تم میرے پاس آؤ تو کوئی غزل کہوں
عہدِ وفا نبھاؤ تو کوئی غزل کہوں
نغمے بکھیر دوں گی محبت کی راہ میں
تم میرے ساتھ آؤ تو کوئی غزل کہوں
کیوں دور دور رہ کے بسے ہو خیال میں
ویران گھر سجاؤ تو کوئی غزل کہوں
تم میرے پاس آؤ تو کوئی غزل کہوں
عہدِ وفا نبھاؤ تو کوئی غزل کہوں
نغمے بکھیر دوں گی محبت کی راہ میں
تم میرے ساتھ آؤ تو کوئی غزل کہوں
کیوں دور دور رہ کے بسے ہو خیال میں
ویران گھر سجاؤ تو کوئی غزل کہوں
نے کا نے نام رکھ دیا کس نے؟
نے میں پیغام رکھ دیا کس نے؟
مختصر سی حیات میں جانے
اس قدر کام رکھ دیا کس نے؟
دل کی بے تابیوں کے عالم کا
زندگی نام رکھ دیا کس نے؟
یہ کیف حُسن اس پہ یہ مستی شباب کی
یہ آپ ہیں کہ موج ہے کوئی شراب کی
سُونی ہے بزمِ عالمِ اِمکاں تِرے بغیر
ظُلمت ہے روشنی بھی شبِ ماہتاب کی
کیوں میری لغزشوں پہ زمانہ ہے طعنہ زن
سب لغزشیں معاف ہیں عہدِ شباب کی
کل ایک شخص جو اچھے بھلے لباس میں تھا
برہنہ آج وہ اُترا ہوا گلاس میں تھا
ہم آفتاب درخشاں جسے سمجھتے تھے
وہ ایک وہم کا جگنو ہوس کی گھاس میں تھا
زمین و عرش کی تقسیم کے زمانے میں
بشر اسیر جنوں تھا کہاں حواس میں تھا
اِس سے پہلے كہ سال کی آخری شام تمام ہو
اور تُو بھی مصروف نو ایام ہو
اِس سے پہلے کہ میں زیست گروی رکھ دوں
کسی اور کے پاس
اِس سے پہلے کہ تیرے ہاتھوں کا لمس
تیرے لبوں کی مسیحائی اور تیرے لہجے کی پزیرائی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے علمِ بشر کتنا سرکارﷺ کے بارے میں
ہم لوگ کہیں گے کیا، سرکارؐ کے بارے میں
اے شوق سخن گوئی! ہے شرط ادب اول
کچھ کھیل نہیں کہنا، سرکارؐ کے بارے میں
پیکر ہے تو بے سایہ، ٹپکا ہے تو بے جسمی
کیا کیا ہوا دھوکا، سرکارؐ کے بارے میں
گُزرے گی کیا جمالِ رُخِ یار دیکھ کر
حیرت ہے حُسن حسرتِ دِیدار دیکھ کر
نا سازیٔ جہاں کی تو پروا کبھی نہ تھی
جی بُجھ گیا ہے تم کو💔 دلآزار دیکھ کر
اس دِلفگارِ شوق کی حسرت نہ پُوچھیے
مجرُوح ہو گیا ہو جو تلوار 🗡 دیکھ کر
وہ بگڑتے ہی رہے کِھسکے نہ اس محفل سے ہم
اپنی عادت سے تھے وہ مجبور، اپنے دل سے ہم
تھا رقیبوں کا اک ہنگامہ بچے مُشکل سے ہم
جُوتا ٹوپی چھوڑ کر بھاگ آئے اس محفل سے ہم
جان کے ٹکراتے ہم،۔ دونوں تلے اوپر گِرے
وہ اُدھر رکشا سے اُلٹے اور اِدھر سائیکل سے ہم
سچ کی آواز کا سُولی پہ بھی رد ہے حد ہے
تم اگر جھُوٹ بھی بولو تو سند ہے، حد ہے
تم تو سُورج تھے پہ حیرت ہے مجھے وقت زوال
اک دِیے سے تمہیں اس درجہ حسد ہے حد ہے
میں کہ مسجُود ملائک تھا کبھی داورِ حشر
میرے اعمال پر ان سے ہی مدد ہے حد ہے
جیسے کسی کا حرفِ محبت مِری غزل
یعنی مِرے خلوص کی نُدرت مری غزل
ظُلمت کدوں میں چاند کی مانند روشنی
تشنہ لبوں کے واسطے راحت مری غزل
میداں میں آ کے نوش تو فرمائیے جناب
چھلکا رہی ہے جامِ شہادت مری غزل
ادائے رسم محبت خطا سی لگتی ہے
ہمیں تو اپنی وفا بھی سزا سی لگتی ہے
سفر میں دھوپ کا احساس تک نہیں ہوتا
ہمارے سر پہ کسی کی دعا سی لگتی ہے
وہ میری فکر کو چھوتا ہے جب خیالوں میں
ہر ایک لفظ میں بوئے حنا سی لگتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا
لعل پتھر میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
ڈھونڈتا میں رہا تسبیح کے دانوں میں اسے
ذرہ ذرہ میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا
دل نے جا جا کے کیے لاکھوں طواف کعبہ
اور وہ دل میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
حال ابتر اُداس لوگوں کا
کون رہبر اداس لوگوں کا
ہے اُداسی محیط ہر شے پر
درد پیکر اداس لوگوں کا
ایک فِرقہ مجھے زمانے میں
ہے میسّر اداس لوگوں کا
صحن گُلشن میں چاندنی دیکھیں
حُسن تکمیل زندگی دیکھیں
آؤ فطرت کی دیکھیں رعنائی
پتیاں کچھ ہری ہری دیکھیں
میرا ہر شعر ہے نشان حیات
میرا انداز شاعری دیکھیں
دُور صحرا کی کڑی دُھوپ میں چھاؤں جیسا
وہ تو لگتا تھا مجھے میری دُعاؤں جیسا
اِک ریاست تھی میرے پاس نوابوں جیسی
اب تِرے شہر میں پھرتا ہوں گداؤں جیسا
اب اُسے ڈُھونڈتا پھرتا ہوں بیابانوں میں
جو میرے پاس سے گُزرا تھا ہواؤں جیسا
اسے ملتا ہے مال و زر خدا کی جس پہ رحمت ہے
غلط سمجھے جہاں والے کہ یہ انجامِ محنت ہے
کہوں گا بے کسی، بے چارگی کی ایک مورت ہے
اگر پوچھے کوئی مجھ سے بشر کی کیا حقیقت ہے
کوئی بھی دل کشی اس میں نظر آئی نہیں مجھ کو
سنا تو تھا کہ یہ دنیا نہایت خوب صورت ہے
شکن کے ساتھ جیتے ہیں تھکن کی دسترس میں ہیں
حقیقت میں سبھی اپنے بدن کی دسترس میں ہیں
جمال نکہت شام و سحر بھی انجمن میں ہے
کلی بھنورے گل و بلبل چمن کی دسترس میں ہیں
مجھے پرواز کر کے آسماں میں ڈوبنا تھا، اور
مجھے یہ یاد تھا ہم سب بدن کی دسترس میں ہیں
چین دل کو نہ آئے گا کب تک
وہ مجھے یوں ستائے گا کب تک
اے ستمگر! تِرے ستم آخر
کوئی بیکس اٹھائے گا کب تک
ظرف پر اپنے ناز ہے مجھ کو
آسماں تو ستائے گا کب تک
اپنی ہستی یاد ہے
قبر کی مٹی یاد ہے
آنکھ میں تیرے خواب ہیں
دل میں تیری یاد ہے
یوں تو یادیں اور بھی
ایک سُہانی یاد ہے
کہیں پہ دُھوپ کہیں پر ہیں سائبان بہت
قدم قدم پہ ہیں دنیا میں امتحان بہت
مجھے سپرد تو لوگوں نے کر دیا اس کے
مگر عزیز ہے قاتل کو میری جان بہت
اگر یہ چاہے تو اک پل میں انقلاب آئے
ہماری قوم میں ایسے ہیں نوجوان بہت
صدی میں جھُوٹ کی میں جی رہا ہوں
مُسلسل زہر سچ کا پی رہا ہوں
گواہی ظُلم کے حق میں نہ جائے
لبوں کو اپنے پھر میں سی رہا ہوں
کبھی دیوانے تیرے جو رہے ہیں
شریک ان کا کبھی میں بھی رہا ہوں
ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
٭وشوشانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
آسمان پھر کبھی نہ انگارے اُگلے گا
ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
گناہوں سے ہمیں اب تو بچانا یا رسول اللہﷺ
ہدایت کا ہمیں رستہ دکھانا یا رسول اللہﷺ
کدھر جائیں سوا تیرے یہاں کوئی نہیں اپنا
سہارا آپ ہیں اپنا بنانا یا رسول اللہﷺ
زمانہ جھڑکیاں دیتا رہا ہم کو زمانے میں
شفاعت کا ہمیں دامن تھمانا یا رسول اللہﷺ
