عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وجہِ تسکینِ جاں، سرورِ دو جہاں
رفعتِ بے کراں، ماورائے گماں
آپﷺ کا نقشِ پا، سدرۃ المنتہیٰ
راستہ بن گیا، کہکشاں کہکشاں
آپؐ سے مُشکبُو ہے فضا چار سُو
آپؐ کی جستجو، گلستاں گلستاں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وجہِ تسکینِ جاں، سرورِ دو جہاں
رفعتِ بے کراں، ماورائے گماں
آپﷺ کا نقشِ پا، سدرۃ المنتہیٰ
راستہ بن گیا، کہکشاں کہکشاں
آپؐ سے مُشکبُو ہے فضا چار سُو
آپؐ کی جستجو، گلستاں گلستاں
پابندِ وفا
ہم کہ دلدادۂ الفت ہیں
وفا کے قائل
ہم نے ہر حال میں رشتوں کا بھرم رکھا ہے
ہم تو وہ لوگ ہیں کہ جن کے لیے
اک نظر پیار کی کافی ہے
کیا کہوں منزلوں کے جذبوں کی
گرد بیٹھی ہوئی ہے راہوں کی
فصلِ گُل تُو ذرا خبر رکھنا
شاخچوں اور خزاں کے رازوں کی
ان کہی کا وبال کیا کہیے
جستجو ہر گھڑی ہے شعروں کی
ٹھہر گئے تھے سرِ رہگزار بس یونہی
تمہارا کرتے رہے انتظار بس یونہی
یہ جان کر بھی کہ تُو اپنی دسترس میں نہیں
وفا کا کھینچ دیا اک حصار بس یونہی
وہ میرا تھا ہی نہیں میں کسی سے کیوں کہتی
یہ راز ہو گیا ہے آشکار بس یونہی
پا لینے کے بعد بھی کھونا پڑ سکتا ہے
اس کو بھی تو کسی کا ہونا پڑ سکتا ہے
پیار میں انہونی کا امکاں رہتا ہے
ہنسنے والی بات پہ رونا پڑ سکتا ہے
مہندی سے اک نام کو لکھنے والی سن لے
ہاتھوں کو مل مل کے دھونا پڑ سکتا ہے
مجھ کو جس پر گماں ہے الفت کا
کھیل ہو گا تِری سیاست کا
کس طرح غیر کا میں ہونے دوں
مسئلہ ہے یہ میری عزت کا
غیر سے رسم و راہ کا دعویٰ
آخری داؤ ہے محبت کا
سنا ہے لوگ ان پر مر رہے ہیں
جو خود جینے سے اب تک ڈر رہے ہیں
ہے دعویٰ پاکئ داماں کا ان کو
ہزاروں قتل جن کے سر رہے ہیں
مراسم اب کہاں وہ پہلے جیسے
گزارا ہو رہا ہے، کر رہے ہیں
لیلیِٰ جاں کی طلب اور ہے، محمل کے سوا
عشق آسان ہے بس اک ذرا مشکل کے سوا
تُو نے کیا سوچ کے ہجرت کا کیا تھا آغاز
سب میسر ہے یہاں، راحتِ منزل کے سوا
کس طرح ہجر چلا دیتا ہے آری دل پر
یہ تڑپ کون بھلا جانے ہے بسمل کے سوا