ایسے ہم جلے ہیں اب
مرنے کو چلے ہیں اب
دل گھٹا گھٹا سا ہے
لب مِرے سِلے ہیں اب
آندھیاں چلیں گی سن
پات بھی ہلے ہیں اب
ایسے ہم جلے ہیں اب
مرنے کو چلے ہیں اب
دل گھٹا گھٹا سا ہے
لب مِرے سِلے ہیں اب
آندھیاں چلیں گی سن
پات بھی ہلے ہیں اب
ظلم ہے، قہر ہے، قیامت ہے
عشق کی آج پھر، امامت ہے
کرب کا لمحہ ہے بہت بھاری
لوٹ کر آؤ تو، عنایت ہے
زندگی آج ہے بنی مشکل
کھوٹ ہے، زہر ہے، ملاوٹ ہے
کچھ تو پُر جوش بیاں رکھتے ہیں
ہم جو نظروں کی زباں رکھتے ہیں
سامنے گو ہے کھڑی اب پیری
حوصلے پھر بھی جواں رکھتے ہیں
گو خبر ہے کہ کدھر جائیں گے
صدیوں کا پھر یہ گماں رکھتے ہیں
تہِ ساگر سے صدف ڈھونڈ رہا ہوں
میں اسے چار طرف ڈھونڈ رہا ہوں
یوں بھروسہ ہے اٹھا شہر وفا سے
نہ مدینہ، نہ نجف ڈھونڈ رہا ہوں
نہ گرائے نہ جھکائے جو کبھی سر
میں ابھی ایسے کلف ڈھونڈ رہا ہوں
رعنائیاں غضب کی غضب کا جمال تھا
ان پر نظر کا ٹکنا تبھی تو محال تھا
یوں بیخودی میں اٹھتے رہے پاؤں جو مِرے
ہر رقص میں یہ جذبِ عطا کی دھمال تھا
میری یہ خود سری تو اثاثہ بنا مِرا
پروازِ شوق میرا یہ اپنی مثال تھا
منزلیں دیکھتے دیکھتے چل دئیے
یار سب کھیلتے کھیلتے چل دئیے
دامنِ غیر کو ہم نے تھاما نہیں
تہمتیں عشق کی جھیلتے چل دئیے
آگ جن کے مزاجوں میں لگتی رہی
اب سبھی آگ وہ سیکتے چل دئیے
سیکھ لیا ہے، تمہارے شہر میں رہنا
حبس میں جینا، حصار زہر میں رہنا
ظلم یہ دیکھو، حلال آج ہوا ہے
خون کا پینا، عطائی لہر میں رہنا
حال یہ ہوتا ہے یار وصل کے لمحے
ماہی کا بچنا، پرائی نہر میں رہنا
کون ہے اب کے وفا جو کرے
درد کی میرے دوا جو کرے
عشق سے دور رہے وہ سدا
دیکھ کے سُولی گِلہ جو کرے
دل میں مِرے وہ بسے گا کیا
دور ہی دور رہا جو کرے
ظلم ہے، قہر ہے، قیامت ہے
آج پھر عشق کی امامت ہے
لمحہ ہے ہجر کا بہت بھاری
لوٹ کر آؤ تو عنایت ہے
زندگی آج ہے بنی مشکل
کھوٹ ہے، زہر ہے، ملاوٹ ہے
ترے دل میں محبت ہے، عاشقی کر
اگر پانے کی حاجت ہے، عاشقی کر
اگر تم شان سے جینا چاہتے ہو
ابھی من میں رقابت ہے، عاشقی کر
وفا کو زندگی میں بھی اب جگہ دے
وفا میں ہی لطافت ہے، عاشقی کر
دلکش مرحوم کی یاد میں
افسردہ، افسردہ، بیٹھے ہو تم
اب دلکش کا نوحہ کہتے ہو تم
سوکھی آنکھوں سے دھوکا دیتے ہو
من کے ساگر میں بھی بہتے ہو تم
سن کر مرنے کی خبریں اب یارو
کیسے کیسے دُکھڑے سہتے ہو تم
دیوانے نکلے ہیں بے وقت کفن پہنے
حاکم بھی لرزاں ہیں ہے تخت کفن پہنے
گھبراہٹ ہے چہرے پہ آج شکاری کے
پنچھی نکلے سب ہیں یوں سخت کفن پہنے
کلہاڑے گر لائے ہیں شاہ کے ساتھی بھی
سمجھو یارو! اب تو ہے رخت کفن پہنے