Showing posts with label اسامہ ضوریز. Show all posts
Showing posts with label اسامہ ضوریز. Show all posts

Monday, 15 March 2021

اکیلے رہنے کے اوقات بھی خراب ہوئے

 اکیلے رہنے کے اوقات بھی خراب ہوئے

الگ بھی ٹھیک نہ تھے ساتھ بھی خراب ہوئے

ستارے توڑ کے لایا تھا اس کو دینے کو

اسے دئیے بھی نہیں ہاتھ بھی خراب ہوئے

محبت اوروں کی قسمت سنوار دیتی ہے

یہ کیا کہ میرے تو دن رات بھی خراب ہوئے

Friday, 8 January 2021

تیری تلاش کے ماروں کی نیند پوری ہو

 تیری تلاش کے ماروں کی نیند پوری ہو

ذرا تو بیٹهو، کہ پیروں کی نیند پوری ہو

وصال کر کے جدائی کا نام تک نہ رہے

پهر اتنا جاگیں کہ برسوں کی نیند پوری ہو

خدا تو چاہے گا خوابوں میں سب رہیں مصروف

خدا تو چاہے گا بندوں کی نیند پوری ہو

Wednesday, 6 January 2021

ترے بغیر ترے ساتھ ایک جیسے تھے

 ترے بغیر تِرے ساتھ، ایک جیسے تھے

کہ ہجر و وصل کے لمحات ایک جیسے تھے

پھر ایک دن وہ سحر خیز میرے پاس آیا

وگرنہ میرے بھی دن رات ایک جیسے تھے

نہ چاہنے پہ بھی اک دوسرے کے ہو ہی گئے

دعا الگ تھی، مگر ہاتھ ایک جیسے تھے

Sunday, 27 December 2020

دوست اک شام اکٹھے تو ہوئے رونے کو

 دوست اک شام اکٹھے تو ہوئے رونے کو

پھر بھی آنسو تو بہت کم ہیں تجھے رونے کو

ایک حد تک میرا بیمار ابھی زندہ تھا

اور تیار تھے سب چھوٹے بڑے رونے کو

ہم تو جیسے کہ کنارے پہ کھڑے ہوتے ہیں

وہ اداسی ہے کہ بس بات ملے رونے کو

یہ دکھ نہیں کہ شہر میں میرا کوئی نہیں

 یہ دکھ نہیں کہ شہر میں میرا کوئی نہیں

یہ دکھ کی بات ہے کہ کسی کا کوئی نہیں

اس کا بچھڑنا لے گیا حسِ مزاح تک

ہنسنے کی بات کرتا ہوں ہنستا کوئی نہیں

سب ظلم ہوتا دیکھنے والوں کی صف میں ہیں

افسوس، اس ہجوم میں اندھا کوئی نہیں

Saturday, 26 December 2020

زندگی ہے اجل تو تو بھی نہیں

 زندگی ہے اجل تو تُو بھی نہیں

سوچتا ہوں اٹل تو تُو بھی نہیں

تیرے ہوتے بھی سب خراب ہی تھا

اور، پھر آج کل تو تُو بھی نہیں

اے شگوفوں میں رنگ بھرتے شخص

اس اداسی کا حل تو تُو بھی نہیں

تو مطمئن نہیں ہے پر ایسا ہوا تو ہے

 تُو مطمئن نہیں ہے پر ایسا ہوا تو ہے

اِک پودا ان زمینوں میں آخر اُگا تو ہے

فائل کے بوجھ سے ہی سہی مل رہے تو ہیں

دفتر کے کام سے ہی سہی، رابطہ تو ہے

گاؤں میں ہسپتال نہیں ہے، تو کیا ہوا

گاؤں میں سانس لینے کو تازہ ہوا تو ہے

Friday, 25 December 2020

اکیلے رہنے کے اوقات بھی خراب ہوئے

 اکیلے رہنے کے اوقات بھی خراب ہوئے

الگ بھی ٹھیک نہ تھے ساتھ بھی خراب ہوئے

ستارے توڑ کے لایا تھا اس کو دینے کو★☆

اسے دئیے بھی نہیں ہاتھ بھی خراب ہوئے

محبت اوروں کی قسمت سنوار دیتی ہے💖

یہ کیا کہ میرے تو دن رات بھی خراب ہوئے