Showing posts with label جاوید اقبال. Show all posts
Showing posts with label جاوید اقبال. Show all posts

Tuesday, 13 February 2024

مرے دل ذرا ٹھہر جا تجھے کیسی بے کلی ہے

 مرے دل ذرا ٹھہر جا تجھے کیسی بے کلی ہے

بھلا اس سے مل کے پہلے ترا درد کم ہوا ہے

کبھی دید کی وہ برکھا کبھی لطف کا وہ ساون

کبھی چاہتوں کی شبنم تیرا غم بُھلا سکی ہے

جو دھک رہے ہیں شعلے کیا انہیں بُجھا سکی ہے

مرے دل ذرا ٹھہر جا تجھے کیسی بے کلی ہے

Monday, 1 January 2024

خاموشی پر ایسی نہ ہو ایسی جو قبرستان میں

 خاموشی پر ایسی نہ ہو

ایسی جو قبرستان میں ہوتی ہے

خاموشی جو مجرم کے چہرے پر طاری ہوتی ہے

خاموشی پر ایسی ہو

جو وقتِ عبادت رُوح میں جاری ہوتی ہے

خاموشی جو گہرے سمندر اور جھیلوں میں ہوتی ہے

Wednesday, 14 December 2022

دل میں اک دشت ہے اور آبلہ پائی یوں ہے

 دل میں اک دشت ہے اور آبلہ پائی یوں ہے

وہ میرے سامنے بیٹھا ہے، جدائی یوں ہے

ایک تلوار بھی ہے کاسۂ اُمید کے ساتھ

اب کے اس شہر میں اندازِ گدائی یوں ہے

دل، جگر، آنکھ سبھی ایک ہوئے جاتے ہوئے

میرے احوال میں وہ دستِ حنائی یوں ہے

Wednesday, 13 April 2022

یہ کیسا ظلم ہوا ہے دل تباہ کے ساتھ

یہ کیسا ظلم ہوا ہے دلِ تباہ کے ساتھ

گُنہ سے بچتا رہا دل سدا گُناہ کے ساتھ

نشاط ہمسفری ہو تو یہ مسافر بھی

کبھی ملاتا نہیں منزلوں کو راہ کے ساتھ

گُماں کی قید سے پنچھی خیال کا آخر

نکل تو آیا ہے پر خوفِ بے پناہ کے ساتھ

Sunday, 21 March 2021

بظاہر زیست سے شکوہ نہیں ہے

 بظاہر زیست سے شکوہ نہیں ہے

ہے سب اچھا مگر، اچھا نہیں ہے

میں کیسی بستیوں میں آ گیا ہوں

یہاں دیواریں ہیں، سایہ نہیں ہے

فقط گھنٹی سے ہی پہچانتا ہوں

تِرا ہے فون یا تیرا نہیں ہے