Saturday, 16 May 2026

اپنی ناکام محبت پہ ہنسی آتی ہے

 اپنی ناکام محبت پہ ہنسی آتی ہے

دل کی بگڑی ہوئی قسمت پہ ہنسی آتی ہے

میں نے سمجھا تھا سہارا جسے اپنے دل کا

آج مجھ کو اسی اُلفت پہ ہنسی آتی ہے

ڈھل گئی جو کسی بے ربط سے افسانے میں

دل کی اس تازہ حقیقت پہ ہنسی آتی ہے

عجیب یہ جہان ہے عجیب یہ حیات ہے

 عجیب یہ جہان ہے، عجیب یہ حیات ہے

نہ آج تک سمجھ سکے جو رازِ کائنات ہے

لُٹی لُٹی سی آس ہے، گُھٹی گُھٹی سے آرزُو

وہی ہیں بے قراریاں، وہی سیاہ رات ہے

تِرے حسیں خیال میں گُزار دی ہے زندگی

جو پا سکے نہ ہم اگر تجھے تو اور بات ہے

نظر چراتا ہے یوں بھی کچھ آسماں مجھ سے

 نظر چراتا ہے یوں بھی کچھ  آسماں مجھ سے 

میں دو جہان سے واقف ہوں دو جہاں مجھ سے

وفورِ درد کے پاتال تک میں جب پہنچا 

فلک نے کھینچ لیا تب مِرا نشاں مجھ سے

عجیب ہے یہ تعلق کہ دور رہ کر بھی

یہاں میں اُس سے الجھتا ہوں وہ وہاں مجھ سے

کبھی کبھی تری چاہت پہ یہ گماں گزرا

 کبھی کبھی تِری چاہت پہ یہ گُماں گُزرا 

کہ جیسے سر سے ستاروں کا سائباں گزرا 

چراغ ایسے جلا کر بُجھا گیا کوئی 

تمام دِید کا عالم دُھواں دُھواں گزرا 

جنونِ شوق میں سجدوں کی آبرُو بھی گئی 

مجھے خبر نہ ہوئی کب وہ آستاں گزرا 

مرے سامنے جو صلیب ہے

 مِرے سامنے جو صلِیب ہے

وہ صلیب میرا نصیب ہے

جسے زندگی کی طلب نہیں

وہی زندگی کے قریب ہے

اسے غم ملیں یا ملے خوشی

یہ تو آدمی کا نصیب ہے

دیدۂ اشک بار نے مارا

 دیدۂ اشکبار نے مارا

آہِ بے اختیار نے مارا

دے دِلا کر فریبِ رنگ و بُو

ایک جانِ بہار نے مارا

خُلد کی حُسن کاریاں توبہ

رُوئے رنگینِ یار نے مارا

عادتاً مایوس اب تو شام ہے

 عادتاً مایُوس اب تو شام ہے

ہِجر تو بس مُفت ہی بدنام ہے

آج پھر دُھندلا گیا میرا خیال

آج پھر الفاظ میں کُہرام ہے

الگنی پر ٹانگ کر دن کا لباس

رات کو اب چین ہے آرام ہے

Friday, 15 May 2026

شکست کھا کے تیرے غم سے کامیاب ہوا

 شکست کھا کے تیرے غم سے کامیاب ہوا

دل اس مقام پہ ڈوبا کہ آفتاب ہوا💗

سکون شوق مبدل بہ اضطراب ہوا

کسی نے پردہ کیا اور میں بے نقاب ہوا

تِری نظر ہی تو محفل کی جان ہے ساقی

 نگاہ تُو نے اٹھائی کہ انقلاب ہوا

اے کہ ترے وجود پر خالق دو جہاں کو ناز

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

رفعتِ شانِ احمدیﷺ

اے کہ تِرے وجود پر خالقِ دو جہاں کو ناز 

اے کہ تِرا وجود ہے وجہِ وجودِ کائنات 

اے کہ تِرا سرِ نیاز حدِ کمالِ بندگی 

اے کہ تِرا مقامِ عشق قربِ تمام عین ذات 

اے کہ تِری زبان سے ربِ قدیر گلفشاں

وحئ خدائے لم یزل تھی تِری ایک ایک بات

اے کہ تُو فخرِ آدمی، واقفِ سرِّ عالمی

لوح و قلم س بے نیاز تیرے علوم شش جہات

تِرے بیاں سے کھل گئیں تِرے عمل سے حل ہوئیں

منطقیوں کی الجھنیں، فلسفیوں کی مشکلات 

خوگرِ بندگی جو تھے تیرے طفیل میں ہوئے 

مالکِ مصر و کاشغر، وارثِ دجلہ و فرات 

مجھ سے بیاں ہو کس طرح رفعتِ شانِ احمدیﷺ

تنگ مِرے تصورات، پست مِرے تخیلات

 

نواب بہادر یار جنگ

اصل نام؛ محمد بہادر خان

تخلص؛ خلق

جل کر غم بھی راکھ ہوا

 ساجن 

دل کی بھٹی میں 

جانے کیسا لاوا تھا 

اتنی تیز تپش تھی جس میں 

جل کر غم بھی راکھ ہوا 


نجمہ نسیم

لوگ کتنے عجیب ہوتے ہیں

 لوگ کتنے عجیب ہوتے ہیں

وقت مطلب قریب ہوتے ہیں

جن کو دنیا امیر کہتی ہے

دل کے بے حد غریب ہوتے ہیں

پیار اک ایسا روگ ہے جس کے

حسن والے طبیب ہوتے ہیں

ڈولی میں آج بیٹھ کے بیٹی چلی گئی

 ڈولی میں آج بیٹھ کے بیٹی چلی گئی

گھر چیختا ہے گھر کی تجلّی چلی گئی

میں نے کسی فقیر کو لوٹا دیا ہے کیا

کیوں میرے گھر سے رُوٹھ کے روزی چلی گئی

بیٹا وہی ہے، میں بھی وہی، رشتہ بھی وہی

بس یوں ہوا کہ لہجے کی نرمی چلی گئی

خلاف مصلحت عشق چل کے دیکھیں گے

 خلاف مصلحتِ عشق چل کے دیکھیں گے

اس آگ میں بھی کسی روز جل کے دیکھیں گے

رہِ وفا میں یہ جس دن بھی کامیاب آیا

تو آدمی کو فرشتے نکل کے دیکھیں گے

تِری ہنسی سے فقط آنسوؤں کو کیا بدلیں

بدل سکے تو مقدر بدل کے دیکھیں گے

Thursday, 14 May 2026

اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو

 اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو

ہوں کہیں ذہن میں ایجاد نہ کر لوں خود کو

وہ خرابہ کہ جہاں کوئی نہ ہو میرے سوا

اس خرابے میں ہی آباد نہ کر لوں خود کو

جانے کس لمحۂ پر درد کی یاد آئی ہے

روتے روتے یوں ہی برباد نہ کر لوں خود کو

مرا سخن سخن شاہکار ہو جائے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مِرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

شُنیدِ سیدِ عالی وقارﷺ ہو جائے

زبانِ خامہ میں ایماں کی روشنائی ہے

حضورﷺ ہدیۂ یک زرنگار ہو جائے

جوازِ لکنتِ کذب و ریا رہے کیونکر

درودِ اسمِ نبیﷺ بے شمار ہو جائے

اور پتھر کی ہو جائے گی

 اور پتھر کی ہو جائے گی


درد ملے تو رو بھی لینا 

آنکھ میں ساون بو بھی لینا

دیکھ سہیلی چپ نہ رہنا 

اندر اندر دکھ نہ سہنا 

ورنہ 

گھٹ کر مر جائے گی

رکھنا نہ تھا پسند مگر رکھ دیا گیا

 رکھنا نہ تھا پسند مگر رکھ دیا گیا

خودغرضیوں کے پاؤں پہ سر رکھ دیا گیا

کشتی کو اپنی لے کے چلا تھا میں جس طرف

دریا میں اس طرف ہی بھنور رکھ دیا گیا

جس نے زبان کھولی ستمگر کے سامنے

اس کا بدن سے کاٹ کے سر رکھ دیا گیا

کسی نامہرباں کو مہرباں ہم کہہ نہیں سکتے

 کسی نامہرباں کو مہرباں ہم کہہ نہیں سکتے

قفس سونے کا بھی ہو آشیاں ہم کہہ نہیں سکتے

کوئی کہہ دے زباں رکھنے کا منہ میں فائدہ کیا ہے

کسی کے سامنے جب داستاں ہم کہہ نہیں سکتے

نہ جانے کیا اثر ہوتا ہے ہم پر ان کی محفل میں

یہاں کہتے ہیں ہم وہاں جو کچھ وہاں ہم کہہ نہیں سکتے

Wednesday, 13 May 2026

لوگ یہ سمجھتے ہیں بیٹیاں پرائی ہیں

 بیٹیاں پرائی ہیں


یہ عجب جہالت ہے

لوگ یہ سمجھتے ہیں 

بیٹیاں پرائی ہیں؟ 

حق انہیں نہیں دینا

بوجھ ہیں یہ کاندھوں کا

کیوں یہ سوچ لیتے ہیں؟ 

یہ رنگ و نور کی برسات چار سو کیا ہے

 یہ رنگ و نور کی برسات چار سُو کیا ہے

یہ تُو نہیں ہے تو پھر اور رُو برُو کیا ہے

تِرے سوا دلِ ناداں کی آرزو کیا ہے

جو مل گیا ہے مجھے تُو، تو جستجو کیا ہے

قریب جا کے جو دیکھا تو ہو گیا روشن

تِرے وجود میں شامل رفُو رفُو کیا ہے

دم اجنبی صداؤں کا بھرتے ہو صاحبو

 دم اجنبی صداؤں کا بھرتے ہو صاحبو

ہر لمحہ اپنی جاں سے گزرتے ہو صاحبو

کیا جانے کیا ہے بات کہ ہر سمت بھیڑ میں

اپنا ہی چہرہ دیکھ کے ڈرتے ہو صاحبو

تم بھی عجیب لوگ ہو کانٹوں کی راہ سے

کیسے لہولہان گزرتے ہو صاحبو

نبی کا ذکر ہے یعنی درود لازم ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نبیؐ کا ذکر ہے یعنی درودﷺ لازم ہے

یہاں خلوص سے لپٹا وجود لازم ہے 

یہ کوئی عام وظیفہ نہیں خدا کی قسم

نماز پڑھتے ہوئے بھی درودﷺ لازم ہے

بنا کے سیدِ لولاکﷺ کہہ دیا رب نے

ہمارے بعد نبیﷺ کا وجود لازم ہے

یہ کیا ہوا کہ سب کا لہو سرد ہو گیا

 یہ کیا ہوا کہ سب کا لہو سرد ہو گیا

کس کا غلام آج ہر اک فرد ہو گیا

وہ شخص آئینہ تھا کہ میں اس کے سامنے 

آیا ہی تھا کہ رنگ مِرا زرد ہو گیا

غیروں سے کٹ کے یہ بڑا اعزاز ہے مِرا

میں اپنے کارواں کی اگر گرد ہو گیا

لاج رکھی ہے ہم نے یاری کی

 لاج رکھی ہے ہم نے یاری کی

اس ستمگر کی پردہ داری کی

فصل لوگوں نے بانٹ لی ساری

کھیت کی ہم نے آبیاری کی

رنج کچھ اور بڑھ گیا دل کا 

اس نے کچھ ایسے غمگساری کی

جنہیں انقلاب سے پیار تھا وہی انقلاب سے ڈر گئے

 نئی زندگی کی ہوا چلی تو کئی نقاب اتر گئے

جنہیں انقلاب سے پیار تھا وہی انقلاب سے ڈر گئے

مجھے رہبروں سے ہے یہ گلہ کہ انہیں شعور سفر نہ تھا

کبھی راستوں میں الجھ گئے کبھی منزلوں سے گزر گئے

تجھے مرگ نو کی تلاش ہے مگر ارتقا کا پتہ نہیں

کوئی ایک شکل جو مٹ گئی تو ہزار نقش ابھر گئے

Tuesday, 12 May 2026

گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا

 گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا

آج دھوئیں کے بادل پر میں بارش کو چٹھی لکھوں گا

اس زنداں کے کچھ قیدی ہی میری بات سمجھ پائیں گے

جب پتھر کی دیواروں پر مٹی سے مٹی لکھوں گا

مجھ جیسے کچھ دیوانے ہی زندہ دل ہوتے ہیں صاحب

میں اتنا کمزور نہیں جو پنکھا اور رسی لکھوں گا

تکمیل کائنات ہے میرے نبی کی ذات

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بحرِ تحیّرات ہے میرے نبیﷺ کی ذات

