Showing posts with label احمد حسین مائل. Show all posts
Showing posts with label احمد حسین مائل. Show all posts

Saturday, 1 October 2022

ہوئے وقت آخری مہرباں دم اولیں جو خفا ہوئے

 ہوئے وقتِ آخری مہرباں،۔ دمِ اولیں جو خفا ہوئے 

وہ ابد میں آ کے گلے ملے جو ازل میں ہم سے جدا ہوئے

یہ الٰہی کیسا غضب ہوا؟ وہ سمائے مجھ میں تو کیا ہوئے 

مِرا دل بنے تو تڑپ گئے، مرا سر بنے تو جدا ہوئے

گرے ذات میں تو ہے جملہ اوست اٹھے جب صفت میں ہمہ از دست 

کہا کون ہو؟ تو ملے رہے،۔ کہا نام کیا؟ تو جدا ہوئے 

Tuesday, 22 February 2022

چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیا

 چوری سے دو گھڑی جو نظارے ہوئے تو کیا

چلمن تو بیچ میں ہے اشارے ہوئے تو کیا

بوسہ دہی کا لطف ملا، حُسن بڑھ گیا

رُخسار لال لال تمہارے ہوئے تو کیا

بے پردہ منہ دکھا کے مِرے ہوش اڑاؤ تم

پردے کی آڑ سے جو نظارے ہوئے تو کیا

Friday, 3 December 2021

سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ

 سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹ

جو اس نے آئینہ دیکھا تو خود ہی کھائی چوٹ

نظر لڑی جو نظر سے تو دل پر آئی چوٹ 

گرے کلیم سرِ طور ایسی کھائی چوٹ 

بڑے دماغ سے مارا نظر سے جب مارا 

بڑے غرور سے آئی جو دل پر آئی چوٹ 

Saturday, 12 December 2020

وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذ

 وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذ

ہیں دونوں بازو پہ اس کے ادھر ادھر تعویذ

وہ ہم نہیں جو ہوں دیوانے ایسے کاموں سے

کسے پلاتے ہو پانی میں گھول کر تعویذ

اٹھے گا پھر نہ کلیجے میں میٹھا میٹھا درد

اگر لکھے مرے دل پر تری نظر تعویذ

Friday, 11 December 2020

محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نماز

محشر میں چلتے چلتے کروں گا ادا نماز

پڑھ لوں گا پل صراط پہ مائل قضا نماز

سر جائے عمر بھر کی ہو یا رب ادا نماز

آئے مری قضا تو پڑھوں میں قضا نماز

مانگی نجات ہجر سے تو موت آ گئی

روزے گلے پڑے جو چھڑانے گیا نماز

Thursday, 10 December 2020

نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب

 نکلی جو روح ہو گئے اجزائے‌ تن خراب

اک شمع بجھ گئی تو ہوئی انجمن خراب

کیوں ڈالتا ہے خاک کہ ہو گا کفن خراب

میں ہوں سفید پوش نہ کر پیرہن خراب

جی میں یہ ہے کہ دل ہی کو سجدے کیا کروں

دیر و حرم میں لوگ ہیں اے جان من خراب

میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث

میں ہی مطلوب خود ہوں تو ہے عبث

آج سے تیری جستجو ہے عبث

سادگی میں ہے لاکھ لاکھ بناؤ

آئینہ تیرے روبرو ہے عبث

مجھ کو دونوں سے کچھ مزا نہ ملا

دل عبث دل کی آرزو ہے عبث

Wednesday, 9 December 2020

پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

 پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیں

آئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیں

وصل کا لطف مجھے وصل سے پہلے ہی ملا

جب کہا یار نے گھبرا کے یہ کیا کرتے ہیں

اس قدر تھا مجھے الفت میں بھروسا ان پر

کی جفا بھی تو یہ سمجھا کہ وفا کرتے ہیں

Tuesday, 8 December 2020

کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواب

 کیا روز حشر دوں تجھے اے داد گر جواب

اعمال نامہ کا تو ہے پیشانی پر جواب

رک رک کے ہنس کے یوں ہی تو دے فتنہ گر جواب

دیتا ہے اور لطف مجھے تیرا ہر جواب

کس سے مثال دوں تری زلف دراز کو

عمر‌ طویل خضر ہے اک مختصر جواب