Showing posts with label احمد فرید. Show all posts
Showing posts with label احمد فرید. Show all posts

Wednesday, 7 September 2022

عصر عاشور سے اس عرصۂ شب تک اب تک

 منقبت


عصرِ عاشور سے اس عرصۂ شب تک اب تک

استغاثے کی صدا آتی ہے سب تک،۔ اب تک

در سے دوری کا سبب کچھ بھی ہو پر شہر کے بیچ

لوگ پہنچے ہی نہیں رحمتِ رب تک، اب تک

اہلِ ایماں پہ ہوئی جن کی محبت واجب

ہم نہیں سیکھ سکے ان کا ادب تک، اب تک

Thursday, 4 March 2021

عصر عاشور سے اس عرصہ شب تک اب تک

 عصرِ عاشور سے اس عرصۂ شب تک اب تک

استغاثے کی صدا آتی ہے سب تک، اب تک

در سے دوری کا سبب کچھ بھی ہو پر شہر کے بیچ

لوگ پہنچے ہی نہیں رحمتِ رب تک اب تک

اہلِ ایماں پہ ہوئی جن کی محبت واجب

ہم نہیں سیکھ سکے ان کا ادب تک اب تک

Thursday, 15 December 2016

جب سے اک چاند کی چاہت میں ستارہ ہوا ہوں

جب سے اک چاند کی چاہت میں ستارا ہوا ہوں
شہرِ شب زاد کی آنکھوں کا سہارا ہوا ہوں
اے مِرے درد کے دریا کی روانی، مجھے دیکھ
میں تِرے قرب سے کٹ کٹ کے کنارا ہوا ہوں
زندگی! تجھ سا منافق بھی کوئی کیا ہو گا
تیرا شاہکار ہوں اور تیرا ہی مارا ہوا ہوں

پردۂ مہمل اٹھے تو راز ویرانہ کھلے

پردۂ مہمل اٹھے تو رازِ ویرانہ کھُلے
رازِ ویرانہ کھلے تب جا کے دیوانہ کھلے
بارِ ہفت افلاک بھی اس ناتواں شانے پہ ہے
زلف سے کہنا کہ آہستہ سرِ شانہ کھلے
قامتِ پروانہ، قدِ شمع سے کم ہے ابھی
کیمیا ہو لے ذرا تو قدِ پروانہ کھلے

Monday, 28 March 2016

اسم پڑھا اور جسم سے اٹھ کر عشق اٹھایا

اسم پڑھا اور جسم سے اٹھ کر عشق اٹھایا
دل درویش نے مست قلندر عشق اٹھایا
فرش پہ عرش کے بعد مکرر عشق اٹھایا
روح نے اب کے جسم کے اندر عشق اٹھایا
شاعر، صوفی، فلسفہ دان، ولی، پیغمبر
سب نے اپنے ظرف برابر عشق اٹھایا

Friday, 5 February 2016

منجمد خون میں ہلچل کر دے

منجمد خون میں ہلچل کر دے
مجھ کو چھو اور مکمل کر دے
کتنی پیاسی ہیں یہ بنجر آنکھیں
ابر زادے! انہیں جل تھل کر دے
میں نے وہ درد چھپا رکھا ہے
جو تیرے حسن کو پاگل کر دے

یہ جو اک سیل فنا ہے مرے پیچھے پیچھے

یہ جو اِک سَیلِ فنا ہے، مِرے پیچھے پیچھے 
میرے ہونے کی سزا ہے، مِرے پیچھے پیچھے
آگے آگے ہے، مِرے دِل کے چٹَخنے کی صدا 
اور مِری گَردِ اَنا ہے، مِرے پیچھے پیچھے
زندگی تھک کے کسی موڑ پہ رُکتی ہی نہیں 
کب سے یہ آبلہ پا ہے، مِرے پیچھے پیچھے 

يہ زندگی کا قرينہ کرم اسی کا ہے

يہ زندگی کا قرينہ، کرم اسی کا ہے
خوشی تو خير اسی کی ہے، غم اسی کا ہے
تو کيا يہ معجزہ کم ہے جو کوئی غور کرے
کسی کا روضہ ہو، ليکن علم اسی کا ہے
لکھے ہوئے ميں لکھا ہے، جو پڑھ سکو تو پڑھو
يہ لو اسی کی ہے لوگو،، قلم اسی کا ہے

Wednesday, 7 October 2015

اب مجھے اتنا بھی لاچار نہ سمجھیں مرے لوگ

اب مجھے اتنا بھی لاچار نہ سمجھیں مِرے لوگ
صلح نامے کو مِری ہار نہ سمجھیں مِرےلوگ
میری پسپائی پہ سو جشن منائیں ، لیکن
میرے دشمن کو تو سالار نہ سمجھیں مِرے لوگ
پھر تو یوں ہے کہ مِرا خون اکارت ہی گیا
گر مجھے اب بھی وفادار نہ سمجھیں مِرے لوگ

دن سے بچھڑی ہوئی بارات لیے پھرتی ہے

دن سے بچھڑی ہوئی بارات لیے پھرتی ہے
چاند تاروں کو کہاں رات لیے پھرتی ہے
یہ کہیں اس کے مظالم کا مداوا ہی نہ ہو
یہ جو پتوں کو ہوا ساتھ لیے پھرتی ہے
چلتے چلتے ہی سہی بات تو کر لی جائے
ہم کو دنیا میں یہی بات لیے پھرتی ہے

Sunday, 12 April 2015

ترے شہر میں یہ کمال ہونا تھا ہو گیا

تِرے شہر میں یہ کمال ہونا تھا، ہو گیا
مِرا دل غموں سے نڈھال ہونا تھا، ہو گیا
کسی مصلحت کو عروج ملنا تھا، مل چکا
کوئی عشق، رُو بہ زوال ہونا تھا، ہو گیا
کوئی درد ملنا تھا، مل چکا ہے جو دیر سے
کوئی چہرہ خواب و خیال ہونا تھا، ہو گیا

یہاں رسم غم کا فروغ درد کا سلسلہ ہی نہیں رہا

یہاں رسمِ غم کا، فروغِ درد کا سلسلہ ہی نہیں رہا
تِرے بعد اب کسی دل میں پیار کا حوصلہ ہی نہیں رہا
تُو جہاں سے بچھڑا تھا آج بھی میں وہیں کھڑا ہوں اے جانِ جاں
تِرے بعد تو میرے سامنے کوئی راستہ ہی نہیں رہا
مِرا چہرہ گِر کے چٹخ گیا، مِرا دل غموں سے تڑخ گیا
وہ غرورِ عہدِ جمال کیا، مِرا آئینہ ہی نہیں رہا

Wednesday, 1 January 2014

فرات عصر شکستہ لبوں کا غم کیا کر

فراتِ عصر! شکستہ لبوں کا غم کِیا کر
ہم ایسے پیاسوں میں پانی کا ذکر کم کِیا کر
جو کچھ نہیں تو یہی کارِ محترم کِیا کر
مِرے مسیح نفس! پتھروں پہ دَم کِیا کر
یہ شہرِ چشم اگر تیرے حسبِ حال نہیں
غزالِ اشک! مِرے دشتِ دل میں رَم کیا کر