Showing posts with label عنبر شمیم. Show all posts
Showing posts with label عنبر شمیم. Show all posts

Friday, 5 November 2021

کوچہ کوچہ ہے عداوت شہر میں

 کوچہ کوچہ ہے عداوت شہر میں

سر کہاں ہے اب سلامت شہر میں

مل سکے تو بس غنیمت جانیۓ

چند لمحوں کی رفاقت شہر میں

برگِ آوارہ نما ہے آج بھی

زندگی کی کیا ہے قیمت شہر میں

Friday, 29 October 2021

سائباں کیا ابر کا ٹکڑا ہے کیا

 سائباں کیا ابر کا ٹکڑا ہے کیا

دھوپ تو معلوم ہے سایا ہے کیا

اپنے دامن میں چھپا لے موج غم

قطرہ قطرہ زندگی جینا ہے کیا

خواب آنسو احتجاجی زندگی

پوچھیۓ مت شہر کلکتہ ہے کیا

Wednesday, 27 October 2021

رنگ کالا ہے نہ ہے پیکر سیاہ

 رنگ کالا ہے نہ ہے پیکر سیاہ

آدمی دراصل ہے اندر سیاہ

اب کہاں قوسِ قزح کے دائرے

اب ہے تا حدِ نظر منظر سیاہ

کتنا کالا ہو گیا تھا اس کا دل

جسم سے نکلا تو تھا خنجر سیاہ

Sunday, 28 February 2021

کسی بھی طرح کٹے ہم سبیل کرتے ہیں

 کسی بھی طرح کٹے، ہم سبیل کرتے ہیں

ابھی تو رات ہے قصہ طویل کرتے ہیں

عجیب چیز ہے احباب کا رویہ بھی

مِری نظر میں مجھی کو ذلیل کرتے ہیں

معاملات ہم آپس میں کر لیں طے تو خوب

نہیں تو آئیے، دونوں وکیل کرتے ہیں

Thursday, 21 January 2021

کوئی دیوار نہ در باقی ہے

 کوئی دیوار نہ در باقی ہے

دشتِ خوں حد نظر باقی ہے

سب مراحل سے گزر آیا ہوں

اک تِری راہ گزر باقی ہے

خواہشیں قتل ہوئی جاتی ہیں

اک مِرا دیدۂ تر باقی ہے