خود اپنے اندر کی بے ثباتی سے رابطہ ہے
یہ ہم قلندر مزاج لوگوں کا مسئلہ ہے
پرائی چیزوں پہ کیا بھروسہ کہ جانتے ہیں
یہ دل ہمارا نہیں رہا ہے، یہ آپ کا ہے
ابھی تلک جو وجود پانے سے منحرف ہے
ہمارے مابین اس زمانے کا فاصلہ ہے
خود اپنے اندر کی بے ثباتی سے رابطہ ہے
یہ ہم قلندر مزاج لوگوں کا مسئلہ ہے
پرائی چیزوں پہ کیا بھروسہ کہ جانتے ہیں
یہ دل ہمارا نہیں رہا ہے، یہ آپ کا ہے
ابھی تلک جو وجود پانے سے منحرف ہے
ہمارے مابین اس زمانے کا فاصلہ ہے
مجھ محبت کے سزاوار پہ تہمت نہ لگا
مجھ کو جھٹلا دے مگر پیار پہ تہمت نہ لگا
سست رو شخص مِرا نقشِ قدم دھیان میں رکھ
مجھ سے آ مل، مِری رفتار پہ تہمت نہ لگا
لوگ بکتے ہیں تو بکتے رہیں بے شک لیکن
کم سے کم تُو مِرے کردار پہ تہمت نہ لگا
ہم نے اس کے سپنے ایسے دیکھے ہیں
جیسے اس نے سوچ سمجھ کر لکھے ہیں
وہ خاموش ہُوا تو سُننے میں آئے
خاموشی کے کتنے سارے لہجے ہیں
ایک طرح سے شِکوہ ہے یہ پانی سے
صحرا میں اک شخص نے کنکر پھینکے ہیں
تِرے حضور اگر مجھ میں عاجزی نہ رہے
میں رو پڑوں مِرے ہونٹوں پہ یہ ہنسی نہ رہے
خوشی کی رُت میں کوئی ہنسنے والا مل نہ سکا
ہماری موت کے موقعے پہ ماتمی نہ رہے
مِرے خیال میں محشر کی اک علامت ہے
قلم کا قحط پڑے گھر میں ڈائری نہ رہے
جب کبھی میں نے محبت کی عبارت لکھی
مِرے کھاتے میں ملائک نے عبادت لکھی
حاکمِ وقت نے بیعت کا تقاضا جو کیا
پہلے انکار لکھا، بعد میں ہجرت لکھی
رب نے تخلیق کیا پہلے سراپا تیرا
تیرے کردار کو دیکھا تو شریعت لکھی
تجھ کو کیا بتلاؤں کون سے اچھے ہیں
تیرے قرب کے سارے لمحے اچھے ہیں
تجھ کو دیکھے بِن جو تجھ کو دیکھتے ہیں
دیکھنے والوں سے وہ اندھے اچھے ہیں
تیری اک تصویر ہے سارے کمروں میں
میرے گھر کے سارے کمرے اچھے ہیں
مرنے کا خوف بڑھنے لگا اختیار سے
اب زندگی! اتار مجھے اپنی کار سے
اتنا کہا کہ؛ تجھ سے محبت ہے، لڑ پڑا
اتنا تو اب مذاق بھی ہوتا ہے یار سے
میں زندگی کی بس میں لطیفے ہوں بیچتا
جلنے لگے ہیں لوگ مرے کاروبار سے