اسے میں اور یہ میرا عصا ہی طے کرے گا
یہ راہِ عشق مِرا حوصلہ ہی طے کرے گا
شب سیاہ کے دامن میں ہیں گُہر کیا کیا
نصیب والے! تِرا رتجگا ہی طے کرے گا
سمندروں سے مہِ چار دہ کا کھیل ہے کیا
کوئی کھلاڑی کوئی مہ لقا ہی طے کرے گا
اسے میں اور یہ میرا عصا ہی طے کرے گا
یہ راہِ عشق مِرا حوصلہ ہی طے کرے گا
شب سیاہ کے دامن میں ہیں گُہر کیا کیا
نصیب والے! تِرا رتجگا ہی طے کرے گا
سمندروں سے مہِ چار دہ کا کھیل ہے کیا
کوئی کھلاڑی کوئی مہ لقا ہی طے کرے گا
مہ و انجم نے قبا کی تو تمہارے لیے کی
چاند چہروں پہ ردا کی تو تمہارے لیے کی
وہ بھی تھا موج میں یہ دل بھی بہکنے ہی کو تھا
اپنے ہاتھوں نے حیا کی تو تمہارے لیے کی
کوہ و صحرا میں بھٹکتے سر ساحل پھرتے
میں نے ہر گام صدا کی تو تمہارے لیے کی
مجھ سا انجان کسی موڑ پہ کھو سکتا ہے
حادثہ کوئی بھی اس شہر میں ہو سکتا ہے
سطح دریا کا یہ سفاک سکوں ہے دھوکا
یہ تِری ناؤ کسی وقت ڈبو سکتا ہے
خود کنواں چل کے کرے تشنہ دہانوں کو غریق
ایسا ممکن ہے مِری جان یہ ہو سکتا ہے
ہم اپنے آپ سے کتنے زیادہ ہیں
ہمارے ذہن کی اس عرش پیمائی کے کیا کہنے
ہم اپنے ذہن کے بارے میں جب بھی سوچتے ہیں
مگر یہ بھی تو سوچو ذہن کے بارے میں کس سے سوچتے ہیں
کیا ہمارا ذہن ہی فاعل بھی ہے اور منفعل بھی
ہم کو یہ محسوس ہوتا ہے
چمن اتنا خزاں آثار پہلے کب ہوا تھا
بلا کا قحط برگ و بار پہلے کب ہوا تھا
حوادث اور میں بچپن سے گو لڑ بھڑ رہے تھے
حوادث کا یہ گہرا وار پہلے کب ہوا تھا
میں جن گلیوں میں پیہم بر سر گردش رہا ہوں
میں ان گلیوں میں اتنا خار پہلے کب ہوا تھا
تِری گلی میں گئے کتنے ماہ و سال ہوئے
گزر گئے کئی موسم ہمیں بحال ہوئے
زباں میں تھی ابھی لُکنت کہ حرفِ عشق کہا
لڑکپنا تھا کہ زنجیرِ خد و خال ہوئے
میں مسکراتا رہا اور مسکراتا رہا
سوال مجھ پہ کئی میرے حسبِ حال ہوئے