وہ یہیں ہے شہر میں ٹھہرا ہُوا
زخم دل کا اور بھی گہرا ہوا
میں وفا کی آنکھ سے ٹپکا ہوا
ایک آنسو جو بہت رُسوا ہوا
مُدتیں گُزریں اُسے بچھڑے ہوئے
لمحہ لمحہ پھر بھی ہے چونکا ہوا
وہ یہیں ہے شہر میں ٹھہرا ہُوا
زخم دل کا اور بھی گہرا ہوا
میں وفا کی آنکھ سے ٹپکا ہوا
ایک آنسو جو بہت رُسوا ہوا
مُدتیں گُزریں اُسے بچھڑے ہوئے
لمحہ لمحہ پھر بھی ہے چونکا ہوا
ساحل پہ مُرادوں کا سمندر نہیں آیا
وہ شہر میں ہو کر بھی مِرے گھر نہیں آیا
دروازے پہ دستک ہوئی زنجیر بھی کھنکی
جھونکا تھا ہوا کا کوئی اندر نہیں آیا
تُو جب سے مجھے چھوڑ کے پردیس گیا ہے
دُنیا میں مِری کوئی سکندر نہیں آیا
میں بھی خاموش اجالوں کی ضیا ہوں جیسے
اپنی دھرتی پہ خدا! تیرا پتا ہوں جیسے
اس کی آنکھوں میں قیامت کی حیا روشن ہے
نِیم خوابیدہ اسے سوچ رہا ہوں جیسے
میرا مسکن نہ ٹھکانہ نہ کوئی راہگزر
میں کوئی سر پھری آوارہ ہوا ہوں جیسے
یوں ہی سوتے سے کبھی جاگ کے اٹھنے کا سبب
یاد تو ہو گا تمہیں دل کے دھڑکنے کا سبب
دل کی راہوں سے خلاؤں کے سفر تک کی گھٹن
اور کچھ سوچ کے آئینے کو تکنے کا سبب
اس گزر گاہ سے ہرگز وہ گزرنے کا نہیں
پھر اسی موڑ پہ تنہا تِرے رکنے کا سبب
سخت جاں اور بے حس ہوا ہوں
غم کے احساس سے بچ گیا ہوں
دوستوں سے بھی حیرت زدہ ہوں
اجنبی دشمنوں میں رہا ہوں
کوئی حد بھی تو ہو سوچنے کی
سوچتا ہوں تو بس سوچتا ہوں