آنکھ سے ہجر گرا دل نے دہائی دی ہے
عشق والوں کی کہاں چیخ سنائی دی ہے
رات کی شاخ ہلی اور گرے پیلے پھول
درد کے پیڑ نے یوں ہم کو کمائی دی ہے
شور اتنا کہ سنائی نہ دیا تھا کچھ بھی
آنکھ کھولی ہے تو آواز دکھائی دی ہے
آنکھ سے ہجر گرا دل نے دہائی دی ہے
عشق والوں کی کہاں چیخ سنائی دی ہے
رات کی شاخ ہلی اور گرے پیلے پھول
درد کے پیڑ نے یوں ہم کو کمائی دی ہے
شور اتنا کہ سنائی نہ دیا تھا کچھ بھی
آنکھ کھولی ہے تو آواز دکھائی دی ہے
تمہارے لیے اک نظم
میں سوچ رہا ہوں
تمہارے ہجر میں ایسی
نظمیں لکھوں
جو امر ہو جائیں
بارش کی ہتھیلیوں پر
سرِ آب و ہوا موسم جدا ہے
زمیں وحشت زدہ ہے دل برا ہے
مِری وحشت کو شہرت مل رہی تھی
مجھے دشتِ رواں کا سامنا ہے
تمہاری آنکھ سے کیسے گِرا ہوں
یہی سچ آنسوؤں سے پوچھنا ہے
سکوتِ شب میں کسی ہجر نے پکارا ہے
سنو، یہ چاند نہیں ٹوٹتا ستارہ پے
اداس رستے میں اک یاد ہم سفر ہے مری
مجھے یقین ہے یہ دوسرا کنارہ ہے
میں کیا بتاؤں اذیت کی انتہا کیا تھی
کہ جیسے پیاس کو بھی آگ سے گزارا ہے
ابھرتے ڈوبتے تارے پہ کون جیتا ہے
شرابیوں کے سہارے پہ کون جیتا ہے
سڑک پہ ایک بھکاری نے بھوک چنتے کہا
تمام عمر کے لارے پہ کون جیتا ہے
محبتوں میں ہیں درکار بولتی آنکھیں
تِرے خموش اشارے پہ کون جیتا ہے
تِری حنائی ہتھیلی سے آشنا ہوں میں
بچھڑنے والے تِرے درد کی دوا ہوں میں
یہ واپسی تو نئی جنگ کا بگل ہے دوست
سمجھ کہ پھر سے تِری سمت آ رہا ہوں میں
سڑک کے پار مِرے پاؤں تھک کے رکنے لگے
کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ؛ راستہ ہوں میں
وہ شخص میرے برابر سے جب نکلتا ہے
نئے سفر پہ مِرا دل بھی تب نکلتا ہے
تمہارے ہاتھ سے آتی ہے اجنبی سی مہک
سو تم سے دوری کا یہ بھی سبب نکلتا ہے
اسی کو یار میسر ہے خوش نظر ہونا
جو دیکھ لے کہ نیا چاند کب نکلتا ہے
کہیں اداس درختوں پہ جب بہار آئے
گلابِ وصل کے کھلنے کا اعتبار آئے
کسی کا ہجر کسی کی کسک کسی کا ملال
کوئی سبو میں. ملائے تو پھر خمار آئے
عجیب ہوتے ہیں یہ سلسلے محبت کے
بچھڑنے والے بچھڑ کر بھی بار بار آئے
سانس لینے کی سہولت سے گئے
ہم تِرے بعد محبت سے گئے
زندگی تیز چلی اور ہم لوگ
تجھ سے ملنے کی سعادت سے گئے
ہم نئے لوگ گنوا کر دلی
میر صاحب کی روایت سے گئے
کسی کے عشق میں کچھ ایسا مبتلا ہُوا میں
کہ اس کو شاہ بناتے ہوئے گدا ہوا میں
میں ٹوٹ پھوٹ گیا ہوں بنا بنایا ہوا
اور اس پہ ظلم تِرے ہاتھ سے فنا ہوا میں
میں تم کو دیکھ رہا تھا، دکھائی دینے لگا
تمہارے شہر میں آ کر ہی آئینہ ہوا میں
خزاں کے زور سے لڑتی صدا نہیں کچھ بھی
شجر کے پاس سوائے دعا نہیں کچھ بھی
تمہارے غصے پہ دل کو دلاسہ دینے لگا
سمجھ رہو کہ میری انا نہیں کچھ بھی
ڈھلے جو دن تو مِرے اشک جگمگانے لگیں
یہ چاند رات یہ جلتا دِیا نہیں کچھ بھی
کہیں دنیا کی دولت رقص میں ہے
کہیں غربت ہی غربت رقص میں ہے
یہ سرشاری تمہاری دی ہوئی ہے
یہ میں کب ہوں محبت رقص میں ہے
مِری ہی خاک اڑتی ہے مِرے گرد
بلائے جاں اذیت رقص میں ہے
نہیں جاتا یہ پہلے عشق کا دکھ
بڑا دکھ ہے یہ تیرے عشق کا دکھ
تو خوش ہے مسکراہٹ ہے لبوں پر
مگر آنکھوں میں میرے عشق کا دکھ
وہ دن بھی تھے تری پلکوں کے جیسے
یہ راتیں بھی ہیں جیسے عشق کا دکھ
آنکھ سے ہجر گرا دل نے دہائی دی ہے
عشق والوں کی کہاں چیخ سنائی دی ہے
رات کی شاخ ہلی اور گرے پیلے پھول
درد کے پیڑ نے یوں ہم کو کمائی دی ہے
شور اتنا کہ سنائی نہ دیا تھا کچھ بھی
آنکھ کھولی ہے تو آواز دکھائی دی ہے