Showing posts with label مریم ناز. Show all posts
Showing posts with label مریم ناز. Show all posts

Tuesday, 10 January 2023

میں نے اے کشمیر تیری بستی کے ہر شخص سے

 کشمیر


میں نے اے کشمیر تیری

بستی کے ہر شخص سے جا کر

تیرا پتہ جو پوچھا تو

سب کے لب پر، چپ کی اک رات سی تھی

خاموشی کی بات بھی تھی

Sunday, 23 October 2022

یہ سبز باغ دکھا نہ ادھر ادھر کے مجھے

 یہ سبز باغ دکھا نہ اِدھر اُدھر کے مجھے

رٹے ہوئے ہیں پہاڑے اگر مگر کے مجھے

وہ چاہتا ہے شکایت نہ ہو مِرے لب پر

بھری بہار کی رُت میں اداس کر کے مجھے

میں اس لیے رہِ غم میں سنبھل نہیں پائی

فریب دیتا ہے ہر بار وہ نظر کے مجھے

Thursday, 7 April 2022

تابندہ بہاروں کے نظارے نہیں دیکھے

 تابندہ بہاروں کے نظارے نہیں دیکھے

تُو نے وہ چمکتے ہوئے تارے نہیں دیکھے

کچھ اس لیے بھی نیند ہمیں آتی ہے جلدی

آنکھوں نے ابھی خواب تمہارے نہیں دیکھے

خود ہاتھ ملایا ہے سمندر میں بھنور سے

کشتی نے تلاطم میں سہارے نہیں دیکھے

Tuesday, 3 August 2021

حاصل‌ فن ہے بس کلام کی داد

 حاصل‌ِ فن ہے بس کلام کی داد

ورنہ ملتی ہے سب کو نام کی داد

کس قدر بے رخی سے ملتا ہے

دشمنِ جاں! تِرے سلام کی داد

جرم غربت پہ جا کے لگتا ہے

ویسے بنتی ہے اس نظام کی داد

Thursday, 17 June 2021

دیکھ لینا تمہارا کافی ہے

 دیکھ لینا تمہارا کافی ہے

مجھ کو اتنا اشارا کافی ہے

تیری امید کا شب غم میں

جلتا بجھتا ستارا کافی ہے

تُو نے پھر بھی نہیں سنی آواز

میں نے تجھ کو پکارا کافی ہے

Wednesday, 2 June 2021

میں یہ کہتی ہوں کہ وہ ایسا حل نکالے

 میں یہ کہتی ہوں کہ

وہ ایسا حل نکالے

پہلے مجھے یا پھر مجھے

دل کے ساتھ ساتھ شہر سے بھی نکالے

اس کے نام سے منسوب جو رُسوائی ملے

یہ بھی خُوش نصیبی ہے

تلاش میں اس سے جدا ہوئی تو

 تلاش


میں اس سے

جدا ہوئی تو

اب یہ عالم ہے

دل مجھ کو

میں دل کو

Tuesday, 1 June 2021

خوب کار حیات ہوتا ہے

 خوب کارِ حیات ہوتا ہے 

جب بھی وہ میرے ساتھ ہوتا ہے

میں ہواؤں میں اڑتی ہوں جس دم 

اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ہوتا ہے

دل اسے چاہتا ہے یوں جیسے 

وہ میری کائنات ہوتا ہے 

Monday, 31 May 2021

رات میں آفتاب کیا مانگوں

 رات میں آفتاب کیا مانگوں 

کوئی تعبیر خواب کیا مانگوں 

آپ کے پاس کیا ہے دینے کو 

آپ سے میں جناب کیا مانگوں 

مار ڈالوں انا کو میں کیسے 

زخمِ دل کا حساب کیا مانگوں

Thursday, 26 November 2020

بیوفا کو سادگی میں باوفا لکھتی رہی

 بے وفا کو سادگی میں باوفا لکھتی رہی

دھوپ جیسے آدمی کو میں گھٹا لکھتی رہی

وہ مجھے اوراق پر حرفِ غلط لکھتا رہا

میں بیاضِ دل پہ حرفِ دل ربا لکھتی رہی

اس کے کہنے پر اجالوں کو بھی لکھا تیرگی

اس کے کہنے پر اندھیروں کو ضیا لکھتی رہی