Showing posts with label عقیل شاہ. Show all posts
Showing posts with label عقیل شاہ. Show all posts

Thursday, 2 March 2023

راہ وفا پہ کم ہیں خسارے ہمارے دوست

راہ وفا پہ کم ہیں خسارے ہمارے دوست

ہیں اس سفر کے اپنے ستارے ہمارے دوست

کچھ سانپ چاہیے تھے خزانے کے واسطے

اتنے میں آستیں سے پکارے ہمارے دوست

اک دن سنبھل ہی جاتا ہے دنیا سے ہارا شخص

لیکن جو اپنے آپ سے ہارے ہمارے دوست

Tuesday, 12 April 2022

روتا ہوں تو ہنستا ہوں بہت دیدۂ نم پر

 روتا ہوں تو ہنستا ہوں بہت دیدۂ نم پر

یہ کس نے مجھے چھوڑا مِرے رحم و کرم پر

آواز لگاتا ہے یہ مجھ میں کوئی رہرو

چلنا نہ خبردار مِرے نقشِ قدم پر

اس شہر میں قرطاس پہ سچ کس طرح اُترے

تلوار لٹکتی ہو جہاں نوکِ قلم پر

Thursday, 10 February 2022

اسی کو دوست رکھا دوسرا بنایا نہیں

 اُسی کو دوست رکھا دوسرا بنایا نہیں

کئی بناتے ہیں میں نے خدا بنایا نہیں

یہ بستی رات کا کس طرح سامنا کرے گی

یہاں کسی نے بھی دن میں دِیا بنایا نہیں

پتہ کرو کہ یہ نقاش کس قبیل کا ہے

پرندہ جب بھی بنایا، رِہا بنایا نہیں

Sunday, 9 January 2022

ہجر کا حل نہیں اس ہجر میں خود حل ہو جا

 ہجر کا حل نہیں اس ہجر میں خود حل ہو جا

مجھ سے دانائی مِری کہتی ہے؛ پاگل ہو جا

رنگ جتنے بھی مِرے پاس تھے سب بھر دئیے ہیں

اب تو اے یار کی تصویر! مکمل ہو جا

قطرۂ اشک سہی، کام لے دریا دلی سے

اُٹھ کے پلکوں سے مِرے شہر پہ بادل ہو جا

Wednesday, 22 December 2021

ستم کے راج میں میں پا شکستہ کیا کرتا

 ستم کے راج میں میں پا شکستہ کیا کرتا

کھڑا نہ رہتا اگر دست بستہ، کیا کرتا

حدِ نگاہ تلک دوسرا نہیں مسکن

جو میرے گھر بھی نہ آتا تو رستہ کیا کرتا

خرید لیتا کسی شاہ کا جلال مجھے

اب اپنے آپ کو اتنا بھی سستا کیا کرتا

Saturday, 9 October 2021

خلقت شہر میں اپنوں کا ستایا ہوا شخص

 خلقتِ شہر میں اپنوں کا ستایا ہوا شخص

مر ہی جائے گا کسی کرب میں آیا ہوا شخض

اپنے ہاتھوں سے کسی قبر میں رکھ آؤں گا

اپنے کاندھے پہ کوئی خود سا اُٹھایا ہوا شخص

اتنے صدمات میں زندہ ہے تو اک معجزہ ہے

وقت کے ہاتھ سے برسوں کا مٹایا ہوا شخص

Sunday, 3 October 2021

خود سے بھی اجنبی سا لگتا ہے

 خود سے بھی اجنبی سا لگتا ہے

مجھ کو جو زندگی سا لگتا ہے

ہر کسی بار درد دیتا ہے

وقت بھی آدمی سا لگتا

تُو بدل کر کبھی کبھی مجھ کو

اپنا جیسا کسی سا لگتا ہے

Monday, 2 August 2021

مرے دکھ درد ہر اک آنکھ سے اوجھل پڑے تھے

 مِرے دکھ درد ہر اک آنکھ سے اوجھل پڑے تھے

شکر صد شکر کہ بس روح پہ ہی بل پڑے تھے

کسی مقصد سے تِرے پاس نہیں آئے ہیں

کہیں جانا ہی تھا سو تیری طرف چل پڑے تھے

ایک میں ہی نہیں شب چھت پہ بسر کرتا تھا

چاند کے پیچھے کئی اور بھی پاگل پڑے تھے

Saturday, 1 May 2021

اس نے چھوڑا ہے کچھ ایسے کہ کمی رہتی ہے

 اس نے چھوڑا ہے کچھ ایسے کہ کمی رہتی ہے

اس لیے روز یہ آنکھوں میں نمی رہتی ہے

دھوپ کی ساری تمازت کا اثر کوئی نہیں

دل کے موسم میں فقط برف جمی رہتی ہے

منزلوں پہ ہے نئی راہ، نیا اذنِ سفر

ہر کسی سانس پہ ہجرت کی ٹھنی رہتی ہے

Thursday, 29 April 2021

ایک ہی دشت ہے یہ بھی نہ کھنگالا میں نے

 ایک ہی دشت ہے یہ بھی نہ کھنگالا میں نے

دل پہ لینا نہیں تھا پاؤں کا چھالا میں نے

گھر کے ڈھ جانے میں غفلت مِری شامل تھی مگر

سارا ملبہ در و دیوار پہ ڈالا میں نے

کاش میں اپنے عزاداروں کو بتلا سکتا

کیسا دکھ تھا وہ جسے موت سے ٹالا میں نے

Thursday, 10 November 2016

ترا کرم کہ میں جب مات تک پہنچ جاتا

تِرا کرم کہ میں جب مات تک پہنچ جاتا
تو کوئی ہاتھ مِرے ہاتھ تک پہنچ جاتا
میں اس کی بزم میں چپ چاپ ہی رہا کرتا
مگر وہ پھر بھی مِری بات تک پہنچ جاتا
میں بھاؤ تاؤ اگر کرتا تو وہ خواب فروش
قیاس ہے مِری اوقات تک پہنچ جاتا

