تیری آنکھیں بہت گہری
بہت ہی خوبصورت ہیں
اجازت ہو تو میں کچھ دیر
ان میں جھانک کر دیکھوں
کہ مجھ کو چاند کی مانند
جھیلوں میں اُترنا
تیری آنکھیں بہت گہری
بہت ہی خوبصورت ہیں
اجازت ہو تو میں کچھ دیر
ان میں جھانک کر دیکھوں
کہ مجھ کو چاند کی مانند
جھیلوں میں اُترنا
ذرا اے راہرو اک بات سننا
میں پربت پار کا نادار بندہ
تیری بستی کی جانب آ گیا ہوں
کہ اک نازک بدن، شیریں سخن نے
ہریری پیرہن مانگا ہے مجھ سے
تجھ کچھ علم ہے ان وادیوں میں
مجھے عزیز ہے کوئی بھی نور پارا ہو
چراغِ شام ہو یا صبح کا ستارا ہو
ہمارے بیچ محبت کی نہر بہتی ہے
میں اک کنارا ہوں تم دوسرا کنارا ہو
افق میں دور ستارا گرا تو ایسے لگا
کہ جیسے تم نے مجھے بام سے پکارا ہو