جاؤ
تمہیں جانے دیا
تمام وعدوں سے آزاد کیا
جاؤ، تمہیں جانے دیا
اپنے دل کے دامن سے تمہارے پہلو کی گراہ کھول کر
اپنی محبت کو خزاں کے پتوں کی طرح رول کر
جاؤ
تمہیں جانے دیا
تمام وعدوں سے آزاد کیا
جاؤ، تمہیں جانے دیا
اپنے دل کے دامن سے تمہارے پہلو کی گراہ کھول کر
اپنی محبت کو خزاں کے پتوں کی طرح رول کر
میرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی صدائیں بولتی ہیں
ابھی تو بے جان کلیاں بوسیدہ مہک رولتی ہیں
ابھی تو امید کی فاختہ بھی بے گھر ہو کر
کسی ویرانے کا رخ کرنے کو پر تولتی ہے
ابھی تو زنگ آلود ہے میرے باطن کا جہاں
اب گفتار میں بھی وہ پہلے سی لذت ہے کہاں
آج آسودہ سی شام میں میں نے
ماضی کے جھروکے سے جھانک کر دیکھا
چند خواب پرانے، چند ٹوٹے کھلونے
گونجتی کلکاریاں میں اشکوں کی میگھا
کچھ گڈ مڈ سی، کچھ مٹی ہوئی
عمر کی ہتھیلی پہ قسمت کی ریکھا
دیس ودیس کی خلقت میں تو اپنا سا لگا ہے سجن جوگی
اس گُنجانے سے ویرانے میں بجھ سا گیا ہے من جوگی
اندر بھی کالا باہر بھی کالا، ہے سیاہ یہاں ہر پیرہن جوگی
یار، رفیق بتھیرے ہیں پھر کیوں ہے اتنی گھٹن جوگی
کُوچا کُوچا گریہ کر، ہر پور تیرا آہ و زاری ہو
زرا دیکھ اس کہرِ الفت میں کتنی ہے رب کی لگن جوگی
مجھ سے تاخیر ہو گئی زرا سی
بات کو سمجھنے میں
وقت کی نزاکت کو
حیات کی ضرورت کو
جا بجا جو ٹوکا ہے
میری معصوم قدروں کو
میں عشق پر لکھنے والا شاعر ہوں
مجھے انقلاب کی شاعری کہاں آتی ہے
پر یہ تاریکی اب میرا دل جلاتی ہے
یہاں وحشت کسی معصوم کی عصمت گراتی ہے
یہاں مذہب ہولی کلمے کی کھلاتی ہے
اس عرض پاک کے ہر کوچے سے لہو کی بو آتی ہے