کوئی ٹھوکر اس نے جب کھائی نہ تھی
زندگی یہ راہ پر آئی نہ تھی
آپ کی باتیں تھیں باتیں ہی فقط
آپ کی باتوں میں گہرائی نہ تھی
ہر قدم پر رنج و غم تھے منتظر
کس جگہ میری پذیرائی نہ تھی
اپنے حُلیے بدل کے ملتے ہیں
آ کہیں اور چل کے ملتے ہیں
کیوں بہکنے کا احتمال رہے
یار تھوڑا سنبھل کے ملتے ہیں
اس کے اتنے قریب ہو کر بھی
رابطے چند پل کے ملتے ہیں
رب کا دُنیا کو بنانا عشق ہے
سجدہ آدم کو کرانا عشق ہے
آگ کا گُلزار ہونا معجزہ
آگ میں بے خوف جانا عشق ہے
دیکھنا ماں کو عبادت ہے، مگر
دیکھ کر پھر مُسکرانا عشق ہے
آج تو کوئی پلا دے بھر کے پیمانے میں آگ
جس سے لگ جائے دل غمگیں کے غم خانے میں آگ
تھی سبُو میں جام میں شیشے میں پیمانے میں آگ
آگ ہی چاروں طرف تھی سارے مے خانے میں آگ
آپ چاہے نام اس کا مختلف رکھ لیں مگر
ایک ہی جلتی ہے کعبے اور بت خانے میں آگ
راہ کے انبوہ میں تنہا نظر آیا ہوں میں
ہمسفر اپنا سپرد خاک کر آیا ہوں میں
اوس کو ترسے ہوئے تھے اس کی آنکھوں کے گُلاب
قطرہ قطرہ اشک ہر پتی میں بھر آیا ہوں میں
اک دفینے کی طلب میں رُل گیا ہوں خاک میں
زینہ زینہ دھیان کی سیڑھی اتر آیا ہوں میں
قلم جُدائی پہ نوحے لِکھتا ہے
تمہارے جانے کا یہ نوحہ ساری کائنات نے
میرے ساتھ لِکھا ہے
ہم سب فِراق، نصیب، ہجر کا موسم اوڑھے
ایک دوسرے سے پِیٹھ موڑے بیٹھے ہیں
جُدائی کے پتے بالوں میں اُلجھے ہیں
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
اپنی ہستی کی کچھ خبر ہی نہیں
ہم پڑے ہیں کچھ ایسے غاروں میں
روشنی کا جہاں گزر ہی نہیں
اکرم کلیم
سر کھپائیں نہ زمانے والے
ہم سمجھ میں نہیں آنے والے
بارِ غم، بارِ جنوں، بارِ خِرد
ہم تو ہیں بوجھ اُٹھانے والے
کیا کہیں جان کہاں ہاری تھی
کب یہ قِصے ہیں سُنانے والے
یہ وہم ہے کہ کسی وہم کا پتا بھی ہو
جو تُو بھی ساتھ رہے اور مِرا خُدا بھی ہو
سفر کا شوق ہے تجھ کو تو پھر یہ شرط ہے کیوں
رِدائے ابر ہو، سبزہ ہو، اور ہوا بھی ہو
کچھ اس طرح سے گُزر جا جنوں کی منزل سے
کہ ہوش بھی نہ ہو گُم اور کچھ نشہ بھی ہو
تیرے دِیدار کو آتے ہیں چلے جاتے ہیں
دو گھڑی عِید مناتے ہیں چلے جاتے ہیں
ہم کو جو تیری طلب ہے تو فقط اتنی ہے
تجھ کو آنکھوں میں بساتے ہیں چلے جاتے ہیں
کبھی بھُولے سے تِرے ہاتھ جو چھُو لیں ہم کو
رُوح میں پھُول کھِلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں
ہیرے جیسے آنکھوں والے لوگ جہاں بستے ہیں
اپنا بدن خود زہر سے اپنے نیلا ہوتا جائے
ہم کیسے انسان ہیں آخر اپنا تن ڈستے ہیں
کون ہوس کا رستہ روکے سب کے لبوں پہ مہریں
چاندی کی تلواریں ان کی سونے کے دستے ہیں
دُنیا نئی نئی ہے زمانے نئے نئے
عُنواں نئے نئے ہیں فسانے نئے نئے
شمعِ حیاتِ نَو کو جلانے کے واسطے
تخلیق بُت کیے ہیں خُدا نے نئے نئے
دُنیا میں زندہ رہنے کا ڈھنگ آ گیا مجھے
جب سے پڑے ہیں صدمے اُٹھانے نئے نئے
ادا شناس تو تھے جانِ جاں، بس آئے ہیں
تِری گلی سے فقط جسم واپس آئے ہیں
کس آئینے میں جہاں دِیدگاں کی دِیدن ہو
کثیر پیشِ نظر بیش تر پس آئے ہیں
ذرا سی رنجشِ بیجا کا کیا ہُوا مذکور
مخالفین بہ اندازِ کرگس آئے ہیں
ہُو کے عالم میں بھی اک شور سُنائی دے گا
جو سماعت کو بہت میٹھا سُجھائی دے گا
حیف نفرت کے جزیروں میں بھٹکتے رہ کر
ایک انسان محبت کی دُہائی دے گا
ایک دن لوگ محبت سے شناسا ہوں گے
اور یہ ساز بہت دُور سنائی دے گا
قدموں سے اتنا دُور کنارہ کبھی نہ تھا
نا قابلِ عبُور یہ دریا کبھی نہ تھا
تم سا حسیں ان آنکھوں نے دیکھا کبھی نہ تھا
لیکن یہ سچ نہیں کوئی تم سا کبھی نہ تھا
ہے ذکر یار کیوں شبِ زِنداں سے دُور دُور
اے ہم نشیں! یہ طرز غزل کا کبھی نہ تھا
کس طرح وہ عالم کو نہ دیوانہ بنا دے
یہ حُسن، یہ انداز و ادا جس کو خُدا دے
دیکھی نہیں جاتی ہے کسی سے مِری حالت
اب وہ بھی یہ کہتے ہیں؛ خُدا اس کو شفا دے
پھر ہوش کے عالم میں بھلا آؤں میں کیونکر
غش میں مجھے دامن سے جو وہ اپنے ہوا دے
سب کو وہ خود نما سا لگتا ہے
اور مجھے دل جلا سا لگتا ہے
کتنا شکی مزاج ہے اس کا
کچھ ستایا ہوا سا لگتا ہے
وعدہ کرتا ہے قسمیں کھا کھا کے
وہ تو کچھ بے وفا سا لگتا ہے
غم یونہی وقت پر نہیں پہنچے
تم کسی وقت پر نہیں پہنچے
آپ سے تو بہت اُمیدیں تھیں
آپ ہی وقت پر نہیں پہنچے
اس کے پیچھے بھی اک کہانی ہے
ہم یونہی وقت پر نہیں پہنچے
جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھُپا کر
وہ گُزرے ہیں پہلو سے آنکھیں چُرا کر
مِری زندگی میں جمُود آ گیا ہے
نئے حادثے کی کوئی ابتداء کر
غموں کے اندھیروں میں گُم ہو گیا ہے
دلوں میں چراغِ محبت جلا کر
بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
منتظر عُشّاق کو چہرہ دِکھانا چاہیے
باوجود اس عشق میں کیا کیا ستم ہم نےسہے
پھر بھی پاگل دل مِرا کہ دل لگانا چاہیے
ہم سرِ محفل سے اب تک شعر ہی کہتے رہے
آپ کو بھی کچھ نہ کچھ اب تو سنانا چاہیے
محبت کے سفر میں ایک ایسا بھی مقام آیا
سہارے کے لیے لب پر تمہارے میرا نام آیا
ہوا ساکت فضا مبہوت اور لب بند غنچوں کے
چمن میں کون ہنگام سحر نازک خرام آیا
پناہیں ڈھونڈ لیں خورشید نے کہسار کے پیچھے
جو دیکھا شام کو اک ماہ وش بالائے بام آیا
دردِ تنہائی الگ ہے شادمانی ہے الگ
میرا قِصہ اور ہے ان کی کہانی ہے الگ
ایک ہے موسم خزاں کا ایک ہے فصلِ بہار
دورِ پِیری ہے الگ عہدِ جوانی ہے الگ
جامِ صہبا میں کہاں ایسا مزا ہے ساقیا
تیری آنکھوں کی شرابِ ارغوانی ہے الگ
تم نے جب دنیا الگ اپنی بسا رکھی ہے
میں نے پھر کس لیے یہ بزم سجا رکھی ہے
نہ کوئی حرفِ تسلی،۔۔ نہ فریبِ وعدہ
شمع امید کی پھر کیوں یہ جلا رکھی ہے
تم کہیں غیر کی محفل میں ہو جلوہ افروز
میں نے کس آس پہ یہ سیج سجا رکھی ہے
آرزو کا یہ زاویہ کیا ہے
عشق میں خواہشِ صِلہ کیا ہے
میں پریشان کس لیے ہوں گا
تُو میسّر ہے تو گیا کیا ہے
ساتھ چلنا ہے تو خُوشی سے چل
بات بے بات سوچتا کیا ہے
اہلِ وفا سے رابطہ جس وقت کٹ گیا
میرا وجود بانہوں میں اپنی سمٹ گیا
جانے عجب خیال سے کل دھک سے رہ گیا
دستک دئیے بغیر میں در سے پلٹ گیا
