Showing posts with label حجاب عباسی. Show all posts
Showing posts with label حجاب عباسی. Show all posts

Friday, 9 July 2021

درون ذات کوئی غم نکھر جائے تو لکھوں گی

 درونِ ذات کوئی غم نکھر جائے تو لکھوں گی

تمہارا ہجر بھی مجھ میں سنور جائے تو لکھوں گی

میں جو لکھوں وہ حرفِ معتبر ہو، یہ تمنا ہے

مِرے اجداد کا فن مجھ میں در آئے تو لکھوں گی

بہت لکھتی رہی ہوں ہجرتوں کو، ہجر کو اب تک

یہ سودا اب مِرے سر سے اتر جائے تو لکھوں گی

Wednesday, 7 July 2021

ہے جب تک دشت پیمائی سلامت

 ہے جب تک دشتِ پیمائی سلامت

رہے گی آبلہ پائی سلامت

رہے جب تک یہ بِینائی سلامت

ہماری خامہ فرسائی سلامت

بہت سنوریں گے سنگ و سر کے رشتے

جنوں کی کار فرمائی سلامت

Tuesday, 6 July 2021

میں ہوں بیٹی زمیں کی زمیں پر مجھے اعتبار وفا

 اعتبارِ وفا


میں ہوں بیٹی زمیں کی، زمیں پر مجھے

اعتبارِ وفا اس طرح مل گیا

میری آدھی گواہی بھی پوری ہوئی

اِک نئے نور سے میں بھی نوری ہوئی

اپنے ہاتھوں میں محنت کی عظمت لیے

Saturday, 1 May 2021

میں اکثر سوچتی ہوں زندگی کو کون لکھے گا

 میں اکثر سوچتی ہوں زندگی کو کون لکھے گا

نہ میں لکھوں تو پھر اس بے بسی کو کون لکھے گا

بہت مصروف ہیں اہلِ جہاں ہرزہ سرائی میں

اب آشوبِ سخن میں بے حسی کو کون لکھے گا

کئی صدیاں گزاریں منزلوں کے کھوج میں پِھرتے

تو پھر میرے سوا اس گُمرہی کو کون لکھے گا

Friday, 30 April 2021

دعا ہی وجہ کرامات تھوڑی ہوتی ہے

 دعا ہی وجہِ کرامات تھوڑی ہوتی ہے

غضب کی دھوپ میں برسات تھوڑی ہوتی ہے

رہِ وفا کی روایت ہے سر جھُکا رکھنا

بساطِ عشق پہ یہ مات تھوڑی ہوتی ہے

جو اپنا نام صفِ معتبر میں لکھتے ہیں

خود ان سے اپنی ملاقات تھوڑی ہوتی ہے