Showing posts with label دنیش کمار. Show all posts
Showing posts with label دنیش کمار. Show all posts

Saturday, 14 October 2023

بعد مرنے کے بھی دنیا میں ہو چرچا میرا

 بعد مرنے کے بھی دنیا میں ہو چرچا میرا

ایسی شہرت کی بلندی ہو ٹھکانہ میرا

میں ہوں اک پریم پجاری اے مِری جان حیات

تُو ہے مندر، تُو کلیسا، تُو ہی کعبہ میرا

میرے بیٹے کی نگاہوں میں ہیں کچھ خواب مِرے

زندگی اس کی ہے جینے کا سہارا میرا

Wednesday, 23 March 2022

اپنے خوابوں کے میکدے میں ہوں

 اپنے خوابوں کے میکدے میں ہوں

رِند ہوں، میں ذرا نشے میں ہوں

موت ہی میری آخری منزل

میں جنم سے ہی قافلے میں ہوں

جب اڑوں گا، فلک بھی چوموں گا

میں ابھی تک تو گھونسلے میں ہوں

Monday, 14 February 2022

خبر کہاں تھی مجھے پہلے اس خزانے کی

 خبر کہاں تھی مجھے پہلے اس خزانے کی

غموں نے راہ دکھائی شراب خانے کی

چراغ دل نے کی حسرت جو مسکرانے کی

تو کھلکھلا کے ہنسیں آندھیاں زمانے کی

میں شاعری کا ہنر جانتا نہیں بے شک

عجیب دھن ہے مجھے قافیہ ملانے کی

Tuesday, 1 February 2022

روز کے انتظام سے پہلے

 روز کے انتظام سے پہلے

میں نے کل پی لی شام سے پہلے

گھونٹ بھرنے پہ ہوش آیا تھا

میں نشے میں تھا جام سے پہلے

کیا کروں اب زبان سے میری

رم نکلتا ہے رام سے پہلے

Sunday, 16 January 2022

سب کے چہروں پہ جب خوشی ہو گی

 سب کے چہروں پہ جب خوشی ہو گی

کیا دنیش! ایسی صبح بھی ہو گی؟

لوگ نکلے ہیں جو یہ شمع لیے

نربھیا پھر کوئی لُٹی ہو گی

سرد موسم میں بے گھروں کی دِشا

بے بسی خود بھی رو رہی ہو گی

Wednesday, 5 January 2022

ہنر نہیں جو ہواؤں کے پر کترنے کا

 ہنر نہیں جو ہواؤں کے پر کترنے کا

رہے گا خوف ہمیشہ ہی بجھ کے مرنے کا

ہم آئینوں کے مخاطب نہ ہو سکیں گے کبھی

ہمیں تو خطرہ ہے اپنا نقاب اترنے کا

وفا کی راہ پہ مرنا بھی تھا مجھے منظور

کوئی تو ہو گا سبب میرے اب مُکرنے کا

Friday, 24 September 2021

ترا وجود تری شخصیت کہانی کیا

 تِرا وجود تِری شخصیت کہانی کیا

کسی کے کام نہ آئے تو زندگانی کیا

ہوس ہے جسم کی آنکھوں سے پیار غائب ہے

بدل گئے ہیں سبھی عشق کے معانی کیا

ازل سے جاری ہے تا حشر ہی چلے گا سفر

سمے کے سامنے دریاؤں کی روانی کیا