Saturday, 8 October 2022

ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر

 ناز کرتا ہے جو تو حسن میں یکتا ہو کر

میں بھی نازاں ہوں تِرا عاشق شیدا ہو کر

میں نہ سمجھا تھا کہ اشکوں سے اٹھے گا طوفاں

چند قطروں نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر

چشم بیمار جو پہلے تھی وہی اب بھی ہے

کچھ بنائے نہ بنی تم سے مسیحا ہو کر

کس کے رُخسار دمِ سیرِ چمن یاد آئے

پھول آنکھوں میں کھٹکنے لگے کانٹا ہو کر

درد تھا دل میں تو جینے کا مزہ ملتا تھا

اب تو بیمار سے بدتر ہوں میں اچھا ہو کر

دام سے چھوٹ کے بھی میری اسیری نہ گئی

زلفِ صیاد گلے پڑ گئی پھندا ہو کر

چُھپ کے رہنا ہے جو سب سے تو یہ مُشکل کیا ہے

تم مِرے دل میں رہو دل کی تمنا ہو کر

کیا ستم ہے شبِ وعدہ وہ حِنا مَلتے ہیں

رنگ لائے نہ کہیں خونِ تمنا ہو کر

دہنِ یار کی تعریف جو کی میں نے جلیل

اُڑ گیا طائرِ مضموں مِرا عنقا ہو کر


جلیل مانکپوری

No comments:

Post a Comment