Showing posts with label مقبول عامر. Show all posts
Showing posts with label مقبول عامر. Show all posts

Tuesday, 11 May 2021

تیری آنکھیں بہت گہری

 تیری آنکھیں بہت گہری

بہت ہی خوبصورت ہیں

اجازت ہو تو میں کچھ دیر

ان میں جھانک کر دیکھوں

کہ مجھ کو چاند کی مانند

جھیلوں میں اُترنا

Wednesday, 5 May 2021

ذرا اے راہ رو اک بات سننا

 ذرا اے راہرو اک بات سننا

میں پربت پار کا نادار بندہ

تیری بستی کی جانب آ گیا ہوں

کہ اک نازک بدن، شیریں سخن نے

ہریری پیرہن مانگا ہے مجھ سے

تجھ کچھ علم ہے ان وادیوں میں

Friday, 12 March 2021

مجھے عزیز ہے کوئی بھی نور پارہ ہو

 مجھے عزیز ہے کوئی بھی نور پارا ہو

چراغِ شام ہو یا صبح کا ستارا ہو

ہمارے بیچ محبت کی نہر بہتی ہے

میں اک کنارا ہوں تم دوسرا کنارا ہو

افق میں دور ستارا گرا تو ایسے لگا

کہ جیسے تم نے مجھے بام سے پکارا ہو

Sunday, 1 January 2017

رنگ اور نور کی دنیا میں ذرا لے جائے

رنگ اور نور کی دنیا میں ذرا لے جائے
کوئی تو ہو جو مجھے شہرِ سبا لے جائے
وہ مجھے ڈھونڈنے نکلے تو اسے کہہ دینا
دھوپ ہے تیز بہت، سر پہ گھٹا لے جائے
یوں تِری یاد مجھے ساتھ لیے جاتی ہے
جیسے پھولوں کی مہک بادِ صبا لے جائے

خزاں کی رت میں‌ بھی نقش بہار باقی ہے

خزاں کی رُت میں‌ بھی نقشِ بہار باقی ہے
کہ ایک پھول سرِ شاخسار باقی ہے
تِرے فریب کا جادو ابھی نہیں ٹوٹا
ابھی تو تجھ پہ مِرا اعتبار باقی ہے
گھروں کو لوٹ گئے لوگ شام ڈھلتے ہی
بس ایک شخص سرِ رہگزار باقی ہے

رات بیٹھا تھا میرے پاس خیالوں میں کوئی

رات بیٹھا تھا میرے پاس خیالوں میں کوئی
انگلیاں پھیر رہا تھا میرے بالوں میں کوئی
دیدۂ تر نے بڑی دیر میں پہچانا اسے
روپ کھو بیٹھا ہے دو چار ہی سالوں میں کوئی
غمزدہ شب کی گلو گیر ہوا کہتی ہے
یاد کرتا ہے مجھے چاہنے والوں میں کوئی

Thursday, 10 November 2016

رخ حیات کو رنگ نشاط مل جائے

رخِ حیات کو رنگِ نشاط مل جائے
کبھی جو تُو از رہِ التفات مل جائے
میں اس امید پہ صحرا میں آگے بڑھتا ہوں
کہ اگلے موڑ پہ شاید فرات مل جائے
یہ ٹوٹ پھوٹ ہے میرے وجود کا خاصہ
میں مرنہ جاؤں جو مجھ کو ثبات مل جائے

مجهے عزیز ہے کوئی بهی نور پاره ہو

مجهے عزیز ہے کوئی بهی نور پاره ہو
چراغِ شام ہو یا صبح کا ستاره ہو
ہمارے بیچ محبت کی نہر بہتی ہے
میں اک کناره ہوں تم دوسرا کناره ہو
افق میں دور ستاره گرا تو ایسے لگا
کہ جیسے تم نے مجهے بام سے پکارا ہو

کوئی تو عکس ہو ایسا جو معتبر ٹھہرے

کوئی تو عکس ہو ایسا جو معتبر ٹھہرے
کہیں تو جا کے بھٹکتی ہوئی نظر ٹھہرے
کوئی نہ ساتھ چلا، راستہ ہی ایسا تھا
مِرے ہی نقشِ قدم میرے ہمسفر ٹھہرے
جو روشنی سے نگاہیں ملا نہیں سکتے
دیارِ شب میں وہی صاحبِ نظر ٹھہرے

Tuesday, 4 October 2016

دل بہل جائے گا اس کا مجھے اندازہ ہے

دل بہل جائے گا، اس کا مجھے اندازہ ہے
بات یہ ہے کہ مِرا زخم ابھی تازہ ہے
جانے کس طرح صبا تیری خبر لائے گی
میرے زِنداں میں نہ روزن ہے نہ دروازہ ہے
ہاں تِرے جبر کی شہرت بھی بہت تھی لیکن
اب تو بستی میں مِرے صبر کا آوازہ ہے

