ہوئے وقتِ آخری مہرباں،۔ دمِ اولیں جو خفا ہوئے
وہ ابد میں آ کے گلے ملے جو ازل میں ہم سے جدا ہوئے
یہ الٰہی کیسا غضب ہوا؟ وہ سمائے مجھ میں تو کیا ہوئے
مِرا دل بنے تو تڑپ گئے، مرا سر بنے تو جدا ہوئے
گرے ذات میں تو ہے جملہ اوست اٹھے جب صفت میں ہمہ از دست
کہا کون ہو؟ تو ملے رہے،۔ کہا نام کیا؟ تو جدا ہوئے