بعد مرنے کے بھی دنیا میں ہو چرچا میرا
ایسی شہرت کی بلندی ہو ٹھکانہ میرا
میں ہوں اک پریم پجاری اے مِری جان حیات
تُو ہے مندر، تُو کلیسا، تُو ہی کعبہ میرا
میرے بیٹے کی نگاہوں میں ہیں کچھ خواب مِرے
زندگی اس کی ہے جینے کا سہارا میرا
بعد مرنے کے بھی دنیا میں ہو چرچا میرا
ایسی شہرت کی بلندی ہو ٹھکانہ میرا
میں ہوں اک پریم پجاری اے مِری جان حیات
تُو ہے مندر، تُو کلیسا، تُو ہی کعبہ میرا
میرے بیٹے کی نگاہوں میں ہیں کچھ خواب مِرے
زندگی اس کی ہے جینے کا سہارا میرا
اپنے خوابوں کے میکدے میں ہوں
رِند ہوں، میں ذرا نشے میں ہوں
موت ہی میری آخری منزل
میں جنم سے ہی قافلے میں ہوں
جب اڑوں گا، فلک بھی چوموں گا
میں ابھی تک تو گھونسلے میں ہوں
خبر کہاں تھی مجھے پہلے اس خزانے کی
غموں نے راہ دکھائی شراب خانے کی
چراغ دل نے کی حسرت جو مسکرانے کی
تو کھلکھلا کے ہنسیں آندھیاں زمانے کی
میں شاعری کا ہنر جانتا نہیں بے شک
عجیب دھن ہے مجھے قافیہ ملانے کی
روز کے انتظام سے پہلے
میں نے کل پی لی شام سے پہلے
گھونٹ بھرنے پہ ہوش آیا تھا
میں نشے میں تھا جام سے پہلے
کیا کروں اب زبان سے میری
رم نکلتا ہے رام سے پہلے
سب کے چہروں پہ جب خوشی ہو گی
کیا دنیش! ایسی صبح بھی ہو گی؟
لوگ نکلے ہیں جو یہ شمع لیے
نربھیا پھر کوئی لُٹی ہو گی
سرد موسم میں بے گھروں کی دِشا
بے بسی خود بھی رو رہی ہو گی
ہنر نہیں جو ہواؤں کے پر کترنے کا
رہے گا خوف ہمیشہ ہی بجھ کے مرنے کا
ہم آئینوں کے مخاطب نہ ہو سکیں گے کبھی
ہمیں تو خطرہ ہے اپنا نقاب اترنے کا
وفا کی راہ پہ مرنا بھی تھا مجھے منظور
کوئی تو ہو گا سبب میرے اب مُکرنے کا
تِرا وجود تِری شخصیت کہانی کیا
کسی کے کام نہ آئے تو زندگانی کیا
ہوس ہے جسم کی آنکھوں سے پیار غائب ہے
بدل گئے ہیں سبھی عشق کے معانی کیا
ازل سے جاری ہے تا حشر ہی چلے گا سفر
سمے کے سامنے دریاؤں کی روانی کیا