Saturday, 10 September 2022

اپنے گھر پر بلا لیا اس نے

 اپنے گھر پر بلا لیا اس نے

دیپ سارے بجھا دیا اس نے

چاندنی سی بکھر گئی ہر سو

رخ سے پردہ ہٹا دیا اس نے

کھو گیا اس کی مست آنکھوں میں

ایسے نظریں ملا لیا اس نے

رکھ کے گودی میں سر میرا اپنی

دل کی دھڑکن بڑھا دیا اس نے

کیوں نہ ہو ناز اپنی قسمت پر

مجھ کو اپنا بنا لیا اس نے

وقت رخصت نمی تھی آنکھوں میں

ہاتھ پھر بھی ہلا دیا اس نے

لوٹ کر آؤں گا میں پھر ایک دن

وعدہ مجھ سے کرا لیا اس نے

گم ہے توقیر اس کی یادوں میں

جام الفت پلا دیا اس نے


توقیر احمد

No comments:

Post a Comment