نہ جانے کیسی آندھی چل رہی ہے
ہے جنگل خوش کہ بستی جل رہی ہے
کہیں پانی سے دھوکا کھا نہ جانا
یہ ندی مدتوں دلدل رہی ہے
تِرا سورج بھی ٹھنڈا ہو رہا ہے
ہماری عمر بھی اب ڈھل رہی ہے
نہ جانے کیسی آندھی چل رہی ہے
ہے جنگل خوش کہ بستی جل رہی ہے
کہیں پانی سے دھوکا کھا نہ جانا
یہ ندی مدتوں دلدل رہی ہے
تِرا سورج بھی ٹھنڈا ہو رہا ہے
ہماری عمر بھی اب ڈھل رہی ہے
خطا اس کی معافی سے بڑی ہے
میں کیا کرتا سزا دینی پڑی ہے
نہیں چل پاؤں گا میں ساتھ اس کے
یہ دنیا بے سبب ضد پر اڑی ہے
ہوا نے پھاڑ دی تصویر، لیکن
ابھی اک کیل سینے میں گڑی ہے
یہ جھوٹ ہے کہ بچھڑنے کا اس کو غم بھی نہیں
وہ رو رہا ہے مگر اس کی آنکھ نم بھی نہیں
یہ بات سچ ہے کہ وہ زندگی نہیں میری
مگر وہ میرے لیے زندگی سے کم بھی نہیں
تجھے پتہ ہی نہیں میری راہ کیسی ہے
تُو چل سکے گا مِرے ساتھ دو قدم بھی نہیں
اے خدا کل کو میرے آج بنا
تو مجھے مستقل مزاج بنا
دھیرے دھیرے چلن میں آیا میں
اور پھر ایک دن رواج بنا
کتنی مشکل سے طے ہوئے رشتے
کتنی صدیوں میں یہ سماج بنا
لفظوں کا یہ خزانہ تِرے نام کب ہوا
یہ شعر کب کہے تجھے الہام کب ہوا
یہ بات ٹھیک ہے کہ مجھے دام کم ملے
چپکے سے بک گیا ہوں میں نیلام کب ہوا
کیسی شراب ہوں کہ ہے تشنہ مِرے ہی لب
اپنے لیے میں درد تہِ جام کب ہوا
نکل کے ذہن سے میرے زباں پہ آیا کب
وہ دل کا نغمہ سہی میں نے گنگنایا کب
گئی جو دھوپ تو اب چاندنی کی باری ہے
کہ ساتھ چھوڑے گا میرا یہ کالا سایہ کب
نہ جانے ہو گیا دنیا میں تیرے جیسا کیوں
سبق حیات کا تُو نے مجھے پڑھایا کب
لاکھ سمجھایا مگر ضد پہ اَڑی ہے اب بھی
کوئی اُمید میرے پیچھے پڑی ہے اب بھی
شہرِ تنہائی میں موسم نہیں بدلا کرتے
دن بہت چھوٹا یہاں رات بڑی ہے اب بھی
مان لوں کیسے؟ یہاں دریا نہیں تھا لوگو
دیکھ لو ریت پہ اک کشتی پڑی ہے اب بھی
خطا اس کی معافی سے بڑی ہے
میں کیا کرتا؟ سزا دینی پڑی ہے
نہیں چل پاؤں گا میں ساتھ اس کے
یہ دنیا بے سبب ضد پر اَڑی ہے
ہوا نے پھاڑ دی تصویر، لیکن
ابھی اک کِیل سینے میں گڑی ہے
لاکھ سمجھایا مگر ضد پہ اڑی ہے اب بھی
کوئی امید میرے پیچھے پڑی ہے اب بھی
شہرِ تنہائی میں موسم نہیں بدلا کرتے
دن بہت چھوٹا یہاں رات بڑی ہے اب بھی
مان لوں کیسے یہاں دریا نہیں تھا لوگو
دیکھ لو ریت پہ اک کشتی پڑی ہے اب بھی
یہ جھوٹ ہے کہ بچھڑنے کا اس کو غم بھی نہیں
وہ رو رہا ہے مگر اس کی آنکھ نم بھی نہیں
یہ بات سچ ہے کہ وہ زندگی نہیں میری
مگر وہ میرے لیے زندگی سے کم بھی نہیں
تجھے پتہ ہی نہیں میری راہ کیسی ہے
تُو چل سکے گا مِرے ساتھ دو قدم بھی نہیں
ہماری کاوشِ شعر و سخن بے کار جاتی ہے
غزل کیسی بھی ہو اس کے بدن سے ہار جاتی ہے
یہ کیسے مرحلے میں پھنس گیا ہے میرا گھر مالک
اگر چھت کو بچا بھی لوں تو پھر دیوار جاتی ہے
مِرے خوابوں کا اس کی آنکھ سے رشتہ نہیں ٹوٹا
مِری پرچھائیں اکثر جھیل کے اس پار جاتی ہے