اس گہن زاد قبیلے کے مداروں کا نہ پوچھ
پوچھ سورج کا مگر چاند ستاروں کا نہ پوچھ
پوچھ فرعون کے لشکر میں مِرے تھے کتنے
اس مورخ سے کبھی عشق کے ماروں کا نہ پوچھ
دشت میں آ ہی گیا ہے تو گلابوں کو نہ ڈھونڈ
برگِ صحرا کو ابھی چوم، بہاروں کا نہ پوچھ
بیٹھ، طوفان سے مت ڈر، ذرا چپو تو ہلا
ہاتھ جوڑے ہوئے لہروں سے کناروں کا نہ پوچھ
یار تھا، عشق تھا، دنیا تھی، خوشی تھی، میں تھا
پانچواں تو یہیں موجود ہے، چاروں کا نہ پوچھ
ہم فقیروں کو بھلا بیچ میں لاتا کیوں ہے
ڈھونڈ اللہ کا در، ہم سے مزاروں کا نہ پوچھ
ہاتھ چومے ہیں ابھی اس کے جنہوں نے یارا
یہ تو دشمن ہیں مِرے یار کے، یاروں کا نہ پوچھ
جو بھی گرتا ہے، کچل دیتے ہیں وحشت کے اسیر
عشق گلیوں کا مسافر ہے، سہاروں کا نہ پوچھ
ایک فرہاد تھا، مجنوں تھا، کوئی رانجھا تھا
اور ہزاروں ہیں مِرے جیسے بھی، ساروں کا نہ پوچھ
سردار فہد
No comments:
Post a Comment