Showing posts with label جلیل مانکپوری. Show all posts
Showing posts with label جلیل مانکپوری. Show all posts

Saturday, 11 May 2024

اس شان سے وہ آج پئے امتحاں چلے

 اِس شان سے وہ آج پئے امتحاں چلے

فتنوں نے پاؤں چُوم کے پوچھا، کہاں چلے

کیا پوچھتے ہو ہجر کے مارے کہاں چلے

آتے نہیں پلٹ کے جہاں سے وہاں چلے

کس صید پہ لیے ہوئے تیر و کماں چلے 

میں تو یہاں ہوں سینہ سپر، تم کہاں چلے

Saturday, 8 October 2022

ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر

 ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر

میں بھی نازاں ہوں تِرا عاشق شیدا ہو کر

میں نہ سمجھا تھا کہ اشکوں سے اٹھے گا طوفاں

چند قطروں نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر

چشم بیمار جو پہلے تھی وہی اب بھی ہے

کچھ بنائے نہ بنی تم سے مسیحا ہو کر

Sunday, 1 May 2022

دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئے

 دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئے

میرے دل سوز مِرے چاہنے والے نہ گئے

اپنے ماتھے کی شکن تم سے مٹائی نہ گئی

اپنی تقدیر کے بل ہم سے نکالے نہ گئے

تذکرہ سوزِ محبت کا کیا تھا اک بار

تا دمِ مرگ زباں سے مِری چھالے نہ گئے

Tuesday, 7 December 2021

کٹے عمر صل علٰی کہتے کہتے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کٹے عمر صلِ علٰی کہتے کہتے

اُٹھوں حشر میں مصطفیٰؐ کہتے کہتے

محمدﷺ کو پایا خدا کہتے کہتے

خدا مل گیا مصطفیٰؐ کہتے کہتے

بڑا کام نکلے اگر جان نکلے

زباں سے حبیبِؐ خدا کہتے کہتے

Sunday, 9 May 2021

عاشقی کیا ہر بشر کا کام ہے

 عاشقی کیا ہر بشر کا کام ہے؟

میرے دل میرے جگر کا کام ہے

ہو ہری شاخ تمنا یا نہ ہو

سینچ دینا چشمِ تر کا کام ہے

بڑھ چلے پیک تصور کا قدم

اب یہاں کیا نامہ بر کا کام ہے

Monday, 2 November 2020

یہ کہہ گیا بت ناآشنا سنا کے مجھے

 یہ کہہ گیا بت ناآشنا سنا کے مجھے

کہ آپ میں نہیں رہتا ہے کوئی پا کے مجھے

نقاب کہتی ہے میں پردۂ قیامت ہوں

اگر یقین نہ ہو، دیکھ لو اٹھا کے مجھے

ملوں گا خاک میں آنسو کی طرح یاد رہے

ملو نہ آنکھ کہیں آنکھ سے گرا کے مجھے

Monday, 5 October 2020

محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے

 محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے

مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے

کشش سے کب ہے خالی تشنہ کامی تشنہ کاموں کی

کہ بڑھ کر موجۂ دریا لبِ ساحل سے ملتا ہے

لٹاتے ہیں وہ دولت حسن کی باور نہیں آتا

ہمیں تو ایک بوسہ بھی بڑی مشکل سے ملتا ہے

Wednesday, 13 November 2019

یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں

یہ جو سر نیچے کیے بیٹھے ہیں
جان کتنوں کی لیے بیٹھے ہیں
جان ہم سبزۂ خط پر دے کر
زہر کے گھونٹ پیے بیٹھے ہیں
دل کو ہم ڈھونڈتے ہیں چار طرف
اور یہاں آپ "لیے" بیٹھے ہیں

لاکھ دل مست ہو مستی کا عیاں راز نہ ہو

لاکھ دل مست ہو مستی کا عیاں راز نہ ہو
یہ وہ شیشہ ہے کہ ٹوٹے بھی تو آواز نہ ہو
خوف ہے موسمِ گل میں کہ صبا کا جھونکا
طائرِ ہوش کے حق میں پرِ پرواز نہ ہو
دل بہت بلبلِ شیدا کا ہے نازک گلچیں
پھول گلزار کے یوں توڑ کہ آواز نہ ہو

ایک دن بھی تو نہ اپنی رات نورانی ہوئی

ایک دن بھی تو نہ اپنی رات نورانی ہوئی
ہم کو کیا اے مہ جبیں! گر چاند پیشانی ہوئی
سرد مہری کا تِری ساقی! نتیجہ یہ ہوا
آگ کے مولوں جو بکتی تھی وہ مے پانی ہوئی
اللہ اللہ پھوٹ نکلا رنگ چاہت کا مِری
زہر کھایا میں نے پوشاک آپ کی دھانی ہوئی

