Showing posts with label بشریٰ خلیل. Show all posts
Showing posts with label بشریٰ خلیل. Show all posts

Sunday, 26 May 2024

وجہ تسکین جاں سرور دو جہاں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وجہِ تسکینِ جاں، سرورِ دو جہاں

رفعتِ بے کراں، ماورائے گماں

آپﷺ کا نقشِ پا، سدرۃ المنتہیٰ

راستہ بن گیا، کہکشاں کہکشاں

آپؐ سے مُشکبُو ہے فضا چار سُو

آپؐ کی جستجو، گلستاں گلستاں

Tuesday, 27 April 2021

ہم کہ دلدادۂ الفت ہیں وفا کے قائل

پابندِ وفا


ہم کہ دلدادۂ الفت ہیں

وفا کے قائل

ہم نے ہر حال میں رشتوں کا بھرم رکھا ہے

ہم تو وہ لوگ ہیں کہ جن کے لیے

اک نظر پیار کی کافی ہے

Monday, 12 April 2021

کیا کہوں منزلوں کے جذبوں کی

 کیا کہوں منزلوں کے جذبوں کی

گرد بیٹھی ہوئی ہے راہوں کی

فصلِ گُل تُو ذرا خبر رکھنا

شاخچوں اور خزاں کے رازوں کی

ان کہی کا وبال کیا کہیے

جستجو ہر گھڑی ہے شعروں کی

Tuesday, 23 February 2021

ٹھہر گئے تھے سرِ رہگزار بس یونہی

 ٹھہر گئے تھے سرِ رہگزار بس یونہی

تمہارا کرتے رہے انتظار بس یونہی

یہ جان کر بھی کہ تُو اپنی دسترس میں نہیں

وفا کا کھینچ دیا اک حصار بس یونہی

وہ میرا تھا ہی نہیں میں کسی سے کیوں کہتی

یہ راز ہو گیا ہے آشکار بس یونہی

Sunday, 13 December 2020

پا لینے کے بعد بھی کھونا پڑ سکتا ہے

پا لینے کے بعد بھی کھونا پڑ سکتا ہے

اس کو بھی تو کسی کا ہونا پڑ سکتا ہے

پیار میں انہونی کا امکاں رہتا ہے

ہنسنے والی بات پہ رونا پڑ سکتا ہے

مہندی سے اک نام کو لکھنے والی سن لے

ہاتھوں کو مل مل کے دھونا پڑ سکتا ہے

Thursday, 10 December 2020

مجھ کو جس پر گماں ہے الفت کا

 مجھ کو جس پر گماں ہے الفت کا

کھیل ہو گا تِری سیاست کا

کس طرح غیر کا میں ہونے دوں

مسئلہ ہے یہ میری عزت کا

غیر سے رسم و راہ کا دعویٰ

آخری داؤ ہے محبت کا

Wednesday, 9 December 2020

سنا ہے لوگ ان پر مر رہے ہیں

 سنا ہے لوگ ان پر مر رہے ہیں

جو خود جینے سے اب تک ڈر رہے ہیں

ہے دعویٰ پاکئ داماں کا ان کو

ہزاروں قتل جن کے سر رہے ہیں

مراسم اب کہاں وہ پہلے جیسے

گزارا ہو رہا ہے، کر رہے ہیں

لیلیٰ جاں کی طلب اور ہے، محمل کے سوا

 لیلیِٰ جاں کی طلب اور ہے، محمل کے سوا

عشق آسان ہے بس اک ذرا مشکل کے سوا

تُو نے کیا سوچ کے ہجرت کا کیا تھا آغاز

سب میسر ہے یہاں، راحتِ منزل کے سوا

کس طرح ہجر چلا دیتا ہے آری دل پر

یہ تڑپ کون بھلا جانے ہے بسمل کے سوا