دکھ درد سے نجات ہے میرے نبیؐ کی ذات

جتنے بھی ان کی یاد میں لمحے گزر گئے

وہ دائمی حیات ہے میرے نبیؐ کی ذات

مل جائے گا سکوں تمہیں قلب و جگر کا یاں

تکمیلِ کائنات ہے میرے نبیؐ کی ذات

نغمۂ اسلام زندہ باد گایا جائے گا

 نغمۂ اسلام


نغمۂ اسلام زندہ باد گایا جائے گا

خوابِ غفلت سے مسلماں کو جگایا جائے گا

دیکھتی ہے خواب ہندو راج ہی کے کانگرس

خاک میں اس کے ارادوں کو ملایا جائے گا

سنگدل انگریز بھی سُن لے یہ گوشِ ہوش سے

راہ میں پتھر جو آئے گا ہٹایا جائے گا

عجیب شہر ستمگر ہے کیا کیا جائے

 عجیب شہر ستمگر ہے کیا کِیا جائے

لہو لہان کبوتر 🕊 ہے کیا کیا جائے

ٹھہر ٹھہر کے اسے پڑھ رہا ہوں میں لیکن

وہ ایک حرفِ مکرّر ہے کیا کیا جائے

بہت قریب سے مِلنے میں ڈر سا لگتا ہے

’’ہر آستین میں خنجر ہے کیا کیا جائے‘‘

دید جاناں جو عام ہو جائے

 دید جاناں جو عام ہو جائے

کارِ دنیا تمام ہو جائے

رُوٹھ جائے وہ صبح ہوتے ہی

اور منانے میں شام ہو جائے

میکدے میں نماز پڑھ لیں گے

کاش ساقی امام ہو جائے

کچھ یوں میں اپنے آپ سے کٹتا چلا گیا

 کچھ یُوں میں اپنے آپ سے کٹتا چلا گیا

بس خال و خد سے رہ گئے چہرہ چلا گیا

افسانہ میرے جہد کا اتنا سا تھا کہ میں

اندیشۂ یقین سے لڑتا چلا گیا

آیا نہیں پلٹ کے اُجالا کبھی یہاں

حالانکہ گھر سے کب کا اندھیرا چلا گیا

غزل بیمار ہوتی جا رہی ہے

 دلوں پر بار ہوتی جا رہی ہے

زباں تلوار ہوتی جا رہی ہے

ٹھہر جائے نہ نبضِ دل مِری اب

وفا لاچار ہوتی جا رہی ہے

زمیں کے مسئلوں کا حل تلاشو

زمیں آزار ہوتی جا رہی ہے

ارض و سما میں خدا ہی دیکھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ارض و سما میں خدا ہی دیکھا

ہر جا جلوہ تیرا ہی دیکھا

شاہانِ عالی کو بھی اکثر

تیرے در پر گدا ہی دیکھا

تیری کتابِ لاریب میں بھی

نورِ ہدایت رچا ہی دیکھا

Monday, 11 May 2026

یاد کشمیر کشمیر خطہ تیرا بالا تر از جہاں ہے

 یادِ کشمیر


کشمیر خطہ تیرا بالا تر از جہاں ہے

باغِ ارم کا نقشہ کھینچا ہوا یہاں ہے

چاروں طرف کھنچی ہے دیوارِ کوہ تیرے

آبِ رواں کا نقشہ ہر اک طرف رواں ہے

کب چاہتا ہے دریا جہلم یہاں سے گزرے

کشمیر حُسن اپنا کرتا جو تُو عیاں ہے

میں نے گناہ ایک بھی تنہا نہیں کیا

سارے جہاں کو میں نے اکٹھا نہیں کِیا

بس صبر کر لیا ہے، تماشہ نہیں کیا

دُنیا مجھے فریب تو دیتی رہی، مگر

میں نے کسی کے ساتھ بھی دھوکا نہیں کیا

اُس کو بھی میرے ساتھ عدالت میں لائیے

میں نے گُناہ ایک بھی تنہا نہیں کیا

کیا فائدہ اصرار سے ہوتے ہیں جو سر آپ

 کیا فائدہ اصرار سے ہوتے ہیں جو سر آپ

ہاں میں تو وفا کر کے دِکھا دوں گا مگر آپ

کچھ ایسی کشش ہے تِرے نقشِ کفِ پا میں

ہم بھُول بھی جاتے ہیں جھُک جاتا ہے سر آپ

چُوکا جو نشانہ تو خفا ہو گئے مجھ سے

خُود تو کبھی رکھتے نہیں تیروں کی خبر آپ

حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا

 حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا

آئینہ کیا عمر بھر کا دیکھنا کم پڑ گیا

آنکھ سے کیا میں تو اپنے دل سے باہر ہوگیا

رقص ہی ایسا تھا ہر اک دائرہ کم پڑ گیا

ان کہی باتوں سے ہی دل کے جہاں آباد ہیں

ورنہ اکثر آدمی نے جو کہا کم پڑ گیا

یاں ہنرور بھی خوب ملتے ہیں

 یاں ہنر ور بھی خوب ملتے ہیں

خار سے گل کے چاک سلتے ہیں

ہم تِرے ہمرکاب ہو نہ سکے

کارواں کے غبار ملتے ہیں

یوں تو تنہائیاں مقدر ہیں

بھیڑ اتنی کے شانے چھِلتے ہیں

آئے گی میری یاد میری زندگی کے بعد

 آئے گی میری یاد میری زندگی کے بعد

ہو گی نہ روشنی کبھی اس روشنی کے بعد

مجھ کو وفا بھی روئے گی میری کمی کے بعد

آتی ہے یاد آدمی کی آدمی کے بعد

وہ حال ہو گا بزمِ جہاں کا میرے بغیر

ہوتا ہے رنگ بزم کا جو برہمی کے بعد

سب سے ہنس کر ہاتھ ملانا سیکھ لیا

 سب سے ہنس کر ہاتھ ملانا سیکھ لیا 

جینا کیا سیکھا، مر جانا سیکھ لیا

دیواروں پر بستی کی اوقات کھلی 

بچوں نے تصویر بنانا سیکھ لیا

کالی پیلی تفسیروں کی زد پر ہوں 

خاموشی نے شور مچانا سیکھ لیا

دوستی کو معتبر میں نے کیا

 تکنیک


دوستی کو معتبر میں نے کیا

حُسن کو زیرِ نظر میں نے کیا

کس لیے بھیجا گیا میں دہر میں

جرم کیا اے کوزہ گر میں نے کیا؟

جو جہاں میں بے وفا مشہور ہے

اس کو اپنا چارہ گر میں نے کیا

Sunday, 10 May 2026

جھوٹ کی منڈی میں سچ لے کر آیا ہے

 جھوٹ کی منڈی میں سچ لے کر آیا ہے

سچ کہنا کس نے تجھ کو بہکایا ہے

رات گئے آہٹ سن کر کیوں دھڑکا ہے

اے میرے دل ایسا کیا یاد آیا ہے

سچا ہے تو ڈر کیسا ہے کھل کر بول

آئینے کو دیکھ کے کیوں شرمایا ہے

اے چارہ گر کل تو ہی مقصود ثنا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے چارہ گرِ کُل! تُو ہی مقصود ثنا ہے

تُو مالکِ ہستی ہے، مقدر کا لکھا ہے

تیرے ہی اشارے سے یہ طُوفان ہوا ہے

کیا بحر ہے کیا باد سبھی تیرے نشاں ہیں

تجھ جیسے حمید اور حفیظ کہاں ہیں


راہوں میں ہماری ہے تِرا نور مددگار

کیوں کر نہ کروں مدحت سلطان مدینہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کیوں کر نہ کروں مدحتِ سلطانِ مدینہ

جب پیش نظر ہوں مِرے فیضانِ مدینہ

تہذیب کا گہوارہ دبستانِ مدینہ

یہ خاکِ عرب ہے وہ مِری جانِ مدینہ

خوشبوئے محبت سے معطر ہے زمانہ

کس شان سے مہکا ہے گُلستانِ مدینہ

پھر دیکھنا منظر کیسے بدلتا ہے

 سنو گرمی بہت ہے

اے سی بھی ٹھیک کروایا

پھر بھی چل نہیں رہا

اچھا سنو

کیا تمہاری طرف آ جاؤں؟

دو دن سے سوئی نہیں

ہے عبث حسن کا غرور گھمنڈ

 ہے عبث حُسن کا غرُور گُھمنڈ

کس کا قائم رہا غرور گھمنڈ

خاک و خُوں میں مِلا دیا اس کو

جس کے سر پر چڑھا غرور گھمنڈ

خاکساری ہے شیوۂ انساں

نہیں ہرگز روا غرور گھمنڈ

وقت پھیلا گیا غبار تو پھر

 وقت پھیلا گیا غُبار تو پھر؟

تم بھی غم کا ہوئے شکار تو پھر

کثرتِ گُل سے شاخ ہی ٹُوٹے

بوجھ بن جائیں برگ و بار تو پھر

کیوں مسلتے ہو روندتے ہو پُھول

رُوٹھ جائے اگر بہار تو پھر

غم کو خوشیوں میں سمویا نہیں جاتا مجھ سے

 اپنے پندار کو کھویا نہیں جاتا مجھ سے

میں جو چاہوں بھی تو رویا نہیں جاتا مجھ سے

مبتلا ہو مرا ہمسایہ کسی غم میں اگر

جاگتا رہتا ہوں سویا نہیں جاتا مجھ سے

حادثوں میں بھی رہی ہے مرے ہونٹوں پہ ہنسی

غم کو خوشیوں میں سمویا نہیں جاتا مجھ سے

Saturday, 9 May 2026

تیرا شکار تجھی پر جھپٹ بھی سکتا ہے

 تیرا شکار تجھی پر جھپٹ بھی سکتا ہے

جو زخم کھا کے گیا ہے پلٹ بھی سکتا ہے   

ابھی بساط بچھی،۔ ابھی غرور نہ کر   

سنبھل کے چل کہ یہ پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے

وہ شخص جس کا تکلم تمہیں پسند نہیں

وہ شخص سینکڑوں لہجوں میں بٹ بھی سکتا ہے

خالق کل نے بھی کی ثنائے نبی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خالقِ کُل نے بھی کی ثنائے نبیﷺ

رحمتِ دو جہاں بن کے آئے نبیﷺ

آپﷺ کی زیست قرآن کی تفسیر ہے

معجزے کیوں نہ ہم کو دکھائے نبیﷺ

اپنی اپنی جگہ سب نے تعظیم دی

تھے شجر اور حجر آشنائے نبیﷺ

اگر میں کھڑا ہوتا ہوں تو چھت سے ٹکراتا ہوں

 اگر میں کھڑا ہوتا ہوں

تو چھت سے ٹکراتا ہوں

اگر سیدھا ہوتا ہوں

تو دیوار سامنے آ جاتی ہے

کسی صورت میں نے یہاں زندگی گزاری ہے

یہیں، محدود ہو کر

چل دئیے بزم سے جانے کا اشارہ جو ہوا

 چل دئیے بزم سے جانے کا اِشارہ جو ہوا

ہم سے ٹالا نہ گیا،۔ حکم تمہارا جو ہوا

تم نہ سمجھو گے جدائی کی اذیت کو ابھی

تم کو اغیار کی بانہوں کا سہارا جو ہوا

عشق میں حرفِ مُکرر کا میں قائل تو نہیں

تم ہی سے ہو گا یہ بالفرض دوبارہ جو ہوا

جینے کا مزہ ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب

 جینے کا مزا ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب

لے جائے کہاں دیکھیے صحرا کو جنوں اب

ہو جائے نہ یہ شہر بیاباں کبھی اک دن

جلوہ نہ تِرے حسن کا باقی نہ فسوں اب

شکوہ ہے غم دل کا گِلہ دہر کا تھوڑا

گزری جو شب ہجر میں کیسے نہ کہوں اب

Friday, 8 May 2026

کیسی بے بس تنہائی نے گھیر لیا ہے راتوں کو

 کیسی بے بس تنہائی نے گھیر لیا ہے راتوں کو

اپنی قسمت کون کہ جس سے کہیے دل کی باتوں کو

گرتی بلڈنگ، بہتی لاشیں، اکھڑے پیڑ، پرندے بے گھر

کون ہے جو مطلوب نہیں ان شِدت کی برساتوں کو

شاید یہ اک بات ہی میرے حق میں فالِ نیک ہوئی

تجھ سے مِل کر بھُول گیا ہوں سارے رشتے ناتوں کو

سر پہ سرکار کی خاک کفِ پا رکھی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سر پہ سرکارؐ کی خاک کفِ پا رکھی ہے

