محفلِ دل سے مِرا واحد شناسا بھی گیا
رائیگانی ہے کہ ہاتھوں سے خسارا بھی گیا
پہلے اس گھر سے مجھے گھر سی محبت دی گئی
پھر اسی گھر سے مجھے آخر نکالا بھی گیا
چھوڑ کر جاتے ہوئے سب نے دلاسہ بھی دیا
زخم دے کر میرے دل کو پھر کریدا بھی گیا
محفلِ دل سے مِرا واحد شناسا بھی گیا
رائیگانی ہے کہ ہاتھوں سے خسارا بھی گیا
پہلے اس گھر سے مجھے گھر سی محبت دی گئی
پھر اسی گھر سے مجھے آخر نکالا بھی گیا
چھوڑ کر جاتے ہوئے سب نے دلاسہ بھی دیا
زخم دے کر میرے دل کو پھر کریدا بھی گیا
دل سے نکلے ہیں کہ منزل کی خبر کچھ بھی نہیں
تیری یادوں کے سوا رختِ سفر کچھ بھی نہیں
آج اک سال ہوا عشق میں جلتے ہم کو
اور ان بارہ مہینوں کا ثمر کچھ بھی نہیں
پوری بستی میں مِرے عشق کی بدنامی ہے
کتنا معصوم ہے تو، تجھ کو خبر کچھ بھی نہیں
اک عجب خوف مجھے سارے زمانے سے رہا
بس اسی خوف سے میں دل کو لگانے سے رہا
میرے چہرے کی اداسی سے سمجھ جاؤ مجھے
دل میں جو زخم ہیں وہ تو میں دکھانے سے رہا
صاحب تخت ملے تجھ کو تو کچھ بات بنے
میرے جیسا تو تِرے ناز اٹھانے سے رہا
ٹوٹ کر خاک میں ملتے ہوئے تارے دیکھے
میرے انجام کے غم ناک نظارے دیکھے
میرے رسمی سے تبسم پہ بھروسہ نہ کرے
رات جاگی ہوئی آنکھوں کے اشارے دیکھے
جس کو شکوہ ہے محبت میں منافع نہ ہوا
آئے اور آ کے کبھی میرے خسارے دیکھے
اگرچہ رنج و الم سے نمٹ نہیں سکتے
بکھر تو سکتے ہیں رستے سے ہٹ نہیں سکتے
اذیتوں سے ڈریں بھی تو کیا کِیا جائے
کہ راہِ عشق سے واپس پلٹ نہیں سکتے
محبتوں کے دِیے کو جلائے رکھتے ہیں
اندھیری راہوں میں راہی بھٹک نہیں سکتے
بے رخی سے کلام کر رہے ہو
عشق کا اختتام کر رہے ہو
میرے دل سے چلے گئے تھے تم
کس کے دل میں قیام کر رہے ہو
مدتوں بعد ملنے آیا ہوں
دور سے ہی سلام کر رہے ہو