وہ مجھے حکمتِ تسخیرِ جہاں دیتا ہے
اور مہلت میں فقط عمرِ نہاں دیتا ہے
دشت میں اس نے اٹھا دی ہیں کئی دیواریں
گھر مِرا چھین کے جو مجھ کو مکاں دیتا ہے
ہجر کے پیڑ کو اب آگ لگا دی میں نے
دھوپ دیتا تھا کبھی، آج دھواں دیتا ہے
وہ مجھے حکمتِ تسخیرِ جہاں دیتا ہے
اور مہلت میں فقط عمرِ نہاں دیتا ہے
دشت میں اس نے اٹھا دی ہیں کئی دیواریں
گھر مِرا چھین کے جو مجھ کو مکاں دیتا ہے
ہجر کے پیڑ کو اب آگ لگا دی میں نے
دھوپ دیتا تھا کبھی، آج دھواں دیتا ہے
رانجھے پہ اگر ہجر کی دیوار گِرے گی
پھر ہیر بھی پڑھتے ہوئے اشعار گرے گی
پتھر تو تراشے گی مگر دل نہ بنے گا
مر مر پہ چلے گی تو لگاتار گرے گی
منہ موڑ لیا باپ نے بیٹی سے یہ کہہ کر
گر سر کو بچایا گیا، دستار گرے گی
لکیریں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
کہ خوابوں سے بھری آنکھیں
سرابوں سے بھری آنکھیں
یونہی سونے سے ڈرتی ہیں
اداسی میں بھی یہ رونے سے ڈرتی ہیں
جب میں بولوں تو مِری بات نہیں کاٹے گا
تُو جواباً یہ سوالات نہیں کاٹے گا
آنا جانا ہے اُجالوں میں ہی سورج کا میاں
مر بھی جائے تو یہاں رات نہیں کاٹے گا
پہلی پیشی پہ سزا موت کی مل جائے گی
عشق میں کوئی حوالات نہیں کاٹے گا
اس گہن زاد قبیلے کے مداروں کا نہ پوچھ
پوچھ سورج کا مگر چاند ستاروں کا نہ پوچھ
پوچھ فرعون کے لشکر میں مِرے تھے کتنے
اس مورخ سے کبھی عشق کے ماروں کا نہ پوچھ
دشت میں آ ہی گیا ہے تو گلابوں کو نہ ڈھونڈ
برگِ صحرا کو ابھی چوم، بہاروں کا نہ پوچھ
یہ بت غرور کے ہر بار ڈھائے جائیں گے
یہ آسمان زمیں پر گرائے جائیں گے
چمن میں کہتا تھا صیاد ایک بلبل کو
زبان کاٹ کے نغمے سکھائے جائیں گے
انا کی دھوپ محبت کے پیڑ پر چیخی
مِری تپش سے وفاؤں کے سائے جائیں گے
سانپ کے جیسے نہ بچھو کی طرح ہوتے ہیں
یار تو یار ہیں، بازو کی طرح ہوتے ہیں
سرد لہجے کی تپش اور ستم ڈھاتی ہے
اس کے الفاظ بھی چاقو کی طرح ہوتے ہیں
کیا بگاڑیں گے اندھیروں کا یہ ننھے ذرے
یہ ستارے بھی تو جگنو کی طرح ہوتے ہیں
مجھے حالات کی اس دھوپ نے کتنا نچوڑا ہے
بدن مرجھا گیا تو پھر مرا سایہ نچوڑا ہے
چلو چھوڑو کہ کیسے روح نکلے ہے بدن میں سے
ذرا اتنا بتاؤ کہ کبھی کپڑا نچوڑا ہے؟
مجھے لہروں کے جیسے لگ رہی ہے ریت صحرا کی
خدا نے ایسا لگتا ہے کوئی دریا نچوڑا ہے
لوٹا ہوں یہ قلیل اجارا لیے ہوئے
آشوبِ دہر سارے کا سارا لیے ہوئے
قاتل نے بھی لکھی ہے وصیت ابھی ابھی
مقتول کے بدن کا سہارا لیے ہوئے
کل رات لڑ رہا تھا مری تیرگی کے ساتھ
جگنو میاں کو ایک ستارا لیے ہوئے
اک پیڑ پینٹ کر کے مصور جو تھک گیا
پنچھی تخیلات کی نس میں اٹک گیا
پیتا تھا گھول گھول کے الفاظِ شاعری
جب چڑھ گئی تو صاحبِ دیواں بہک گیا
مدت کے بعد نیند کی ٹہنی ہوئی نصیب
اتنے میں تیری یاد کا پنچھی چہک گیا
دیوار نے جو آپ کو رستہ نہیں دیا
کیا آپ نے ہمارا حوالہ نہیں دیا؟
یہ ہجر میں نے اپنے ہی ہاتھوں کمایا ہے
میں نے تمہارے وصل کا صدقہ نہیں دیا
یادوں کی دھوپ زندگی کی شام تک رہی
اس ہجر نامی پیڑ نے سایہ نہیں دیا
سلنڈر
نہیں یہ میں نہیں ہوں
میں بہت ہی خوبصورت تھی
مرے بابا مجھے گڑیا بلاتے تھے
مری امی مجھے جب ڈانٹ بھی دیتیں
تو سینے سے لگا کر گال میرے چوم لیتی تھیں
تم نے عشق میں دھوکہ کھایا؟
ہم نے بھی کچھ ایسا کھایا
مزدوروں نے مٹی چاٹی
مہنگائی نے آٹا کھایا
دودھ نہیں رکھا تھا میں نے
سانپ نے اپنا انڈا کھایا