ایسا لگتا ہے کہ رحمت کی ردا رکھی ہے

شرم سے میں نے نظر اپنی جُھکا رکھی

ہے سامنے ان کے مری فرد خطا رکھی ہے

تشنگی سرِ محشر کا ہمیں خوف نہیں

ہم نے لو ساقئ کوثر سے لگا رکھی ہے

خطا کو کب اہل کرم دیکھتے ہیں

 خطا کو کب اہلِ کرم دیکھتے ہیں

ہنرمند عیبوں کو کم دیکھتے ہیں

جو اہلِ ہُنر ہیں، ہنر دیکھتے ہیں

نہ دولت نہ جاہ و حشم دیکھتے ہیں

کھنچی آج تیغِ دو دم دیکھتے ہیں

ہے سر کس کا ہوتا قلم دیکھتے ہیں

شیشۂ ساعت کا غبار ہمیں شکست ہو گئی

 شیشۂ ساعت کا غبار


میں زندہ تھا

مگر میں تیرے سرخ نیلگوں، سفید بلبلے میں قید تھا

ہوا وسیع تھی، مگر حدود سے رہا نہ تھی

نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم

تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم

مگر مِری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے

دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں

 دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں

اس کو کیا معلوم زمیں پر چڑھے ہیں تیر کمانوں میں

پھول توڑ کے لوگ لے گئے اونچے بڑے مکانوں میں

اب ہم کانٹے سجا کے رکھیں مٹی کے گلدانوں میں

بے در و بام ٹھکانا جس میں دھول دھوپ سناٹا غم

وہی ہے مجھ وحشی کے گھر میں جو کچھ ہے ویرانوں میں

Thursday, 7 May 2026

موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس

 موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس

ہاتھ رکھے ہوئے ہے اپنا گریباں کے پاس

عشق رکھتا ہے حسینوں سے مجھے فکر یہ ہے

نام کو عقل نہیں ہے دل ناداں کے پاس

اپنے جتنے ہیں وہ بیگانہ ہوئے عسرت میں

کوئی ملنے نہیں آتا ہے پریشاں کے پاس

جو لب پر مرے یا نبی یا نبی ہے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جو لب پر مِرے یا نبیؐ یا نبیﷺ ہے

اسی سے تو ہر بات میری بنی ہے

میں کیوں دربدر جا کے دامن پساروں

نبیﷺ مل گئے اب مجھے کیا کمی ہے

انہیں غیب کا علم رب نے ہے بخشا

نبیﷺ پر عیاں ہر خفی و جلی ہے

زخم مہکے تو محبت کا مزا یاد آیا

 زخم مہکے تو محبت کا مزا یاد آیا

بھُولنا چاہا تو وہ حد سے سِوا یاد آیا

پھر خیالوں کی ہری شاخ پہ کلیاں مہکیں

پھر وہی شوخ،۔ وہی جانِ وفا یاد آیا

میں نے آئینہ اُٹھایا تھا کہ سب چیخ اُٹھے

عکس تو عکس ہی تھے لوگوں کو کیا یاد آیا

بہت نڈھال بہت بد حواس لگتی ہے

 بہت نڈھال بہت بد حواس لگتی ہے

یہ بھیڑ شہر کی کتنی اداس لگتی ہے

تلاش آب میں مقصد نہ فوت ہو جائے

سفر ہو سخت تو رک رک کے پیاس لگتی ہے

وہ جس سے ہم نے ہمیشہ ہی دوریاں رکھیں

اب اس کی بات میں مجھ کو مٹھاس لگتی ہے

ہے بہار زندگانی چند روز

 ہے بہار زندگانی چند روز

رونقِ عہدِ جوانی چند روز

رنج و غم میں زندگی ساری کٹی

پر نہ دیکھی شادمانی چند روز

جب کیے ہم پر کیے جور و ستم

کہ نہ تم نے مہربانی چند روز

کب مرا درد ہی دوا نہ ہوا

 کام کب رک کے خود روا نہ ہوا

کب مِرا درد ہی دوا نہ ہوا

اون سے سے میرا کوئی بھلا

یہ بھی سچ پوچھو تو بُرا نہ ہوا

تھا عیاں جس کی بات بات سے رحم

ظلم میں روکشِ زمانہ ہوا

اب دیوار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

 عشق بہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

ہجر کی نار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

اک تیری تصویر لگائی ہے گھر میں

اب دیوار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

اس کے سارے مہرے بھی تو میرے تھے

مجھ کو ہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

Wednesday, 6 May 2026

رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا

وہ اک قدم پہ چھوٹا یہ دو قدم پہ چھوٹا

رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا

کتنا اداس ہو کر بیٹھا ہوا ہے کوئی

اتنی تو بات طے ہے ساتھی کسی کا چھوٹا

تڑپی ہے آسماں پر جو اس طرح سے بجلی

لگتا ہے اس جہاں میں پھر دل کسی کا ٹوٹا

عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک

 عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک

ایک ہی رسم ملی کعبہ سے بُت خانے تک

وادئ شب میں اُجالوں کا گزر ہو کیسے

دل جلائے رہو پیغامِ سحر آنے تک

یہ بھی دیکھا ہے کہ ساقی سے ملا جام مگر

ہونٹ ترسے ہوئے پہنچے نہیں پیمانے تک

اے گنبد خضرا ہے تری یاد بھی کیا یاد

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے گُنبدِ خضرا ہے تِری یاد بھی کیا یاد

جب یاد تِری آئی تو کچھ بھی نہ رہا یاد

سب کھنچ کے سِمٹ جائیں گے دامانِ نبیؐ میں

آقاﷺ کے غلاموں کو ہے آقاﷺ کا پتا یاد

تُو چاہے تو بخشش کے لیے یہ بھی بہت ہے

دل میں تِری پیارے کی ہے اے میرے خدا یاد

دل میں چھپائی دوسری عورت

 نظم "دل میں چُھپائی دوسری عورت" سے اقتباس


عورت ظالم ہے

وہ ظلم کرتی ہے خود کے ساتھ

بظاہر انجان لیکن

غم کا پہاڑا یاد کرتے کرتے ہر روز سسکتی ہے

اور تمام عمر نہیں بھول پاتی

خط کی ترجمانی ہے یہ غزل سناؤں گا

 خط کی ترجمانی ہے، یہ غزل سناؤں گا

آخری نشانی ہے، یہ غزل سناؤں گا

شاعروں نے بولا ہے، تازگی اذیت ہے

یہ غزل پرانی ہے، یہ غزل سناؤں گا

کیوں تمہارے کہنے پر وہ غزل سناؤں میں

تم نے میری مانی ہے، یہ غزل سناؤں گا

سر سے دوپٹے اٹھائے اور گلے میں ڈال کر

باپ کی نصیحت


 سر سے دوپٹے اُٹھائے اور گلے میں ڈال کر

باپ کی پگڑی گرانے کو چلی ہیں بیٹیاں

محرم و نامحرمی کی بندشیں سب توڑ کر

اجنبی محفل سجانے کو چلی ہیں بیٹیاں

عصمتیں لٹ جائیں گی پھر روئیں گی چلائیں گی

ہاتھ کچھ نہ آئے گا پھر وہ فقط پچھتائیں گی

فراق یار میں دل یا جگر کو دیکھتے ہیں

 فراقِ یار میں دل یا جگر کو دیکھتے ہیں

جدھر لگی ہے ہمیں چوٹ اُدھر کو دیکھتے ہیں

جفا کا شوق ہے کہتے ہیں ناز کی بھی ہیں

وہ پہلے تیغ کو اور پھر کمر کو دیکھتے ہیں

کُھلا ہے منہ جو لحد میں کُھلا ہی رہنے دو

جگہ نئی ہے مُسافر ہیں، گھر کو دیکھتے ہیں

جاگ جا اے مسلماں سویرا ہوا

 جاگ جا اے مُسلماں سویرا ہُوا

دُور سارے جہاں سے اندھیرا ہوا

صبح ہونے لگی رات ڈھلنے لگی 

بادِ مسحور عالم میں چلنے لگی

قومِ خوابیدہ کروٹ بدلنے لگی 

لے کے انگڑائیاں آنکھ ملنے لگی

طیبہ کی حسیں شام و سحر مانگ رہے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


