زعفرانی غزل
میرے ایمان پہ شک چھوڑ دے ناداں جاناں
پانچویں شادی نہیں کرتا مسلماں جاناں
کس طرح سیر کراؤں تجھے تاروں سے پرے
آ ٹپکتی ہے سر شام تری ماں جاناں
رشک کیسے نہ رقیبوں کے مقدر پہ کروں
وه پریشان سہی میں ہوں پشیماں جاناں
زعفرانی غزل
میرے ایمان پہ شک چھوڑ دے ناداں جاناں
پانچویں شادی نہیں کرتا مسلماں جاناں
کس طرح سیر کراؤں تجھے تاروں سے پرے
آ ٹپکتی ہے سر شام تری ماں جاناں
رشک کیسے نہ رقیبوں کے مقدر پہ کروں
وه پریشان سہی میں ہوں پشیماں جاناں
در کھلا رکھتے ہیں، گھر کو بھی سجا دیتے ہیں
رات بھر دل کو ہم ایسے ہی دغا دیتے ہیں
سانس تھم جاتی ہے، دھڑکن بھی بگڑ جاتی ہے
جب وہ چہرے پہ گری زُلف ہٹا دیتے ہیں
تیری یادوں نے مجھے نیند سے محروم کیا
سو بھی جاؤں تو تِرے خواب جگا دیتے ہیں
زعفرانی غزل
اکیلے تم نہیں جس کی دُھلائی ہوتی رہتی ہے
سبھی کی اپنی بیگم سے لڑائی ہوتی رہتی ہے
کرپشن جُرم ہے میرا، یقیناً چُھوٹ جاؤں گا
ہمارے ملک میں یہ کاروائی ہوتی رہتی ہے
وہ عمرہ ہو کہ حج، سرکار کے خرچے پہ کرتے ہیں
کہ یوں دونوں جہانوں کی کمائی ہوتی رہتی ہے
زعفرانی غزل
محکمہ ختم پُلس کا جو کبھی ہو جائے
عین ممکن ہے جرائم میں کمی ہو جائے
تیل وہ آپ کو دوں گا کہ طبق روشن ہوں
ٹِنڈ پر زُلف اُگے، اور گھنی ہو جائے
مجھ پہ لٹُو تِری جاناں ہے، بتاتا کیسے
ڈر رہا تھا نہ تِری دل شکنی ہو جائے
زعفرانی غزل
گُم سُم سا جو بیٹھا ہوں بڑی دیر سے چُپ ہوں
بیگم کا لتاڑا ہوں،۔ بڑی دیر سے چپ ہوں
سسرال کے طعنوں کو بھی ہنس کھیل کے ٹالو
آخر یہی سمجھا ہوں، بڑی دیر سے چپ ہوں
کنفیوز پولیس والے ہیں چھترول بھی کر کے
گُونگا ہوں کہ بہرہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
تکلف برطرف ہو گا خطاب آہستہ آہستہ
اُٹھے گا ان کے چہرے سے نقاب آہستہ آہستہ
ہمیں مدہوش کر دے گا شباب آہستہ آہستہ
دِکھاتی ہے اثر اپنا شراب آہستہ آہستہ
نہیں اب تاب اِس دل میں کوئی بھی درد سہنے کی
ستم صد شوق سے لیکن جناب آہستہ آہستہ