درونِ ذات کوئی غم نکھر جائے تو لکھوں گی
تمہارا ہجر بھی مجھ میں سنور جائے تو لکھوں گی
میں جو لکھوں وہ حرفِ معتبر ہو، یہ تمنا ہے
مِرے اجداد کا فن مجھ میں در آئے تو لکھوں گی
بہت لکھتی رہی ہوں ہجرتوں کو، ہجر کو اب تک
یہ سودا اب مِرے سر سے اتر جائے تو لکھوں گی