Showing posts with label آزر جمال. Show all posts
Showing posts with label آزر جمال. Show all posts

Monday, 29 August 2022

زندگی کا سفر یہ کیسا ہے

 زندگی کا سفر یہ کیسا ہے

کوئی منزل نہ کوئی رستہ ہے

اہلِ دل بے سبب بھٹکتے ہیں

جستجو بے کنار صحرا ہے

دوستی کا یہ رشتہ سمجھو تو

خون کے رشتے سے بھی گہرا ہے

Wednesday, 31 March 2021

آنکھ کو سرمے کی دھاروں نے یوں تیکھا کر دیا

 آنکھ کو سُرمے کی دھاروں نے یوں تیکھا کر دیا

اک نظر بھی جس کو تاکا اس کو کُشتہ کر دیا

آرزو کو کچھ دنوں تک تو سنبھالے ہم رہے

ایک دن پھر تنگ آ کر اس کو چلتا کر دیا

یار! پیارے تم پہ ہم کو تو بھروسا اتنا تھا

ہم کو حیرت ہو رہی ہے تم نے ایسا کر دیا

Thursday, 25 March 2021

یہی بے نام سا رشتہ بہت ہے

 یہی بے نام سا رشتہ بہت ہے

ہمارے واسطے اتنا بہت ہے

لُبھاتے ہیں جلاتے ہیں دلوں کو

حسینوں پر ہمیں غصہ بہت ہے

اُلجھنا بے سبب ہے نامناسب

گُزر جاؤ میاں رستہ بہت ہے

حسن کوئی سراب ہے شاید

 حسن کوئی سراب ہے شاید 

اس لیے یہ حجاب ہے شاید

ہم جو تشنہ ہیں بر لبِ دریا

اپنی قسمت خراب ہے شاید

بے گناہی گناہ ہے تو پھر

اب گنہ ہی ثواب ہے شاید

زندگی لڑکھڑاتے شرابی کے جیسی

 زندگی

لڑکھڑاتے شرابی کے جیسی ہے 

جس کو 

تمہارے سہارے کی 

ہر پَل ضرورت ہے


آزر جمال

Wednesday, 24 March 2021

رات کے سونے ماتھے پر دیپ کا جھومر چمکے گا

 رات کے سُونے ماتھے پر

دِیپ کا جُھومر چمکے گا

آنکھ کی کالی رَینا پر

خواب کا سُورج اُبھرے گا

صبح تو اک دن آئے گی

روشنی ہر سُو چھائے گی