میری بڑھا کے اور بھی الجھن چلا گیا

میری بڑھا کے اور بھی الجھن چلا گیا
آنکھیں برستی چھوڑ کے ساون چلا گیا
گلّک میں پیسے پورے کھلونے کے ہیں مگر
مشکل یہ آ پڑی ہے،۔۔ کہ بچپن چلا گیا
دنیا کمانے کا ہوا درویش کو خیال
پھر کیا تھا پَل میں ہاتھ سے ہر فن چلا گیا

اندھیرے منہ ترا کالا ضرور ہوتا ہے

اندھیرے! منہ تِرا کالا ضرور ہوتا ہے
کہ شب کے بعد اجالا ضرور ہوتا ہے
یہاں اب اس لیے بھی بیڑیاں نہیں پڑتیں
کہ ہر زبان پہ تالا ضرور ہوتا ہے
کچھ اور ہو نہ ہو صحرا کی خاک چھاننے سے
جنوں کا لطف دوبالا ضرور ہوتا ہے

Saturday, 29 October 2016

وقت کے ہاتھ سے گزرے ہوئے لمحوں کی طرح

وقت کے ہاتھ سے گزرے ہوئے لمحوں کی طرح
بھول جاؤ گے مجھے تم بھی تو لوگوں کی طرح
راہ میں، ہر کسی پتھر کو نہ ٹھوکر پہ رکھو
کچھ پڑے سنگ بھی ہوتے ہیں نگینوں کی طرح
جسم ہلکان ہو زخموں سے تو ایسا بھی نہیں
خون بہہ سکتا ہے آنکھوں سے بھی اشکوں کی طرح

آ گئے اب تو ہر اک در پہ ہی دہشت والے

آ گئے اب تو ہر اک در پہ ہی دہشت والے
مر گئے لوگ تو اس شہر کی حرمت والے
وہ جو ہجرت تھی کہانی میں لہو سے منسوب
کیا وہی لوگ وطن سے تھے محبت والے
اب ہے جذبوں میں تجارت بھی ملاوٹ کی طرح
رہ گئے اب تو سبھی رشتے ضرورت والے

یہاں پہ بادشاہت ہے یہاں محکوم رہنا ہے

یہاں پہ بادشاہت ہے، یہاں محکوم رہنا ہے
ابھی ساری بہاروں کو خیالوں کو سوالوں میں
یہاں جمہور کے قصے رہیں گے چند حوالوں تک
ذہن رہ جائیں گے قیدی غلامی کے نصابوں میں
اگر یہ روشنی آزادی ‎اظہار ہی گم ہے
سبق کس کا دیا جاتا ہے بچوں کو کتابوں میں

Wednesday, 27 April 2016

دیکھے نہ فقیری کو کوئی شک سے ہماری

دیکھے نہ فقیری کو کوئی شک سے ہماری
دیوار میں در بنتا ہے دستک سے ہماری
بازار میں بیٹھے تھے لیے ٹوٹا ہوا دل
سو بحث تو بنتی نہ تھی گاہک سے ہماری
ہم خاک نشینوں کی سمجھ میں نہیں آتا
اس شہر کو کیا ملتا ہے چشمک سے ہماری

وہی بے وجہ سی اداسیاں کبھی وحشتیں ترے شہر میں

 وہی بے وجہ سی اداسیاں کبھی وحشتیں تِرے شہر میں

تُو گیا تو مجھ سے بچھڑ گئیں سبھی رونقیں ترے شہر میں

مِری بے بسی کی کتاب کا کوئی ورق تُو نے پڑھا نہیں

تجھے کیا خبر کہاں مر گئیں مِری خواہشیں ترے شہر میں

سبھی ہاتھ مجھ پہ اٹھے یہاں سبھی لفظ مجھ پہ کسے گئے

مِری سادگی کے لباس پر پڑیں سلوٹیں ترے شہر میں

مٹے ماضی کے کتبوں کو گرا کر بھول جاتا ہوں

مِٹے ماضی کے کتبوں کو گِرا کر بھُول جاتا ہوں
میں یوں خوابوں کی اب قبریں بنا کر بھُول جاتا ہوں
بڑے ہی شوق سے لکھتا ہوں میں سب نام اب دل پر
پھر اس کے بعد خود ان کو مِٹا کر بھُول جاتا ہوں
جوانی کے زمانے کو کھڑے بارش کے پانی میں
میں کاغذ کی کوئی کشتی بہا کر بھُول جاتا ہوں

Tuesday, 15 December 2015

وہ جو چاند تاروں کی ماند پر سر شام راہ سے بچھڑ گئیں

وہ جو چاند تاروں کی ماند پر سرِ شام راہ سے بچھڑ گئیں
وہ رتیں تھیں تیرے شباب کی کہیں موسموں میں ٹھہر گئیں
بڑی مختصر تھیں وہ ساعتیں تِرے قرب میں، تِری چاہ میں
تھیں وہ شامیں پیڑوں کی اوٹ تک ہٹی دھوپ پَل میں اتر گئیں
دلِ بے خبر یہ امید کیوں، نہ تراش لمحوں سے خواب پھر
تمہیں جن رتوں کی تلاش ہے وہ رتیں تو آ کے گزر گئیں