Showing posts with label سردار آصف. Show all posts
Showing posts with label سردار آصف. Show all posts

Tuesday, 7 December 2021

نہ جانے کیسی آندھی چل رہی ہے

 نہ جانے کیسی آندھی چل رہی ہے

ہے جنگل خوش کہ بستی جل رہی ہے

کہیں پانی سے دھوکا کھا نہ جانا

یہ ندی مدتوں دلدل رہی ہے

تِرا سورج بھی ٹھنڈا ہو رہا ہے

ہماری عمر بھی اب ڈھل رہی ہے

Wednesday, 1 December 2021

خطا اس کی معافی سے بڑی ہے

 خطا اس کی معافی سے بڑی ہے

میں کیا کرتا سزا دینی پڑی ہے

نہیں چل پاؤں گا میں ساتھ اس کے

یہ دنیا بے سبب ضد پر اڑی ہے

ہوا نے پھاڑ دی تصویر، لیکن

ابھی اک کیل سینے میں گڑی ہے

Saturday, 27 November 2021

یہ جھوٹ ہے کہ بچھڑنے کا اس کو غم بھی نہیں

 یہ جھوٹ ہے کہ بچھڑنے کا اس کو غم بھی نہیں

وہ رو رہا ہے مگر اس کی آنکھ نم بھی نہیں

یہ بات سچ ہے کہ وہ زندگی نہیں میری

مگر وہ میرے لیے زندگی سے کم بھی نہیں

تجھے پتہ ہی نہیں میری راہ کیسی ہے

تُو چل سکے گا مِرے ساتھ دو قدم بھی نہیں

Thursday, 9 September 2021

اے خدا کل کو میرے آج بنا

 اے خدا کل کو میرے آج بنا

تو مجھے مستقل مزاج بنا

دھیرے دھیرے چلن میں آیا میں

اور پھر ایک دن رواج بنا

کتنی مشکل سے طے ہوئے رشتے

کتنی صدیوں میں یہ سماج بنا

Tuesday, 27 July 2021

لفظوں کا یہ خزانہ ترے نام کب ہوا

 لفظوں کا یہ خزانہ تِرے نام کب ہوا

یہ شعر کب کہے تجھے الہام کب ہوا

یہ بات ٹھیک ہے کہ مجھے دام کم ملے

چپکے سے بک گیا ہوں میں نیلام کب ہوا

کیسی شراب ہوں کہ ہے تشنہ مِرے ہی لب

اپنے لیے میں درد تہِ جام کب ہوا

Tuesday, 6 July 2021

نکل کے ذہن سے میرے زباں پہ آیا کب

 نکل کے ذہن سے میرے زباں پہ آیا کب

وہ دل کا نغمہ سہی میں نے گنگنایا کب

گئی جو دھوپ تو اب چاندنی کی باری ہے

کہ ساتھ چھوڑے گا میرا یہ کالا سایہ کب

نہ جانے ہو گیا دنیا میں تیرے جیسا کیوں

سبق حیات کا تُو نے مجھے پڑھایا کب

Saturday, 3 July 2021

لاکھ سمجھایا مگر ضد پہ اڑی ہے اب بھی

 لاکھ سمجھایا مگر ضد پہ اَڑی ہے اب بھی

کوئی اُمید میرے پیچھے پڑی ہے اب بھی

شہرِ تنہائی میں موسم نہیں بدلا کرتے

دن بہت چھوٹا یہاں رات بڑی ہے اب بھی

مان لوں کیسے؟ یہاں دریا نہیں تھا لوگو

دیکھ لو ریت پہ اک کشتی پڑی ہے اب بھی

Friday, 2 July 2021

خطا اس کی معافی سے بڑی ہے

 خطا اس کی معافی سے بڑی ہے

میں کیا کرتا؟ سزا دینی پڑی ہے

نہیں چل پاؤں گا میں ساتھ اس کے

یہ دنیا بے سبب ضد پر اَڑی ہے

ہوا نے پھاڑ دی تصویر، لیکن

ابھی اک کِیل سینے میں گڑی ہے

Sunday, 2 May 2021

لاکھ سمجھایا مگر ضد پہ اڑی ہے اب بھی

 لاکھ سمجھایا مگر ضد پہ اڑی ہے اب بھی

کوئی امید میرے پیچھے پڑی ہے اب بھی

شہرِ تنہائی میں موسم نہیں بدلا کرتے

دن بہت چھوٹا یہاں رات بڑی ہے اب بھی

مان لوں کیسے یہاں دریا نہیں تھا لوگو

دیکھ لو ریت پہ اک کشتی پڑی ہے اب بھی

Saturday, 24 April 2021

یہ جھوٹ ہے کہ بچھڑنے کا اس کو غم بھی نہیں

 یہ جھوٹ ہے کہ بچھڑنے کا اس کو غم بھی نہیں

وہ رو رہا ہے مگر اس کی آنکھ نم بھی نہیں

یہ بات سچ ہے کہ وہ زندگی نہیں میری

مگر وہ میرے لیے زندگی سے کم بھی نہیں

تجھے پتہ ہی نہیں میری راہ کیسی ہے

تُو چل سکے گا مِرے ساتھ دو قدم بھی نہیں

Friday, 23 April 2021

ہماری کاوش شعر و سخن بے کار جاتی ہے

 ہماری کاوشِ شعر و سخن بے کار جاتی ہے

غزل کیسی بھی ہو اس کے بدن سے ہار جاتی ہے

یہ کیسے مرحلے میں پھنس گیا ہے میرا گھر مالک

اگر چھت کو بچا بھی لوں تو پھر دیوار جاتی ہے

مِرے خوابوں کا اس کی آنکھ سے رشتہ نہیں ٹوٹا

مِری پرچھائیں اکثر جھیل کے اس پار جاتی ہے