Showing posts with label اسامہ گلزار. Show all posts
Showing posts with label اسامہ گلزار. Show all posts

Monday, 9 October 2023

محفل دل سے مرا واحد شناسا بھی گیا

 محفلِ دل سے مِرا واحد شناسا بھی گیا

رائیگانی ہے کہ ہاتھوں سے خسارا بھی گیا

پہلے اس گھر سے مجھے گھر سی محبت دی گئی

پھر اسی گھر سے مجھے آخر نکالا بھی گیا

چھوڑ کر جاتے ہوئے سب نے دلاسہ بھی دیا

زخم دے کر میرے دل کو پھر کریدا بھی گیا

Monday, 3 July 2023

دل سے نکلے ہیں کہ منزل کی خبر کچھ بھی نہیں

 دل سے نکلے ہیں کہ منزل کی خبر کچھ بھی نہیں

تیری یادوں کے سوا رختِ سفر کچھ بھی نہیں

آج اک سال ہوا عشق میں جلتے ہم کو

اور ان بارہ مہینوں کا ثمر کچھ بھی نہیں

پوری بستی میں مِرے عشق کی بدنامی ہے

کتنا معصوم ہے تو، تجھ کو خبر کچھ بھی نہیں

Saturday, 3 June 2023

اک عجب خوف مجھے سارے زمانے سے رہا

 اک عجب خوف مجھے سارے زمانے سے رہا

بس اسی خوف سے میں دل کو لگانے سے رہا

میرے چہرے کی اداسی سے سمجھ جاؤ مجھے

دل میں جو زخم ہیں وہ تو میں دکھانے سے رہا

صاحب تخت ملے تجھ کو تو کچھ بات بنے

میرے جیسا تو تِرے ناز اٹھانے سے رہا

Friday, 26 May 2023

ٹوٹ کر خاک میں ملتے ہوئے تارے دیکھے

 ٹوٹ کر خاک میں ملتے ہوئے تارے دیکھے

میرے انجام کے غم ناک نظارے دیکھے

میرے رسمی سے تبسم پہ بھروسہ نہ کرے

رات جاگی ہوئی آنکھوں کے اشارے دیکھے

جس کو شکوہ ہے محبت میں منافع نہ ہوا

آئے اور آ کے کبھی میرے خسارے دیکھے

Friday, 18 November 2022

اگرچہ رنج و الم سے نمٹ نہیں سکتے

اگرچہ رنج و الم سے نمٹ نہیں سکتے

بکھر تو سکتے ہیں رستے سے ہٹ نہیں سکتے

اذیتوں سے ڈریں بھی تو کیا کِیا جائے

کہ راہِ عشق سے واپس پلٹ نہیں سکتے

محبتوں کے دِیے کو جلائے رکھتے ہیں

اندھیری راہوں میں راہی بھٹک نہیں سکتے

Saturday, 12 February 2022

بے رخی سے کلام کر رہے ہو

بے رخی سے کلام کر رہے ہو 

عشق کا اختتام کر رہے ہو 

میرے دل سے چلے گئے تھے تم 

کس کے دل میں قیام کر رہے ہو 

مدتوں بعد ملنے آیا ہوں 

دور سے ہی سلام کر رہے ہو