Showing posts with label جواہر ناتھ ساقی. Show all posts
Showing posts with label جواہر ناتھ ساقی. Show all posts

Friday, 19 June 2026

کہاں ہے وہ گل خنداں ہمیں نہیں معلوم

 کہاں ہے وہ گُلِ خنداں ہمیں نہیں معلوم

نہ پُوچھ بلبلِ نالاں! ہمیں نہیں معلوم

فِراق ہی میں بسر ہو گئی ہماری عُمر

ہے کون وصل سے شاداں ہمیں نہیں معلوم

ہمیں تو ایک صدائے جرس ہی آتی ہے

ہوا ہے کون ہُدی خواں ہمیں نہیں معلوم

Monday, 23 February 2026

طالب عشق ہے کیا سالک عریاں نہ ہوا

 طالب عشق ہے کیا سالک عریاں نہ ہوا

قرب مہجور ہوا واصل جاناں نہ ہوا

ہیں جنوں جوش وہی جذب کا نسیاں نہ ہوا

قطرہ دریا جو ہوا آئینہ حیراں نہ ہوا

کیا سیہ مست ہوا کیف میں رقصاں نہ ہوا

جام سر جوش سے بھی سالک وجداں نہ ہوا

Saturday, 8 November 2025

ہم سے جو عہد تھا وہ عہد شکن بھول گیا

 ہم سے جو عہد تھا وہ عہد شکن بھول گیا

اپنے عشاق کو وہ غنچہ دہن بھول گیا

قیس کا جلوۂ لیلیٰ جو ہوا ہوش ربا

وہ سراسیمہ ہوا نجد کا بن بھول گیا

کیا کرشمہ یہ تِری چشم سخن گو نے کیا

کس کی جانب تھا مِرا روئے سخن بھول گیا

Thursday, 31 March 2022

داغ غم فراق مٹایا نہ جائے گا

داغ غم فراق مٹایا نہ جائے گا

جلتا ہوا چراغ بجھایا نہ جائے گا

انصاف اپنا داور محشر سے ہو تو ہو

قضیہ کسی سے دل کا چکایا نہ جائے گا

روکو نہ چشم شوخ کو میری طرف سے تم

آنکھیں ہیں دل نہیں کہ ملایا نہ جائے گا