زندگی کا سفر یہ کیسا ہے
کوئی منزل نہ کوئی رستہ ہے
اہلِ دل بے سبب بھٹکتے ہیں
جستجو بے کنار صحرا ہے
دوستی کا یہ رشتہ سمجھو تو
خون کے رشتے سے بھی گہرا ہے
زندگی کا سفر یہ کیسا ہے
کوئی منزل نہ کوئی رستہ ہے
اہلِ دل بے سبب بھٹکتے ہیں
جستجو بے کنار صحرا ہے
دوستی کا یہ رشتہ سمجھو تو
خون کے رشتے سے بھی گہرا ہے
آنکھ کو سُرمے کی دھاروں نے یوں تیکھا کر دیا
اک نظر بھی جس کو تاکا اس کو کُشتہ کر دیا
آرزو کو کچھ دنوں تک تو سنبھالے ہم رہے
ایک دن پھر تنگ آ کر اس کو چلتا کر دیا
یار! پیارے تم پہ ہم کو تو بھروسا اتنا تھا
ہم کو حیرت ہو رہی ہے تم نے ایسا کر دیا
یہی بے نام سا رشتہ بہت ہے
ہمارے واسطے اتنا بہت ہے
لُبھاتے ہیں جلاتے ہیں دلوں کو
حسینوں پر ہمیں غصہ بہت ہے
اُلجھنا بے سبب ہے نامناسب
گُزر جاؤ میاں رستہ بہت ہے
حسن کوئی سراب ہے شاید
اس لیے یہ حجاب ہے شاید
ہم جو تشنہ ہیں بر لبِ دریا
اپنی قسمت خراب ہے شاید
بے گناہی گناہ ہے تو پھر
اب گنہ ہی ثواب ہے شاید
زندگی
لڑکھڑاتے شرابی کے جیسی ہے
جس کو
تمہارے سہارے کی
ہر پَل ضرورت ہے
آزر جمال
رات کے سُونے ماتھے پر
دِیپ کا جُھومر چمکے گا
آنکھ کی کالی رَینا پر
خواب کا سُورج اُبھرے گا
صبح تو اک دن آئے گی
روشنی ہر سُو چھائے گی