Showing posts with label امجد علی راجا. Show all posts
Showing posts with label امجد علی راجا. Show all posts

Monday, 22 April 2024

میرے ایمان پہ شک چھوڑ دے ناداں جاناں

 زعفرانی غزل


میرے ایمان پہ شک چھوڑ دے ناداں جاناں

پانچویں شادی نہیں کرتا مسلماں جاناں

کس طرح سیر کراؤں تجھے تاروں سے پرے

آ ٹپکتی ہے سر شام تری ماں جاناں

رشک کیسے نہ رقیبوں کے مقدر پہ کروں

وه پریشان سہی میں ہوں پشیماں جاناں

Sunday, 7 April 2024

در کھلا رکھتے ہیں گھر کو بھی سجا دیتے ہیں

 در کھلا رکھتے ہیں، گھر کو بھی سجا دیتے ہیں

رات بھر دل کو ہم ایسے ہی دغا دیتے ہیں

سانس تھم جاتی ہے، دھڑکن بھی بگڑ جاتی ہے

جب وہ چہرے پہ گری زُلف ہٹا دیتے ہیں

تیری یادوں نے مجھے نیند سے محروم کیا

سو بھی جاؤں تو تِرے خواب جگا دیتے ہیں

Saturday, 6 January 2024

اکیلے تم نہیں جس کی دھلائی ہوتی رہتی ہے

 زعفرانی غزل


اکیلے تم نہیں جس کی دُھلائی ہوتی رہتی ہے

سبھی کی اپنی بیگم سے لڑائی ہوتی رہتی ہے

کرپشن جُرم ہے میرا، یقیناً چُھوٹ جاؤں گا

ہمارے ملک میں یہ کاروائی ہوتی رہتی ہے

وہ عمرہ ہو کہ حج، سرکار کے خرچے پہ کرتے ہیں

کہ یوں دونوں جہانوں کی کمائی ہوتی رہتی ہے

Tuesday, 2 January 2024

محکمہ ختم پلس کا جو کبھی ہو جائے

 زعفرانی غزل


محکمہ ختم پُلس کا جو کبھی ہو جائے

عین ممکن ہے جرائم میں کمی ہو جائے

تیل وہ آپ کو دوں گا کہ طبق روشن ہوں

ٹِنڈ پر زُلف اُگے، اور گھنی ہو جائے

مجھ پہ لٹُو تِری جاناں ہے، بتاتا کیسے

ڈر رہا تھا نہ تِری دل شکنی ہو جائے

Sunday, 31 December 2023

گم سم سا جو بیٹھا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں

 زعفرانی غزل


گُم سُم سا جو بیٹھا ہوں بڑی دیر سے چُپ ہوں

بیگم کا لتاڑا ہوں،۔ بڑی دیر سے چپ ہوں

سسرال کے طعنوں کو بھی ہنس کھیل کے ٹالو

آخر یہی سمجھا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں

کنفیوز پولیس والے ہیں چھترول بھی کر کے

گُونگا ہوں کہ بہرہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں

Friday, 18 February 2022

تکلف برطرف ہو گا خطاب آہستہ آہستہ

تکلف برطرف ہو گا خطاب آہستہ آہستہ

اُٹھے گا ان کے چہرے سے نقاب آہستہ آہستہ

ہمیں مدہوش کر دے گا شباب آہستہ آہستہ

دِکھاتی ہے اثر اپنا شراب آہستہ آہستہ

نہیں اب تاب اِس دل میں کوئی بھی درد سہنے کی

ستم صد شوق سے لیکن جناب آہستہ آہستہ