Showing posts with label شہباز رانجھا. Show all posts
Showing posts with label شہباز رانجھا. Show all posts

Friday, 14 April 2023

ایسے ہم جلے ہیں اب

 ایسے ہم جلے ہیں اب

مرنے کو چلے ہیں اب

دل گھٹا گھٹا سا ہے

لب مِرے سِلے ہیں اب

آندھیاں چلیں گی سن

پات بھی ہلے ہیں اب

Saturday, 18 June 2022

ظلم ہے قہر ہے قیامت ہے

 ظلم ہے، قہر ہے، قیامت ہے

عشق کی آج پھر، امامت ہے

کرب کا لمحہ ہے بہت بھاری

لوٹ کر آؤ تو، عنایت ہے

زندگی آج ہے بنی مشکل

کھوٹ ہے، زہر ہے، ملاوٹ ہے

Tuesday, 19 April 2022

کچھ تو پرجوش بیاں رکھتے ہیں

 کچھ تو پُر جوش بیاں رکھتے ہیں

ہم جو نظروں کی زباں رکھتے ہیں

سامنے گو ہے کھڑی اب پیری

حوصلے پھر بھی جواں رکھتے ہیں

گو خبر ہے کہ کدھر جائیں گے

صدیوں کا پھر یہ گماں رکھتے ہیں

Monday, 18 April 2022

تہہ ساگر سے صدف ڈھونڈ رہا ہوں

 تہِ ساگر سے صدف ڈھونڈ رہا ہوں

میں اسے چار طرف ڈھونڈ رہا ہوں

یوں بھروسہ ہے اٹھا شہر وفا سے

نہ مدینہ، نہ نجف ڈھونڈ رہا ہوں

نہ گرائے نہ جھکائے جو کبھی سر

میں ابھی ایسے کلف ڈھونڈ رہا ہوں

Wednesday, 30 March 2022

رعنائیاں غضب کی غضب کا جمال تھا

رعنائیاں غضب کی غضب کا جمال تھا

ان پر نظر کا ٹکنا تبھی تو محال تھا

یوں بیخودی میں اٹھتے رہے پاؤں جو مِرے

ہر رقص میں یہ جذبِ عطا کی دھمال تھا

میری یہ خود سری تو اثاثہ بنا مِرا

پروازِ شوق میرا یہ اپنی مثال تھا

Thursday, 3 March 2022

منزلیں دیکھتے دیکھتے چل دئیے

 منزلیں دیکھتے دیکھتے چل دئیے

یار سب کھیلتے کھیلتے چل دئیے

دامنِ غیر کو ہم نے تھاما نہیں

تہمتیں عشق کی جھیلتے چل دئیے

آگ جن کے مزاجوں میں لگتی رہی

اب سبھی آگ وہ سیکتے چل دئیے

Sunday, 27 February 2022

سیکھ لیا ہے تمہارے شہر میں رہنا

 سیکھ لیا ہے، تمہارے شہر میں رہنا

حبس میں جینا، حصار زہر میں رہنا

ظلم یہ دیکھو، حلال آج ہوا ہے

خون کا پینا، عطائی لہر میں رہنا

حال یہ ہوتا ہے یار وصل کے لمحے

ماہی کا بچنا، پرائی نہر میں رہنا

Saturday, 19 February 2022

کون ہے اب کے وفا جو کرے

 کون ہے اب کے وفا جو کرے

درد کی میرے دوا جو کرے

عشق سے دور رہے وہ سدا

دیکھ کے سُولی گِلہ جو کرے

دل میں مِرے وہ بسے گا کیا

دور ہی دور رہا جو کرے

Tuesday, 15 February 2022

ظلم ہے قہر ہے قیامت ہے

 ظلم ہے، قہر ہے، قیامت ہے

آج پھر عشق کی امامت ہے

لمحہ ہے ہجر کا بہت بھاری

لوٹ کر آؤ تو عنایت ہے

زندگی آج ہے بنی مشکل

کھوٹ ہے، زہر ہے، ملاوٹ ہے

Monday, 14 February 2022

ترے دل میں محبت ہے عاشقی کر

 ترے دل میں محبت ہے، عاشقی کر

اگر پانے کی حاجت ہے، عاشقی کر

اگر تم شان سے جینا چاہتے ہو

ابھی من میں رقابت ہے، عاشقی کر

وفا کو زندگی میں بھی اب جگہ دے

وفا میں ہی لطافت ہے، عاشقی کر

Sunday, 13 February 2022

افسردہ افسردہ بیٹھے ہو تم

دلکش مرحوم کی یاد میں


 افسردہ، افسردہ، بیٹھے ہو تم

اب دلکش کا نوحہ کہتے ہو تم

سوکھی آنکھوں سے دھوکا دیتے ہو

من کے ساگر میں بھی بہتے ہو تم

سن کر مرنے کی خبریں اب یارو

کیسے کیسے دُکھڑے سہتے ہو تم

Sunday, 3 January 2021

دیوانے نکلے ہیں بے وقت کفن پہنے

 دیوانے نکلے ہیں بے وقت کفن پہنے

حاکم بھی لرزاں ہیں ہے تخت کفن پہنے

گھبراہٹ ہے چہرے پہ آج شکاری کے

پنچھی نکلے سب ہیں یوں سخت کفن پہنے

کلہاڑے گر لائے ہیں شاہ کے ساتھی بھی

سمجھو یارو! اب تو ہے رخت کفن پہنے