طیبہ کی حسیں شام و سحر مانگ رہے ہیں

رو رو کے دعاؤں کا اثر مانگ رہے ہیں

کچھ اور طلب کرنے کی جرأت ہی کہاں ہے

آقاﷺ سے فقط بوسۂ در مانگ رہے ہیں

ہر سال مدینے میں حضوری کی دعائیں

ہم دیکھ کے اللہ کا گھر مانگ رہے ہیں

رنگ چہرے پہ گھلا ہو جیسے

 رنگ چہرے پہ گُھلا ہو جیسے

آئینہ دیکھ رہا ہو جیسے

یاد ہے اس سے بچھڑنے کا سماں

شاخ سے پھُول جدا ہو جیسے

ہر قدم سہتے ہیں لمحوں کا عذاب

زندگی کوئی خطا ہو جیسے

Tuesday, 5 May 2026

گو غم کے کانٹوں سے بھری ہے

 گو غم کے کانٹوں سے بھری ہے

شاخِ تمنّا ہے تو ہری ہے

گھڑ لیے لوگوں نے افسانے

ہم نے تو بس آہ بھری ہے

کیا ہے وفا، انجامِ وفا کیا

درد سری ہے، دربدری ہے

بشر دشمن بشر کا ہو گیا ہے

 بشر دُشمن بشر کا ہو گیا ہے

خُداوندا! یہ کیسا ماجرا ہے

خبر شہرِ سبا سے کون لائے

کہ اب رُوٹھی ہوئی بادِ صبا ہے

نہیں گر دیکھتا کوئی تو کیا غم

کہ جس کو دیکھنا تھا دیکھتا ہے

قید تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں

 قیدِ تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں

اک غزل لکھتا ہوں اور ایک مٹا دیتا ہوں

شکوہ کرتا ہے غمِ زیست کا کوئی تو اسے

🍷بادۂ تلخیِٔ ایام پلا دیتا ہوں🍷

ہے دوائے غمِ دل صورتِ جاناں کی دید

غم جو بڑھتا ہے، دوا بھی میں بڑھا دیتا ہوں

کوئی ریت رقص میں مست تھی کہ ہوا چلی تھی سرور سے

 کوئی ریت رقص میں مست تھی کہ ہوا چلی تھی سرُور سے

تِرے زاویے پہ ہی گُھومتا ہوا آ گیا کوئی دُور سے

تجھے اتنے پاس سے دیکھ لے کوئی اہل ہے نہ یہ سہل ہے

کبھی جسم گُھلتا ہے آگ میں، کبھی آنکھ جلتی ہے نُور سے

مجھے کوئی فکرِ فنا بھی کیا، میں تو جانتا ہوں بقا ہے کیا

تجھے ڈُھونڈنے سے نہیں ملا میں نے پا لیا ہے شعُور سے

مجھ کو کمزور نہ سمجھا جائے

نہیں پروا کوئی زمانے کی

کون کیا سوچتا ہے کس کے لیے

مقصد زیست کامیابی ہے

وقت کیا چاہتا ہے کس کے لیے

صنف نازک ہوں یوں تو کہنے کو

حوصلے ہیں چٹان کے مانند

ہوئی ہے اگر ابتدا مختلف

 ہوئی ہے اگر ابتداء مختلف

نہ کیوں ہو مِری انتہا مختلف

کئی راستے تھے مرے سامنے

چُنا میں نے اک راستہ مختلف

میں سمتِ مخالف سے آیا جہاں

بنانی تھی مجھ کو جگہ مختلف

پیش پا افتادگی میں کو بہ کو کیا دیکھتے

 پیشِ پا اُفتادگی میں کُو بہ کُو کیا دیکھتے

کون تھا کس سمت محوِ جستجو کیا دیکھتے

آمد آئینہ رو سے یہ سبھی مے خوارِ نو

گر رہے ہیں ہاتھ سے سب کے سبو‘ کیا دیکھتے

ہو رہا ہے کیا ہجوم بے طرح سے ارد گرد

جو بھی تھے شیریں سخن کے روبرو کیا دیکھتے

Monday, 4 May 2026

حسن کیا کیا مسکرایا عشق کے انداز پر

 حُسن کیا کیا مُسکرایا عشق کے انداز پر

نغمۂ غم جب بھی چھیڑا ہم نے دل کے ساز پر

خار زار زندگی کو بھی بنا دیتا ہے خُلد

کیوں نہ ہم ایمان لائیں عشق کے اعجاز پر

تیری اپنی ذات میں مضمر ہے حُسن لم یزل

کس لیے سجدے پہ سجدہ جلوہ گاہ ناز پر

کچھ گیت جو تو نے لکھے ہیں

 سنتوش آنند جی کے لیے ایک نظم


دور کہیں ویرانے میں

اک کچے گھر کی کھڑکی کھلتی ہے

اور شام ڈھلے سہمے پیڑوں کو وہ ایک گیت سناتی ہے

جو تو نے لکھا ہے

اک بوڑھا جس نے راتوں میں چاند کی ساری شکلیں دیکھی ہیں

والضحیٰ تفسیر روئے مصطفیٰ

(فارسی) عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

نذرِ بارگاہِ رسالتﷺ


والضحیٰ تفسیر رُوئے مصطفیٰﷺ

ہست واللیل عکسِ مُوئے مصطفیٰﷺ

کرد روشن تیرہ دانِ قلب 💓را

شمعِ داغِ عشق رُوئے مصطفیٰﷺ

آستانِ اُوست سجدہ گاہِ خلق

کعبہ کعبہ است کُوئے مصطفیٰﷺ

یہ زلیخا مزاج روح مری

 یہ زلیخا مزاج رُوح مِری

وقتِ دیدار جھُومتی ہو گی

آج تہمت نئی لگی مجھ پر

آج حُجرے میں روشنی ہو گی

دل طوافِ حبیب میں گُم ہے

رُوح سجدے میں گر پڑی ہو گی

میری غزلوں میں جو روانی ہے

 میری غزلوں میں جو روانی ہے

شرحِ غم ہائے زندگانی ہے

جو ملا ہے مجھے شعورِ سخن

اک ستمگر کی مہربانی ہے

تم نہیں، تو نہیں اور آپ نہیں

اک مخاطب پسِ معانی ہے

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

 کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے

ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے

رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

Sunday, 3 May 2026

قد بڑا ہوتا نہیں ہے طرۂ دستار سے

 قد بڑا ہوتا نہیں ہے طرۂ دستار سے

آدمی ہوتا ہے اُونچا عظمتِ کردار سے

اس کے جاتے ہی مِرے گھر پر اُداسی چھا گئی

دیر تک رویا لپٹ کر میں در و دیوار سے

رازِ سر بستہ سے رفتہ رفتہ پردہ اُٹھ گیا

کُھلتے کُھلتے کُھل گیا دل کا بھرم اشعار سے

ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے

 ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے 

بہار چہرے پہ دل میں خزاں کا دفتر ہے 

نہ ہمسفر نا کوئی نقش پا نا رہبر ہے 

جنوں کی راہ میں کچھ ہے تو جان کا ڈر ہے 

ہر ایک لمحہ ہمیں ڈر ہے ٹوٹ جانے کا 

یہ زندگی ہے کہ بوسیدہ کانچ کا گھر ہے 

تو حسن کا پیکر ہے تو رعنائی کی تصویر اے وادئ کشمیر

 اے وادئ کشمیر! اے وادئ کشمیر


تُو حُسن کا پیکر ہے، تُو رعنائی کی تصویر

مخمور بہاروں کے حسین خوابوں کی تعبیر

رخشاں ہیں تیرے ماتھے پہ آنادی کی تنویر

تو جلوہ گہ نور جہان، قلب جہانگیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر

تکتے ہیں مہر و ماہ شہ دو جہاں کا رخ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پائیں ضیا ادھر ہو اگر جان جاں کا رُخ

تکتے ہیں مہر و ماہ شہ دو جہاں کا رخ

بستر کی سلوٹیں نہ گئیں اتنی دیر میں

لوٹ آئے کر کے میرے نبیؐ لامکاں کا رخ

خوش ہوں بہت نصیب کی کلیاں کھلی ہیں آج

دل نے کیا ہے آج تِرے گلستاں کا رخ

کالی لمبی راتیں چاند اور تیری باتیں

 کالی لمبی راتیں

چاند اور تیری باتیں

کِواڑوں سے جھانکتی یادیں

گہری اُلجھی سوچیں

سرہانوں کی سرگوشیاں

اور خاموش سِسکیاں

عہد فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں

 کہتے ہیں، اپنا حال کسی سے کہوں نہیں

یعنی کہ صرف درد سہوں، اُف کروں نہیں

ہے ان دنوں میں پیشِ نظر رقص کے لیے

وہ ساز جس میں کوئی بھی سوزِ دروں نہیں

تصویر توڑ دی تو تصوّر میں آ گئے

عہدِ فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں

اپنے سائے کو بھی اسیر بنا

 اپنے سائے کو بھی اسیر بنا

بہتے پانی پہ اک لکیر بنا

صرف خیرات حرف و صوت کی دے

شہر فن کا مجھے امیر بنا

شوخ تتلی ہے گر ہدف پہ تِرے

گُل کے ریشوں سے ایک تیر بنا

دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے

 دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے

آنسو تھم جائیں تو حالت بھی سنبھالی جائے

جان لیوا ہے شبِ غم کی درازی اے دوست

آمدِ صبح کی اب راہ نکالی جائے

آ گئے محفلِ رِنداں میں تو ناصح لیکن

ان سے کہہ دے کوئی دستار سنبھالی جائے

Saturday, 2 May 2026

وہ نظر آیا فلک پر عصر حاضر کا ہلال

 سیاست


وہ نظر آیا فلک پر عصر حاضر کا ہلال

وہ چمک اٹھا خوشی سے چہرۂ حُزن و ملال

اک طرف طبقات میں پیدا ہے بیداری کی موج

دیدنی ہے دوسری جانب سیاست کا کمال

اک طرف جمہور کی طاقت کے چرچے ہیں یہاں

دوسری جانب حکومت کر رہی ہے قیل و قال

ہم کہ ناچار اور کیا کرتے

 ہم کہ ناچار اور کیا کرتے

مان لی ہار اور کیا کرتے

اپنی ہی بات پر مصر تھا وہ

اس سے تکرار اور کیا کرتے

پھوڑنا پڑ گئی جبیں اپنی

پیشِ دیوار اور کیا کرتے

ہمیں پانی ڈبوتا جا رہا ہے

 ہمیں پانی ڈبوتا جا رہا ہے

یہ گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے

عجب موسم ہے یہ انہونیوں کا

نہ ہونا تھا جو، ہوتا جا رہا ہے

غضب ہے جو ستم ڈھائے ہے دل پر

وہی دل میں سموتا جا رہا ہے

جشن آمد رسول اللہ ہی اللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جشن آمد رسولﷺ اللہ ہی اللہ

بی بی آمنہؑ کے پھول اللہ ہی اللہ


جب کہ سرکارﷺ تشریف لانے لگے

حُور و غلماں بھی خوشیاں منانے لگے

ہر طرف نُور کی روشنی چھا گئی

مصطفیٰﷺ کیا ملے زندگی مل گئی

غم ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے

 غمِ ہجراں کی ماری ڈھونڈتی ہے

ہوا خُوشبو تمہاری ڈھونڈتی ہے

ڈگر پہ چلنے والی زندگی بھی

کبھی بے اختیاری ڈھونڈتی ہے

یکایک ہو گیا ہے خوف رُخصت

کہ اب ہرنی شکاری ڈھونڈتی ہے

کمتر نہیں مقام مرا آفتاب سے

 کم تر نہیں مقام مِرا آفتاب سے

"آتی ہے یہ صدا لحدِ بُو ترابؑ سے"

