منقبت
عصرِ عاشور سے اس عرصۂ شب تک اب تک
استغاثے کی صدا آتی ہے سب تک،۔ اب تک
در سے دوری کا سبب کچھ بھی ہو پر شہر کے بیچ
لوگ پہنچے ہی نہیں رحمتِ رب تک، اب تک
اہلِ ایماں پہ ہوئی جن کی محبت واجب
ہم نہیں سیکھ سکے ان کا ادب تک، اب تک
منقبت
عصرِ عاشور سے اس عرصۂ شب تک اب تک
استغاثے کی صدا آتی ہے سب تک،۔ اب تک
در سے دوری کا سبب کچھ بھی ہو پر شہر کے بیچ
لوگ پہنچے ہی نہیں رحمتِ رب تک، اب تک
اہلِ ایماں پہ ہوئی جن کی محبت واجب
ہم نہیں سیکھ سکے ان کا ادب تک، اب تک
عصرِ عاشور سے اس عرصۂ شب تک اب تک
استغاثے کی صدا آتی ہے سب تک، اب تک
در سے دوری کا سبب کچھ بھی ہو پر شہر کے بیچ
لوگ پہنچے ہی نہیں رحمتِ رب تک اب تک
اہلِ ایماں پہ ہوئی جن کی محبت واجب
ہم نہیں سیکھ سکے ان کا ادب تک اب تک