سکوت شب سے تکلم کی ابتدا تو کرو

سکوتِ شب سے تکلّم کی ابتدا تو کرو
حدیثِ دل تو کہو، ذکرِ آشنا تو کرو
زمانے والے کبھی اہلِ دل سے جیتے ہیں
شکست ان کا مقدر ہے، تم دعا تو کرو
تمہِیں میں عکس تمہارا دکھا نہ دوں تو کہو
تم آئینے کی طرح میرا سامنا تو کرو

ملائک خیر و شر سے کہنا

ملائکِ خیر و شر سے کہنا
کہ میری جتنی بھی نیکیاں ہیں
انہیں وہ دریا کی نذر کر دیں
کہ میں نے جو بھی بھلائی کی ہے 
کسی صِلے یا جزا کی امید پر نہیں کی
مگر جہاں تک مِری خطاؤں کا ہے تعلق

Thursday, 27 August 2015

فرد جرم فقیہ شہر بولا بادشاہ سے

فرد جرم 

فقیہِ‌ شہر بولا بادشاہ سے 
بڑا سنگین مجرم ہے یہ آقا 
اسے مصلوب ہی کرنا پڑے گا 
کہ اس کی سوچ ہم سے مختلف ہے 

مقبول عامر

میری تعریف کرے یا مجھے بدنام کرے

میری تعریف کرے یا مجھے بدنام کرے
جس نے جو بات بھی کرنی ہے سرِعام کرے
زخم پر وقت کا مرہم تو لگا دیتی ہے
اور کیا اس کے سوا گردشِ ایام کرے
محتسب سے میں اکیلا ہی نمٹ سکتا ہوں
جس نے جرم کیا ہے، وہ مرے نام کرے

آنکھوں کے خواب زار کو تاراج کر گئی

آنکھوں کے خواب زار کو تاراج کر گئی 
پاگل ہوا چلی تو حدوں سے گزر گئی 
دو گام تک ہی سبز مناظر تھے، اس کے بعد 
اک دشتِ بے کراں تھا، جہاں تک نظر گئی 
پھر شام کی ہوا نے تری بات چھیڑ دی 
پھر میرے چار سُو تری خوشبو بکھر گئی

یہ عہد کرب مرے نقش کو ابھارے گا

یہ عہدِ کرب مرے نقش کو ابھارے گا 
زمانہ اس کو مرے نام سے پکارے گا 
ازل سے آدمؑ و فطرت ہیں‌ برسرِ پیکار 
خبر نہیں ہے کہ یہ جنگ کون ہارے گا 
ہمیں‌ یہ غم ہے نگارِ‌ وطن کہ ہم نہ رہے 
تو جانے کون ترا قرضِ غم اتارے گا 

ہاں کچھ تو مزاج اپنا جنوں خیز بہت ہے

ہاں کچھ تو مزاج اپنا جنوں خیز بہت ہے
اور کچھ یہ رہِ عشق، دلآویز بہت ہے
مرنے کے لیے تیشۂ فرہاد ہے کافی
جینے کے لیے حیلۂ پرویز بہت ہے
اب کے نہ کوئی قصر نہ ایوان بچے گا
اب کے جو چلی ہے، وہ ہوا تیز بہت ہے

اب اس کے بعد ترا اور کیا ارادہ ہے

اب اس کے بعد ترا اور کیا ارادہ ہے
کہ میرا صبر ترے جبر سے زیادہ ہے
تُو بُوئے گل کی طرح اڑ رہا ہے اور کوئی
تری تلاش میں برسوں سے پا پیادہ ہے
میں جنگ جیت کے تم کو معاف کر دوں گا
تمہاری سوچ سے بڑھ کر یہ دل کشادہ ہے

Monday, 3 February 2014

وہ خود بھی پیاس کے سوکھے نگر میں بستا ہے

وہ خُود بھی پیاس کے سُوکھے نگر میں بستا ہے
جو اَبر بَن کے مِرے دشت پر برستا ہے
چھلک نہ جائے یہ پیمانہ اس کشاکش میں
کہ خُون موج میں ہے اور دل شکستہ ہے
نظر اٹھاؤں تو منزل کا فاصلہ ہے وہی
پلٹ کے دیکھوں تو پیچھے طویل رَستہ ہے

سلگ رہی ہے فضا سائباں کے ہوتے ہوئے

سُلگ رہی ہے فضا سائباں کے ہوتے ہوئے 
زمیں پہ اِتنے سِتم آسماں‌ کے ہوتے ہوئے 
کسی بھی گھاٹ نہ اُترا مرا سفینۂ دل 
ہَوا کے رُخ‌ پہ کُھلے بادباں‌ کے ہوتے ہوئے 
کہ جیسے اُس کو فضاؤں‌ سے خاص نِسبت ہو 
پرندہ اُڑتا رہا آشیاں کے ہوتے ہوئے