عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خوب سجتا ہے یہ قرآں کا عمامہ نُوری
جسمِ سیمی پہ ہے الہام کا جامہ نوری
جسمِ انور کی تو کیا بات ہو؛ سایہ نوری
نُور سے اُن کے ہُوا سارا زمانہ نوری
سورۂ عصر میں ہے ان کی جوانی کی قسم
قدِ زیبائے محمدﷺ ہے سراپا نوری
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خوب سجتا ہے یہ قرآں کا عمامہ نُوری
جسمِ سیمی پہ ہے الہام کا جامہ نوری
جسمِ انور کی تو کیا بات ہو؛ سایہ نوری
نُور سے اُن کے ہُوا سارا زمانہ نوری
سورۂ عصر میں ہے ان کی جوانی کی قسم
قدِ زیبائے محمدﷺ ہے سراپا نوری
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نظر میں ذہن میں ہو انؐ کا نقشِ پا محفوظ
ہمارے دل میں رہے عشق مصطفیٰؐ محفوظ
بکھرتے جائیں مِری زندگی کے جب اجزاء
تو وقتِ نزع رہے حُسنِ خاتمہ محفوظ
ہزاروں آندھیاں آئیں گئیں مگر نہ بُجھی
یہ شمعِ عشق ہے، رکھتی ہے خود ہوا محفوظ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہتا ہے نعت وہ جسے عرفانِ نعت ہے
جانانِ جاں ہی شمع شبستانِ نعت ہے
جامی کا سوز دے مجھے سعدی کا رنگ دے
فکر رضا دے یا خدا ارمانِ نعت ہے
الفاظ تول تول کے میزانِ شرع میں
رکھنا قدم سنبھال کے میدانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تِرے گنبد کو دیکھیں اور تِرے مینار کو دیکھیں
مدینے میں پہونچ کر ہم تِرے دربار کو دیکھیں
خِرد کی آرزو ہے مطلعِ انوار کو دیکھیں
"نگاہوں کی تمنا ہے رخِ سرکار کو دیکھیں"
پہونچ جائیں مقدر سے کبھی ہم بھی مدینے میں
تِری گلیوں کو دیکھیں اور در و دیوار کو دیکھیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مصطفیٰؐ کے وصف میں تو ہر گھڑی ہر آن سوچ
فکر کی نازک گھڑی ہے فکر کر انسان سوچ
فکرِ حساںؓ، جزبِ سعدی، سوزِ رومی و رضا
یوں بزرگوں کی روش پر نعت کا عنوان سوچ
موسیٰؑ و عیسیٰؑ و آدمؑ، یوسفؑ و نوحؑ و خلیلؑ
سب کے وہؐ حاجت روا ہیں، ایسے ہیں ذی شان سوچ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
صبح کو شمس الضحیٰ کہہ دیں ارے ہرگز نہیں
شب کو والیلِ اذا کہہ دیں، ارے ہرگز نہیں
مصطفیٰؐ کی ذات پر رب کا ہوا ہے انتخاب
ہم کسی کو مصطفیٰؐ کہہ دیں ارے ہرگز نہیں
یہ ہیں ممکن اور ہے ذاتِ خدا واجب وجود
ہم محمدﷺ کو خدا کہہ دیں ارے ہرگز نہیں