Showing posts with label رند لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label رند لکھنوی. Show all posts

Saturday, 5 September 2020

اک پری کا پھر مجھے شیدا کیا

اک پری کا پھر مجھے شیدا کیا
عشق نے پھر مفسدہ برپا کیا
آج پھر اس شوخ نے فقرا کیا
وعدۂ امروز بھی فردا کیا
خونِ ناحق اک مسلماں کا کیا
کیا غضب او شوخ بے پروا کیا

منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی

منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی
دیکھ لی اے حور طلعت دیکھ لی
شکل بدلی اور صورت ہو گئی
اک نظر جس نے وہ صورت دیکھ لی
ایک بت سجدہ نہیں کرتا تجھے
بس خدایا تیری قدرت دیکھ لی

Saturday, 7 March 2020

چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہ

چلتی رہی اس کوچے میں تلوار ہمیشہ
لاشے ہی نکلتے رہے دو چار ہمیشہ
ہم رند ہوئے شاہدِ مقصود سے واصل
جھگڑے میں رہے کافر و دِیندار ہمیشہ
مشتاقوں نے تیرے نہ لیا کوڑیوں کے مول
بکتا رہا یوسف سرِ بازار ہمیشہ

میں دیکھ رہا ہوں مجھے اندھا نہ سمجھنا

تو آپ کو پوشیدہ و اخفا نہ سمجھنا
میں دیکھ رہا ہوں مجھے اندھا نہ سمجھنا
کم شیرِ ژیان سے مِرا رتبہ نہ سمجھنا
کتا ہوں علی کا سگِ دنیا نہ سمجھنا
ہمراہ مِرے رہتی ہے ہر دم مددِ غیب
لاکھوں پہ ہوں بھاری مجھے تنہا نہ سمجھنا

سائلانہ ان کے در پر جب مرا جانا ہوا

سائلانہ ان کے در پر جب مِرا جانا ہوا
'ہنس کے بولے 'شاہ صاحب کس طرف آنا ہوا
ٹوٹے بت،۔ مسجد بنی،۔ مسمار بت خانہ ہوا
جب تو اک صورت بھی تھی اب صاف ویرانہ ہوا
ہر جگہ موجود سمجھا، اس کو سجدہ کر لیا
خواہ مسجد، خواہ گرجا، خواہ بت خانہ ہوا

کیونکر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے

کیوں کر نہ لائے رنگ گلستاں نئے نئے
گاتے ہیں راگ مرغِ خوش الحاں نئے نئے
دلبر متاعِ دل کے ہیں خواہاں نئے نئے
کرتا ہے حسن عشق کے ساماں نئے نئے
آسیبِ عشق سر سے اترتا نہیں مِرے
لکھتا ہے نقش روز پری خواں نئے نئے

پڑتی ہے آ کے جان پر آخر بلائے دل

پڑتی ہے آ کے جان پر آخر بلائے دل
یا رب کسی بشر کا کسی پر نہ آئے دل
تیرے بغیر کس کی تمنا کرے بشر
تُو آرزوئے جان ہے، تُو مدعائے دل
جو کچھ سلوک تُو نے کیے اس غریب سے
کیوں بے وفا! بتا تو، یہی تھی جزائے دل

Tuesday, 15 November 2016

توبہ کا پاس رند مے آشام ہو چکا

توبہ کا پاس رندِ مے آشام ہو چکا
بس ہو چکا تقدسِ اسلام ہو چکا
شمعِ حرم تھا گاہ، گہے دَیر کا چراغ
میں زیبِ کفر و رونقِ اسلام ہو چکا
دیں دار برہمن کہے، کافر بتائے شیخ 
دونوں طرف سے موردِ الزام ہو چکا

کھلی ہے کنج قفس میں مری زباں صیاد

کھلی ہے کنجِ قفس میں مِری زباں صیاد
میں ماجرائے چمن کیا کروں بیاں صیاد
دکھائے گا نہ اگر سیرِ بوستاں صیاد
پھڑک پھڑک کے قفس ہی میں دوں جاں صیاد
جہاں گیا میں گیا لے کے دام واں صیاد
پھرا تلاش میں میری کہاں کہاں صیاد

رک گیا اک پری سے جی ہی تو ہے

رک گیا اک پری سے جی ہی تو ہے
نہ نبھی ہم سے دوستی ہی تو ہے
نہ رہا ہوش، بے خودی ہی تو ہے
ساقیا! شغل مے کشی ہی تو ہے
للہ الحمد کیا نمود ہوئی
بن پڑی ہم سے عاشقی ہی تو ہے

رکھو خدمت میں مجھ سے کام تو لو

رکھو خدمت میں مجھ سے کام تو لو
بات کرتے نہیں،۔ سلام تو لو
ناز و انداز و حسن و خوبی میں
کون ہے تم سا، اس کا نام تو لو
پھر تڑپ لیجیو گرفتارو
دم بھر آرام، زیرِ دام تو لو