جُگنو تمہاری یاد کے دل میں اُتر گئے
تاریک شہرِ دل کا جو منظر تھا چھٹ گیا
فصلِ گُل میں بات ساقی کی اُٹھا سکتے نہیں
ناصحا! ہم لفظ توبہ لب پہ لا سکتے نہیں
ہے بہت ممکن جفاؤں کو تِری ہم بھُول جائیں
یاد کو تیری مگر دل سے بھُلا سکتے نہیں
اشکِ پیہم سے نہیں ہونے کی کم دل کی جلن
اس بھڑکتی آگ کو آنسُو بُجھا سکتے نہیں
خنجر سے کچھ ہے کام نہ شمشیر سے غرض
دل کو تو اس نگاہ کے ہے تیر سے غرض
رکھتے ہیں ہم ولی نہ کسی پیر سے غرض
گر ہے تو اپنے شپر و شپیر سے غرض
دنیا کے لوگ رکھتے ہیں تدبیر سے غرض
ہم کو ہے اپنے پالک تدبیر تدبیر سے غرض
ہم چل پڑے تھے، جسم شکستوں سے چُور تھا
صحرا تھا ہم سے دُور، سمندر بھی دُور تھا
یک لخت دل کو تھام کے بیٹھا ہے آسمان
قطعہ زمیں کا آج جو بھڑکا وہ طُور تھا
پاؤں انا کی بیڑیوں نے باندھے تھے مگر
ملنے کے واسطے مجھے آنا ضرُور تھا
راہ میں یوں تو مرحلے ہیں بہت
ہمسفر پھر بھی آ گئے ہیں بہت
یہ الگ بات ہم نہ ڈھونڈھ سکے
ورنہ منزل کے راستے ہیں بہت
جن کو منزل نہ راستے کا پتہ
ایسے رہبر ہمیں ملے ہیں بہت
جب چودھویں کا چاند نکلتا دکھائی دے
وہ گیروا لباس بدلتا دکھائی دے
دریائے زندگی کہ نگاہوں کا ہے قصور
ٹھہرا دکھائی دے کبھی چلتا دکھائی دے
پڑنے لگے جو زور ہوس کا تو کیا نگاہ
ہر زاویے سے جسم نکلتا دکھائی دے
میں کیسے مان لوں کہ عشق بس اک بار ہوتا ہے
تجھے جتنی دفعہ دیکھوں مجھے ہر بار ہوتا ہے
فقط کٹنے کو یوں بھی کٹ رہی ہے زندگی لیکن
وہی ہے زندگی جس پل تِرا دیدار ہوتا ہے
تجھے پانے کی حسرت اور ڈر ناکامیابی کا
انہیں دو تین باتوں سے یہ دل دو چار ہوتا ہے
تمنا ہے تمنا میں تِری جی سے گُزر جائیں
یہی ہے آرزو اپنی اسی خواہش میں مر جائیں
گُناہوں میں سما جائیں، کلیجے میں اتر جائیں
مِری دنیائے ہستی میں تِرے جلوے بکھر جائیں
نہ دنیا میں ٹھکانہ ہے، نہ عقبیٰ میں ٹھکانہ ہے
تِرے بندے اگر جانا بھی چاہیں تو کدھر جائیں
زندگی
زندگی
تُو اتنی بے رحم تو نہ تھی
جب میں نومولود تھی
جب پیر کے تلووں کو
زمین پہ رکھنا
اور رکھ کر سنبھلنا سیکھا تھا
کیے آنے میں اس نے بھی بہانے
کہ دیکھی تھی ادا تیری قضا نے
نہیں یہ آدمی کا کام واعظ
ہمارے بُت تراشے ہیں خُدا نے
نزاکت کو پسینہ آ نہ جائے
کسے باندھا تِرے بندِ قبا نے
اس پار تو رہتے تھے کہ اس پار ہوئے ہم
جاناں کی سہیلی کے بھی دلدار ہوئے ہم
یکطرفہ محبت میں بھی چین نہیں تھا
دوطرفہ محبت سے بھی بیزار ہوئے ہم
دل اب بھی یہ کہتا ہے حسینوں کا ہو میلہ
اس حُسن پرستی میں تو بیمار ہوئے ہم
وجہِ شہرت تِری آشفتہ سری میری ہے
شہر تیرا ہی سہی، دربدری میری ہے
چُن لیا لاکھ خُداؤں میں پُرستش کے لیے
حُسن تیرا ہی سہی، دیدہ وری میری ہے
ہے خبر موسمِ سفّاک کی مجھ کو لیکن
بارشِ سنگ میں بھی شیشہ گری میری ہے
ہم لوگ کسی دل میں اتر کیوں نہیں جاتے
دھرتی پہ ہیں گر بوجھ تو مر کیوں نہیں جاتے
ہر گام پہ ملتی ہیں تجھے منزلیں کیسے
بے کار تمہارے یہ سفر کیوں جاتے
رہتی ہے انھیں دیکھ کے پھر دید کی خواہش
دل حسن کے دیدار سے بھر کیوں نہیں جاتے
میری ہر نظر تنہا، سُونی رہگزر تنہا
زندگی کے صحرا میں کر رہی سفر تنہا
دُھوپ ہے نہ بادل ہے، چھاؤں ہے نہ آنچل ہے
بھیگتی رہی یوں ہی میری چشمِ تر تنہا
آپ کو مبارک ہو محفلیں بہاروں کی
میرا کیا، اگر میری ہو گئی سحر تنہا
لگا ہے روگ جب سے عاشقی کا
مزا آنے لگا ہے زندگی کا
اسے ہم دوستی کیسے کہیں گے
بھروسہ جب نہیں ہے دوستی کا
خودی سے بے نیاز ہو جائیے گا
عبادت نام ہے دیوانگی کا
ہے میرے گِرد یقیناً کہیں حِصار سا کچھ
اور اس کو بھی ہے دُعاؤں پہ اعتبار سا کچھ
کہیں تو گوشۂ دل میں اُمید باقی ہے
کہیں ہے اس کی نظر میں بھی انتظار سا کچھ
کہا جب اس نے کے آنکھوں پہ اعتبار نہ کر
تو میں نے مانگ لیا دل پہ اختیار سا کچھ
ڈر مجھے بھی لگتا ہے کم نظر زمانے سے
کیا کروں نہ مانے جب دل مِرا منانے سے
جل اُٹھا تھا پل بھر کو آپ کی عنایت سے
بُجھ گیا چراغِ دل آپ کے بُجھانے سے
وہ تو لا اُبالی ہے کیا اسے خبر ہو گی
ہم پہ کیا گزرتی ہے حالِ دل چُھپانے سے
نظروں کے یہ تیور لب و رُخسار کا لہجہ
غُنچوں میں چٹکنے لگا گُلزار کا لہجہ
آنکھوں کی جل پری نے خیالوں کی ریت پر
نٹ کھٹ سمندروں کے گھروندے بنائے تھے
گھر کے آنگن سے بھی اُٹھتا ہے غُبار
صرف گلیوں ہی میں دُھول اُڑتی نہیں
کوئی بھی ہنستا ہوا پھر نظر نہیں آیا
گیا وہ جب سے یہاں لوٹ کر نہیں آیا
تم اپنے آپ کو الفت شناس کہتے ہو
یہی تو مجھ میں ابھی تک ہنر نہیں آیا
کسی نے خاک اڑائی ہے بدگمانی کی
زمانہ بیت گیا وہ ادھر نہیں آیا
یہ دردِ عشق شروعات میں مزہ دے گا
پھر اس کے بعد یہ پاگل تجھے بنا دے گا
لگائے بیٹھے ہیں اُمید بے وفا سے ہم
وفا کا جام کبھی تو ہمیں پِلا دے گا
مِرا طبیب ہی جب مُبتلا ہے خود غم میں
مِرے مرض کی بھلا کیا مجھے دوا دے گا
جا نہ تُو حسرتِ دیدار ابھی باقی ہے
اک رمق مجھ میں دمِ یار ابھی باقی ہے
کیوں نہ دیکھوں انہیں نظروں سے خریدار کی میں
حُسن کی گرمئ بازار ابھی باقی ہے
سب ہوئے حسرت و ارماں تو شبِ غم میں شہید
رہ گیا اک یہ گُنہ گار ابھی باقی ہے
یہ کسے تھی خبر دل لگانے کے بعد
غم بھی مل جائیں گے مسکرانے کے بعد
کس جہاں میں خدا جانے وہ کھو گئے
مجھ کو اک بار صورت دکھانے کے بعد
جان پایا ہوں میں وہ ہے پتھر جگر
اپنی آنکھوں سے آنسو بہانے کے بعد
اک پریشانی الگ تھی اور پشیمانی الگ
عمر بھر کرتے رہے ہم دودھ اور پانی الگ
ریت ہی دونوں جگہ تھی زیر مہر و زیر آب
مصرع اولیٰ سے کب تھا مصرع ثانی الگ
دشت میں پہلے ہی روشن تھی ببولوں پر بہار
دے رہے ہیں شہر میں کانٹوں کو سب پانی الگ
سوال
جب میں نے کہا تھا تم سے
کہ مجھے تم سے محبت نہیں
اور ایک گہری سانس لی تھی تم نے
وہ کوئی بیان نہیں بلکہ ایک سوال تھا
جواب تھی؛ وہی گہری سانس
برنگِ شمع رو رو کر بسر کی
شبِ غم اس طرح ہم نے سحر کی
بتائیں کیا کہ کس نے لے لیا دل
خدا جانے کہ آفت تھی کِدھر کی
کہاں تک ساقیا! جورِ تغافل؟
خبر لے اپنے مست بے خبر کی
دیوارِ رہ گزار اگر راستہ نہ دے
ڈر ہے مِرا جنون اِسے بھی گِرا نہ دے