ہر گھونٹ میں ہو جلوۂ ساقی کا جبکہ عکس

توبہ کریں گے رِند نہ ایسی شراب سے

وہ ظرفِ زُہد کیا ہوا نازاں تھے جس پہ آپ

پوچھے کوئی یہ زاہدِ عزت مآب سے

مدت سے آسمان کو دیکھا نہیں حضور

 مدت سے آسمان کو دیکھا نہیں حضور

کوئی بھی حال پوچھنے آیا نہیں حضور

تعلیم مجھ کو ساری ہی معکوس دی گئی

لیکن میں ایک لفظ بھی بولا نہیں حضور

پتھر بنا دیا ہے مجھے ظلم و جور نے

میں نے خدا کے بارے میں سوچا نہیں حضور

Friday, 1 May 2026

بچھڑا ہر ایک فرد بھرے خاندان کا

 بچھڑا ہر ایک فرد بھرے خاندان کا

یہ مجھ کو ٭شاپ لگ گیا کس بے زبان کا

قدموں تلے تھے جتنے سمندر سرک گئے

اب کیا کروں گا دیکھ کے منہ بادبان کا

میرے وجود کے کوئی معنی نہیں رہے

تیکھا سا ایک تیر ہوں ٹوٹی کمان کا

خیال زلف عنبر بار میں آنسو نہاتے ہیں

 خیال زلف عنبر بار میں آنسو نہاتے ہیں

اسی باعث ہماری آنکھ عنبر بار گریہ ہے

اٹھا سکتا ہوں ساتون آسمان کا بوجھ میں سر پر

مگر مجھ سے نہیں اٹھتا ہے یہ جو بار گریہ ہے

وطن میں آچ بس آو فغاں کی فصل کٹتی ہے

کلیسا ہو کہ مسجد ہو وہ لالہ زار گریہ ہے

ہماری آرزو تم ہو ہمارا مدعا تم ہو

 پری تم ہو مری جاں حور تم ہو مہ لقا تم ہو

جہاں میں جتنے ہیں معشوق ان سب سے جدا تم ہو

سراپا ناز ہو لاکھوں میں یکتا دل ربا تم ہو

میں حیراں ہوں سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا تم ہو

خدا نے اپنے ہاتھوں سے تمہیں ایسا بنایا ہے

خدا کی شان بھی کہتی ہے ہاں شان خدا تم ہو

تری محفل سے اٹھ کر آ گئے ہیں

 زمانہ چھوڑ کر گھر آ گئے ہیں

تِری محفل سے اٹھ کر آ گئے ہیں

حقیقت جان لی ہے تیری جب سے

تِرے خوابوں سے باہر آ گئے ہیں

کسی نے بھیجا ہے پیغام مجھ کو

مِری چھت پر کبوتر آ گئے ہیں

بلاوے بارہا آئے ہیں

 بُلاوے

بارہا آئے ہیں

آوازوں کے ساحل سے

مگر میں

یخ بستہ کشتی کی طرح

گُم سُم پڑا ہوں

اجنبی راہگزر سوچتی ہے کوئی دروازہ کھلے

 اجنبی راہگزر سوچتی ہے

کوئی دروازہ کھلے

ہر طرف درد کے لمبے سائے

راستے پھیل گئے دور گئے

دھڑکنیں تیز ہوئیں اور بھی تیز


اجنبی راہگزر سوچتی ہے

Thursday, 30 April 2026

عاشق خستہ حال اٹھ حسن سے رسم و راہ کر

 عاشقِ خستہ حال اُٹھ حُسن سے رسم و راہ کر

جیسے بھی تجھ سے بن پڑے یار سے اب نباہ کر

❤میرا خزانۂ وفا لُوٹ لیا رقیب نے❤

سارے جہاں کو چھوڑ کر اس کی طرف نگاہ کر

پردے ہٹا کے آج وہ خوب ہنسے رقیب سے

تُو بھی ذرا سنبھل ہی جا یار کے دل میں راہ کر

درست ہے کہ مرا حال اب زبوں بھی نہیں

 درست ہے کہ مِرا حال اب زبوں بھی نہیں

مقامِ سجدہ کہ یہ جام سر نگوں بھی نہیں

نہیں کہ شورشِ بزمِ طرب فزوں بھی نہیں

دلیلِ شورشِ جاں اک چراغ خوں بھی نہیں

حدیثِ شوق ابھی مختصر ہے چپ رہیے

ابھی بہار کا کیا غم ابھی جنوں بھی نہیں

خواب کی رات سے نکل آئی

 خواب کی رات سے نکل آئی

اپنے جذبات سے نکل آئی

وہ ملاقات جو تصوّر تھی

اس ملاقات سے نکل آئی

میرے بس سے نکل گئے حالات

میں بھی حالات سے نکل آئی

جو مرا ہمنوا نہیں ہوتا

  جو مِرا ہمنوا نہیں ہوتا

وہ تِرے شہر کا نہیں ہوتا

شاخ پر ہیں ہرے بھرے پتّے

پھُول لیکن ہرا نہیں ہوتا

آج بھی آہنی جنُوں کا حق

پتھروں سے ادا نہیں ہوتا

آپ سے مل کے ہمیشہ ہی خوشی ہوتی ہے

 آپ سے مل کے ہمیشہ ہی خوشی ہوتی ہے

مِرے ہر زخم کے ٹیسوں میں کمی ہوتی ہے 

آپ کہتے تھے میں آسودہ ہوں اپنے گھر میں

پھر یہ کیوں آپ کی آنکھوں میں نمی ہوتی ہے

اب مِرے ہجر کو اوقات کے خانے میں نہ رکھ

ایک لمحہ بھی یہاں ایک صدی ہوتی ہے

دل میں تو ملاقات کی خواہش بھی بہت ہے

 دل میں تو ملاقات کی خواہش بھی بہت ہے

پر راہ بہت دور ہے، بارش بھی بہت ہے

دیکھو تو سہی خواہ اُچٹتی سی نظر سے

میرے لیے اتنی سی نوازش بھی بہت ہے

تُو نے تو کہا تھا کہ؛ نمائش نہیں اچھی

اک داغ دکھایا، یہ نمائش بھی بہت ہے

اس ایک در کو بھی دیوار کر کے آیا ہوں

  اس ایک در کو بھی دیوار کر کے آیا ہوں

میں اپنے آپ سے انکار کر کے آیا ہوں

مجھے خبر ہے کہ یہ پیاس مار ڈالے گی

مگر میں آب کو دُشوار کر کے آیا ہوں

بچا بچا کے رکھا تھا جسے زمانے سے

وہ گُنبد آج میں مسمار کر کے آیا ہوں

Wednesday, 29 April 2026

خواب دیکھا ہے نہ آنکھوں میں جنوں دیکھا ہے

  خواب دیکھا ہے نہ آنکھوں میں جنوں دیکھا ہے

میری وحشت نے فقط حال زبوں دیکھا ہے

تم نے دیکھی ہی نہیں گاؤں کی پُر شور فضا

تم نے بس شہر کی گلیوں کا سکوں دیکھا ہے

یہ بتا آنکھ میں حیرت اُتر آئی کیسے؟

یہ نہ سمجھا کہ مجھے پیار سے کیوں دیکھا ہے

سنا ہے قندوز میں بچے مرے ہیں

 سُنا ہے قُندوز میں بچے مرے ہیں

مجھے سری دیوی کا غم ہے

میں اسٹیفن پہ آنسو بہا رہا ہوں

دونوں کو جنت لے جانا چاہ رہا ہوں

خونِ مُسلم بہت ارزاں ہے

تم کیوں غمگین ہو

ایسے تعمیر اٹھا دی میں نے

 ایسے تعمیر اُٹھا دی میں نے

پہلی دیوار گِرا دی میں نے

مجھ سے پُوچھا گیا میرا مسلک

تیری تصویر بنا دی میں نے

کوئی دیکھے نہ مِرا نظارہ

ایک چِلمن سی گِرا دی میں نے

چھو نہیں پاتے بڑھا کر ہاتھ اس کو

 چھو نہیں پاتے بڑھا کر ہاتھ اس کو

مانگ لیں گے ہم اٹھا کر ہاتھ اس کو

ہم گلے ملتے تو جا پاتا نہیں وہ

کر دیا رخصت ہلا کر ہاتھ اس کو

ساتھ کی عادت نہیں وہ مر نہ جائے

چھوڑ دو تم بھی ملا کر ہاتھ اس کو

اس قدر تلخ نہ ہو خام خیالی نہ سمجھ

 اس قدر تلخ نہ ہو خام خیالی نہ سمجھ

ظلِ سبحانی مِرے طنز کو گالی نہ سمجھ

ہو بھی سکتا ہے کوئی قرض چُکانے والا

در پہ آیا ہوا ہر شخص سوالی نہ سمجھ

شدتِ اشکِ تپاں کو نظر انداز نہ کر

چشم خونناب کو چائے کی پیالی نہ سمجھ

Tuesday, 28 April 2026

مہر و اخلاص کا مقتل ہے جہاں بھی یارو

 مہر و اخلاص کا مقتل ہے جہاں بھی یارو

ہے وہیں قافلۂ عصرِ رواں بھی یارو

قریۂ جاں میں لگی آگ تماشا دیکھیں

پر اسی قریے میں ہے اپنا مکاں بھی یارو

بیعتِ پیرِ مغاں ہم بھی کریں گے اک دن

ہے کوئی جام پئے تشناں لباں بھی یارو

جیسے بھی بچ رہی تھی بچا لی چلے گئے

 جیسے بھی بچ رہی تھی بچا لی، چلے گئے 

دستار کو اٹھایا،۔ سنبھالی، چلے گئے 

دن تھے اہم بہت کہ نمو پا رہا تھا میں 

کِن موسموں میں باغ کے مالی چلے گئے

چہرہ تھا نیند میں بھی عجب روشنی بھرا

سو ہم بھی چھُو کے کان کی بالی، چلے گئے

شکستہ پائیاں ہیں جان و دل بھی چور ہیں ساقی

 شکستہ پائیاں ہیں جان و دل بھی چور ہیں ساقی

حمیت کے کلیجے میں بڑے ناسور ہیں ساقی

ادھر غیرت کی خشکی ہے نہ گولر ہے نہ بیری ہے

مگر جس سمت چمچے ہیں ادھر انگور ہیں ساقی

تقرب ہائے افسر ہے نہ عیش مرغ و ماہی ہے

ابھی دفتر کے آنے پر بھی ہم مجبور ہیں ساقی

ہنسایا گر نہیں جاتا رلایا بھی نہیں جاتا

 ہنسایا گر نہیں جاتا، رُلایا بھی نہیں جاتا

لِکھا ہر شعر محفل میں سُنایا بھی نہیں جاتا

محبت گر نہیں مجھ سے خُدارا چھوڑ دو لیکن

محبت میں یوں نظروں سے گِرایا بھی نہیں جاتا

مِرے چہرے کی وِیرانی کو پڑھنے کا ہُنر سِیکھو

کہ مجھ سے بارہا اب دل دِکھایا بھی نہیں جاتا

مجھے آنکھوں کی یہ بارش کبھی اچھی نہیں لگتی

  ہجر زدہ آنکھیں


محبت میں خوشی میں یہ

ہمیں اکثر رلاتی ہیں

کبھی یہ ہجر میں آنکھوں سے اک دریا بہاتی ہیں

غموں میں یہ کبھی کالی

گھٹائیں ساتھ لاتی ہے

کسی کے عشق کِسی کے گمان میں رہ کر

 کسی کے عشق کِسی کے گمان میں رہ کر

زمیں کو بھول گیا آسمان میں رہ کر

ابھی ہے وقت کے ہم اپنا فیصلہ کر لیں

بہت خسارے کیے درمیان میں رہ کر

کے ہم وہ تیر ہیں مقصد سے ہٹ نہیں سکتے

نشانہ سادھتے ہیں ہم کمان میں رہ کر

وہ میرا ہو کے مری دسترس سے باہر ہے

 وہ میرا ہو کے مِری دسترس سے باہر ہے

مجھی میں رہتا ہے اور میرے بس سے باہر ہے

وہ نُور ہے تو نہایا نہیں بدن اس میں

وہ حرف ہے تو ابھی دسترس سے باہر ہے

میں ڈھونڈتا ہوں جسے اور ہے وہ آوازہ

وہ اک صدا جو بساطِ جرس سے باہر ہے

کوئی کرن نہ کرن کا کہیں نشاں ہے میاں

 کوئی کِرن نہ کِرن کا کہیں نشاں ہے میاں

یہ روشنی ہے تو پھر تیرگی کہاں ہے میاں

نمازیوں کو بتاؤ،۔ نمازیوں سے کہو

یہ مسجدوں کی نہیں دشت کی اذاں ہے میاں

ہمارے عہد کی راتیں ہیں چاندنی سے تہی

ہمارے عہد کا سُورج دُھواں دُھواں ہے میاں

Monday, 27 April 2026

دیکھے نہ فقیری کو کوئی شک سے ہماری

 دیکھے نہ فقیری کو کوئی شک سے ہماری

دیوار میں در بنتا ہے  دستک سے ہماری

بازار میں بیٹھے ہیں لیے ٹوٹا ہوا دل

اب بحث تو بنتی نہیں گاہک سے ہماری

ہم خاک نشینوں کی سمجھ میں نہیں آتا

اس شہر کو کیا ملتا ہے چشمک سے ہماری

فلک پر اک ردائے شام رکھ کر آ گیا ہوں

 فلک پر اک ردائے شام رکھ کر آ گیا ہوں

ستاروں کو سحر کے نام رکھ کر آ گیا ہوں

میں کیا اٹھا ہوں محفل سے کہ اب کے روئے محفل

خموشی سے ڈھکا کہرام رکھ کر آ گیا ہوں

اور اب چاہو تو ٹھکرا دو مِری یہ بھی جسارت

تمہارے در سے کوئی کام رکھ کر آ گیا ہوں

ٹوٹے ہوئے دلوں کی اجازت نہیں ملی

 ٹُوٹے ہوئے دِلوں کی اِجازت نہیں مِلی

ہم کو بڑے گھروں کی محبت نہیں ملی

آسائشیں تو دشت کی ساری ملیں مجھے

آوارگی میں قیس کی وحشت نہیں ملی

کیسے تجھے بتاتی کہاں رہ گئی تھی میں

اک لمحہ تیری یاد سے فُرصت نہیں ملی

تیری آنکھوں میں جھلملاؤں کہیں

 تیری آنکھوں میں جھلملاؤں کہیں

ساتھ رہ کر نظر نہ آؤں کہیں

اور مت فاصلے بڑھا مجھ سے

میں تُجھے بھُول ہی نہ جاؤں کہیں

جانے کس موڑ پر ضرورت ہو

آ بھی جانا جو میں بلاؤں کہیں

گرمی سفر کی رخت سفر سے نکل گئی

 گرمی سفر کی رختِ سفر سے نکل گئی

ایسے اُڑا کہ تاب شرر سے نکل گئی

دُنیا کا کیا بھروسہ کہ اکثر یہی ہوا

اک در سے آ کے دوسرے در سے نکل گئی

اک شہر سوچ کا بھی محبّت میں جل گیا

اُٹھی جو آگ دل سے وہ سر سے نکل گئی

ہے خاکداں پہ کہیں پر کہ آسمان میں ہے

 ہے خاکداں پہ کہیں پر کہ آسمان میں ہے

مرا جہان اگر ہے تو کس جہان میں ہے

وفورِ بے خبری میں کبھی سنا ہی نہیں

جو حریت کا مکمل سبق اذان میں ہے

مِرے شعور نے پابند کر دیا ورنہ

سخن کا ایک سمندر مرے دہان میں ہے

Sunday, 26 April 2026

مردے ہیں سب یہاں نہ یہاں پر صدا کرو

 اچھے لگو گے اور بھی اتنا کیا کرو

آنکھوں کو میری اپنے لیے آئینہ کرو

وعدے وفا کیے نہ کبھی تم نے جانِ جاں

دل پھر بھی چاہتا ہے کہ وعدہ نیا کرو

