کوچہ کوچہ ہے عداوت شہر میں
سر کہاں ہے اب سلامت شہر میں
مل سکے تو بس غنیمت جانیۓ
چند لمحوں کی رفاقت شہر میں
برگِ آوارہ نما ہے آج بھی
زندگی کی کیا ہے قیمت شہر میں
کوچہ کوچہ ہے عداوت شہر میں
سر کہاں ہے اب سلامت شہر میں
مل سکے تو بس غنیمت جانیۓ
چند لمحوں کی رفاقت شہر میں
برگِ آوارہ نما ہے آج بھی
زندگی کی کیا ہے قیمت شہر میں
سائباں کیا ابر کا ٹکڑا ہے کیا
دھوپ تو معلوم ہے سایا ہے کیا
اپنے دامن میں چھپا لے موج غم
قطرہ قطرہ زندگی جینا ہے کیا
خواب آنسو احتجاجی زندگی
پوچھیۓ مت شہر کلکتہ ہے کیا
رنگ کالا ہے نہ ہے پیکر سیاہ
آدمی دراصل ہے اندر سیاہ
اب کہاں قوسِ قزح کے دائرے
اب ہے تا حدِ نظر منظر سیاہ
کتنا کالا ہو گیا تھا اس کا دل
جسم سے نکلا تو تھا خنجر سیاہ
کسی بھی طرح کٹے، ہم سبیل کرتے ہیں
ابھی تو رات ہے قصہ طویل کرتے ہیں
عجیب چیز ہے احباب کا رویہ بھی
مِری نظر میں مجھی کو ذلیل کرتے ہیں
معاملات ہم آپس میں کر لیں طے تو خوب
نہیں تو آئیے، دونوں وکیل کرتے ہیں
کوئی دیوار نہ در باقی ہے
دشتِ خوں حد نظر باقی ہے
سب مراحل سے گزر آیا ہوں
اک تِری راہ گزر باقی ہے
خواہشیں قتل ہوئی جاتی ہیں
اک مِرا دیدۂ تر باقی ہے