ابھی بھی تذکرہ ہے روز و شب اداسی کا
سفر تمام ہوا ہی ہے کب اداسی کا
تُو آ گیا ہے تو آ بیٹھ مسکراتے ہیں
کہ انتقام تو بنتا ہے اب اداسی کا
کچھ اس لیے بھی اداسی نہ کم ہوئی دل سے
کہ تُو نے پوچھا نہیں تھا سبب اداسی کا
ابھی بھی تذکرہ ہے روز و شب اداسی کا
سفر تمام ہوا ہی ہے کب اداسی کا
تُو آ گیا ہے تو آ بیٹھ مسکراتے ہیں
کہ انتقام تو بنتا ہے اب اداسی کا
کچھ اس لیے بھی اداسی نہ کم ہوئی دل سے
کہ تُو نے پوچھا نہیں تھا سبب اداسی کا
دونوں اک دوجے کی ضد پر جاگتے ہیں
اک تارہ اور آنکھ برابر جاگتے ہیں
عشق نگر کے دیوانوں کا دعویٰ ہے
ہم اس کالی رات سے بہتر جاگتے ہیں
دن ہوتے ہی جانے کوئی کس سمت کو جائے
ایک ہی رات ہے آؤ مل کر جاگتے ہیں
کر کے ساری حدوں کو پار چلا
آج پھر سے میں کوئے یار چلا
اس نے وعدہ کیا تھا ملنے کا
کر کے اس پر میں اعتبار چلا
جانے کیا بات اس میں ایسی تھی
اس کی جانب جو بار بار چلا
اپنے گھر پر بلا لیا اس نے
دیپ سارے بجھا دیا اس نے
چاندنی سی بکھر گئی ہر سو
رخ سے پردہ ہٹا دیا اس نے
کھو گیا اس کی مست آنکھوں میں
ایسے نظریں ملا لیا اس نے
ایک خواب
گزشتہ شب میں نے ایک خواب دیکھا
کھلا اپنے گھر کا ہر ایک باب دیکھا
خوابوں میں ہی کھل گئی نیند میری
بغل میں کھڑا ایک ماہتاب دیکھا
منوّر بہت تھا بہت ہی کشش تھی
ایک خواب
گزشتہ شب میں نے ایک خواب دیکھا
کھلا اپنے گھر کا ہر ایک باب دیکھا
خوابوں میں ہی کھل گئی نیند میری
بغل میں کھڑا ایک ماہتاب دیکھا
منور بہت تھا بہت ہی کشش تھی
عجب اس میں رنگت عجب تاب دیکھا
ہماری وحشت لگے ٹھکانے کسی بہانے
کوئی تو آئے ہمیں منانے، کسی بہانے
کبھی کراؤں گا سیر تجھ کو میں شہرِ دل کی
کبھی دکھاؤں گا سرد خانے، کسی بہانے
صفِ حریفاں میں چند پیارے بھی آ گئے ہیں
سو باندھنے ہیں غلط نشانے، کسی بہانے