یہ جو تِرے خیال میں گُم ہے تِرا فقیر
اُنگلی پہ کائنات کو اِک دن گُھما نہ دے
اِس واسطے ہوا سے میں کرتا نہیں کلام
یہ شوخ سارے شہر کو جا کر بتا نہ دے
منظر منظر قریہ قریہ تھے تم بھی
خاک نژادو پھول ستارہ تھے تم بھی
اب شہر صد جبر میں ساکت ہم ٹھہرے
عہد تحیر میں نا رفتہ تھے تم بھی
میں صدیوں کی آرائش کرنے والا
میرے مساعی کے پروردہ تھے تم بھی
عجیب اس سے بھی رشتہ ہے کیا کِیا جائے
وہ صرف خوابوں میں ملتا ہے کیا کیا جائے
جہاں جہاں تیرے ملنے کا ہے گمان وہاں
نہ زندگی ہے نہ راستہ ہے کیا کیا جائے
غلط نہیں مجھے مرنے کا مشورہ اس کا
وہ میرا درد سمجھتا ہے کیا کیا جائے
اس لیے آتے ہیں سیلاب مِری آنکھوں میں
جاگتے رہتے ہیں کچھ خواب مری آنکھوں میں
یہ محبت کے بڑے خاص سبق ہوتے ہیں
تم نے دیکھے ہیں جو آداب مری آنکھوں میں
میں وہ صحرا جہاں اُمید نہیں بارش کی
ڈُوبتے جاتے ہیں سیراب مری آنکھوں میں
موسمِ گُل پھر آنے لگا ہے
پھر وہی غم ستانے لگا ہے
آنکھ کی یہ نمی کہہ رہی ہے
یاد پھر کوئی آنے لگا ہے
دیکھ کر اس کے ہاتھوں میں پتھر
آئینہ🪞 مسکرانے لگا ہے
حوصلے ان کے بھی بڑے ہوں گے
تیرے ہی در پہ جو پڑے ہوں گے
مُفلسی میں ہی جو بڑے ہوں گے
عید کے دن بھی گھر پڑے ہوں گے
جو تجھے پانے کو لڑے ہوں گے
وہ یقیناً کئی دھڑے ہوں گے
اگرچہ کام تو مُشکل تھا، کام کرنا پڑا
دِیا🪔 جلا کے ہوا سے کلام کرنا پڑا
شجر🌴 کی مثل بنانا پڑا بدن اپنا
پھر اس کا سایہ پرِندوں کے نام کرنا پڑا
بہت ہی نِرخ گِرانے پڑے مجھے اپنے
جو چیز خاص رہی اس کو عام کرنا پڑا
زندگی غم شناس تھی ہی نہیں
تم جو تھے کوئی پیاس تھی ہی نہیں
صرف رنگینیاں تھیں چاروں طرف
شام کوئی اُداس تھی ہی نہیں
اِک عجب بے حِسی کا عالم تھا
کوئی جینے کی آس تھی ہی نہیں
نظم "اور ایک دل" سے اقتباس
اے مجنوں کے مریدو
فرہاد کے وارثو
تمہارا دل
تمہارے محبوب کی محبت سے شاد رہے
تمہاری آنکھیں
راولپنڈی شہر
دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
جانے کس وقت پلٹ آئے وہ جانے والا
صبح کو بھولا سر شام پلٹ آئے تو بھولا نہ کہو
دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
یہ ضروری ہے بہت
سبب دردِ جگر یاد آیا
یعنی وہ تیرِ نظر یاد آیا
جِھلملانے لگے پلکوں پہ نجوم
پھر کوئی رشکِ قمر یاد آیا
اپنی منزل کے نشاں پاتے ہی
مجھ کو آغازِ سفر یاد آیا
عجب تماشا سا چل رہا ہے
غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے
پنپ رہی ہے منافقت بھی
عروج پستی میں ڈھل رہا ہے
اِسی لیے تو وہ مر رہا ہے
حسد کی بھٹی میں جل رہا ہے
نہ دن اپنا نہ شب اپنی نہ دل اپنا نہ جاں اپنی
اسی انداز سے کاٹی ہے یہ عُمرِ رواں اپنی
وہ اس کی چشم آہو کو جو دیکھا سُرمہ سا میں نے
سکوں کھویا خرد کھوئی وہ طرز زندگاں اپنی
رُخِ گُلنار پر خال سیہ اس کا وہ تابندہ
وہ اک تصویر جادو اور نگاہِ ناتواں اپنی
اُداسی کی یہ عادت ہی کہاں تھی
ہمیں اس کی سہولت ہی کہاں تھی
تمہیں جانا ہی تھا تو در کُھلا تھا
بہانوں کی ضرورت ہی کہاں تھی
ذرا ہم بیٹھتے کچھ بات کرتے
تمہیں اتنی سی فُرصت ہی کہاں تھی
بادل بارش سرد ہوائیں میں اور تُو
کالی اور گھنگھور گھٹائیں میں اور تو
نفرت سے بے نور ہوئے اس عالم میں
چاہت کی انمول ضیائیں میں اور تو
تُو مجھ سے میں تجھ سے لے لوں غم تیرے
اک دُوجے کی کریں دُعائیں میں اور تو
نئی حیات کے سانچے میں
نئی حیات کے سانچے میں ڈھل رہا ہے وطن
بدل رہا ہے وطن
نئی اُمنگ نیا حوصلہ جگائے ہوئے
ترقیوں کی طرف پاؤں تیز اُٹھائے ہوئے
تمام اُلجھی ہوئی گُتھیوں کو سُلجھا کر
کب میں اترا تھا زمیں پر کسی توقیر کے ساتھ
گھپ اندھیرا تھا فقط وعدۂ تنویر کے ساتھ
اس کی یکتائی کو تسلیم نہ کرتا تو بھلا کیا کرتا
کھینچ لیں اس نے طنابیں میری تصویر کے ساتھ
نیند کی آنکھ سے چشمک تھی سو ہم برسوں تک
خواب بنتے ہی رہے خواہش تعبیر کے ساتھ
کہاں ہو گا کدھر ہو گا دل ناکام کیا ہو گا
خدا جانے محبت میں تِرا انجام کیا ہو گا
طبع آزاد پیدا کر،۔ دل بے خوف پیدا کر
جسے ڈر محتسب کا ہو وہ مے آشام کیا ہو گا
نیا دیوانہ ہوں مجھ کو نئی زنجیر سے باندھو
پرانا انتشارِ زلف میرا دام کیا ہو گا
پونجی
دولت لالچ ہوس
جھوٹ فریب نفرت
یہ اب عیب نہیں
انسانی فطرت میں
گھلے ملے رنگ ہیں
اسے کہنا
بہار آنے سے پہلے
پرندے جب سفر سے لوٹ آئیں گے
تو ان کے نقرئی بے داغ چمکیلے پروں پر
ہواؤں نے تمہارا نام کندہ کر دیا ہو گا
جمیل احسن
حویلیوں سے بھی جنازے نکلتے ہوں گے
عروسی جوڑے کے آنچل بکھرتے ہوں گے
کُوزے میں سمندر سمانے والو سوچو
سمندر کبھی کُوزے سے سرکتے ہوں گے
کارو کاری پر جِرگہ ہو تو ہر سر پنج
امید سحر پہ تعفّن سے بکھرتے ہوں گے
تیری آنکھوں سے کچھ روشنی آتی ہے
دل پہ جیسے کوئی چاندنی آتی ہے
میری ہر سانس تیرے خیالوں میں ہے
تجھ سے مل کر نئی زندگی آتی ہے
خامشی میں بھی گونجتی ہے صدا
جب تُو بولے،۔ تو بندگی آتی ہے
محبت کا یہ شیوہ ہے سرِ تسلیم خم کرنا
جسے دل میں بسانا ہو اسی کا ذکر کم کرنا
فراقِ یار میں رونا،۔ فغانِ دم بہ دم کرنا
رخِ جاناں کے ہر پرتو پہ میرا سر کو خم کرنا
عجب لگتا ہے اہلِ دید کو طرزِ عمل میرا
اک اس کی دید کی خاطر یہ آنکھیں جامِ جم کرنا
بادلوں سے ٹوٹ برسے آج پانی دیر تک
اے خدا اس شب رہے یہ رت سہانی دیر تک
جگنوؤں کی روشنی سے جھلملائیں راستے
چاندنی سے ہم کریں یہ بے ایمانی دیر تک
رات کی رنگین سڑکیں بھیگے بھیگے یہ شجر
کار کے شیشوں سے جھانکے زندگانی دیر تک
کہاں ہے وہ گُلِ خنداں ہمیں نہیں معلوم
نہ پُوچھ بلبلِ نالاں! ہمیں نہیں معلوم
فِراق ہی میں بسر ہو گئی ہماری عُمر
ہے کون وصل سے شاداں ہمیں نہیں معلوم
ہمیں تو ایک صدائے جرس ہی آتی ہے
ہوا ہے کون ہُدی خواں ہمیں نہیں معلوم
دُھواں دُھواں ہے سرِ آسماں خُدا حافظ
دھڑک رہا ہے دلِ ناتواں، خدا حافظ
نہ کوئی میرِ سفر ہے نہ کوئی منزل ہے
بھٹک رہا ہے مِرا کارواں، خدا حافظ
نہ ا،لتفات نہ پُرسش، نہ واسطہ نہ کلام
وہ ہو گئے ہیں بہت بد گُماں خدا حافظ
تُو میری عادتوں میں ذرا بھی نہ ڈھل سکا
