Showing posts with label توقیر احمد. Show all posts
Showing posts with label توقیر احمد. Show all posts

Friday, 24 March 2023

ابھی بھی تذکرہ ہے روز و شب اداسی کا

 ابھی بھی تذکرہ ہے روز و شب اداسی کا

سفر تمام ہوا ہی ہے کب اداسی کا 

تُو آ گیا ہے تو آ بیٹھ مسکراتے ہیں

کہ انتقام تو بنتا ہے اب اداسی کا 

کچھ اس لیے بھی اداسی نہ کم ہوئی دل سے

کہ تُو نے پوچھا نہیں تھا سبب اداسی کا 

Wednesday, 15 March 2023

دونوں اک دوجے کی ضد پر جاگتے ہیں

 دونوں اک دوجے کی ضد پر جاگتے ہیں

اک تارہ اور آنکھ برابر جاگتے ہیں

عشق نگر کے دیوانوں کا دعویٰ ہے

ہم اس کالی رات سے بہتر جاگتے ہیں

دن ہوتے ہی جانے کوئی کس سمت کو جائے

ایک ہی رات ہے آؤ مل کر جاگتے ہیں

Friday, 23 September 2022

کر کے ساری حدوں کو پار چلا

 کر کے ساری حدوں کو پار چلا

آج پھر سے میں کوئے یار چلا

اس نے وعدہ کیا تھا ملنے کا

کر کے اس پر میں اعتبار چلا

جانے کیا بات اس میں ایسی تھی

اس کی جانب جو بار بار چلا

Saturday, 10 September 2022

اپنے گھر پر بلا لیا اس نے

 اپنے گھر پر بلا لیا اس نے

دیپ سارے بجھا دیا اس نے

چاندنی سی بکھر گئی ہر سو

رخ سے پردہ ہٹا دیا اس نے

کھو گیا اس کی مست آنکھوں میں

ایسے نظریں ملا لیا اس نے

Tuesday, 6 September 2022

گزشتہ شب میں نے ایک خواب دیکھا

 ایک خواب


گزشتہ شب میں نے ایک خواب دیکھا

کھلا اپنے گھر کا ہر ایک باب دیکھا

خوابوں میں ہی کھل گئی نیند میری

بغل میں کھڑا ایک ماہتاب دیکھا

منوّر بہت تھا بہت ہی کشش تھی

Tuesday, 22 March 2022

گزشتہ شب میں نے ایک خواب دیکھا

 ایک خواب


گزشتہ شب میں نے ایک خواب دیکھا

کھلا اپنے گھر کا ہر ایک باب دیکھا

خوابوں میں ہی کھل گئی نیند میری

بغل میں کھڑا ایک ماہتاب دیکھا

منور بہت تھا بہت ہی کشش تھی

عجب اس میں رنگت عجب تاب دیکھا

Thursday, 12 November 2020

ہماری وحشت لگے ٹھکانے کسی بہانے

 ہماری وحشت لگے ٹھکانے کسی بہانے

کوئی تو آئے ہمیں منانے، کسی بہانے

کبھی کراؤں گا سیر تجھ کو میں شہرِ دل کی

کبھی دکھاؤں گا سرد خانے، کسی بہانے

صفِ حریفاں میں چند پیارے بھی آ گئے ہیں

سو باندھنے ہیں غلط نشانے، کسی بہانے