Showing posts with label سمیرا یوسف. Show all posts
Showing posts with label سمیرا یوسف. Show all posts

Monday, 14 June 2021

آنکھ جس شخص کے خمار میں ہے

 آنکھ جس شخص کے خمار میں ہے

دل اسی شخص کے حصار میں ہے

جب سے دیکھا ہے خواب میں ان کو

دل کی دھڑکن کہاں شمار میں ہے

کاش وہ خواب سچ میں ڈھل جاتا

یہ بھی حسرت دلِ فگار میں ہے

Sunday, 13 June 2021

عمر بھر یار محبت کا بھرم رکھوں گی

 عمر بھر یار محبت کا بھرم رکھوں گی

تجھ سے ہر بار محبت کا بھرم رکھوں گی

تم نبھاؤ گے محبت کو محبت سے اگر

میں بھی سرکار محبت کا بھرم رکھوں گی

ساتھ گرداب کے میں رقص کروں گی اور پھر

بیچ منجھدار محبت کا بھرم رکھوں گی

فضا مدہوش ہوتی جا رہی ہے

 ردا مدہوش ہوتی جا رہی ہے 

حیا مدہوش ہوتی جا رہی ہے 

نہ جانے کون ملنے آ رہا ہے 

فضا مدہوش ہوتی جا رہی ہے

خزاں کی رُت مہکنے لگ گئی ہے 

صبا مدہوش ہوتی جا رہی ہے

Tuesday, 8 June 2021

دل ساجن کی یاد میں کھونے لگتا ہے

 دل ساجن کی یاد میں کھونے لگتا ہے

تو لڑکی سے کھانا جلنے لگتا ہے

دل کی جب من مانی بڑھنے لگتی ہے

پھرخود سے ہی جھگڑا ہونے لگتا ہے

اپنے آپ سے باتیں اچھی لگتی ہیں

لیکن دل خوابوں سے ڈرنے لگتا ہے

Sunday, 15 November 2020

ہاں پہلے محبت جتاتی ہے دنیا

 ہاں پہلے محبت جتاتی ہے دنیا

تو پھر زخم دل پر لگاتی ہے دنیا

ذرا قدر کرتی نہیں زندگی میں

مگر قبر آ کر سجاتی ہے دنیا

کتابوں کو پڑھ کر زمانے کو سمجھا

سبق زندگی کے سکھاتی ہے دنیا