پھر بھی چلوں گا ساتھ میں جتنا بھی چل سکا
تُو زندگی میں سامنے آئے گا جب کبھی
میں راستہ بدل لوں گا گر میں بدل سکا
دنیا میں کامیابی سمیٹوں گا ایک دن
جانی تِرے خیال سے گر میں نکل سکا
یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا
اب وہ شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا
چہرے کا ان کے اب وہ نمک بھی پگھل گیا
موسم ہمارے دل کا ہرا بھی نہیں رہا
دل توڑتے ہیں جیسے کوئی پھول توڑ دے
پاس و لحاظ ان کو ذرا بھی نہیں رہا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو رضائے مصطفیٰؐ، رب کی رضا جانے فقط
دل وہی ان کی اطاعت کا مزہ جانے فقط
ابتدا ہے نور جس کی ، نورِ اول جس کا نور
بس خدائے پاک اس کی انتہا جانے فقط
چاہے اپنا ہو پرایا ہو کوئی دشمن یا دوست
ہر کسی کو وہ سزاوارِ دعا جانے فقط
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے راہِ حق یہی، یہی رستہ رسولﷺ کا
منشا ہے جو خدا کا، ہے منشا رسولﷺ کا
لازم ہے ہم پہ مِدحتِ آقائے نامدارﷺ
یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول ﷺ کا
دونوں جہاں میں صلِ علیٰ کی ہے باز گشت
ہوتا ہے جن و اِنس میں چرچا رسولﷺ کا
چاند دریا پار کر کے آ رہا ہے
آ گئی ہے رت بہار
سبز پتے سبز تتلی سبز منظر انتظار
عطر آگیں ہیں ہوائیں
پیڑ کی گردن پہ ہنستا ہے تری یادوں کا ہار
ایک سایہ پیڑ پر چڑھتا ہوا
میں خوش کیسے رہ سکتا ہوں
سب کے پاس سب کچھ ہے
سب کی مرادیں پوری ہو گئیں
سب کے خواب
تعبیر کا رس پا کر رسیلے ہو گئے
اور میں؟
درد دل کی دوا نہ ہو جائے
زندگی بے مزا نہ ہو جائے
لطف دیتی ہے کیا امید وفا
بے وفا با وفا نہ ہو جائے
کیسے بیتاب ان کو دیکھوں گا
آہ یا رب رسا نہ ہو جائے
پل دو پل کی جو آشنائی تھی
مجھ کو لگتا تھا کل خدائی تھی
میں نے ٹھکرا دیا تھا دنیا کو
جب یہاں تو پلٹ کے آئی تھی
پھر کسی دوسرے کے ہو جانا
یہ بتا مجھ میں کیا برائی تھی؟
سونپتے ہیں تجھے
تم اچانک گئیں
میں رہا سوچتا
کون جانے بھلا
کب یہ رستے مڑیں
ہم دوبارہ ملیں
رُخِ حیرانئ منظر ہی اُسے یاد نہ تھا
میرے آئینے کا جوہر ہی اسے یاد نہ تھا
یاد تھیں اس کو سب آرام گہیں دُنیا کی
مُجھ شبستان کا بستر ہی اسے یاد نہ تھا
میں نے دِکھلائے اسے نقش و نگارِ ہستی
اپنی معدومی کا پیکر ہی اسے یاد نہ تھا
اپنے حصار جسم سے باہر بھی دیکھتے
ہم آئینے کے سامنے ہو کر بھی دیکھتے
عکس فلک سے ٹوٹتا کیسے جمود آپ
پتھر گرا کے جھیل کے اندر بھی دیکھتے
کرتے پلٹ کے اپنے ہی سائے سے گفتگو
صحرا میں زرد رنگ سمندر بھی دیکھتے
دل میں خیال کچھ ہے زباں پر ہے کچھ بیاں
کیوں کر بھلا کسی کی رذالت ہو یوں عیاں
خلوت میں یوں تو ہوتے ہیں دونوں بہت قریب
لیکن حجاب رہتا ہے دونوں کے درمیاں
اسلاف جس کے سوز سے رہتے تھے مضطرب
پیدا ہمارے دل میں کہاں ہیں وہ گرمیاں
خیال آتا ہے جس دم دل میں چبھتا ہے سناں ہو کر
کہ کیوں ہے قبضۂ اغیار میں ہندوستاں ہو کر
شہیدانِ وطن کا خون اک دن رنگ لائے گا
چمن میں پھوٹ کر نکلے گا رنگِ ارغواں ہو کر
فقط دار و رسن ہی کامیابی کا ذریعہ ہے
مقاصد تک یہ پہنچائے گی ہم کو نردباں ہو کر
کتنا فرق ہو گا
تم سُہاگ کے بستر پر فتح مندی سے چُور ہو جاؤ گے
اپنا جھنڈا گاڑو گے
بے خبر سو جاؤ گے
اور میں
میرے ہاتھ ٹھنڈے رہیں گے
دل کو پابند رنگ و بُو کر کے
آبرُو کھوئی آرزُو کر کے
خود کو کھو بیٹھے اپنے ہاتھوں سے
کیا ملا ان کی جستجُو کر کے
خدمتِ خلق سے ہوئے مخدوم
آبرُو پائی آبرُو کر کے
یوں سانس لے رہے ہیں کہ جینا محال ہے
زندہ ہیں پھر بھی ہم، یہ ہمارا کمال ہے
تُو لاکھ شیشہ گر سہی، اتنا مجھے بتا
جائے گا کیسے شیشۂ دل میں جو بال ہے
پھر زخمِ دل سے تازہ لہو پھُوٹنے لگا
باقی ابھی تو مرحلۂ اندمال ہے
جو الفت میں مٹا رسوا ہوا سارے زمانے میں
یہی حاصل تو ہوتا ہے کسی سے دل لگانے میں
بجز آزار و غم کے نفع کیا ہے دل لگانے میں
دھرا ہے اور کیا عشق و محبت کے فسانے میں
یہی خواہش ہے ان کی خون ہو میری تمنا کا
شبِ وعدہ نہ ہوں مشغول کیوں مہندی لگانے میں
دلگیر ہیں، بس اس لیے دلشاد نہیں ہم
کہنے کو تو آزاد ہیں، آزاد نہیں ہم
اب کون سِکھائے ہمیں تہذیب و تمدن
اک قوم ہیں جنگل میں تو آباد نہیں ہم
برتر نہیں کوئی بھی فقط حسب و نسب سے
سوچو ذرا اک باپ کی اولاد نہیں ہم؟
زندگی پہ اب اپنا اعتبار مشکل ہے
خواب میں ہی مل جاؤ انتظار مشکل ہے
عمر مختصر پہ ہے بوجھ کتنے کاموں کا
اس جہان میں دیکھو تم سے پیار مشکل ہے
تھک کے بیٹھنے والے سوچ اس کے دل کا بھی
تجھ سے زیادہ جس پر اب تیری ہار مشکل ہے
ہم آستانۂ پیرِ مغاں سے آتے ہیں
کہ لامکاں سے بھی اونچے مکاں سے آتے ہیں
ہماری جان فدا جس کے اک اشارے پر
ہم اپنی جان کے اس پاسباں سے آتے ہیں
میں تجھ پہ جان سے صدقے تصورِ جاناں
مِری لحد میں یہ جلوے کہاں سے آتے ہیں
کیوں ملاتا ہے ہاں میں ہاں سمجھ لیتے
کاش اس حقیقت کو نکتہ داں سمجھ لیتے
غم کی بے پناہی نے کھول دی گِرہ دل کی
ورنہ دردِ پنہاں کو وہ کہاں سمجھ لیتے
نالۂ شبِ ہجراں، کتنا درد آگیں ہے
کاش اس اذیت کو جانِ جاں سمجھ لیتے
واپسی
میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے
دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں
دور سے گھر نظر آیا روشن
ساری بستی میں ملا ایک مِرا گھر بے خواب
پاس پہنچا تو وہ دیکھا جو نگاہوں میں مِری گھوم رہا ہے اب تک
ان نگاہوں کو عجب طرزِ کلام آتا ہے
ایسا لگتا ہے بہاروں کا پیام آتا ہے
مرحلہ ہوتا ہے جب دار و رسن کا درپیش
قرعۂ فال ہم ایسوں ہی کے نام آتا ہے
اے مِرے ناصحِ مشفق کبھی یہ بھی سوچا
کون دنیا میں خوشی سے تہِ دام آتا ہے
خالی کاغذ
میں دیکھتی ہوں
پیڑ کٹ رہے ہیں
آشیانے بکھر رہے ہیں
میں دیکھتی ہوں
شاخیں قلم بنی ہیں
جھُوٹ کو سچ کبھی نہیں کہتے
آہ کو نغمگی نہیں کہتے
ان کہی ان کہی ہی رہتی ہے
ان کہی کو کہی نہیں کہتے
رات کی آنکھ نم اگر نہ ہو
صُبح کو شبنمی نہیں کہتے
عجب میکانکی سی زندگانی ہے
میں سارا دن مشینوں
اور لوگوں کے مشینی رکھ رکھاؤ سے اُلجھتا ہوں
میں دب کر رہ گیا ہوں فائلوں کے بوجھ کے نیچے
