Showing posts with label دوارکا داس شعلہ. Show all posts
Showing posts with label دوارکا داس شعلہ. Show all posts

Sunday, 17 October 2021

اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد

 اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد

وہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یاد

کیا لطف اٹھائے گا جہان گزراں کا

وہ شخص کہ جس شخص کو رہتی ہو قضا یاد

ہم کاگ اڑا دیتے ہیں بوتل کا اسی وقت

گرمی میں بھی آ جاتی ہے جب کالی گھٹا یاد

غم کو وجہ حیات کہتے ہیں

 غم کو وجہِ حیات کہتے ہیں

آپ بھی خوب بات کہتے ہیں

آپ سے ہے وہ یا ہمیں سے ہے

ہم جسے کائنات کہتے ہیں

کور ذوقی کی انتہا یہ ہے

لوگ دن کو بھی رات کہتے ہیں

Saturday, 16 October 2021

زندگی کیا ہے ابتلا کے سوا

 زندگی کیا ہے ابتلا کے سوا

شکوۂ درد لا دوا کے سوا

تیری دنیا میں کیا نہیں ملتا

اک دلِ درد آشنا کے سوا

چارۂ‌ دردِ زندگی کیا ہے

آہِ جانکاہ‌ و التجا کے سوا

Saturday, 15 May 2021

ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے

 ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے

نظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹے

اب آ گئے ہو تو میرے قریب آ بیٹھو

دوئی کے نقش مٹاؤ کہ غم کی رات کٹے

شبِ فراق ہے شمعِ امید لے آؤ

کوئی چراغ جلاؤ کہ غم کی رات کٹے

Monday, 10 May 2021

دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کر

 دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کر

مےکدے میں خدا کی بات نہ کر

میں تو بے مہریوں کا عادی ہوں

مجھ سے مہر و وفا کی بات نہ کر

شوقِ بے مدعا کا مارا ہوں

شوقِ بے مدعا کی بات نہ کر