رہتا ہے دل میں درد بھی مہمان کی طرح
آنکھوں سے اشک بہتے ہیں طوفان کی طرح
آندھی اڑا کے لے گئی مجھ کو ورق ورق
اور غم بہا کے لے گیا طوفان کی طرح
دیمک کی طرح گھیر لیا درد نے مجھے
مر کر بھی میں کھڑی ہوں سلیمان کی طرح
رہتا ہے دل میں درد بھی مہمان کی طرح
آنکھوں سے اشک بہتے ہیں طوفان کی طرح
آندھی اڑا کے لے گئی مجھ کو ورق ورق
اور غم بہا کے لے گیا طوفان کی طرح
دیمک کی طرح گھیر لیا درد نے مجھے
مر کر بھی میں کھڑی ہوں سلیمان کی طرح
ہم اپنے آہ کو ڈھونڈیں کہاں کہاں لوگو
اندھیری رات میں ملتا نہیں نشاں لوگو
میں اپنی شکل نہ پہچان پائی شیشے میں
یہ کیا ہوا میرا چہرہ گیا کہاں لوگو
ہر ایک آرزو دھوکہ ہر ایک خواب فریب
وہ خواب، خوابِ سفر ہے دھواں دھواں لوگو
سورج کے ڈوبنے سے سمندر اداس ہے
وہ جو نہیں تو شام کا منظر اداس ہے
زخمی ہیں پاؤں پاؤں تو رستہ لہو لہو
ٹھوکر لگا کے راہ کا پتھر اداس ہے
چادر سی اک لہو کی تنی ہے نگاہ میں
ڈوبا ہوا لہو میں ہر اک در اداس ہے
دل کی دیوار پہ مٹی کا دِیا جلتا ہے
شام کے ساتھ کوئی راہ تیری تکتا ہے
منتشر سے ہیں خیالات خدا خیر کرے
وہم کہتا ہے کہ؛ پیمانِ وفا ٹوٹا ہے
کوئی تصویر بنائے سے نہیں بن سکتی
خود بخود آئینے میں عکس کوئی اترا ہے