مِری چیخیں حلق میں دب گئی ہیں
میری نظمیں دُور بہتی آبشاروں کے کنارے
ہوا چلتی ہے، دل کہتا ہے، کب اُن سے ملیں گے
بدن سے جاں نکل جائے گی، تب اُن سے ملیں گے
تمہیں تو خیر دل کی بات کہنی ہے کسی طور
مگر کچھ لوگ ہیں جو بے سبب اُن سے ملیں گے
ہوئے تھے میر بھی رُسوا محبت میں کسی دن
بھُلا کر ہم بھی اب نام و نسب اُن سے ملیں گے
بس ایسے ملے کہ
جدا ہو گئے ہم
جدا ہو کر پھر ہم
شجر میں کھلے یوں
کنارے بھی کئی
ندی کے پھر دیکھے
دل رکھتا ہے جو شخص، وہ دلبر نہیں رکھتا
یاں تاج وہ پاتا ہے کہ جو، سر نہیں رکھتا
آلودہ فضاؤں کا اثر اس میں یہ ہوا ہے
وہ پہلی سی بُو باس، گُلِ تر نہیں رکھتا
اس نے مِرے ہاں آنے کا وعدہ تو کیا ہے
افسوس مگر یہ ہے کہ میں گھر نہیں رکھتا
ایک صاحب نے نجومی سے کہا یہ تو بتا
کہہ رہا ہے کیا ستارہ اب مِری تقدیر کا؟
ہوتی ہے دائیں ہتھیلی میں مِرے کھجلی بہت
یہ بتا میرا مقدر کیا مجھے دِکھلائے گا
زائچہ دیکھا نجومی نے تو بتلایا انہیں
یہ نشانی ہے تجھے پیسہ بہت مل جائے گا
دُنیائے حُسن و عشق کے سب رنگ و بُو سفید تھے
اس مے کدے کے بام و در، جام و سبُو سفید تھے
ہم نے تو اپنے خُون سے لکھی وفا کی داستاں
ان کو سمجھ نہ آ سکی جن کے لہُو سفید تھے
آنکھیں جو محوِ خواب تھیں تیرے سیاہ پوش کی
شب تھی، کہ تیرے شہر کے سب کُوبُکو سفید تھے
آنکھ کی راہ سے بُجھتے ہوئے لمحے اُترے
اقرباء جتنے تھے کشتی کے وہ سارے اترے
اس سے کہتے ہو کہ پھر لوٹنا ہو گا چھت پر
سانس کی لے کو جو تھامے ہوئے زینے اترے
چھا گئی بچوں کے چہرے پہ نئی ہریالی
آج پھر پیڑوں سے آنگن میں پرندے اترے
چمکتے آنکھ سے آنسو تمہارے دو ہی دیکھے ہیں
زمین و آسمانوں میں ستارے دو ہی دیکھے ہیں
جو دیکھو ڈوب کر تو پھر کنارا تیسرا بھی ہے
بظاہر تم نے دریا کے کنارے دو ہی دیکھے ہیں
بس اک تھا میرے ہاتھوں میں اور اک تھا تیرے ہاتھوں میں
تو میں نے سارے بچپن میں غبارے دو ہی دیکھے ہیں
پیاری لڑکی
سُنو پیاری لڑکی
میری ہتھیلی پر خُوشی کی تتلیوں کے سب رنگ سجے ہیں
اگر اجازت ہو تو
تمہارے اُداس چہرے پر مل دوں؟
پیاری لڑکی
دوستو آ کر ہمیں سمجھائیے
ان کے آنے تک ذرا بہلائیے
ان نگاہِ ناز سے پینے کے بعد
کیوں عبث اب میکدے میں جائیے
نَو گرفتارانِ اُلفت سے ہمیں
وارداتِ عشق پھر سُنوائیے
نوحہ پڑھنے والا کوئی نہیں
موت میرے دروازے پر
دستک نہیں دیتی
حالانکہ اُسے ہمارا گلی نمبر معلوم ہے
ابھی کل کی بات ہے
ہمسایوں کی نئی نویلی دُلہن بھگا لے گئی
ایک مُسافر کی مجبوری سمجھو ناں
ذرے سے مہتاب کی دُوری سمجھو ناں
خانہ بدوشوں کی پُشتوں پہ رکھی ہے
روشن مُسقبل کی بوری سمجھو ناں
تم نے اُونچائی کی جانب پھینکا ہے
نیچے گِرنا بھی تو ضروری سمجھو ناں
کیوں یار چاہتا ہے بتا میرے یار اور؟
مجھ سا نہیں ملے گا تجھے غمگسار اور
جس کی طلب تھی مجھ کو وہی تو نہیں ملا
ویسے تو زندگی میں ملے بے شُمار اور
ممکن نہیں ہے زندہ رہوں اب کی بار میں
دشمن کا وار اور ہے، یاروں کا وار اور
تجھے تو لہر بھی، موجِ رواں نظر آئی
رِدائے خواب میں تھی میں، کہاں نظر آئی
خیال تھا، مِرے گھر پر بہار اُتری ہے
کواڑ کھولے ہیں جب بھی، خزاں نظر آئی
مِرا یقین، محبت 💓ہے درمیاں اپنے
مگر یہ کارِ حقیقت ❤ گُماں نظر آئی
چاہے وہم و گمان میں رکھنا
مجھ کو تو اپنے دھیان میں رکھنا
ناز کرتا ہو آسماں جس پر
شان ایسی اڑان میں رکھنا
خواب آنکھوں میں پالنا لیکن
جان اپنی لگان میں رکھنا
دولت نہ کوئی جاہ و حشم مانگ رہا ہوں
میں تجھ سے تِرا فضل و کرم مانگ رہا ہوں
محبوب ہے مجھ کو تِری چوکھٹ کی غلامی
دیکھو تو میں کیا دیدۂ نم مانگ رہا ہوں
ہو مجھ پہ عنایت تِری ہستی کے مطابق
میں تجھ سے تِری شان سے کم مانگ رہا ہوں
آئینہ دیکھتا ہوں نظر آ رہے ہو تم
کتنے قریب مجھ سے ہوئے جا رہے ہو تم
یہ کیا فریب ہے کہ جو فرما رہے ہو تم
میں خود کو ڈھونڈتا ہوں، ملے جا رہے ہو تم
تم کو یہ پیچ و تاب کی مشکل ہے میری راہ
مجھ کو یہ اضطراب کہ گھبرا رہے ہو تم
وقفِ اُلفت ہو برُوئے کار آئے دل کرے
آدمی کچھ تو حقوقِ زندگی حاصل کرے
وہ نگاہِ ناز مجھ کو بستۂ مُشکل کرے
جو بیک گردش مہِ نو کو مہ کامل کرے
دل کو کیا کیا حسرتیں ہیں قربِ حُسن دوست کی
پہلے یہ دیوانہ اپنا قُرب تو حاصل کرے
ہنستے ہو تم چُھپا کر زمانے کی تلخیاں
دیکھی ہیں آزما کے زمانے کی تلخیاں
تیری خموشی پھر تِری فطرت ہے کیوں بنی
خود میں سما سما کر زمانے کی تلخیاں
دیمک کے جیسے چاٹتی جاتی ہے یہ تجھے
سینے میں گھر بنا کر زمانے کی تلخیاں
اے سایۂ شب، نالۂ سفاک بند ہو
نیندوں کی کھلی جاتی ہے پیچاک بند ہو
معمارِ ہوا ایسا بھی زِندان بناؤ
جس خاک سے آنکھیں ہوئیں نمناک، بند ہو
تشکیل نہ دے حلیۂ سفاک، ٹھہر جا
اب رہنِ سِتم رقص ہوا، چاک بند ہو
مجھے دریا کی موجوں سے بچا لے جائے گا کوئی
میں ایسی بُوند ہوں جس کو چُرا لے جائے گا کوئی
بُجھا کر طاق میں رکھ دے گا یہ دستِ سحر مجھ کو
مگر جب شام آئے گی، جلا لے جائے گا کوئی
یہی کچھ سوچ کر اپنی حویلی چھوڑ آیا تھا
اگر میں رُوٹھ جاؤں گا منا لے جائے گا کوئی
کبھی کبھی چپ ہو جانے کی خواہش ہوتی ہے
ایسے میں جب تیر ستم کی بارش ہوتی ہے
حال ہمارا سننے والے جانے کیا سوچیں
یوں بھی کیسی کیسی ذہنی کاوش ہوتی ہے
دیواروں پر کیا لکھا ہے پڑھ کے بتلاؤ
کیا ایسی باتوں پر یارو نالش ہوتی ہے
تعلق ترک کرنے سے محبت کم نہیں ہوتی
بھڑکتی ہے یہ آتش دن بہ دن مدھم نہیں ہوتی
نبھانا آشنائی کر کے مشکل تو نہیں لیکن
کسی سے بھی محبت ناگہاں یکدم نہیں ہوتی
تمہاری سوچ پر ہیں منحصر رنگینیاں دل کی
یہ محفل بے وفائی سے کبھی درہم نہیں ہوتی
عشق کے دور میں کچھ ایسے بھی پہلو آئے
ہنسنا چاہا تو مِری آنکھوں میں آنسو آئے
اک تو وہ پھول ہی کاغذ کے اٹھا لایا ہے
اس پہ یہ ضد ہے کہ ان پھولوں سے خوشبو آئے
تُو کہاں تھا کہ تجھے ڈھونڈنے میرے گھر تک
کبھی بھنورے، کبھی تتلی، کبھی جگنو آئے
جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا
تھا وہ سُورج سا مگر پرچھائیوں میں کھو گیا
آنے والے وقت نے سمجھا اُسے اپنا نقیب
