Showing posts with label اکمل آلدوری. Show all posts
Showing posts with label اکمل آلدوری. Show all posts

Wednesday, 4 June 2025

چمن کی سیر میں لطف آ گیا خدا کی قسم

 وفا کا عزم کچھ اور استوار بنا

بنانے والے مِرے دل کو بے قرار بنا

چمن کی سیر میں لطف آ گیا خدا کی قسم

تصور آ کے تِرا زینتِ بہار بنا

جہاں میں تیرے مقابل کوئی حسیں نہ رہے

تُو اپنی زُلف کو کچھ اور تابدار بنا

Sunday, 1 June 2025

مقام آدمیت امتحاں کی منزل ہے

 مقام آدمیت امتحاں کی منزل ہے

کسی کے واسطے آساں کسی کو مشکل ہے

نہیں فریب خلوص اور خلوص میں کوئی فرق

بہ یک نگاہ کریں امتیاز مشکل ہے

یہیں سے راستے امکان کے نکلتے ہیں

ہمارا قلب مصفا ایک ایسی منزل ہے

Saturday, 15 February 2025

بھروسہ پھولوں کا کانٹوں کا اعتبار نہیں

 بھروسہ پھولوں کا کانٹوں کا اعتبار نہیں

تعینات کے خاکے ہیں یہ بہار نہیں

میں کیسے آپ کے وعدے کا اعتبار کروں

حضور جب مجھے خود اپنا اعتبار نہیں

مِرے شعور محبت کی جس سے ذلت ہو

خدا کے فضل سے ایسا مِرا شعار نہیں

Tuesday, 26 November 2024

ایمان ہے وابستہ اقرار محمد سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ایمان ہے وابستہ اقرار محمدﷺ سے

کونین منور ہیں انوارِ محمدﷺ سے

دنیا کے حوادث سے ہونے کا نہیں کچھ بھی

جب تک رہے ربط اپنا دربار محمدﷺ سے

اسرا کلامِ حق ظاہر ہوئے دنیا پر

کردارِ محمدﷺ سے گفتارِ محمدﷺ سے

Monday, 25 November 2024

بادۂ عشق کا ہے جام غزل

  بادۂ عشق کا ہے جام غزل

حسن کو دوسرا ہے نام غزل

دل کی آواز کا ہے نام غزل

ہے محبت بھرا پیام غزل

اہل دل کے لبوں پہ رہتی ہے

تجھ کو حاصل ہے وہ مقام غزل