قاصد آیا مگر جواب نہیں

قاصد آیا، مگر جواب نہیں 
میرے لکھے کا بھی جواب نہیں 
خُم تو ہے ساقیا شراب نہیں 
آسماں ہے، اور آفتاب نہیں 
بن کے بت سب وہ کہہ گزرتے ہیں 
بے دہانی تِرا جواب نہیں 

Wednesday, 7 September 2016

یہ رنگ گلاب کی کلی کا

یہ رنگ گلاب کی کلی کا
نقشہ ہے کسی کی کم سِنی کا
بلبل کی بہار میں نہ پوچھو
منہ چومتی ہے کلی کلی کا
غنچوں کو صبا نے گُدگُدایا
دشوار ہے ضبط اب ہنسی کا

سخت نازک مزاج دلبر تھا

سخت نازک مزاج دلبر تھا
خیر گزری کہ دل بھی پتھر تھا
مختصر حالِ زندگی یہ ہے
لاکھ سودا تھا، اور اک سر تھا
ان کی رخصت کا دن تو یاد نہیں
یہ سمجھئے کہ روزِ محشر تھا

ناز بھی ہوتا رہے ہوتی رہے بیداد بھی

ناز بھی ہوتا رہے  ہوتی رہے بے داد بھی
سب گوارا ہے جو تم سنتے رہو فریاد بھی
ایک آفت ہیں حسینانِ ستم ایجاد بھی
کرتے ہیں بیداد مجھ پر چاہتے ہیں داد بھی
وقت پڑتا ہے تو کوئی آشنا ہوتا نہیں
دشمنِ فرہاد نکلا تیشۂ فرہاد بھی

Sunday, 7 August 2016

غیر الفت کا راز کیا جانے

غیر الفت کا راز کیا جانے
لطف ناز و نیاز کیا جانے
نیم جانوں پہ کیا گزرتی ہے
نرگسِ نیم باز کیا جانے
میرے طولِ شبِ جدائی کو
تیری زلفِ دراز کیا جانے

وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہا

وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہا
تم گلے سے کیا ملے سارا گِلہ جاتا رہا
یار تک پہنچا دیا بے تابئ دل نے ہمیں
اک تڑپ میں منزلوں کا فاصلہ جاتا رہا
ایک تو آنکھیں دکھائیں پھر یہ شوخی سے کہا
کہیے اب تو کم نگاہی کا گِلہ جاتا رہا

کس قدر تھا گرم نالہ بلبل ناشاد کا

کس قدر تھا گرم نالہ بلبلِ ناشاد کا
آگ پھولوں میں لگی گھر جل گیا صیاد کا
سہل سمجھا تھا ستانا بلبلِ ناشاد کا
چار نالوں میں کلیجا ہل گیا صیاد کا
زیرِ خنجر میں تڑپتا ہوں فقط اس واسطے
خون میرا اڑ کے دامن گیر ہو جلاد کا

Wednesday, 9 March 2016

موسم گل میں عجب رنگ ہے میخانے کا

موسمِ گل میں عجب رنگ ہے مے خانے کا
 شیشہ جھکتا ہے کہ منہ چوم لے پیمانے کا
خوب انصاف تِری انجمنِ ناز میں ہے
شمع کا رنگ جمے، خون ہو پروانے کا
میں سمجھتا ہوں تِری عشوہ گری اے ساقی
کام کرتی ہے نظر،۔۔ نام ہے پیمانے کا

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

نگاہ برق نہیں،۔۔ چہرہ آفتاب نہیں
وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں
جوابِ خشک سنوں ساقیا! یہ تاب نہیں
جواب دے کہ نہ دے یہ نہ کہہ شراب نہیں
ہمیں تو دور سے آنکھیں دکھائی جاتی ہیں
نقاب لپٹی ہے اس پر کوئی عتاب نہیں

صبا نے مجھ کو سنگھائی ہے جب سے بو تیری

صبا نے مجھ کو سنگھائی ہے جب سے بُو تیری 
چمن چمن لیے پھرتی ہے جستجُو تیری 
اب اور تیر لگانے کی کیا ضرورت ہے 
کھٹک رہی ہے کلیجے میں آرزُو تیری 
یہ چار چاند مِرے عشق نے لگائے ہیں 
کہ آج حسن میں شہرت ہے چار سُو تیری