Showing posts with label سردار فہد. Show all posts
Showing posts with label سردار فہد. Show all posts

Monday, 13 February 2023

وہ مجھے حکمت تسخیر جہاں دیتا ہے

 وہ مجھے حکمتِ تسخیرِ جہاں دیتا ہے

اور مہلت میں فقط عمرِ نہاں دیتا ہے

دشت میں اس نے اٹھا دی ہیں کئی دیواریں

گھر مِرا چھین کے جو مجھ کو مکاں دیتا ہے

ہجر کے پیڑ کو اب آگ لگا دی میں نے

دھوپ دیتا تھا کبھی، آج دھواں دیتا ہے

Thursday, 15 July 2021

رانجھے پہ اگر ہجر کی دیوار گرے گی

 رانجھے پہ اگر ہجر کی دیوار گِرے گی

پھر ہیر بھی پڑھتے ہوئے اشعار گرے گی

پتھر تو تراشے گی مگر دل نہ بنے گا

مر مر پہ چلے گی تو لگاتار گرے گی

منہ موڑ لیا باپ نے بیٹی سے یہ کہہ کر

گر سر کو بچایا گیا، دستار گرے گی

Monday, 12 July 2021

یہ ہاتھوں کی لکیروں سے یہ تقدیروں سے ڈرتی ہیں

 لکیریں


کبھی ایسا بھی ہوتا ہے

کہ خوابوں سے بھری آنکھیں

سرابوں سے بھری آنکھیں

یونہی سونے سے ڈرتی ہیں

اداسی میں بھی یہ رونے سے ڈرتی ہیں

Friday, 2 July 2021

جب میں بولوں تو مری بات نہیں کاٹے گا

 جب میں بولوں تو مِری بات نہیں کاٹے گا

تُو جواباً یہ سوالات نہیں کاٹے گا

آنا جانا ہے اُجالوں میں ہی سورج کا میاں

مر بھی جائے تو یہاں رات نہیں کاٹے گا

پہلی پیشی پہ سزا موت کی مل جائے گی

عشق میں کوئی حوالات نہیں کاٹے گا

Thursday, 17 June 2021

اس گہن زاد قبیلے کے مداروں کا نہ پوچھ

 اس گہن زاد قبیلے کے مداروں کا نہ پوچھ

پوچھ سورج کا مگر چاند ستاروں کا نہ پوچھ

پوچھ فرعون کے لشکر میں مِرے تھے کتنے

اس مورخ سے کبھی عشق کے ماروں کا نہ پوچھ

دشت میں آ ہی گیا ہے تو گلابوں کو نہ ڈھونڈ

برگِ صحرا کو ابھی چوم، بہاروں کا نہ پوچھ

Monday, 14 June 2021

یہ بت غرور کے ہر بار ڈھائے جائیں گے

 یہ بت غرور کے ہر بار ڈھائے جائیں گے

یہ آسمان زمیں پر گرائے جائیں گے

چمن میں کہتا تھا صیاد ایک بلبل کو

زبان کاٹ کے نغمے سکھائے جائیں گے

انا کی دھوپ محبت کے پیڑ پر چیخی

مِری تپش سے وفاؤں کے سائے جائیں گے

Thursday, 4 March 2021

سانپ کے جیسے نہ بچھو کی طرح ہوتے ہیں

 سانپ کے جیسے نہ بچھو کی طرح ہوتے ہیں

یار تو یار ہیں، بازو کی طرح ہوتے ہیں

سرد لہجے کی تپش اور ستم ڈھاتی ہے

اس کے الفاظ بھی چاقو کی طرح ہوتے ہیں

کیا بگاڑیں گے اندھیروں کا یہ ننھے ذرے

یہ ستارے بھی تو جگنو کی طرح ہوتے ہیں

Friday, 8 January 2021

مجھے حالات کی اس دھوپ نے کتنا نچوڑا ہے

 مجھے حالات کی اس دھوپ نے کتنا نچوڑا ہے

بدن مرجھا گیا تو پھر مرا سایہ نچوڑا ہے

چلو چھوڑو کہ کیسے روح نکلے ہے بدن میں سے

ذرا اتنا بتاؤ کہ کبھی کپڑا نچوڑا ہے؟

مجھے لہروں کے جیسے لگ رہی ہے ریت صحرا کی

خدا نے ایسا لگتا ہے کوئی دریا نچوڑا ہے

Wednesday, 6 January 2021

لوٹا ہوں یہ قلیل اجارا لیے ہوئے

 لوٹا ہوں یہ قلیل اجارا لیے ہوئے

آشوبِ دہر سارے کا سارا لیے ہوئے

قاتل نے بھی لکھی ہے وصیت ابھی ابھی

مقتول کے بدن کا سہارا لیے ہوئے

کل رات لڑ رہا تھا مری تیرگی کے ساتھ

جگنو میاں کو ایک ستارا لیے ہوئے

Friday, 25 December 2020

اک پیڑ پینٹ کر کے مصور جو تھک گیا

 اک پیڑ پینٹ کر کے مصور جو تھک گیا

پنچھی تخیلات کی نس میں اٹک گیا

پیتا تھا گھول گھول کے الفاظِ شاعری

جب چڑھ گئی تو صاحبِ دیواں بہک گیا

مدت کے بعد نیند کی ٹہنی ہوئی نصیب

اتنے میں تیری یاد کا پنچھی چہک گیا

Thursday, 24 December 2020

دیوار نے جو آپ کو رستہ نہیں دیا

 دیوار نے جو آپ کو رستہ نہیں دیا

کیا آپ نے ہمارا حوالہ نہیں دیا؟

یہ ہجر میں نے اپنے ہی ہاتھوں کمایا ہے

میں نے تمہارے وصل کا صدقہ نہیں دیا

یادوں کی دھوپ زندگی کی شام تک رہی

اس ہجر نامی پیڑ نے سایہ نہیں دیا

سلنڈر پھٹ گیا تھا جی

 سلنڈر


نہیں یہ میں نہیں ہوں

میں بہت ہی خوبصورت تھی

مرے بابا مجھے گڑیا بلاتے تھے

مری امی مجھے جب ڈانٹ بھی دیتیں

تو سینے سے لگا کر گال میرے چوم لیتی تھیں

Wednesday, 23 December 2020

تم نے عشق میں دھوکہ کھایا مہنگائی نے آٹا کھایا

 تم نے عشق میں دھوکہ کھایا؟

ہم نے بھی کچھ ایسا کھایا

مزدوروں نے مٹی چاٹی

مہنگائی نے آٹا کھایا

دودھ نہیں رکھا تھا میں نے

سانپ نے اپنا انڈا کھایا