Showing posts with label وقاص عزیز. Show all posts
Showing posts with label وقاص عزیز. Show all posts

Friday, 6 January 2023

آنکھ سے ہجر گرا دل نے دہائی دی ہے

 آنکھ سے ہجر گرا دل نے دہائی دی ہے

عشق والوں کی کہاں چیخ سنائی دی ہے

رات کی شاخ ہلی اور گرے پیلے پھول

درد کے پیڑ نے یوں ہم کو کمائی دی ہے

شور اتنا کہ سنائی نہ دیا تھا کچھ بھی

آنکھ کھولی ہے تو آواز دکھائی دی ہے

Sunday, 3 July 2022

تمہارے لیے اک نظم

 تمہارے لیے اک نظم


میں سوچ رہا ہوں

تمہارے ہجر میں ایسی

نظمیں لکھوں

جو امر ہو جائیں

بارش کی ہتھیلیوں پر

Monday, 7 February 2022

سر آب و ہوا موسم جدا ہے

 سرِ آب و ہوا موسم جدا ہے

زمیں وحشت زدہ ہے دل برا ہے

مِری وحشت کو شہرت مل رہی تھی

مجھے دشتِ رواں کا سامنا ہے

تمہاری آنکھ سے کیسے گِرا ہوں

یہی سچ آنسوؤں سے پوچھنا ہے

Tuesday, 1 February 2022

سکوتِ شب میں کسی ہجر نے پکارا ہے

 سکوتِ شب میں کسی ہجر نے پکارا ہے

سنو، یہ چاند نہیں ٹوٹتا ستارہ پے

اداس رستے میں اک یاد ہم سفر ہے مری

مجھے یقین ہے یہ دوسرا کنارہ ہے

میں کیا بتاؤں اذیت کی انتہا کیا تھی

کہ جیسے پیاس کو بھی آگ سے گزارا ہے

Monday, 22 November 2021

ابھرتے ڈوبتے تارے پہ کون جیتا ہے

 ابھرتے ڈوبتے تارے پہ کون جیتا ہے

شرابیوں کے سہارے پہ کون جیتا ہے

سڑک پہ ایک بھکاری نے بھوک چنتے کہا

تمام عمر کے لارے پہ کون جیتا ہے

محبتوں میں ہیں درکار بولتی آنکھیں

تِرے خموش اشارے پہ کون جیتا ہے

تری حنائی ہتھیلی سے آشنا ہوں میں

 تِری حنائی ہتھیلی سے آشنا ہوں میں

بچھڑنے والے تِرے درد کی دوا ہوں میں

یہ واپسی تو نئی جنگ کا بگل ہے دوست

سمجھ کہ پھر سے تِری سمت آ رہا ہوں میں

سڑک کے پار مِرے پاؤں تھک کے رکنے لگے

کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ؛ راستہ ہوں میں

Sunday, 21 November 2021

وہ شخص میرے برابر سے جب نکلتا ہے

 وہ شخص میرے برابر سے جب نکلتا ہے

نئے سفر پہ مِرا دل بھی تب نکلتا ہے

تمہارے ہاتھ سے آتی ہے اجنبی سی مہک

سو تم سے دوری کا یہ بھی سبب نکلتا ہے

اسی کو یار میسر ہے خوش نظر ہونا

جو دیکھ لے کہ نیا چاند کب نکلتا ہے

Saturday, 20 November 2021

کہیں اداس درختوں پہ جب بہار آئے

 کہیں اداس درختوں پہ جب بہار آئے

گلابِ وصل کے کھلنے کا اعتبار آئے

کسی کا ہجر کسی کی کسک کسی کا ملال

کوئی سبو میں. ملائے تو پھر خمار آئے

عجیب ہوتے ہیں یہ سلسلے محبت کے

بچھڑنے والے بچھڑ کر بھی بار بار آئے

Friday, 19 November 2021

سانس لینے کی سہولت سے گئے

 سانس لینے کی سہولت سے گئے

ہم تِرے بعد محبت سے گئے

زندگی تیز چلی اور ہم لوگ

تجھ سے ملنے کی سعادت سے گئے

ہم نئے لوگ گنوا کر دلی

میر صاحب کی روایت سے گئے

Thursday, 18 November 2021

کسی کے عشق میں کچھ ایسا مبتلا ہوا میں

 کسی کے عشق میں کچھ ایسا مبتلا ہُوا میں

کہ اس کو شاہ بناتے ہوئے گدا ہوا میں

میں ٹوٹ پھوٹ گیا ہوں بنا بنایا ہوا

اور اس پہ ظلم تِرے ہاتھ سے فنا ہوا میں

میں تم کو دیکھ رہا تھا، دکھائی دینے لگا

تمہارے شہر میں آ کر ہی آئینہ ہوا میں

Monday, 15 November 2021

خزاں کے زور سے لڑتی صدا نہیں کچھ بھی

 خزاں کے زور سے لڑتی صدا نہیں کچھ بھی

شجر کے پاس سوائے دعا نہیں کچھ بھی

تمہارے غصے پہ دل کو دلاسہ دینے لگا

سمجھ رہو کہ میری انا نہیں کچھ بھی

ڈھلے جو دن تو مِرے اشک جگمگانے لگیں

یہ چاند رات یہ جلتا دِیا نہیں کچھ بھی

Sunday, 14 November 2021

کہیں دنیا کی دولت رقص میں ہے

 کہیں دنیا کی دولت رقص میں ہے

کہیں غربت ہی غربت رقص میں ہے

یہ سرشاری تمہاری دی ہوئی ہے

یہ میں کب ہوں محبت رقص میں ہے

مِری ہی خاک اڑتی ہے مِرے گرد

بلائے جاں اذیت رقص میں ہے

نہیں جاتا یہ پہلے عشق کا دکھ

 نہیں جاتا یہ پہلے عشق کا دکھ

بڑا دکھ ہے یہ تیرے عشق کا دکھ

تو خوش ہے مسکراہٹ ہے لبوں پر

مگر آنکھوں میں میرے عشق کا دکھ

وہ دن بھی تھے تری پلکوں کے جیسے

یہ راتیں بھی ہیں جیسے عشق کا دکھ

Monday, 13 September 2021

آنکھ سے ہجر گرا دل نے دہائی دی ہے

 آنکھ سے ہجر گرا دل نے دہائی دی ہے

عشق والوں کی کہاں چیخ سنائی دی ہے

رات کی شاخ ہلی اور گرے پیلے پھول

درد کے پیڑ نے یوں ہم کو کمائی دی ہے

شور اتنا کہ سنائی نہ دیا تھا کچھ بھی

آنکھ کھولی ہے تو آواز دکھائی دی ہے