وہ پرِ پرواز کیوں پہنائیوں میں کھو گیا
میرا چہرہ اپنے پس منظر سے خُود واقف نہ تھا
بھِیڑ میں تو ساتھ تھا، تنہائیوں میں کھو گیا
مجھے اُس سے محبت ہو گئی ہے
جسے مُجھ سے عداوت ہو گئی ہے
مشینی شہر میں دو چار لمحے
بہت نایاب فُرصت ہو گئی ہے
میں بیکاری کے دوزخ میں پڑا ہوں
مِرے گھر میں قیامت ہو گئی ہے
وہ دل شکار کرے یا جگر نشانہ کرے
جفا کرے تو کرے ہاں کوئی دغا نہ کرے
وہ پھر حسیں ہی نہیں جو کبھی جفا نہ کرے
وہ اہلِ دل نہیں جو عمر بھر وفا نہ کرے
خدا کسی کو کسی سے کبھی جدا نہ کرے
بچھڑ کے تجھ سے میں پل بھر جیوں خدا نہ کرے
ان کی نظروں سے ملی داد فغاں سے پہلے
قلب بیدار دیا ہم کو زباں سے پہلے
اور بھی آئے ہیں عقال یہاں مارکس کے بعد
جیسے گزرے ہیں حسیں نورجہاں سے پہلے
جھوٹ اور سچ کو تو پھر دیکھیں گے پہلے یہ کہیں
آپ نے بات سنی ہے یہ کہاں سے پہلے
واپسی
میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے
دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں
دور سے گھر نظر آیا روشن
ساری بستی میں ملا ایک مرا گھر بے خواب
پاس پہنچا تو وہ دیکھا
رقیبِ جاں نظر کا نُور ہو جائے تو کیا کیجے
زیاں دل کو اگر منظور ہو جائے تو کیا کیجے
وفا کرنے سے وہ مجبور ہو جائے تو کیا کیجے
محبت رُوح کا ناسُور ہو جائے تو کیا کیجے
وہی چرچے وہی قصے ملی رُسوائیاں ہم کو
انہی قصوں سے وہ مشہور ہو جائے تو کیا کیجے
اپنے ناموس کا سودا نہیں ہونے دوں گا
میں اسے اور کسی کا نہیں ہونے دوں گا
لوگ مشکیزے لیے پانی کو ترسیں دن بھر
یہ تماشا لبِ دریا نہیں ہونے دوں گا
جیت کا جشن مناؤں گا مگر یاد رہے
اپنے دُشمن کو بھی رُسوا نہیں ہونے دوں گا
ہر اک خیال سے آگے ہر اک نگاہ سے دُور
مِرا مقام محبت ہے رسم و راہ سے دور
فُغاں سے دور ہوں، نالے سے دور، آہ سے دور
میں آج تک ہوں محبت کے ہر گُناہ سے دور
ہزار طرح اُٹھی ہے نگاہِ اہلِ ہوس
ہوا نہ حُسن مگر عشق کی پناہ سے دور
سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے
سارا عالم کسی بارود کا گھر لگتا ہے
بیٹھ جائیں گی یہ دیواریں کسی بھی لمحہ
اپنے گھر میں بھی تو رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے
اپنے ہمسائے کے حالات ہیں اپنے جیسے
اپنے ہی گھر کی طرح ان کا بھی گھر لگتا ہے
ان کی نگاہ ناز سے شرما رہا ہوں میں
اس دل کو اپنے باتوں سے بہلا رہا ہوں میں
جب آئیں گے وہ پاس مرے ہو گی میری عید
ان کو تخیلات میں ٹہلا رہا ہوں میں
پوچھے نہ کوئی حال میرا اس دیار میں
زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں
حدیثِ نسواں
علم و ادب سے آج ہر اک گھر ہے بوستاں
فنی، تمدنی، ہوئیں حاصل ترقیاں
یہ اک کرشمہ شہ عثمان ہے اب یہاں
لڑکوں کی طرح پاتی ہیں اسناد لڑکیاں
بنیاد عہد شہ میں ہوئی گرل گائیڈ کی
محفل میں اس کی جا کے میں خاموش ہو گیا
جو سوچ کے گیا تھا فراموش ہو گیا
احسان زندگی کا اٹھاتا کہاں تلک
سر کٹ گیا تو میں بھی سبکدوش ہو گیا
پردہ تھا شرم کا یہ سیاہی گناہ کی
میں ظلمتِ گناہ میں روپوش ہو گیا
کچھ اور ہے مجھ کو غم دوراں تو نہیں ہے
مضطر ہے دل شوق پریشاں تو نہیں ہے
لٹنے کی تمنا ہے مِرے گوہر دل میں
مفلس تو نہیں بے سر و ساماں تو نہیں ہے
کل ہو گی قیامت وہ یقیں بھی نہیں کرتا
ظالم کوئی کافر ہے مسلماں تو نہیں ہے
حکام کے آگے پیچھے پھر، حکام سے تیری یاری ہو
اک آدھ منسٹر کا بھی تو اے یار اگر درباری ہو
پھر تو ہی تو ہو دنیا میں، پھر تیری نمبر داری ہو
کیا رنگ برنگی کاریں ہیں کیا رنگ رنگیلے بنگلے ہیں
اس رنگ برنگی دنیا میں کچھ تو بھی ہاتھ یہاں رنگ لے
کچھ یہ رنگ لے، کچھ وہ رنگ لے
گناہ عشق میں اس بات کی تسکین ہوتی ہے
ہوا ہو جرم گہرا تو سزا سنگین ہوتی ہے
کھلے رکھتے ہو دروازے دریچے بارہا تم کیوں
سنو دنیا تماشوں کی بڑی شوقین ہوتی ہے
سفر میں دھوپ ہے تو کیا اداسی اوڑھ لو گے تم
ملے سائے جو تھے ان کی بڑی توہین ہوتی ہے
عقل بڑی بے رحم تھی اس نے
دل کو اس کے دُکھ کی گھڑی میں
تنہا چھوڑ دیا
جسم نے لیکن ساتھ دیا
دُکھ کے گہرے ساگر میں
دل کو چھاتی سے لِپٹائے
تخت میرا ہے تاج کس کا ہے
میرا اپنا مزاج کس کا ہے
روشنی کی مجھے نہیں حاجت
ماں کے آگے سراج کس کا ہے
دیکھتے ہیں رُتوں کی پیشانی
کل بھی کس کا تھا آج کس کا ہے
جس روِش پہ بے دھڑک زندگی کا راج تھا
اس سڑک پہ اب کوئی سنتری بٹھا گیا
خوف کی زمین پر کون باغبان تھا
خانہ دار تار کی بیل اِک اُگا گیا
اندر دھنستی دیواروں کے پار کہیں پر
ننگی بھُوکی خلقت میں کوئی
جنونِ عشق کی یہ فتنہ سامانی نہیں جاتی
نہیں جاتی ہماری چاک دامانی نہیں جاتی
مصیبت یوں کبھی دنیا میں پہچانی نہیں جاتی
نہیں آتی بلا جو سر پہ وہ مانی نہیں جاتی
گمانِ بد نہ کر اے محتسب رِندوں کی حالت پر
کہ ہو کر چاک دامن پاک دامانی نہیں جاتی
امن کی فاختہ بناتے ہوئے
پر تلک جل گئے اُڑاتے ہوئے
من سے خالی ہے اس لیے تجھ کو
طفل بھاتے نہیں ستاتے ہیں
لوٹ آئے گا وہ مِری خاطر
بس دلاسہ تھا اس کے جاتے ہوئے
آج بدلی ہے ہوا ساقی پلا جام شراب
برس کالی وعدہ جاتے ہیں برس کالے سحاب
آرسی سوں اب شراب ناب کھینچا چاہئے
نیند سوں اٹھ یار نے دیکھا ہے چشم نیم خواب
صاف دل ہو گر ہے تجھ کوں خواہش ترک ہوا
آب آئینہ اوپر آتا نہیں ہرگز حباب
جھوٹ کو سچ تُو مِرے یار بنا سکتا ہے
یہ ہُنر سُن تجھے سردار بنا سکتا ہے
تجھ کو بھی حق ہے سیاست میں چلے جانے کا
تُو اگر ریت کی دیوار بنا سکتا ہے
یہ نیا دورِ ترقی ہے یہاں سِکوں سے
کوئی خرقہ، کوئی دستار بنا سکتا ہے
ہمیں بھی ہیں فنون جنگ یہ جلنا بھی جلانا بھی
مگر رکھتے ہیں ہم دستور ملنا بھی ملانا بھی
کوئی سیکھے نظر سے کس طرح سب کو نچاتے ہیں
وہ اک پل میں نظر میں ان کی اٹھنا بھی گرانا بھی
چلو اک شام مے خانے یہی ارمان ہے مجھ کو
وہاں جی بھر کے میرے ساتھ پینا بھی پلانا بھی
خدا کے ہاں جب موازنۂ اُمم ہوا ہے
علیؑ کے بندوں کا نام پہلے رقم ہوا ہے
کہ گھر کے ملنے پہ جتنا ہوتا غریب ہے خوش
مِرے جنم پر بھی اُتنا ہی خوش اَلم ہوا ہے
غموں کی تعداد سے مجھے اب یہ لگ رہا ہے
