آنکھ جس شخص کے خمار میں ہے
دل اسی شخص کے حصار میں ہے
جب سے دیکھا ہے خواب میں ان کو
دل کی دھڑکن کہاں شمار میں ہے
کاش وہ خواب سچ میں ڈھل جاتا
یہ بھی حسرت دلِ فگار میں ہے
آنکھ جس شخص کے خمار میں ہے
دل اسی شخص کے حصار میں ہے
جب سے دیکھا ہے خواب میں ان کو
دل کی دھڑکن کہاں شمار میں ہے
کاش وہ خواب سچ میں ڈھل جاتا
یہ بھی حسرت دلِ فگار میں ہے
عمر بھر یار محبت کا بھرم رکھوں گی
تجھ سے ہر بار محبت کا بھرم رکھوں گی
تم نبھاؤ گے محبت کو محبت سے اگر
میں بھی سرکار محبت کا بھرم رکھوں گی
ساتھ گرداب کے میں رقص کروں گی اور پھر
بیچ منجھدار محبت کا بھرم رکھوں گی
ردا مدہوش ہوتی جا رہی ہے
حیا مدہوش ہوتی جا رہی ہے
نہ جانے کون ملنے آ رہا ہے
فضا مدہوش ہوتی جا رہی ہے
خزاں کی رُت مہکنے لگ گئی ہے
صبا مدہوش ہوتی جا رہی ہے
دل ساجن کی یاد میں کھونے لگتا ہے
تو لڑکی سے کھانا جلنے لگتا ہے
دل کی جب من مانی بڑھنے لگتی ہے
پھرخود سے ہی جھگڑا ہونے لگتا ہے
اپنے آپ سے باتیں اچھی لگتی ہیں
لیکن دل خوابوں سے ڈرنے لگتا ہے
ہاں پہلے محبت جتاتی ہے دنیا
تو پھر زخم دل پر لگاتی ہے دنیا
ذرا قدر کرتی نہیں زندگی میں
مگر قبر آ کر سجاتی ہے دنیا
کتابوں کو پڑھ کر زمانے کو سمجھا
سبق زندگی کے سکھاتی ہے دنیا