Showing posts with label تحسین فراقی. Show all posts
Showing posts with label تحسین فراقی. Show all posts

Monday, 5 July 2021

اسے میں اور یہ میرا عصا ہی طے کرے گا

 اسے میں اور یہ میرا عصا ہی طے کرے گا

یہ راہِ عشق مِرا حوصلہ ہی طے کرے گا

شب سیاہ کے دامن میں ہیں گُہر کیا کیا

نصیب والے! تِرا رتجگا ہی طے کرے گا

سمندروں سے مہِ چار دہ کا کھیل ہے کیا

کوئی کھلاڑی کوئی مہ لقا ہی طے کرے گا

Monday, 14 June 2021

مہ و انجم نے قبا کی تو تمہارے لیے کی

 مہ و انجم نے قبا کی تو تمہارے لیے کی

چاند چہروں پہ ردا کی تو تمہارے لیے کی

وہ بھی تھا موج میں یہ دل بھی بہکنے ہی کو تھا

اپنے ہاتھوں نے حیا کی تو تمہارے لیے کی

کوہ و صحرا میں بھٹکتے سر ساحل پھرتے

میں نے ہر گام صدا کی تو تمہارے لیے کی

Thursday, 10 June 2021

مجھ سا انجان کسی موڑ پہ کھو سکتا ہے

 مجھ سا انجان کسی موڑ پہ کھو سکتا ہے

حادثہ کوئی بھی اس شہر میں ہو سکتا ہے

سطح دریا کا یہ سفاک سکوں ہے دھوکا

یہ تِری ناؤ کسی وقت ڈبو سکتا ہے

خود کنواں چل کے کرے تشنہ دہانوں کو غریق

ایسا ممکن ہے مِری جان یہ ہو سکتا ہے

Wednesday, 9 June 2021

ہمارے ذہن کی اس عرش پیمائی کے کیا کہنے

 ہم اپنے آپ سے کتنے زیادہ ہیں


ہمارے ذہن کی اس عرش پیمائی کے کیا کہنے

ہم اپنے ذہن کے بارے میں جب بھی سوچتے ہیں

مگر یہ بھی تو سوچو ذہن کے بارے میں کس سے سوچتے ہیں

کیا ہمارا ذہن ہی فاعل بھی ہے اور منفعل بھی

ہم کو یہ محسوس ہوتا ہے

Wednesday, 2 June 2021

چمن اتنا خزاں آثار پہلے کب ہوا تھا

 چمن اتنا خزاں آثار پہلے کب ہوا تھا

بلا کا قحط برگ و بار پہلے کب ہوا تھا

حوادث اور میں بچپن سے گو لڑ بھڑ رہے تھے

حوادث کا یہ گہرا وار پہلے کب ہوا تھا

میں جن گلیوں میں پیہم بر سر گردش رہا ہوں

میں ان گلیوں میں اتنا خار پہلے کب ہوا تھا

Saturday, 6 March 2021

تری گلی میں گئے کتنے ماہ و سال ہوئے

 تِری گلی میں گئے کتنے ماہ و سال ہوئے

گزر گئے کئی موسم ہمیں بحال ہوئے

زباں میں تھی ابھی لُکنت کہ حرفِ عشق کہا

لڑکپنا تھا کہ زنجیرِ خد و خال ہوئے

میں مسکراتا رہا اور مسکراتا رہا

سوال مجھ پہ کئی میرے حسبِ حال ہوئے