سفر چاہتوں کا شروع کر رکھا ہے
کھلا دل کا اس کے لیے دَر رکھا ہے
در و بام پے ہے جو پھولوں کی بارش
اسی کے لیے گھر سجا کر رکھا ہے
لبوں پہ تبسم ہے چہرے پہ لالی
نگاہوں میں رِم جھم کا منظر رکھا ہے
سفر چاہتوں کا شروع کر رکھا ہے
کھلا دل کا اس کے لیے دَر رکھا ہے
در و بام پے ہے جو پھولوں کی بارش
اسی کے لیے گھر سجا کر رکھا ہے
لبوں پہ تبسم ہے چہرے پہ لالی
نگاہوں میں رِم جھم کا منظر رکھا ہے
بخش دے زیست مجھے پیکرِ تصویر میں آ
آ میں دیکھوں تجھے میرے درِ جاگیر میں آ
تُو مِری آنکھ میں آتا ہے جو خوابوں کی طرح
ایک دن خود بھی اسی خواب کی تعبیر میں آ
دل عیار مِرا اتنا خفا ہے مجھ سے
خود بخود بیٹھ گیا زلفِ گِرہ گِیر میں آ
کبھی راجہ تو کبھی راج دُلارے بچے
ماؤں کے واسطے پُر نُور ستارے بچے
دوڑتے بھُوک کی گلیوں میں ہیں ننگے پاؤں
ہائے بے رحمئ حالات کے مارے بچے
میرے بچوں کے مقدر میں غلامی کیوں ہے
حکمرانی ہی کریں کیوں یہ تمہارے بچے
ہجر میں دل یہ مِرا بس سوچتا رہ جائے گا
گھر میں بس تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا
تیرے میرے درمیاں بس اک خلا سا ہے کوئی
یاد میں جھونکا ہوا کا جھانکتا رہ جائے گا
رات کے سناٹے میں ہوں چار سُو خاموشیاں
چاند بھی تنہائی میری دیکھتا رہ جائے گا
اندھیرا تم کو اگر ستائے تو لوٹ آنا
تمہارے رستے میں رات آئے تو لوٹ آنا
میں جانتی ہوں کہ دھوپ کا یہ سفر نہ ہو گا
جو سایہ دیوار کا جلائے تو لوٹ آنا
مِری وفاؤں کو تم جو ٹھُکرا کے جا رہے ہو
تمہیں اگر کوئی چھوڑ جائے تو لوٹ آنا
درد جب میرے دل میں پلتے ہیں
لفظ تب شاعری میں ڈھلتے ہیں
تم کو جب دیکھ لیں مِری آنکھیں
خواب سب آنسوؤں میں جلتے ہیں
وہ پریشان ہو کے پھرتا ہے
اس کے دل میں بھی غم مچلتے ہیں