیسے تھے
نہ چاہنے پہ بھی اک دوسرے کے ہو ہی گئے
دعا الگ تھی، مگر ہاتھ ایک جیسے تھے
دوست اک شام اکٹھے تو ہوئے رونے کو
پھر بھی آنسو تو بہت کم ہیں تجھے رونے کو
ایک حد تک میرا بیمار ابھی زندہ تھا
اور تیار تھے سب چھوٹے بڑے رونے کو
ہم تو جیسے کہ کنارے پہ کھڑے ہوتے ہیں
وہ اداسی ہے کہ بس بات ملے رونے کو
یہ دکھ نہیں کہ شہر میں میرا کوئی نہیں
یہ دکھ کی بات ہے کہ کسی کا کوئی نہیں
اس کا بچھڑنا لے گیا حسِ مزاح تک
ہنسنے کی بات کرتا ہوں ہنستا کوئی نہیں
سب ظلم ہوتا دیکھنے والوں کی صف میں ہیں
افسوس، اس ہجوم میں اندھا کوئی نہیں
زندگی ہے اجل تو تُو بھی نہیں
سوچتا ہوں اٹل تو تُو بھی نہیں
تیرے ہوتے بھی سب خراب ہی تھا
اور، پھر آج کل تو تُو بھی نہیں
اے شگوفوں میں رنگ بھرتے شخص
اس اداسی کا حل تو تُو بھی نہیں
تُو مطمئن نہیں ہے پر ایسا ہوا تو ہے
اِک پودا ان زمینوں میں آخر اُگا تو ہے
فائل کے بوجھ سے ہی سہی مل رہے تو ہیں
دفتر کے کام سے ہی سہی، رابطہ تو ہے
گاؤں میں ہسپتال نہیں ہے، تو کیا ہوا
گاؤں میں سانس لینے کو تازہ ہوا تو ہے
اکیلے رہنے کے اوقات بھی خراب ہوئے
الگ بھی ٹھیک نہ تھے ساتھ بھی خراب ہوئے
ستارے توڑ کے لایا تھا اس کو دینے کو★☆
اسے دئیے بھی نہیں ہاتھ بھی خراب ہوئے
محبت اوروں کی قسمت سنوار دیتی ہے💖
یہ کیا کہ میرے تو دن رات بھی خراب ہوئے