اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد
وہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یاد
کیا لطف اٹھائے گا جہان گزراں کا
وہ شخص کہ جس شخص کو رہتی ہو قضا یاد
ہم کاگ اڑا دیتے ہیں بوتل کا اسی وقت
گرمی میں بھی آ جاتی ہے جب کالی گھٹا یاد
اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد
وہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یاد
کیا لطف اٹھائے گا جہان گزراں کا
وہ شخص کہ جس شخص کو رہتی ہو قضا یاد
ہم کاگ اڑا دیتے ہیں بوتل کا اسی وقت
گرمی میں بھی آ جاتی ہے جب کالی گھٹا یاد
غم کو وجہِ حیات کہتے ہیں
آپ بھی خوب بات کہتے ہیں
آپ سے ہے وہ یا ہمیں سے ہے
ہم جسے کائنات کہتے ہیں
کور ذوقی کی انتہا یہ ہے
لوگ دن کو بھی رات کہتے ہیں
زندگی کیا ہے ابتلا کے سوا
شکوۂ درد لا دوا کے سوا
تیری دنیا میں کیا نہیں ملتا
اک دلِ درد آشنا کے سوا
چارۂ دردِ زندگی کیا ہے
آہِ جانکاہ و التجا کے سوا
ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے
نظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹے
اب آ گئے ہو تو میرے قریب آ بیٹھو
دوئی کے نقش مٹاؤ کہ غم کی رات کٹے
شبِ فراق ہے شمعِ امید لے آؤ
کوئی چراغ جلاؤ کہ غم کی رات کٹے
دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کر
مےکدے میں خدا کی بات نہ کر
میں تو بے مہریوں کا عادی ہوں
مجھ سے مہر و وفا کی بات نہ کر
شوقِ بے مدعا کا مارا ہوں
شوقِ بے مدعا کی بات نہ کر