کشمیر
میں نے اے کشمیر تیری
بستی کے ہر شخص سے جا کر
تیرا پتہ جو پوچھا تو
سب کے لب پر، چپ کی اک رات سی تھی
خاموشی کی بات بھی تھی
کشمیر
میں نے اے کشمیر تیری
بستی کے ہر شخص سے جا کر
تیرا پتہ جو پوچھا تو
سب کے لب پر، چپ کی اک رات سی تھی
خاموشی کی بات بھی تھی
یہ سبز باغ دکھا نہ اِدھر اُدھر کے مجھے
رٹے ہوئے ہیں پہاڑے اگر مگر کے مجھے
وہ چاہتا ہے شکایت نہ ہو مِرے لب پر
بھری بہار کی رُت میں اداس کر کے مجھے
میں اس لیے رہِ غم میں سنبھل نہیں پائی
فریب دیتا ہے ہر بار وہ نظر کے مجھے
تابندہ بہاروں کے نظارے نہیں دیکھے
تُو نے وہ چمکتے ہوئے تارے نہیں دیکھے
کچھ اس لیے بھی نیند ہمیں آتی ہے جلدی
آنکھوں نے ابھی خواب تمہارے نہیں دیکھے
خود ہاتھ ملایا ہے سمندر میں بھنور سے
کشتی نے تلاطم میں سہارے نہیں دیکھے
حاصلِ فن ہے بس کلام کی داد
ورنہ ملتی ہے سب کو نام کی داد
کس قدر بے رخی سے ملتا ہے
دشمنِ جاں! تِرے سلام کی داد
جرم غربت پہ جا کے لگتا ہے
ویسے بنتی ہے اس نظام کی داد
دیکھ لینا تمہارا کافی ہے
مجھ کو اتنا اشارا کافی ہے
تیری امید کا شب غم میں
جلتا بجھتا ستارا کافی ہے
تُو نے پھر بھی نہیں سنی آواز
میں نے تجھ کو پکارا کافی ہے
میں یہ کہتی ہوں کہ
وہ ایسا حل نکالے
پہلے مجھے یا پھر مجھے
دل کے ساتھ ساتھ شہر سے بھی نکالے
اس کے نام سے منسوب جو رُسوائی ملے
یہ بھی خُوش نصیبی ہے
تلاش
میں اس سے
جدا ہوئی تو
اب یہ عالم ہے
دل مجھ کو
میں دل کو
خوب کارِ حیات ہوتا ہے
جب بھی وہ میرے ساتھ ہوتا ہے
میں ہواؤں میں اڑتی ہوں جس دم
اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ہوتا ہے
دل اسے چاہتا ہے یوں جیسے
وہ میری کائنات ہوتا ہے
رات میں آفتاب کیا مانگوں
کوئی تعبیر خواب کیا مانگوں
آپ کے پاس کیا ہے دینے کو
آپ سے میں جناب کیا مانگوں
مار ڈالوں انا کو میں کیسے
زخمِ دل کا حساب کیا مانگوں
بے وفا کو سادگی میں باوفا لکھتی رہی
دھوپ جیسے آدمی کو میں گھٹا لکھتی رہی
وہ مجھے اوراق پر حرفِ غلط لکھتا رہا
میں بیاضِ دل پہ حرفِ دل ربا لکھتی رہی
اس کے کہنے پر اجالوں کو بھی لکھا تیرگی
اس کے کہنے پر اندھیروں کو ضیا لکھتی رہی