رہ کر تمہارے پاس بھی رہتا ہوں میں کہاں

مِل جاؤں پھر سے تم کو بس اتنی دعا کرو

وقت ان کے خود نکالے گا بل راستہ بدل

 ہر دم کی کشمکش سے نکل، راستہ بدل 

اب اور ان کے ساتھ نہ چل، راستہ بدل 

یہ خلفشار ذہن یہ خدشے یہ حجتیں 

ان سب کا بس ہے ایک ہی حل، راستہ بدل 

نخوت پرست لوگوں کو چھوڑ ان کے حال پر 

وقت ان کے خود نکالے گا بل، راستہ بدل 

کھول کر آنکھ تو سونے سے رہے

 کھول کر آنکھ تو سونے سے رہے

اب کسی اور کے ہونے سے رہے

آپ نے پاس تو رکھا تھا ، مگر

آپ کے پاس کھلونے سے رہے

کیا بتائیں کہ کسی یاد میں ہم

 اتنا روئے ہیں کہ رونے سے رہے

آب صحرا کا اشارہ سچ ہو

 آبِ صحرا کا اشارہ سچ ہو

جو نظر آئے خدارا سچ ہو

یہ عصا روپ نہ بدلے اپنا

ربِ موسیٰ یہ سہارا سچ ہو

ساری دنیا کے جریدے جھوٹے

تیرے آنکھوں کا شمارہ سچ ہو

گماں فصیل کا یاروں کو اپنے قد پر ہے

 گماں فصیل کا یاروں کو اپنے قد پر ہے

مگر یہ شہر ہوائے ستم کی زد پر ہے

ہجومِ خلق کو سمجھے ہجوم سایوں کا

وہ ایک شخص فریبِ نظر کی حد پر ہے

کرن کرن کے بدن میں ہیں وحشتیں لرزاں

کہ اب کے جشنِ چراغاں کسی لحد پر ہے

Saturday, 25 April 2026

امید و بیم و آس کے ساحل بدل گئے

 امید و بیم و آس کے ساحل بدل گئے

آنکھیں بدل گئیں تو کبھی دل بدل گئے

صحرا کی اک طویل مسافت کے بعد جب

پہنچے جو محملوں کو تو محمل بدل گئے

زِنداں میں اور قفس میں بہار و خزاں کٹی

موسم کے ساتھ ساتھ سلاسل بدل گئے

حرمت عشق تجھے داغ لگانے کا نہیں

 حُرمتِ عشق تجھے داغ لگانے کا نہیں 

بات بنتی نہ بنے بات سے جانے کا نہیں

یا خدا! خیر کہ ہم دونوں انا والے ہیں 

وہ بلانے کا نہیں اور میں جانے کا نہیں

وحشتی ہوں سو گریبان کو آ سکتا ہوں 

مجھ سے ڈرنے کا، مگر مجھ کو ڈرانے کا نہیں

تیری آمد کے لمحے قریب آ گئے ہیں

 آنکھیں


آنکھیں

خود بخود شرم سے

جھکنے لگیں

ہونٹ بات بے بات ہنسنے لگے

دراز زلفیں

شرارت پہ آمادہ ہونے لگیں

مژدۂ سر بلند لایا ہوں

 کیا مجھ بے نوا کے پاس

ایک دلِ درد مند لایا ہوں

خُمِ طیبہ سے جو بچ رہی تھی

شیشۂ دل میں بند لایا ہوں

ہمرہانِ رمیدہ خُو کے لیے

آنسوؤں کی کمند لایا ہوں

چراغ جلنے کو پانی میں کون رکھتا ہے

 چراغ جلنے کو پانی میں کون رکھتا ہے

تضاد اپنی کہانی میں کون رکھتا ہے

جو تجھ کو ٹُوٹ کے چاہا تو ہم نہیں بھٹکے

یہ ضبطِ نفس جوانی میں کون رکھتا ہے

ہوا تو چلتی ہے آنچل تِرا اُڑانے کو

یہ پانیوں کو روانی میں کون رکھتا ہے

بوجھ ہستی کا ہمیں ڈھونے دیا جاتا ہے

 بوجھ ہستی کا ہمیں ڈھونے دیا جاتا ہے

بے سبب ہونا اگر ہونے دیا جاتا ہے

راستے بچھتے چلے جاتے ہیں رہرو کے لیے

سونے والوں کو بہت سونے دیا جاتا ہے

میری وحشت کی ہے توقیر بہت بستی میں

دربدر خاک بسر ہونے دیا جاتا ہے

روشن ہی رہا دل بھی مرا شعلۂ شک سے

 روشن ہی رہا دل بھی مِرا شعلۂ شک سے 

پیغام رساں رات بھی اترا نہ فلک سے 

کچھ لطف لیا جائے نہ ملنے کی کسک سے

زخموں کو ملے حرفِ تسلی بھی نمک سے

چپ چاپ گزر جاتی ہے اب رات یوں مجھ میں 

جیسے میں گزر جاتا ہوں سنسان سڑک سے 

کبھی جو شہر وفا میں جنوں کی بات چلے

 کبھی جو شہرِ وفا میں جنوں کی بات چلے

ہمارے درد کا قصہ تمام رات چلے

نشاطِ جاں بھی نہیں شعلۂ نوا بھی نہیں

اٹھاؤ ساز کہ رقصِ غمِ حیات چلے

بہ صدا وقار پئیں زندگی کے پیمانے

بہ صد سرور غمِ زندگی کی بات چلے

Friday, 24 April 2026

یہ جو داتا ہے بڑا شعبدہ گر ہے سائیں

 دیکھ لے، خاک ہے کاسے میں کہ زر ہے سائیں

یہ جو داتا ہے، بڑا شعبدہ گر ہے سائیں

تُو مجھے اس کے خم و پیچ بتاتا کیا ہے

کُوئے قاتل تو مِری راہگزر ہے سائیں

یہ جہاں کیا ہے بس اک صفحۂ بے نقش و نگار

اور جو کچھ ہے تِرا حسنِ نظر ہے سائیں

در آقا پہ جو رہنے کی اجازت مل جائے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


درِ آقاﷺ پہ جو رہنے کی اجازت مل جائے

مجھ گہنگار کو بخشش کی بشارت مل جائے

بن ہی جائے گا مِرا کام سرِ روزِ جزا

کوئی دن اور ندامت کی جو مہلت مل جائے

کچھ نہیں چاہیے تجھ سے مجھے اے عمرِ رواں

نعت کہنے کی کوئی روز سہولت مل جائے

مری رگوں میں ہے رزق حلال کی خوشبو

 جو آ رہی ہے بدن سے کمال کی خوشبو

مری رگوں میں ہے رزق حلال کی خوشبو

اسی کے دم سے معطر ہے کاروان حیات

ہے میرے گھر میں جو اہل و عیال کی خوشبو

زباں پہ ہیں وہی کلمہ وہی ہے سوز مگر

کہاں سے لاؤں اذان بلال کی خوشبو

اے میرے وقت مصیبت کی انیس

 اپنی بیگم صاحبہ کے نام منظوم خط


میری بیوی اے مِرے دل کا سرور 

میری عزت اور میرے گھر کا نور 

اے میرے آرام و راحت کی جلیس 

اے میرے وقتِ مصیبت کی انیس 

تجھ کو بخشے ہیں خدا نے وہ صفات 

تیرے دم سے رونق بزمِ حیات 

شاعر نہیں بھولتے ماں کا چہرہ اور پہلی محبت

 شاعر نہیں بھولتے

ماں کا چہرہ اور پہلی محبت

ایک شام اور دو کرسیاں

پریشانی میں دیا گیا دلاسہ اور گال سے چپکا بوسہ

ایک سفر اور کوئی بمسفر

سیاہ رنگ اور فیض

Thursday, 23 April 2026

دنیا نے نچایا ہے سبھی ناچ رہے ہیں

 دنیا نے نچایا ہے، سبھی ناچ رہے ہیں

ناچے ہیں گداگر بھی، سخی ناچ رہے ہیں

دانش بھی دریچے میں کھڑی جھوم رہی ہے

پاؤں میں پڑی دیدہ وری، ناچ رہے ہیں

باندھے ہیں یہ گھنگرو تو کوئی راز ہے اس میں

دم لیں گے بتائیں گے، ابھی ناچ رہے ہیں

جنگ کس سے لڑوں اس زمیں سے

 جنگ کس سے لڑوں؟

اس زمیں سے

جہاں میرے دشمن کی بیٹی کا اسکول ہے

اس سپاہی سے؟

جو اپنی محبوب عورت کی ناراض بانہوں کا 

صدمہ اٹھائے ہوئے لڑ رہا ہے

اٹھا وہ جو تھا میم کا پردہ شب معراج

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اٹھا وہ جو تھا میم کا پردہ شب معراج

احمدؐ نے احد آپ کو پایا شب معراج

جھگڑا جو ہوا عشق ابد حسن ازل میں

اک آن میں حضرت نے چکا یا شب معراج

حضرت ہی کی صورت کو گئی دیکھنے حضرت

حضرت ہی تھے حضرت کا تماشا شب معراج

اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے

 اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے

عشق کی راکھ کو سینے سے لگایا ہم نے

درد کی آگ کو شعلوں سے شناسا کر کے

لذت ہجر کی حدت کو چھپایا ہم نے

روح کی پیاس بجھانے کا ارادہ باندھا

وادیٔ عشق میں اک پھول کھلایا ہم نے

بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے

 بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے

ہر سکون جانِ اضطرار بھی ہے

کسی پیماں شکن کے وعدوں پر

کیا کریں ہم کو اعتبار بھی ہے

دل میں ہے خواہشِ ستائش بھی

حسن کا ذکر ناگوار بھی ہے

Wednesday, 22 April 2026

میری فریاد کے انداز اڑائے کس نے

 مصرعۂ طرح  پر ایک غزل کے چند اشعار 

"گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مِرے صیاد کی ہے"


میری فریاد کے انداز اُڑائے کس نے 

ہاں میں سمجھا یہ صدا بُلبلِ ناشاد کی ہے 

قبر پر بھی میری آئے ہو تو ہیں ساتھ رقیب 

حد بھی ظالم! ستم و جور کی بیداد کی ہے 

دیکھ عشّاق کی فوجوں کو ذرا بام پہ آ 

یہ حکومت فقط اک حُسنِ خُدا داد کی ہے 

درون ذات ہوس کا اسیر زندہ ہے

 درُونِ ذات ہوس کا اسِیر زندہ ہے

کمانِ دستِ زُلیخا میں تِیر زندہ ہے

زمانہ ساز مِری انجمن میں آتے ہیں 

سرِ مزارِ جنُوں اک فقِیر زندہ ہے

نشان مِٹتے رہے آندھیوں کے موسم میں

تِرے غُبار سے کھینچی لکِیر زندہ ہے

افسوس مرے ہاتھ سے بن کر نہیں بنتا

 افسوس مِرے ہاتھ سے بن کر نہیں بنتا

میں روز بناتا ہوں وہ پیکر نہیں بنتا

دیوار و در و بام بنائے تو ہیں لیکن

دیوار و در و بام سے تو گھر نہیں بنتا

حالات بناتے ہیں اسے جیسا بنائیں

میں چاہتا ہوں جیسا یہ منظر نہیں بنتا

وابستہ تیری یاد ہے یوں زندگی کے ساتھ

 وابستہ تیری یاد ہے یوں زندگی کے ساتھ

جیسے اک اجنبی ہو کسی اجنبی کے ساتھ

غم بھی تِرا شریک رہا ہے خوشی کے ساتھ

اشک آ گئے ہیں آنکھ میں اکثر ہنسی کے ساتھ

ساقی! مجھے شراب نہ دے اس کا غم نہیں

لیکن مجھے جواب نہ دے بے رخی کے ساتھ

ہم تیرے لیے آئے ہیں ہستی میں عدم سے

 ہم تیرے لیے آئے ہیں ہستی میں عدم سے

اے جانِ جہاں اب نہ چھپا خود کو تو ہم سے

اک چشم ِ کرم ہم پہ بھی اے خسروِ خوباں

زندہ ہے دل و روح تیرے حسن کے دم سے

تم چھوڑ گئے راہ میں اس آبلہ پا کو

روتا ہے لپٹ کر وہ تیرے نقشِ قدم سے

دیکھی جو فضائے کوئے نبی جنت کا ٹھکانہ بھول گئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دیکھی جو فضائے کوئے نبیؐ جنت کا ٹھکانہ بھُول گئے 

سرکارﷺ کا روضہ یاد رہا، دنیا کا فسانہ بھول گئے 

سرکار دو عالمؐ کے در پر جس وقت پڑی بے تاب نظر 

آقاﷺ کی ثنا لب پر آئی ہر ایک ترانہ بھول گئے 

جب پہنچے مواجہ پر ان کے اک کیف میں ایسا ڈوب گئے 

جو حال سنانا تھا ان کو وہ حال سنانا بھول گئے 

ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی

 ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی

گلوں کی بات چھڑی اور ان کو خار لگی

بہت سنبھال کے ہم نے رکھے تھے پاؤں مگر

جہاں تھے زخم وہیں چوٹ بار بار لگی

قدم قدم پہ ہدایت ملی سفر میں ہمیں

قدم قدم پہ ہمیں زندگی ادھار لگی

مری ہی پشت سے آیا ہے وار میری طرف

 مری ہی پشت سے آیا ہے وار میری طرف 

کھڑے ہوئے تھے سبھی  دوست یار میری طرف  

ہوائیں کھا گئیں ہیں طاقچوں میں رکھے دیے 

بڑھا ہے آندھیوں کا اب حصار میری طرف

حضورِ یار میں نم جب فصیلِ چشم ہوئی 

بڑھا وہ بن کے مِرا غمگسار میری طرف

Tuesday, 21 April 2026

وہ جس کے ہونے سے رونقیں تھیں

 وہ جس کے ہونے سے رونقیں تھیں

اداسیاں مجھ کو دان کر کے 

نئے سفر پر نکل گیا ہے

بچھڑ گیا ہے

میں اب ملوں گا اسے وہاں پر

جہاں پہ نفرت رواج ہے نہ زمین والوں کی کوئی سازش

آگ میں جو تپایا جاتا ہوں

 آگ میں جو تپایا جاتا ہوں

زر خالص بنایا جاتا ہوں

قصر ہی قصر ہیں خداؤں کے

کس طرف کو بہایا جاتا ہوں

بارش سنگ سرخ جاری ہے

میں مسلسل نہایا جاتا ہوں

یہ ضرورت عجیب لگتی ہے

 یہ ضرورت عجیب لگتی ہے

مجھ کو عورت عجیب لگتی ہے

جب بھی بجھتے چراغ دیکھے ہیں

اپنی شہرت عجیب لگتی ہے

سرحدوں پر سروں کی فصلیں ہیں

یہ زراعت عجیب لگتی ہے

ظہور شان رسالت مآب کیا کہنا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ظہور شان رسالت مآبؐ کیا کہنا

