مرے دل ذرا ٹھہر جا تجھے کیسی بے کلی ہے
بھلا اس سے مل کے پہلے ترا درد کم ہوا ہے
کبھی دید کی وہ برکھا کبھی لطف کا وہ ساون
کبھی چاہتوں کی شبنم تیرا غم بُھلا سکی ہے
جو دھک رہے ہیں شعلے کیا انہیں بُجھا سکی ہے
مرے دل ذرا ٹھہر جا تجھے کیسی بے کلی ہے
مرے دل ذرا ٹھہر جا تجھے کیسی بے کلی ہے
بھلا اس سے مل کے پہلے ترا درد کم ہوا ہے
کبھی دید کی وہ برکھا کبھی لطف کا وہ ساون
کبھی چاہتوں کی شبنم تیرا غم بُھلا سکی ہے
جو دھک رہے ہیں شعلے کیا انہیں بُجھا سکی ہے
مرے دل ذرا ٹھہر جا تجھے کیسی بے کلی ہے
خاموشی پر ایسی نہ ہو
ایسی جو قبرستان میں ہوتی ہے
خاموشی جو مجرم کے چہرے پر طاری ہوتی ہے
خاموشی پر ایسی ہو
جو وقتِ عبادت رُوح میں جاری ہوتی ہے
خاموشی جو گہرے سمندر اور جھیلوں میں ہوتی ہے
دل میں اک دشت ہے اور آبلہ پائی یوں ہے
وہ میرے سامنے بیٹھا ہے، جدائی یوں ہے
ایک تلوار بھی ہے کاسۂ اُمید کے ساتھ
اب کے اس شہر میں اندازِ گدائی یوں ہے
دل، جگر، آنکھ سبھی ایک ہوئے جاتے ہوئے
میرے احوال میں وہ دستِ حنائی یوں ہے
یہ کیسا ظلم ہوا ہے دلِ تباہ کے ساتھ
گُنہ سے بچتا رہا دل سدا گُناہ کے ساتھ
نشاط ہمسفری ہو تو یہ مسافر بھی
کبھی ملاتا نہیں منزلوں کو راہ کے ساتھ
گُماں کی قید سے پنچھی خیال کا آخر
نکل تو آیا ہے پر خوفِ بے پناہ کے ساتھ
بظاہر زیست سے شکوہ نہیں ہے
ہے سب اچھا مگر، اچھا نہیں ہے
میں کیسی بستیوں میں آ گیا ہوں
یہاں دیواریں ہیں، سایہ نہیں ہے
فقط گھنٹی سے ہی پہچانتا ہوں
تِرا ہے فون یا تیرا نہیں ہے