Showing posts with label حسنٰی سرور. Show all posts
Showing posts with label حسنٰی سرور. Show all posts

Monday, 16 February 2026

رہتا ہے دل میں درد بھی مہمان کی طرح

 رہتا ہے دل میں درد بھی مہمان کی طرح

آنکھوں سے اشک بہتے ہیں طوفان کی طرح

آندھی اڑا کے لے گئی مجھ کو ورق ورق

اور غم بہا کے لے گیا طوفان کی طرح

دیمک کی طرح گھیر لیا درد نے مجھے

مر کر بھی میں کھڑی ہوں سلیمان کی طرح

Thursday, 1 May 2025

ہم اپنے آہ کو ڈھونڈیں کہاں کہاں لوگو

 ہم اپنے آہ کو ڈھونڈیں کہاں کہاں لوگو

اندھیری رات میں ملتا نہیں نشاں لوگو

میں اپنی شکل نہ پہچان پائی شیشے میں

یہ کیا ہوا میرا چہرہ گیا کہاں لوگو

ہر ایک آرزو دھوکہ ہر ایک خواب فریب

وہ خواب، خوابِ سفر ہے دھواں دھواں لوگو

Monday, 2 December 2024

سورج کے ڈوبنے سے سمندر اداس ہے

 سورج کے ڈوبنے سے سمندر اداس ہے

وہ جو نہیں تو شام کا منظر اداس ہے

زخمی ہیں پاؤں پاؤں تو رستہ لہو لہو

ٹھوکر لگا کے راہ کا پتھر اداس ہے

چادر سی اک لہو کی تنی ہے نگاہ میں

ڈوبا ہوا لہو میں ہر اک در اداس ہے

Sunday, 1 December 2024

دل کی دیوار پہ مٹی کا دیا جلتا ہے

 دل کی دیوار پہ مٹی کا دِیا جلتا ہے

شام کے ساتھ کوئی راہ تیری تکتا ہے

منتشر سے ہیں خیالات خدا خیر کرے

وہم کہتا ہے کہ؛ پیمانِ وفا ٹوٹا ہے

کوئی تصویر بنائے سے نہیں بن سکتی

خود بخود آئینے میں عکس کوئی اترا ہے