نمود حُسنِ حقیقت مآب کیا کہنا

تمہارا حُسن ہوا لا جواب کیا کہنا

 تمہاری ذات ہوئی انتخاب کیا کہنا

فرشتے آتے ہیں در پر ادب سے سربسجود

وہ بارگاہِ الہیٰ جناب کیا کہنا

کچھ بھی ہو مگر دل کی اطاعت نہ کریں گے

 کچھ بھی ہو مگر دل کی اطاعت نہ کریں گے

سوچا ہے کہ اب اور محبت نہ کریں گے

غیروں کی طرح اس سے سلوک اب کے کریں گے

اس بار ملے گا تو مروت نہ کریں گے

سچ بول کے رسوائی ہی رسوائی ملی ہے

اب سب سے بیاں اپنی حقیقت نہ کریں گے

شکر ہے غیر کو پہچان گئے

 شکر ہے غیر کو پہچان گئے

آج وہ میرا کہا مان گئے

آپ کی سمت نہ تھا رُوئے سُخن

آپ بے وجہ بُرا مان گئے

آج رِندوں میں بھی ہے شوقِ بہشت

چال کس کی ہے یہ ہم جان گئے

لوٹ آئی ہے بہار غزل کہہ رہا ہوں میں

 ہنس دو پھر ایک بار غزل کہہ رہا ہوں میں

لوٹ آئی ہے بہار غزل کہہ رہا ہوں میں

لفظوں کو تیرے حُسن کہ صہبا میں ڈھال کر

اے جانِ صد بہار غزل کہہ رہا ہوں میں

ڈُوبا ہوا ہوں ساغرِ چشمِ سیاہ میں

ہر شے پہ ہے خُمار غزل کہہ رہا ہوں میں

خود کو زمانے کے لیے رسوا نہ کر سکے

 کاسہ بدست وقت سے سودا نہ کر سکے

خُود کو زمانے کے لیے رُسوا نہ کر سکے

ہر لفظ عکسِ سوز تھا، ہر نظم مُبتلا

لیکن ہم اپنے درد کو افشا نہ کر سکے

اسمِ حیات دفن تھا شورِ عدم کے بیچ

ہم سے مگر فریب کو سادہ نہ کر سکے

محو جمال یار کو فرصت بندگی نہیں

 محوِ جمالِ یار کو فُرصتِ بندگی نہیں 

اُس کے حُضور بندگی کُفر ہے بندگی نہیں 

عشق کی رسم و راہ کا اس کو شعور ہی نہیں 

کُفر کی بارگاہ میں جس کی جبیں جُھکی نہیں 

وہ بھی میرے فراق میں میری طرح ہے مضطرب

بچھڑے زمانہ ہو گیا، درد میں کچھ کمی نہیں 

Monday, 20 April 2026

لطف و سجود ہو چکا کیف کہاں نماز میں

 لُطف و سجود ہو چکا کیف کہاں نماز میں

ہو گئی گُم نِگاہِ شوق جلوۂ کعبہ ساز میں

راہِ حرم سے بیخودی کھینچ ہی لائی سُوئے دیر

لے تو چلی تھی بے دِلی دام گہِ نیاز میں

پِھر وہی قلبِ عِشق میں ذوقِ کلیم جاگ اُٹھا

کوند رہی ہیں بِجلیاں چشمِ نظارہ باز میں

پھر چلے ہیں مرے زخموں کا مداوا کرنے

 سلامتی کونسل


پھر چلے ہیں مرے زخموں کا مداوا کرنے​

میرے غمخوار اُسی فتنہ گرِ دہر کے پاس​

جس کی دہلیز پہ ٹپکی ہیں لہو کی بوندیں​

جب بھی پہنچا ہے کوئی سوختہ جاں کشتۂ یاس​

جس کے ایوانِ عدالت میں فروکش قاتل​

بزم آرا و سخن گستر و فرخندہ لباس

ہوا دیدار ہے مجھ کو خدا کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہوا دیدار ہے مجھ کو خدا کا

جو دیکھا میں نے چہرہ مصطفیٰؐ کا

پھریں کیوں کر نہ گرد مصطفیٰؐ ہم

یہی کعبہ ہے اربابِ صفا کا

خدا آئینۂ شان نبیﷺ ہے

نبیﷺ آئینہ ہے شانِ خدا کا

سزائے موت سے اب تک نجات پا نہ سکی

 سزائے موت سے اب تک نجات پا نہ سکی

میں اس کے کوچے سے اٹھ کر کہیں بھی جا نہ سکی

🍁تمام عمر پھری مثلِ برگِ آوارہ🍀

💢مِرا نصیب کہ منزل قریب آ نہ سکی💢

غموں کے وار سے لب پہ لگے تھے یوں تالے

ہزار چاہ کہ بھی میں تو مسکرا نہ سکی

اک اضطراب شوق کا حالت ہے آج کل

 اک اضطرابِ شوق کا حالت ہے آج کل

گویا سکون ہی بڑی آفت ہے آج کل

آلامِ دو جہاں سے قرابت ہے آج کل

سب آپ کا کرم ہے عنایت ہے آج کل

اب صبح کیا بتاؤں شبِ غم کا ماجرا

جب تم کو بھُول جانے کی عادت ہے آج کل

چھپا کے روئے حسیں کو سیاہ بالوں میں

 چھپا کے روئے حسیں کو سیاہ بالوں میں

فریب دے گیا آ کر کوئی خیالوں میں

وفا کے ذکر چھڑا جب پری جمالوں میں

تو میرا نام بھی آیا کئی مثالوں میں

مٹانے والے مٹاتے رہے مجھے لیکن

غزل کے روپ میں زندہ رہا رسالوں میں

تیری اک نگاہ کی قیمت میری زندگی نہیں ہے

 تیری اک نگاہ کی قیمت میری زندگی نہیں ہے

تیرے اس کرم کا بدلہ میری بندگی نہیں ہے

جو نہ جاں پہ کھیل جائے وہ نہ اس طرف کو آئے

کہ دیارِ عاشقی میں رہِ واپسی نہیں ہے

تیرے حسن کی پرستش میرا مشربِ طریقت

یہ ہے دینِ پاک بازاں کوئی کافری نہیں ہے

Sunday, 19 April 2026

عشق کے ماروں کو درکار سفر

 عشق کے ماروں کو درکار سفر

دو کناروں کا ہے بس یار سفر

سوچا اک دن یونہی اپنے بارے

یونہی لگنے لگا بے کار سفر

میں رُکا ہوں یوں دلِ خستہ میں اک

جیسے منزل پہ ہو درکار سفر

دیتا ہے تیرگی میں سہارا کبھی کبھی

 دیتا ہے تیرگی میں سہارا کبھی کبھی

چلتا ہے میرے ساتھ ستارا کبھی کبھی

ایسا نہیں کہ زیرِ ستم ہی رہے سدا

یہ بوجھ ہم نے سر سے اتارا کبھی کبھی

فرطِ نشاطِ وصل کی خاطر ہی جانِ جاں

کرتے ہیں تیرا ہجر گوارا کبھی کبھی

واہ کیا ذات مصطفائی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


واہ کیا ذات مصطفائیؐ ہے

مرکزِ نُورِ کبریائی ہے

مصطفیٰﷺ آئینہ ہے آئینہ

جس میں خالق کی رونمائی ہے

تیرے کوچہ میں تاج والوں کو

یا نبیﷺ حسرت گدائی ہے

شہروں سے شہر یار کی تنہائیاں نہ پوچھ

 شہروں سے شہر یار کی تنہائیاں نہ پوچھ

لالے سے لالہ زار کی تنہائیاں نہ پوچھ

گلشن میں پھول دیکھ تو سبزے کا رنگ دیکھ

بٹتی ہوئی بہار کی تنہائیاں نہ پوچھ

جنت بدر ہوئے تو ملے ارض پہ رفیق

جنت میں کِردگار کی تنہائیاں نہ پوچھ

ملا ہے کفر عشق اس کی عطا سے

 مِلا ہے کفرِ عشق اُس کی عطا سے

نوازا اس نے ہر غم کی دوا سے

نہیں کچھ دُور جاں سے کُوئے جاناں

فنا ہو جا کبھی پہلے فنا سے

میری دیوانگی پہ ہو نہ حیراں

بہت مِلتی ہے وہ صورت خُدا سے

آؤ پھر شہر محبت کو بسایا جائے

 قومی یکجہتی


آؤ پھر شہر محبت کو بسایا جائے

بجھ گئے ہیں جو دِیے ان کو جلایا جائے

پیار کے نقش کو تابندہ بنایا جائے

دیش سے فرقہ پرستی کو مٹایا جائے

جس کے دامن میں مہکتے تھے اصولوں کے گلاب

دوستو! پھر وہی ماحول بنایا جائے

ہم ہوئے حق کے اگر خوگر تماشا ہو گئے

 ہم ہوئے حق کے اگر خوگر، تماشا ہو گئے

پتھروں میں آئینہ بن کر تماشا ہو گئے

تیرگی میں دور تک پھیلی ہوئی ہے ایسی روشنی

بستیوں میں میرے جلتے گھر تماشا ہو گئے

ہو گئے حیران سب ہی دیکھ کر میری اڑان

شاہ بازوں میں مرے شہپر تماشا ہو گئے

رہتا ہے جان عرش پہ تن ہے یہاں مرا

 رہتا ہے جان عرش پہ تن ہے یہاں مِرا

پایا میں لا مکاں سے پرے ہے مکاں مرا

حق مجھ میں آئینہ ہے میں ہوں حق کا آئینہ

شانِ صفا ہے حال نہاں و عیاں مرا

رہتا ہوں چشمِ اہلِ بصر کی نگاہ میں

ملتا ہے نکتہ داں کے سخن میں نشاں مرا

تیرا من بھی سوتا ہے

 تیرا من بھی سوتا ہے​

تو بھی جیون کھوتا ہے​

من کی اُور دھیان نہیں​

تن گنگا میں دھوتا ہے​

کرشن بچارا سوکھے منہ​

گوالا زہر بلوتا ہے

Saturday, 18 April 2026

یہ بہت آساں ہے سب پر تبصرا کرتے رہو

 یہ بہت آساں ہے سب پر تبصرا کرتے رہو

بات تو جب ہے کہ اپنا سامنا کرتے رہو

ہر نفس پر زندگی کا حق ادا کرتے رہو

روز مرنا ہے تو جینے کی دعا کرتے رہو

ہر قدم پر منزلیں آواز دیں گی خود تمہیں

شرط یہ ہے اپنے ہونے کا پتا کرتے رہو

ساقی کی نظر عیش گریزاں تو نہیں ہے

 ساقی کی نظر عیش گریزاں تو نہیں ہے

یہ گردشِ مے گردشِ دوراں تو نہیں ہے

گلشن میں کہیں جشنِ بہاراں تو نہیں ہے

گل چاک گریباں سہی خنداں تو نہیں ہے

اے چارہ گرو! چارہ گری کھیل نہ سمجھو

یہ چاکِ جگر، چاکِ گریباں تو نہیں ہے

تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھ

 تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھ

سایہ بھی میرے ساتھ رہا روشنی کے ساتھ

روشن ہوا نہ کوئی دریچہ مِرے بغیر

اک ربط خاص رکھتا ہوں میں اس گلی کے ساتھ

دو دن کی زندگی میں بھی دھڑکا تھا حشر کا

کرتے رہے گناہ مگر بے دلی کے ساتھ

حد نظر سراب ہے پانی تو ہے نہیں

 حدِ نظر سراب ہے پانی تو ہے نہیں

صحرا کی گرد ہم نے اُڑانی تو ہے نہیں

چلتا نہیں ہے اس پہ ہمارا کچھ اختیار

یہ زندگی ہے کوئی کہانی تو ہے نہیں

کیوں دیکھ بھال اِس کی کریں ہم تمام عمر

یہ زخم کوئی اس کی نشانی تو ہے نہیں

کوئی مقتول جفا ہو جیسے

 کوئی مقتول جفا ہو جیسے

یعنی تصویر وفا ہو جیسے

بارہا یوں بھی ہوا ہے محسوس

کوئی مجھ میں ہی چھپا ہو جیسے

کتنا مستغنیٔ درماں ہے یہ

درد خود اپنی دوا ہو جیسے

سر رسوا کی ہے عزت مرے سرکار کی چوکھٹ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سر رسوا کی ہے عزت مرے سرکارﷺ کی چوکھٹ

"دلِ مضطر کی ہے راحت مرے سرکار کی چوکھٹ"

