Showing posts with label فیضان ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label فیضان ہاشمی. Show all posts

Sunday, 3 April 2022

آگ مٹی کو کبھی سجدہ نہیں کرے گی

 ولایت


آگ مٹی کو کبھی سجدہ نہیں کرے گی 

آخری جنگِ عظیم کے بعد

(کائنات کی تعمیر نو کے لیے) 

فریقین ایک دوسرے سے سمجھوتہ کر چکے ہیں 

فرشتے اپنے کٹے پھٹے پروں کے ساتھ

Thursday, 29 April 2021

اپنے بدن کی جھونپڑی میں دل اکیلا تھا بہت

 اپنے بدن کی جھونپڑی میں، دل اکیلا تھا بہت

باہر تو روشن تھادیا، اندر اندھیرا تھا بہت

بس اک ایموجی بھیج کر، خاموش ہو جاتی تھی وہ

اک لفظ لکھنا تھا مجھے اس بیچ کہنا تھا بہت

کیفے کے رش میں ہی سہی، مجھ سے مخاطب تو ہوئی

میں نے بھی رستہ دے دیا، حالانکہ رستہ تھا بہت

Monday, 8 March 2021

مرے وجود کو موجودگی دکھاتی تھی

 مِرے وجود کو موجودگی دکھاتی تھی

دِیے کی لَو مجھے دیوار کا بتاتی تھی

میں جب زمین سے زہرہ پہ جایا کرتا تھا

تو کائنات کی زنجیر کھینچی جاتی تھی

وہ کیا کرن تھی جو آتی تھی میرے سینے میں

تمہاری دھوپ جب اس جلد تک نہ آتی تھی

Tuesday, 18 August 2020

اپنے خلا میں لا کے یہ تم کو دکھا رہا ہوں میں

اپنے خلا میں لا کے یہ تم کو دکھا رہا ہوں میں
وہ جو خلا نورد ہیں ان کے لیے خلا ہوں میں
عشق ہوا نہیں مجھے، عشق کو ہو گیا ہوں میں
اتنا نہیں بچا ہوا،۔ جتنا پڑا ہوا ہوں میں
مٹی یہاں کی ٹھیک ہے مٹی سے کچھ گِلا نہیں
آنکھیں ملا ملا کہ بس پانی بدل رہا ہوں میں

اپنے منظر کو میں منظر میں اگر لا سکتا

اپنے منظر کو میں منظر میں اگر لا سکتا
پھر یہ نظارہ بھی تصویر نہ کھچوا سکتا
سامنے رکھتا ہر اک پل میں کسی کی آنکھیں
اپنی آنکھوں کو اگر تحفہ دیا جا سکتا
ایسا اک وقت مِری آنکھ نے ایجاد کیا
جس کے دوران کوئی وقت نہیں آ سکتا

Monday, 17 August 2020

سامنے ہوتے تھے پہلے جس قدر ہوتے تھے ہم

سامنے ہوتے تھے پہلے جس قدر ہوتے تھے ہم
جب یہ نظارے نہیں تھے تب نظر ہوتے تھے ہم
💘تب نیا مٹی سے اٹھا تھا محبت کا خمیر💘
ہر کسی کوزے میں دو اک گھونٹ بھر ہوتے تھے ہم
جس پری پر مر مٹے تھے، وہ پری زادی نہ تھی 
بعد میں جانا کہ اس کے دونوں پر ہوتے تھے ہم

اسی جہاز کے صحرا میں ڈوب جانے کی

اسی جہاز کے صحرا میں ڈوب جانے کی
خبر ملی تھی مجھے خواب میں خزانے کی
بہت سے دیدہ و نادیدہ خواب سامنے تھے
اک ایسی سمت تھی کروٹ مِرے سرہانے کی
ہر ایک کام سہولت سے ہوتا رہتا تھا
کوئی خلش نہیں ہوتی تھی کر دکھانے کی

Sunday, 16 August 2020

ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے

ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے
رات ہوتی ہے تو اندر سے کوئی جاگتا ہے
بے خطر جاگتے رہنا بھی کوئی جاگنا ہے
نیند آ جائے گی اس ڈر سے کوئی جاگتا ہے
آنکھ کا تارہ ☆ کہیں خواب کا سیارہ کہیں
صبح اس حال میں بستر سے کوئی جاگتا ہے

Saturday, 15 August 2020

دونوں جہاں سے آ گیا کر کے ادھر ادھر کی سیر

دونوں جہاں سے آ گیا کر کے اِدھر اُدھر کی سیر
پوچھو نہ جا رہا ہوں میں کرنے کو اب کدھر کی سیر
مٹی کی خوبصورتی، مٹی میں مل کے دیکھیے
چھوڑئیے اس مکین کو، کیجیے اپنے گھر کی سیر
دیکھی نہیں تھی چاک نے، اچھی طرح سے دیکھ لی
ویسے بھی دلفریب تھی کوزے پہ کوزہ گر کی سیر

Friday, 14 August 2020

اندمالی میں یہ احساسِ زیاں تھا پہلے

اندمالی میں یہ احساسِ زیاں تھا پہلے
زخم تو بعد میں آیا ہے، نشاں تھا پہلے
پٹڑیاں بعد میں وحشت کی علامت بنی ہیں
خودکشی کرنے کو گاؤں میں کنواں تھا پہلے
دل میں رہنے کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں
تجھ کو معلوم نہیں؟ کون یہاں تھا پہلے

ملا رہا ہوں ترا حسن کائنات کے ساتھ

ملا رہا ہوں تِرا حُسن🙂 کائنات کے ساتھ
فزکس کھول کے بیٹھا ہوں دینیات کے ساتھ
یہ پوسٹر تو بھلا ہے،۔ مگر پڑھے لکھو
ذرا سا دل بھی تو رکھو قلم دوات کے ساتھ
یہ عشق ایک دِیا🪔 ہر طرف دکھاتا ہے
میں جی رہا ہوں تواتر سے معجزات کے ساتھ

فرشتہ پڑھتا ہماری نیکی بدی نکلتی

براؤزنگ میں زمین کی ہسٹری نکلتی
فرشتہ پڑھتا ہماری نیکی، بدی نکلتی
سب اپنی اپنی محبتوں کی کہانی کہتے
الاؤ بجھتا تو دوستوں کی ہنسی نکلتی
نیا جزیرہ نکلتا ماتھے کو چومنے سے
سمندروں سے امید ٹوٹی ہوئی نکلتی

Tuesday, 7 July 2020

کیسے بتائیں حسن اس کا بس اسی پر ختم ہے

کیسے بتائیں "حسن" اس کا بس اسی پر ختم ہے
اس داستاں کی ہر کہانی اس "پری" پر ختم ہے
دو کپ ہیں چاۓ سے بھرے اک میز پر رکھے ہوۓ
دو کرسیاں خالی ہیں، اور منظر "اسی" پر ختم ہے
ایسی خوشی جو عمر بھر ڈھونڈے سے بھی ملتی نہیں
اس گاؤں کے اک شخص کی آنکھوں میں تھی پر ختم ہے

زمینی فیصلوں کو آسمانوں میں نہیں کرتے

زمینی فیصلوں کو "آسمانوں" میں نہیں کرتے
محبت اپنے سے اونچے گھرانوں میں نہیں کرتے
نصابوں نے نئے مزدور پیدا کر دیے ہوں گے
ہم ایسے کارنامے "کارخانوں" میں نہیں کرتے
کہانی سب نے ہی سومیرین لوگوں سے چوری کی
وہ جن کا ذکر تک ہم داستانوں میں نہیں کرتے