عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بس یہی ایک جینا تو جینے میں تھا میں مدینے میں تھا
دل مرا خود کہاں میرے سینے میں تھا میں مدینے میں تھا
داغِ عصیاں لیے چومتا کیا بھلا جالی خوشنما
میں شرابور اپنے پسینے میں تھا میں مدینے میں تھا
نور و نکہت میں ڈوبی ہوئی رات تھی لب پہ اک نعت تھی
اور میں رحمتوں کے خزینے میں تھا میں مدینے میں تھا