ولایت
آگ مٹی کو کبھی سجدہ نہیں کرے گی
آخری جنگِ عظیم کے بعد
(کائنات کی تعمیر نو کے لیے)
فریقین ایک دوسرے سے سمجھوتہ کر چکے ہیں
فرشتے اپنے کٹے پھٹے پروں کے ساتھ
ولایت
آگ مٹی کو کبھی سجدہ نہیں کرے گی
آخری جنگِ عظیم کے بعد
(کائنات کی تعمیر نو کے لیے)
فریقین ایک دوسرے سے سمجھوتہ کر چکے ہیں
فرشتے اپنے کٹے پھٹے پروں کے ساتھ
اپنے بدن کی جھونپڑی میں، دل اکیلا تھا بہت
باہر تو روشن تھادیا، اندر اندھیرا تھا بہت
بس اک ایموجی بھیج کر، خاموش ہو جاتی تھی وہ
اک لفظ لکھنا تھا مجھے اس بیچ کہنا تھا بہت
کیفے کے رش میں ہی سہی، مجھ سے مخاطب تو ہوئی
میں نے بھی رستہ دے دیا، حالانکہ رستہ تھا بہت
مِرے وجود کو موجودگی دکھاتی تھی
دِیے کی لَو مجھے دیوار کا بتاتی تھی
میں جب زمین سے زہرہ پہ جایا کرتا تھا
تو کائنات کی زنجیر کھینچی جاتی تھی
وہ کیا کرن تھی جو آتی تھی میرے سینے میں
تمہاری دھوپ جب اس جلد تک نہ آتی تھی