Thursday, 10 June 2021

مجھ سا انجان کسی موڑ پہ کھو سکتا ہے

 مجھ سا انجان کسی موڑ پہ کھو سکتا ہے

حادثہ کوئی بھی اس شہر میں ہو سکتا ہے

سطح دریا کا یہ سفاک سکوں ہے دھوکا

یہ تِری ناؤ کسی وقت ڈبو سکتا ہے

خود کنواں چل کے کرے تشنہ دہانوں کو غریق

ایسا ممکن ہے مِری جان یہ ہو سکتا ہے

بے طرح گونجتا ہے روح کے سناٹے میں

ایسے صحرا میں مسافر کہاں سو سکتا ہے

قتل سے ہاتھ اُٹھاتا نہیں قاتل، نہ سہی

خون سے لتھڑے ہوئے ہاتھ تو دھو سکتا ہے

جھوم کر اٹھتا نہیں کھل کے برسنا کیسا

کیسا بادل ہے کہ ہنستا ہے نہ رو سکتا ہے

جُز مِرے رشتۂ انفاسِ گِرہ گیر میں کون

گُہرِ اشک شرر بار پرو سکتا ہے


تحسین فراقی

No comments:

Post a Comment