Showing posts with label عبدالرب. Show all posts
Showing posts with label عبدالرب. Show all posts

Friday, 26 November 2021

خود اپنے اندر کی بے ثباتی سے رابطہ ہے

 خود اپنے اندر کی بے ثباتی سے رابطہ ہے

یہ ہم قلندر مزاج لوگوں کا مسئلہ ہے

پرائی چیزوں پہ کیا بھروسہ کہ جانتے ہیں

یہ دل ہمارا نہیں رہا ہے، یہ آپ کا ہے

ابھی تلک جو وجود پانے سے منحرف ہے

ہمارے مابین اس زمانے کا فاصلہ ہے

Thursday, 9 September 2021

مجھ محبت کے سزاوار پہ تہمت نہ لگا

 مجھ محبت کے سزاوار پہ تہمت نہ لگا

مجھ کو جھٹلا دے مگر پیار پہ تہمت نہ لگا

سست رو شخص مِرا نقشِ قدم دھیان میں رکھ

مجھ سے آ مل، مِری رفتار پہ تہمت نہ لگا

لوگ بکتے ہیں تو بکتے رہیں بے شک لیکن

کم سے کم تُو مِرے کردار پہ تہمت نہ لگا

Tuesday, 6 July 2021

ہم نے اس کے سپنے ایسے دیکھے ہیں

 ہم نے اس کے سپنے ایسے دیکھے ہیں

جیسے اس نے سوچ سمجھ کر لکھے ہیں

وہ خاموش ہُوا تو سُننے میں آئے

خاموشی کے کتنے سارے لہجے ہیں

ایک طرح سے شِکوہ ہے یہ پانی سے

صحرا میں اک شخص نے کنکر پھینکے ہیں

Friday, 2 July 2021

ترے حضور اگر مجھ میں عاجزی نہ رہے

 تِرے حضور اگر مجھ میں عاجزی نہ رہے

میں رو پڑوں مِرے ہونٹوں پہ یہ ہنسی نہ رہے 

خوشی کی رُت میں کوئی ہنسنے والا مل نہ سکا 

ہماری موت کے موقعے پہ ماتمی نہ رہے 

مِرے خیال میں محشر کی اک علامت ہے 

قلم کا قحط پڑے گھر میں ڈائری نہ رہے 

جب کبھی میں نے محبت کی عبارت لکھی

 جب کبھی میں نے محبت کی عبارت لکھی

مِرے کھاتے میں ملائک نے عبادت لکھی

حاکمِ وقت نے بیعت کا تقاضا جو کیا

پہلے انکار لکھا، بعد میں ہجرت لکھی

رب نے تخلیق کیا پہلے سراپا تیرا

تیرے کردار کو دیکھا تو شریعت لکھی

Saturday, 12 December 2020

تجھ کو کیا بتلاؤں کون سے اچھے ہیں

 تجھ کو کیا بتلاؤں کون سے اچھے ہیں

تیرے قرب کے سارے لمحے اچھے ہیں

تجھ کو دیکھے بِن جو تجھ کو دیکھتے ہیں

دیکھنے والوں سے وہ اندھے اچھے ہیں

تیری اک تصویر ہے سارے کمروں میں

میرے گھر کے سارے کمرے اچھے ہیں

مرنے کا خوف بڑھنے لگا اختیار سے

 مرنے کا خوف بڑھنے لگا اختیار سے

اب زندگی! اتار مجھے اپنی کار سے

اتنا کہا کہ؛ تجھ سے محبت ہے، لڑ پڑا

اتنا تو اب مذاق بھی ہوتا ہے یار سے

میں زندگی کی بس میں لطیفے ہوں بیچتا

جلنے لگے ہیں لوگ مرے کاروبار سے