Thursday, 17 June 2021

اس گہن زاد قبیلے کے مداروں کا نہ پوچھ

 اس گہن زاد قبیلے کے مداروں کا نہ پوچھ

پوچھ سورج کا مگر چاند ستاروں کا نہ پوچھ

پوچھ فرعون کے لشکر میں مِرے تھے کتنے

اس مورخ سے کبھی عشق کے ماروں کا نہ پوچھ

دشت میں آ ہی گیا ہے تو گلابوں کو نہ ڈھونڈ

برگِ صحرا کو ابھی چوم، بہاروں کا نہ پوچھ

بیٹھ، طوفان سے مت ڈر، ذرا چپو تو ہلا

ہاتھ جوڑے ہوئے لہروں سے کناروں کا نہ پوچھ

یار تھا، عشق تھا، دنیا تھی، خوشی تھی، میں تھا

پانچواں تو یہیں موجود ہے، چاروں کا نہ پوچھ

ہم فقیروں کو بھلا بیچ میں لاتا کیوں ہے

ڈھونڈ اللہ کا در، ہم سے مزاروں کا نہ پوچھ

ہاتھ چومے ہیں ابھی اس کے جنہوں نے یارا

یہ تو دشمن ہیں مِرے یار کے، یاروں کا نہ پوچھ

جو بھی گرتا ہے، کچل دیتے ہیں وحشت کے اسیر

عشق گلیوں کا مسافر ہے، سہاروں کا نہ پوچھ

ایک فرہاد تھا، مجنوں تھا، کوئی رانجھا تھا

اور ہزاروں ہیں مِرے جیسے بھی، ساروں کا نہ پوچھ


سردار فہد

No comments:

Post a Comment