Showing posts with label منصور اعجاز. Show all posts
Showing posts with label منصور اعجاز. Show all posts

Tuesday, 8 August 2023

وہ یہیں ہے شہر میں ٹھہرا ہوا

 وہ یہیں ہے شہر میں ٹھہرا ہُوا

زخم دل کا اور بھی گہرا ہوا

میں وفا کی آنکھ سے ٹپکا ہوا

ایک آنسو جو بہت رُسوا ہوا

مُدتیں گُزریں اُسے بچھڑے ہوئے

لمحہ لمحہ پھر بھی ہے چونکا ہوا

Thursday, 22 June 2023

ساحل پہ مرادوں کا سمندر نہیں آیا

 ساحل پہ مُرادوں کا سمندر نہیں آیا

وہ شہر میں ہو کر بھی مِرے گھر نہیں آیا

دروازے پہ دستک ہوئی زنجیر بھی کھنکی

جھونکا تھا ہوا کا کوئی اندر نہیں آیا

تُو جب سے مجھے چھوڑ کے پردیس گیا ہے

دُنیا میں مِری کوئی سکندر نہیں آیا

Monday, 19 June 2023

میں بھی خاموش اجالوں کی ضیا ہوں جیسے

 میں بھی خاموش اجالوں کی ضیا ہوں جیسے

اپنی دھرتی پہ خدا! تیرا پتا ہوں جیسے

اس کی آنکھوں میں قیامت کی حیا روشن ہے

نِیم خوابیدہ اسے سوچ رہا ہوں جیسے

میرا مسکن نہ ٹھکانہ نہ کوئی راہگزر

میں کوئی سر پھری آوارہ ہوا ہوں جیسے

Friday, 10 September 2021

یوں ہی سوتے سے کبھی جاگ کے اٹھنے کا سبب

یوں ہی سوتے سے کبھی جاگ کے اٹھنے کا سبب

یاد تو ہو گا تمہیں دل کے دھڑکنے کا سبب

دل کی راہوں سے خلاؤں کے سفر تک کی گھٹن

اور کچھ سوچ کے آئینے کو تکنے کا سبب

اس گزر گاہ سے ہرگز وہ گزرنے کا نہیں

پھر اسی موڑ پہ تنہا تِرے رکنے کا سبب

Saturday, 28 August 2021

سخت جاں اور بے حس ہوا ہوں

سخت جاں اور بے حس ہوا ہوں

غم کے احساس سے بچ گیا ہوں

دوستوں سے بھی حیرت زدہ ہوں

اجنبی دشمنوں میں رہا ہوں

کوئی حد بھی تو ہو سوچنے کی

سوچتا ہوں تو بس سوچتا ہوں