راہ وفا پہ کم ہیں خسارے ہمارے دوست
ہیں اس سفر کے اپنے ستارے ہمارے دوست
کچھ سانپ چاہیے تھے خزانے کے واسطے
اتنے میں آستیں سے پکارے ہمارے دوست
اک دن سنبھل ہی جاتا ہے دنیا سے ہارا شخص
لیکن جو اپنے آپ سے ہارے ہمارے دوست
راہ وفا پہ کم ہیں خسارے ہمارے دوست
ہیں اس سفر کے اپنے ستارے ہمارے دوست
کچھ سانپ چاہیے تھے خزانے کے واسطے
اتنے میں آستیں سے پکارے ہمارے دوست
اک دن سنبھل ہی جاتا ہے دنیا سے ہارا شخص
لیکن جو اپنے آپ سے ہارے ہمارے دوست
روتا ہوں تو ہنستا ہوں بہت دیدۂ نم پر
یہ کس نے مجھے چھوڑا مِرے رحم و کرم پر
آواز لگاتا ہے یہ مجھ میں کوئی رہرو
چلنا نہ خبردار مِرے نقشِ قدم پر
اس شہر میں قرطاس پہ سچ کس طرح اُترے
تلوار لٹکتی ہو جہاں نوکِ قلم پر
اُسی کو دوست رکھا دوسرا بنایا نہیں
کئی بناتے ہیں میں نے خدا بنایا نہیں
یہ بستی رات کا کس طرح سامنا کرے گی
یہاں کسی نے بھی دن میں دِیا بنایا نہیں
پتہ کرو کہ یہ نقاش کس قبیل کا ہے
پرندہ جب بھی بنایا، رِہا بنایا نہیں
ہجر کا حل نہیں اس ہجر میں خود حل ہو جا
مجھ سے دانائی مِری کہتی ہے؛ پاگل ہو جا
رنگ جتنے بھی مِرے پاس تھے سب بھر دئیے ہیں
اب تو اے یار کی تصویر! مکمل ہو جا
قطرۂ اشک سہی، کام لے دریا دلی سے
اُٹھ کے پلکوں سے مِرے شہر پہ بادل ہو جا
ستم کے راج میں میں پا شکستہ کیا کرتا
کھڑا نہ رہتا اگر دست بستہ، کیا کرتا
حدِ نگاہ تلک دوسرا نہیں مسکن
جو میرے گھر بھی نہ آتا تو رستہ کیا کرتا
خرید لیتا کسی شاہ کا جلال مجھے
اب اپنے آپ کو اتنا بھی سستا کیا کرتا
خلقتِ شہر میں اپنوں کا ستایا ہوا شخص
مر ہی جائے گا کسی کرب میں آیا ہوا شخض
اپنے ہاتھوں سے کسی قبر میں رکھ آؤں گا
اپنے کاندھے پہ کوئی خود سا اُٹھایا ہوا شخص
اتنے صدمات میں زندہ ہے تو اک معجزہ ہے
وقت کے ہاتھ سے برسوں کا مٹایا ہوا شخص
خود سے بھی اجنبی سا لگتا ہے
مجھ کو جو زندگی سا لگتا ہے
ہر کسی بار درد دیتا ہے
وقت بھی آدمی سا لگتا
تُو بدل کر کبھی کبھی مجھ کو
اپنا جیسا کسی سا لگتا ہے
مِرے دکھ درد ہر اک آنکھ سے اوجھل پڑے تھے
شکر صد شکر کہ بس روح پہ ہی بل پڑے تھے
کسی مقصد سے تِرے پاس نہیں آئے ہیں
کہیں جانا ہی تھا سو تیری طرف چل پڑے تھے
ایک میں ہی نہیں شب چھت پہ بسر کرتا تھا
چاند کے پیچھے کئی اور بھی پاگل پڑے تھے
اس نے چھوڑا ہے کچھ ایسے کہ کمی رہتی ہے
اس لیے روز یہ آنکھوں میں نمی رہتی ہے
دھوپ کی ساری تمازت کا اثر کوئی نہیں
دل کے موسم میں فقط برف جمی رہتی ہے
منزلوں پہ ہے نئی راہ، نیا اذنِ سفر
ہر کسی سانس پہ ہجرت کی ٹھنی رہتی ہے
ایک ہی دشت ہے یہ بھی نہ کھنگالا میں نے
دل پہ لینا نہیں تھا پاؤں کا چھالا میں نے
گھر کے ڈھ جانے میں غفلت مِری شامل تھی مگر
سارا ملبہ در و دیوار پہ ڈالا میں نے
کاش میں اپنے عزاداروں کو بتلا سکتا
کیسا دکھ تھا وہ جسے موت سے ٹالا میں نے
وہی بے وجہ سی اداسیاں کبھی وحشتیں تِرے شہر میں
تُو گیا تو مجھ سے بچھڑ گئیں سبھی رونقیں ترے شہر میں
مِری بے بسی کی کتاب کا کوئی ورق تُو نے پڑھا نہیں
تجھے کیا خبر کہاں مر گئیں مِری خواہشیں ترے شہر میں
سبھی ہاتھ مجھ پہ اٹھے یہاں سبھی لفظ مجھ پہ کسے گئے
مِری سادگی کے لباس پر پڑیں سلوٹیں ترے شہر میں