Showing posts with label عظمٰی شاہ. Show all posts
Showing posts with label عظمٰی شاہ. Show all posts

Thursday, 24 March 2022

سفر چاہتوں کا شروع کر رکھا ہے

 سفر چاہتوں کا شروع کر رکھا ہے

کھلا دل کا اس کے لیے دَر رکھا ہے

در و بام پے ہے جو پھولوں کی بارش

اسی کے لیے گھر سجا کر رکھا ہے

لبوں پہ تبسم ہے چہرے پہ لالی

نگاہوں میں رِم جھم کا منظر رکھا ہے

Thursday, 1 April 2021

بخش دے زیست مجھے پیکرِ تصویر میں آ

 بخش دے زیست مجھے پیکرِ تصویر میں آ

آ میں دیکھوں تجھے میرے درِ جاگیر میں آ

تُو مِری آنکھ میں آتا ہے جو خوابوں کی طرح

ایک دن خود بھی اسی خواب کی تعبیر میں آ

دل عیار مِرا اتنا خفا ہے مجھ سے

خود بخود بیٹھ گیا زلفِ گِرہ گِیر میں آ

Tuesday, 30 March 2021

کبھی راجہ تو کبھی راج دلارے بچے

کبھی راجہ تو کبھی راج دُلارے بچے 

ماؤں کے واسطے پُر نُور ستارے بچے

دوڑتے بھُوک کی گلیوں میں ہیں ننگے پاؤں

ہائے بے رحمئ حالات کے مارے بچے 

میرے بچوں کے مقدر میں غلامی کیوں ہے

حکمرانی ہی کریں کیوں یہ تمہارے بچے 

Monday, 29 March 2021

ہجر میں دل یہ مرا بس سوچتا رہ جائے گا

 ہجر میں دل یہ مِرا بس سوچتا رہ جائے گا

گھر میں بس تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا

تیرے میرے درمیاں بس اک خلا سا ہے کوئی

یاد میں جھونکا ہوا کا جھانکتا رہ جائے گا

رات کے سناٹے میں ہوں چار سُو خاموشیاں

چاند بھی تنہائی میری دیکھتا رہ جائے گا

Sunday, 28 March 2021

اندھیرا تم کو اگر ستائے تو لوٹ آنا

 اندھیرا تم کو اگر ستائے تو لوٹ آنا

تمہارے رستے میں رات آئے تو لوٹ آنا

میں جانتی ہوں کہ دھوپ کا یہ سفر نہ ہو گا

جو سایہ دیوار کا جلائے تو لوٹ آنا

مِری وفاؤں کو تم جو ٹھُکرا کے جا رہے ہو

تمہیں اگر کوئی چھوڑ جائے تو لوٹ آنا

Monday, 28 December 2020

درد جب میرے دل میں پلتے ہیں

 درد جب میرے دل میں پلتے ہیں

لفظ تب شاعری میں ڈھلتے ہیں

تم کو جب دیکھ لیں مِری آنکھیں

خواب سب آنسوؤں میں جلتے ہیں

وہ پریشان ہو کے پھرتا ہے

اس کے دل میں بھی غم مچلتے ہیں