Tuesday, 6 July 2021

نکل کے ذہن سے میرے زباں پہ آیا کب

 نکل کے ذہن سے میرے زباں پہ آیا کب

وہ دل کا نغمہ سہی میں نے گنگنایا کب

گئی جو دھوپ تو اب چاندنی کی باری ہے

کہ ساتھ چھوڑے گا میرا یہ کالا سایہ کب

نہ جانے ہو گیا دنیا میں تیرے جیسا کیوں

سبق حیات کا تُو نے مجھے پڑھایا کب

تمام شہر تو خوشبو سے اس کی واقف ہے

کوئی تو مجھ کو بتاتا یہاں وہ آیا کب

میں تم سے پہلے ملا تھا تو اس میں دھڑکن تھی

بتاؤ، سینے میں پتھر کا دل💗 لگایا کب

میں اس کے دھیان میں اس درجہ گُم ہوا اک دن

پتہ چلا ہی نہیں کب گیا، وہ آیا کب

سفر یہ دھوپ کا اب ختم ہونے والا ہے

چلے گا ساتھ مِرے کوئی سایہ سایہ کب


سردار آصف

No comments:

Post a Comment