اگرچہ ہے زمیں پر، اس کا ہے لیکن مقام اعلیٰ

رکھے ہے عرش کی رفعت مِرے سرکار کی چوکھٹ

اجالا فرش پر جس سے ہے طلعت عرش پر جس سے

دو عالم کی تو ہے زینت مرے سرکار کی چوکھٹ

ہمارے پیار کی یہ جگ مثال دیتا ہے

 کبھی وہ رنج کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے

کبھی خوشی وہ مجھے بے مثال دیتا ہے

جواب سوچتی رہتی ہوں میں کئی دن تک

وہ اک سوال ہوا میں اچھال دیتا ہے

ہمارے پیار سا دنیا میں پیار سب کا ہو

ہمارے پیار کی یہ جگ مثال دیتا ہے

Friday, 17 April 2026

حادثے اب تو گھروں میں بھی ہوا کرتے ہیں

 اشک لہجے میں چھلک کر جو دعا کرتے ہیں

ان کی تکریم سدا،۔ بابِ رسا کرتے ہیں

کوئی محفل نہیں قندیلِ نوا سے روشن

یوں تو صحرا میں بگولے بھی صدا کرتے ہیں

ہے نگارانِ ستم سے مجھے نسبت ایسی

زخم خوشرنگ مِرے تن کی قبا کرتے ہیں

اے محبت عجیب چیز ہے تو

 اے محبت! عجیب چیز ہے تُو 

جان و دل سے سوا عزیز ہے تو 

تیری بیتابیاں ہیں رشک سکوں 

غیرت صد خِرد ہے تیرا جنوں 

تجھ سے لذت ہے اشک باری میں 

تجھ سے راحت ہے آہ و زاری میں 

میرے دروازے پہ آج ان کی سواری کیسے

 میرے دروازے پہ آج ان کی سواری کیسے

راستہ بھول گئی بادِ بہاری کیسے؟

تیشہ بردوش بہت ہیں کوئی فرہاد نہیں

جوئے شیر آج پہاڑوں سے ہو جاری کیسے

قاتلوں سے مِرے سرکار کی یاری کیسے

نیم وحشی ہے اگر صنفِ غزل جب یارو

گرا ہے بے خودی میں شمع پر پروانہ کہتے ہیں

 گِرا ہے بے خودی میں شمع پر پروانہ کہتے ہیں

ہم اس وارفتگی کو ذوق سے بیگانہ کہتے ہیں

بیاں کب کوئی اپنے عشق کی روداد کرتا ہے

مگر ہم اپنا قصّہ آج بے تابانہ کہتے ہیں

نہیں واقف کہ یہ گنجینۂ غم ہائے الفت ہے

مِرے مسکن کو میرے ہمنشیں ویرانہ کہتے ہیں

وہ جو پتھر ہیں وہی شیشوں سے وابستہ رہیں

 وہ جو پتھر ہیں وہی شیشوں سے وابستہ رہیں

ہم کہاں تک ٹوٹتے رشتوں سے وابستہ رہیں

آپ دہراتے رہیں سچی کتابوں کا کہا

اور لکیریں ان گنت چہروں سے وابستہ رہیں

رات دن جن کے لبوں پر روح کا پرچا رہے

ان کے دل میں ہے نئے جسموں سے وابستہ رہیں

آپ بھی چل کے طیبہ ذرا دیکھیے

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آپ بھی چل کے طیبہ ذرا دیکھیے

ہر طرف نورﷺ جلوہ نما دیکھیے

طٰہٰ، یٰسین اور خاتم الانیباءﷺ

رب نے کیا کیا لقب ہے دیا دیکھیے

کیا بیاں ہو بھلا عظمت مصطفیٰﷺ

مدح کرتا ہے خود کِبریا دیکھیے

کیسے اترے گا خمار آنکھوں کا

 کیسے اترے گا خمار آنکھوں کا

راس مجھ کو ہے حصار آنکھوں کا

تیرے چہرے کو جو دیکھے، کِھل جائے

جو بھی بیمار ہے یار آنکھوں کا

میرے ہونٹوں پہ ہے بات آنکھوں کی

میرے شعروں میں شمار آنکھوں کا

Thursday, 16 April 2026

مٹی لذت داستاں کیا بتائیں

 مٹی لذتِ داستاں کیا بتائیں

کہاں لڑکھڑائی زباں کیا بتائیں

محبت کی راہیں، ارے توبہ توبہ

بہر گام سو امتحاں کیا بتائیں

غمِ ہجر کی تلخیوں کو نہ پوچھو

غمِ ہجر کی تلخیاں کیا بتائیں

زمانے میں کب ہیں محبت کی باتیں

 زمانے میں کب ہیں محبت کی باتیں

لبوں پر نہیں ہیں یہ چاہت کی باتیں

تمہیں کچھ ضرورت نہیں بولنے کی

سنو کربلا کی مودت کی باتیں

کتابوں میں ایسی حقیقت کہاں ہے

جہاں میں ہیں رائج کدورت کی باتیں

لٹنے کا اب ذرا سا گماں نہیں ہوا

 تنہا گزارتا ہوں اپنے گھر میں روز شپ

میرے لیے مرا گھر زنداں نہیں ہوا

اے دوست اِس بےحد جدید دور میں

لٹنے کا اب ذرا سا گماں نہیں ہوا

شیخ کو دھاندلی والے شاہ کی پڑی

گاؤں میں کوئی بھی حیراں نہیں ہوا

تیری یہ بے رخی اب نہ سہ پاؤں گی

 خلش


تیری یہ بے رخی

اب نہ سہ پاؤں گی

ہے گِلہ گر کوئی

تو بتا دے ذرا

موڑ کر منہ نہ بول

بے رخی سے تِری

قطروں کو یہ ضد ہے کہ وہ یم ہو کے رہیں گے

 گو اور بھی غم شامل غم ہو کے رہیں گے

ہم فاتح ہر رنج و الم ہو کے رہیں گے

بیباکئ تحریر یہ دستورِ خدا وند

اک روز مِرے ہاتھ قلم ہو کے رہیں گے

اے مرد سخن جرم سخن خوب ہیں لیکن

یہ جرم تِرے خوں سے رقم ہو کے رہیں گے

راہ وفا میں جو بھی کوئی جانشیں بنے

 راہ وفا میں جو بھی کوئی جانشیں بنے

تجھ سا بنے تو خیر ہے مجھ سا نہیں بنے

شاید ہمارے واسطے کوئی نہیں بنا

شاید کسی کے واسطے ہم بھی نہیں بنے

 ساری زمیں کے واسطے اک آسماں بنا

سو آسماں کے واسطے ہم بھی مکیں بنے

گھماؤ وقت کا جب ٹھیک کرنے آیا تھا

 گھماؤ وقت کا جب ٹھیک کرنے آیا تھا

میں ایک سائے پہ تحقیق کرنے آیا تھا

شعور ماپتا اک خواب میری وحشت سے

تمہارے ہجر کی تصدیق کرنے آیا تھا

بُرا بھلا نہ کہو! روشنی کے مُنکر کو

یہ کائنات کی توثیق کرنے آیا تھا

Wednesday, 15 April 2026

لاہور آ شہر پرانے چلتے ہیں

 لاہور 


آ شہر پرانے چلتے ہیں

یہاں رات کو جگنو ہوتے تھے

یہاں میلے ٹھیلے رنگ برنگ

یہاں تارے راہ سُجاتے تھے

یہاں رستہ پوچھنے والوں کو

منزل تک جان پہنچاتے تھے

بخشش کے لیے اپنی اتنا ہی تو ساماں ہے

 بخشش کے لیے اپنی اتنا ہی تو ساماں ہے

بھیگی ہوئی پلکیں ہیں بھیگا ہوا داماں ہے

الفت ہی زمانے میں تسکین کا درماں ہے

اک لفظ محبت ہی ہر درد کا درماں ہے

یہ زیست خدا جانے کس بات پہ نازاں ہے

مٹی کے گھروندے میں کچھ دیر کی مہماں ہے

کرب در پردۂ طرب ہے ابھی

 کرب در پردۂ طرب ہے ابھی

مسکراہٹ بھی زیر لب ہے ابھی

ہیں پریشاں حیات کے گیسو

نہ کرو ذکر صبح شب ہے ابھی

مل تو سکتا ہے آدمی میں خدا

آدمی آدمی ہی کب ہے ابھی

لطف آ گیا ہے آپ سے گفت و شنید کا

 اپنی جگہ پہ حسن کمالاتِ دید کا

لطف آ گیا ہے آپ سے گفت و شنید کا

پاؤں میں گھنگرو باندھ کے رقصاں بروئے یار

انعام پا رہا ہوں میں یوم سعید کا

آتے ہیں یار دعوتِ بزمِ شیراز میں

کب دیکھتے ہیں فرق قریب و بعید کا

در بدر رہتے ہیں حق بات کے مارے ہوئے لوگ

 اے خدا حسرت و جذبات کے مارے ہوئے لوگ

اب کہاں جائیں یہ حالات کے مارے ہوئے لوگ

تیری دنیا کی کہانی بھی عجب ہے مولا

در بدر رہتے ہیں حق بات کے مارے ہوئے لوگ

صبحِ نو کے لیے زنبیل طلب لائے ہیں

دشتِ ویراں میں سیہ رات کے مارے ہوئے لوگ

ہر طرف کوفہ صفت راج یہاں ہے ہاں ہے

 جو تِرے جسم کو چکھ لے وہ جواں ہے، ہاں ہے

جسے تُو مل نہ سکا نوحہ کناں ہے، ہاں ہے 

ایک میں ہوں کہ جسے بس تو میسّر ہی نہیں 

ورنہ اک دنیا مِری سمت رواں ہے ہاں ہے 

وحشتِ شب نے کہا، ہے بھی عزادار کوئی

ہجر سے آنکھ مِری گریہ کناں ہے، ہاں ہے

ذات نبی سے عشق اشارہ علی کا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ذات نبیﷺ سے عشق، اشارہ علیؑ کا ہے

سمجھا ہے جس نے رمز وہ پیارا علی کا ہے

مایوس اس کو کیسے کرے رب ذوالجلال

جس کو رہے خیال سہارا علی کا ہے

جس دن سے بو تراب لقب آپ کو ملا

یہ خاکساری فعل ہمارا علی کا ہے

کر کے جفا بدلے میں وفا مانگنے لگا

 کر کے جفا بدلے میں وفا مانگنے لگا

خوب ظرف تھا برگشتہ صِلہ مانگنے لگا

جب سے عزیز ہوئی اُسے میری زندگی

تب سے موت کی دُعا میں مانگنے لگا

کچھ وقت ہی تو گُزرا غُنچہ کِھلے ہوئے

باغیچہ بے سبب موسمِ خزاں مانگنے لگا

Tuesday, 14 April 2026

اس کی جفا میں ہوں میں نہ میری وفا میں وہ

 اس کی جفا میں ہوں میں، نہ میری وفا میں وہ

لیکن ہنوز بن کے خلش ہے دُعا میں وہ

اچھا ہوا کہ ٹُوٹ کے میں ہی بکھر گیا

آنے لگا تھا مجھ کو نظر آئینہ میں وہ

محدود تو نہیں ہے سلیماں کی دسترس

رہتا ہے تو رہے ابھی شہرِ سبا میں وہ

کسی کے دکھ سے نہ کر سکھ کشید توبہ کر

 کسی کے دُکھ سے نہ کر سُکھ کشید توبہ کر

ابھر نہ وقت کا بن کر یزید، توبہ کر

فصیلِ ذات سے باہر نکل کہ یہ دُنیا

تِرے بھرم سے ہے مطلق بعید، توبہ کر

نِگاہِ شوق کو جلوے سے یوں نہ رکھ محروم

ہے شرک جرأتِ انکارِ دِید توبہ کر

تنہا تھے ہم نہ دور نہ کوئی قریب تھا

 تنہا تھے ہم نہ دور نہ کوئی قریب تھا

کشتی کے ڈوبنے کا بھی منظر عجیب تھا

سوچا تھا جیت لوں گا محبت کی قربتیں

لیکن کہاں میں اِتنا بڑا خوش نصیب تھا

آیا تیری گلی میں تو جنت میں آ گیا

نکلا تو یوں لگا کہ جہنم نصیب تھا

چلو پھر سے ماضی کے سفر پر چلیں ہم

 چلو پھر سے

ماضی کے سفر پر چلیں ہم

حال میں ہیں صرف غم ہی غم

صبح بے نُور ہے

شام مجبُور ہے

مسرتیں کھو گئیں کہیں

آپ کا نامۂ والا پہنچا

 آپ کا نامۂ والا پہنچا

رنج میں عیش دوبالا پہنچا

گھونٹ پیاسے کے گلے سے اترا

منہ میں بھوکے کے نوالا پہنچا

نوک دم بھاگیں نہ کیوں کر افکار

ترکتازوں کا رسالا پہنچا

اک جنگل میں سر شام سنایا جاؤں

 اک جنگل میں سرِ شام سُنایا جاؤں

گِیت بن کے تِری آواز میں گایا جاؤں

رات کی طرح سمندر پہ بچھایا جاؤں

شہر کو دن کی طرح روز سنایا جاؤں

ہر مسافت کے اُفق تک میں بلایا جاؤں

پھر اسی راہ سے واپس تو نہ لایا جاؤں

بغیر مطلب کے مہربانی نہیں چلے گی

 بغیر مطلب کے مہربانی نہیں چلے گی

غریب لوگوں میں بد گمانی نہیں چلے گی

یہاں پہ کوئی وفا کی باتیں نہیں کرے گا

ہماری محفل میں بد زبانی نہیں چلے گی

اب اپنے  لہجے میں شعر کہنے پڑیں گے سب کو

پرائے لہجوں کی ترجمانی نہیں چلے گی