وفا کا عزم کچھ اور استوار بنا
بنانے والے مِرے دل کو بے قرار بنا
چمن کی سیر میں لطف آ گیا خدا کی قسم
تصور آ کے تِرا زینتِ بہار بنا
جہاں میں تیرے مقابل کوئی حسیں نہ رہے
تُو اپنی زُلف کو کچھ اور تابدار بنا
وفا کا عزم کچھ اور استوار بنا
بنانے والے مِرے دل کو بے قرار بنا
چمن کی سیر میں لطف آ گیا خدا کی قسم
تصور آ کے تِرا زینتِ بہار بنا
جہاں میں تیرے مقابل کوئی حسیں نہ رہے
تُو اپنی زُلف کو کچھ اور تابدار بنا
مقام آدمیت امتحاں کی منزل ہے
کسی کے واسطے آساں کسی کو مشکل ہے
نہیں فریب خلوص اور خلوص میں کوئی فرق
بہ یک نگاہ کریں امتیاز مشکل ہے
یہیں سے راستے امکان کے نکلتے ہیں
ہمارا قلب مصفا ایک ایسی منزل ہے
بھروسہ پھولوں کا کانٹوں کا اعتبار نہیں
تعینات کے خاکے ہیں یہ بہار نہیں
میں کیسے آپ کے وعدے کا اعتبار کروں
حضور جب مجھے خود اپنا اعتبار نہیں
مِرے شعور محبت کی جس سے ذلت ہو
خدا کے فضل سے ایسا مِرا شعار نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ایمان ہے وابستہ اقرار محمدﷺ سے
کونین منور ہیں انوارِ محمدﷺ سے
دنیا کے حوادث سے ہونے کا نہیں کچھ بھی
جب تک رہے ربط اپنا دربار محمدﷺ سے
اسرا کلامِ حق ظاہر ہوئے دنیا پر
کردارِ محمدﷺ سے گفتارِ محمدﷺ سے
بادۂ عشق کا ہے جام غزل
حسن کو دوسرا ہے نام غزل
دل کی آواز کا ہے نام غزل
ہے محبت بھرا پیام غزل
اہل دل کے لبوں پہ رہتی ہے
تجھ کو حاصل ہے وہ مقام غزل