کہاں ہے وہ گُلِ خنداں ہمیں نہیں معلوم
نہ پُوچھ بلبلِ نالاں! ہمیں نہیں معلوم
فِراق ہی میں بسر ہو گئی ہماری عُمر
ہے کون وصل سے شاداں ہمیں نہیں معلوم
ہمیں تو ایک صدائے جرس ہی آتی ہے
ہوا ہے کون ہُدی خواں ہمیں نہیں معلوم
کہاں ہے وہ گُلِ خنداں ہمیں نہیں معلوم
نہ پُوچھ بلبلِ نالاں! ہمیں نہیں معلوم
فِراق ہی میں بسر ہو گئی ہماری عُمر
ہے کون وصل سے شاداں ہمیں نہیں معلوم
ہمیں تو ایک صدائے جرس ہی آتی ہے
ہوا ہے کون ہُدی خواں ہمیں نہیں معلوم
طالب عشق ہے کیا سالک عریاں نہ ہوا
قرب مہجور ہوا واصل جاناں نہ ہوا
ہیں جنوں جوش وہی جذب کا نسیاں نہ ہوا
قطرہ دریا جو ہوا آئینہ حیراں نہ ہوا
کیا سیہ مست ہوا کیف میں رقصاں نہ ہوا
جام سر جوش سے بھی سالک وجداں نہ ہوا
ہم سے جو عہد تھا وہ عہد شکن بھول گیا
اپنے عشاق کو وہ غنچہ دہن بھول گیا
قیس کا جلوۂ لیلیٰ جو ہوا ہوش ربا
وہ سراسیمہ ہوا نجد کا بن بھول گیا
کیا کرشمہ یہ تِری چشم سخن گو نے کیا
کس کی جانب تھا مِرا روئے سخن بھول گیا
داغ غم فراق مٹایا نہ جائے گا
جلتا ہوا چراغ بجھایا نہ جائے گا
انصاف اپنا داور محشر سے ہو تو ہو
قضیہ کسی سے دل کا چکایا نہ جائے گا
روکو نہ چشم شوخ کو میری طرف سے تم
آنکھیں ہیں دل نہیں کہ ملایا نہ جائے گا