اِس شان سے وہ آج پئے امتحاں چلے
فتنوں نے پاؤں چُوم کے پوچھا، کہاں چلے
کیا پوچھتے ہو ہجر کے مارے کہاں چلے
آتے نہیں پلٹ کے جہاں سے وہاں چلے
کس صید پہ لیے ہوئے تیر و کماں چلے
میں تو یہاں ہوں سینہ سپر، تم کہاں چلے
اِس شان سے وہ آج پئے امتحاں چلے
فتنوں نے پاؤں چُوم کے پوچھا، کہاں چلے
کیا پوچھتے ہو ہجر کے مارے کہاں چلے
آتے نہیں پلٹ کے جہاں سے وہاں چلے
کس صید پہ لیے ہوئے تیر و کماں چلے
میں تو یہاں ہوں سینہ سپر، تم کہاں چلے
ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر
میں بھی نازاں ہوں تِرا عاشق شیدا ہو کر
میں نہ سمجھا تھا کہ اشکوں سے اٹھے گا طوفاں
چند قطروں نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر
چشم بیمار جو پہلے تھی وہی اب بھی ہے
کچھ بنائے نہ بنی تم سے مسیحا ہو کر
دن کی آہیں نہ گئیں رات کے نالے نہ گئے
میرے دل سوز مِرے چاہنے والے نہ گئے
اپنے ماتھے کی شکن تم سے مٹائی نہ گئی
اپنی تقدیر کے بل ہم سے نکالے نہ گئے
تذکرہ سوزِ محبت کا کیا تھا اک بار
تا دمِ مرگ زباں سے مِری چھالے نہ گئے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کٹے عمر صلِ علٰی کہتے کہتے
اُٹھوں حشر میں مصطفیٰؐ کہتے کہتے
محمدﷺ کو پایا خدا کہتے کہتے
خدا مل گیا مصطفیٰؐ کہتے کہتے
بڑا کام نکلے اگر جان نکلے
زباں سے حبیبِؐ خدا کہتے کہتے
عاشقی کیا ہر بشر کا کام ہے؟
میرے دل میرے جگر کا کام ہے
ہو ہری شاخ تمنا یا نہ ہو
سینچ دینا چشمِ تر کا کام ہے
بڑھ چلے پیک تصور کا قدم
اب یہاں کیا نامہ بر کا کام ہے
یہ کہہ گیا بت ناآشنا سنا کے مجھے
کہ آپ میں نہیں رہتا ہے کوئی پا کے مجھے
نقاب کہتی ہے میں پردۂ قیامت ہوں
اگر یقین نہ ہو، دیکھ لو اٹھا کے مجھے
ملوں گا خاک میں آنسو کی طرح یاد رہے
ملو نہ آنکھ کہیں آنکھ سے گرا کے مجھے
محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے
مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے
کشش سے کب ہے خالی تشنہ کامی تشنہ کاموں کی
کہ بڑھ کر موجۂ دریا لبِ ساحل سے ملتا ہے
لٹاتے ہیں وہ دولت حسن کی باور نہیں آتا
ہمیں تو ایک بوسہ بھی بڑی مشکل سے ملتا ہے