Sunday, 1 November 2026

یا خدا خلق کو جینے کا سہارا ہو جائے

 یا خُدا! خلق کو جینے کا سہارا ہو جائے

ابرِ رحمت کو برسنے کا اشارہ ہو جائے

جوش میں ابرِ کرم آئے تو جل تھل بھر جائیں

کب سے ناکام ہیں اب کام ہمارا ہو جائے

باغ شاداب ہو، کھیتی ہو ہری، دل ہوں نہال

عیش و آرام سے خلقت کا گُزارا ہو جائے

اپنے مخلوق کو تو کال کے پھندے سے نکال

یہ مصیبت نہیں ایسی کہ گوارا ہو جائے

اس تباہی میں ہے تھوڑی سی عنایت ہی بہت

ڈُوبتے کے لیے تنکے کا سہارا ہو جائے

ایک چِھینٹا جو پڑے ابر و کرم کا تیرے

درد و دُکھ دور ہمارا ابھی سارا ہو جائے


امیر مینائی

No comments:

Post a Comment