دل کی حالت سنبھل گئی ہے اب
یاد آگے نکل گئی ہے اب
کل تو شامل تھا میری قسمت میں
میری قسمت بدل گئی ہے اب
وہ میرا حال تم سے پوچھے گا
اُس سے کہنا سنبھل گئی ہے اب
دل کی حالت سنبھل گئی ہے اب
یاد آگے نکل گئی ہے اب
کل تو شامل تھا میری قسمت میں
میری قسمت بدل گئی ہے اب
وہ میرا حال تم سے پوچھے گا
اُس سے کہنا سنبھل گئی ہے اب
یار مجھ کو سمجھ گیا ہے اب
بولتے وقت سوچتا ہے اب
روز کا آنا جانا رہتا ہے
ڈاکٹر دوست بن گیا ہے اب
پھول اب اس کے بس سے باہر ہیں
سو وہ کلیوں کو توڑتا ہے اب
کسی نے کتابیں لکھنی چھوڑ دیں دوست
سو ہم نے کہانیاں ہی پڑھنی چھوڑ دیں دوست
آپ کے لیے تو مخول رہی یہ محبت
کسی نے زندگی جینی چھوڑ دی دوست
تم کو وہ لڑکا پسند ہے کہ وہ سگرٹ نہیں پیتا
اب تو میں بھی پینی چھوڑ دی دوست
اُس نے دو چار کر دیا مجھ کو
ذہنی بیمار کر دیا مجھ کو
کیوں نہیں دسترس میں میرے تُو
کیوں طلبگار کر دیا مجھ کو
کبھی پتھر، کبھی خدا اس نے
چاہا جو یار کر دیا مجھ کو
آنکھ کو آئینہ سمجھتے ہو
تم بھی سب کی طرح سمجھتے ہو
دوست اب کیوں نہیں سمجھتے تم؟
تم تو کہتے تھے ناں، سمجھتے ہو
اپنا غم تم کو کیسے سمجھاؤں
سب سے ہارا ہُوا سمجھتے ہو
لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں
ایک ہم ہیں اسے بچوں کی طرح دیکھتے ہیں
ہم کو دنیا نے لکڑہارا سمجھ رکھا ہے
ہم تو پیڑوں کو پرندوں کی طرح دیکھتے ہیں
میں جو دیکھوں تو جھپکتی نہیں پلکیں میری
اور حضرت مجھے اندھوں کی طرح دیکھتے ہیں