یہ دل ہے کعبہ کہ سینہ صحنِ حرم ہوا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ملتفت کتنی مدینے کی ہوا لگتی ہے
یہ تو مہمان نوازی کی ادا لگتی ہے
کس کی آمد سے معطر ہے سحر کا دامن
یہ تو سرکارﷺ کی خوشبوئے قبائکتی ہے
دیکھنا ہے میں پہنچتا ہوں مدینے کہ نہیں
لوگ کہتے ہیں بزرگوں کی دعا لگتی ہے
بتاؤ کیا مداوا ہو؟
سفر میں جب کوئی منزل، پڑاؤ، راستہ نہ ہو
گھنا جنگل ہو وحشت کا
بگولے دائروں کے ہوں
محبت کی زمیں پر
جب کسی منہ زور دریا کا فقط الٹا بہاؤ ہو
زمانے کو خود سے نہ انجان رکھ
کوئی منفرد اپنی پہچان رکھ
مہک جائے خوشبو سے سارا جہاں
سجا کر محبت کا گُلدان رکھ
جو ہے کامیابی کی چاہت تجھے
نظر اپنی منزل پہ ہر آن رکھ
کر گئے اتنا نکما تِرے احساں ہم کو
فائدے سے بھی زیادہ ہوا نقصاں ہم کو
مے کشی سے ہمیں یہ فائدہ ہے اے زاہد
لگنے لگتے ہیں سبھی کام ہی آساں ہم کو
کون نقصان اٹھاتا ہے اصولوں کے لیے
دین و ایمان سے بڑھ کر ہیں دل و جاں ہم کو
ہر پھول کے چہرے پہ دِکھاوے کی ہنسی ہے
آنگن میں بہاروں کے خِزاں ناچ رہی ہے
بادل بہت آئے گئے، دھرتی رہی پیاسی
لگتا ہے سمندر ہی پہ برسات ہوئی ہے
یاروں نے کھڑی جھوٹ کی دیوار تو کر لی
نِکلی وہ مگر ریت کی جو بیٹھ گئی ہے
سنگِ بے حس ہیں یہ، رنگین شرارے تو نہیں
بُت کسی اور کے ہوں گے، یہ ہمارے تو نہیں
اِن سے کچھ کام نکل سکتے ہیں اِس دنیا کے
یہ اکابر مگر اُخریٰ کے سہارے تو نہیں
ہم نفس ہی سے ہے تکمیلِ چمن آرائی
شب کے ساتھی مِرے جگنو ہیں، ستارے تو نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تجھ سے فریاد ہے یہ گُنبد خضریٰ والے
تنگ کرتے ہیں غلاموں کو یہ دنیا والے
سخت حاجت ہے غلاموں کو مسیحائی کی
ہاں ذرا ایک نظر نازش ایشاں والے
آ بچا لے مجھے اس قبر کی تاریکی سے
زُلفِ خمدار کا صدقہ شبِ اسریٰ والے
آپ ہیں صاحب کرم تنہا
ہم ہیں گرویدۂ ستم تنہا
نہ خوشی ہے نہ آرزوئیں ہیں
ڈستے رہتے ہیں دل کو غم تنہا
ماہِ نو کا جواب ہیں شاید
آپ کی ابروؤں کے خم تنہا
یہ آنسُو روک رکھے ہیں بہ مُشکل دن گُزارے ہیں
تمہیں دِکھتے نہیں ہیں جو سبھی وہ غم تمہارے ہیں
کُھلی زُلفیں ہنسی چہرہ تمہاری جھیل سی آنکھیں
ہمیں پاگل نہ کر دیں یہ بہت دلکش نظارے ہیں
ہماری اُنگلیوں سے آج تک خُوشبو نہیں جاتی
کسی کے ریشمی گیسُو کبھی اتنے سنوارے ہیں
بہت ہم یاد آئیں گے کسی دن دیکھ لینا
چلے اس پار جائیں گے کسی دن دیکھ لینا
زمانہ تو پُکارے گا ہمیں آواز دے کر
پلٹ کر ہم نہ آئیں گے کسی دن دیکھ لینا
رہے پیاسے سدا ہی آپ کے در پر، مگر ہم
گھٹا بن بن کے چھائیں گے کسی دن دیکھ لینا
اگرچہ سخت سفر ہے دُھواں گھنا ہو گا
کہیں کوئی تو مِری راہ دیکھتا ہو گا
تمام ہوتا کہاں ہے کبھی ندی کا سفر
وہ جا مِلے تو سمندر بھی راستہ ہو گا
عذاب آئے، سِتم آئے، سانحہ آئے
میں مُنتظر ہوں کہ کچھ زیست میں نیا ہو گا
فصلِ رسن و دار میں آ ہم نے سُنا ہے
پیغام تِرا زُلف رسا، ہم نے سنا ہے
رنگیں نظر آتے ہیں تِرے کُوچہ و بازار
گُزرا ہے کوئی آبلہ پا ہم نے سنا ہے
کیا بات ہے اس کُوچۂ دلدار کی یارو
پِھرتی ہے کئی دن سے صبا ہم نے سنا ہے
چائے کا ارغوانی دور
چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے
جو چلا ہے تو ابھی اور چلے اور چلے
چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے
نہ ملے چائے، تو خوننابِ جگر کافی ہے
بزم میں دور چلا ہے، تو ابھی اور چلے
در و دیوار پہ صدیوں کا اثر لگتا ہے
گھر میں کوئی نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے
سوتی اور جاگتی کرنیں ہیں مِری آنکھوں میں
ایک جیسا ہی مجھے شام و سحر لگتا ہے
کوئی آساں تو نہیں درد کی منزل پانا
دل کی ہر بات میں پتھر کا جگر لگتا ہے
کھا کے نظر سے زباں نے چکھا ہے
حسیں درخت کے ہاتھوں میں پھل تو کڑوا ہے
تمام عمر کا ہم روگ ہی لگا بیٹھے
بڑھی نہ بات بہت دور دور یہ اچھا ہے
تمہارے خط کی تہوں کا پتہ نہیں ملتا
ہزار بار اسے کھول کھول دیکھا ہے
تجھے جب سے اے شاہدِ طُور دیکھا
جدھر آنکھ ڈالی ادھر نُور دیکھا
عجب اہل اُلفت کا دستور دیکھا
وفورِ الم میں بھی مسرور دیکھا
جو پایا تو اب تجھ کو نزدیک پایا
نہ دیکھا تھا جب تک تجھے دور دیکھا
سو اس لیے بھی مطمئن اپنا ضمیر ہے
ہاتھوں پہ اس کے نام کی میرے لکیر ہے
کیا خوب ہے تماشا یہ قسمت کا دیکھیے
کل تک جو بادشاہ تھا، گلی میں فقیر ہے
کھودا کنواں ہے اپنی حویلی کے درمیاں
دیکھو امیرِ شہر بھی کتنا شریر ہے
دیکھتے ہی رہ گئے ہم زندگی کے جام کو
زندگی کی مے تھی اس میں گُھونٹ بھر بس نام کو
زندگی بھر کشمکش، جدوجہد سے کیا ملا
خواب ہی دیکھا کیے، ترسا کیے انجام کو
زندگی ہم کو تو صحرا کی جُھلستی دھوپ تھی
دلِ مُضطر تِری فُرقت میں بہلایا نہیں جاتا
کسی پہلو سے یہ نادان سمجھایا نہیں جاتا
نمک پاشی مِرے زخموں پہ یہ کہہ کہہ کے کرتے ہیں
ذرا سی بات میں یوں اشک بھر لایا نہیں جاتا
ڈراتا کیوں ہے اے ناصح! محبت کی کشاکش سے
پھنسا کر دل کو اس کُوچے سے کترایا نہیں جاتا
اک چھوٹا سا یاد نگر ہے
اور یادوں میں اس کا گھر ہے
میں تو مر جانے والا ہوں
مرنے والوں سے کیا ڈر ہے
بیٹھے بیٹھے دن گزرا ہے
کیسا اب درپیش سفر ہے
کوشش امتزاج کرتا ہوں
حسن کو ہم مزاج کرتا ہوں
میری مشکل کو کوئی کیا سمجھے
کس طرح کل کو آج کرتا ہوں
میں سمجھتا ہوں بے دلی اپنی
جس طرح کام کاج کرتا ہوں
اسرار بڑی دیر میں یہ مجھ پہ کُھلا ہے
انوار کا منبع مِرے سینے میں چُھپا ہے
کیا سوچ کے بھر آئی ہیں یہ جھیل سی آنکھیں
کیا سوچ کے دریا کے کنارے تُو کھڑا ہے
بُجھتے ہوئے اس دِیپ کا تم حوصلہ دیکھو
جو صبح تلک تیز ہواؤں سے لڑا ہے
لبوں پہ حرف سجاؤ دلوں کو وسعت دو
ہمارے حوصلۂ غم کی کوئی قیمت دو
کسی خیال کے سائے میں رک گئے ہیں لوگ
انہیں چمکتی ہوئی دھوپ کی خبر مت دو
یہ زندگی کا جہنم،۔ یہ گرم و تند ہوا
کہیں سے اس میں بھی شب بھر کی ایک جنت دو
وہ جب سے ہات مجھ سے کر گیا ہے
حسیں لوگوں سے دل بس بھر گیا ہے
یہ ظالم ظلم کرتے جا رہے ہیں
مِرے اندر کا انساں مر گیا ہے
مِرے کچھ خواب بھی وحشت بھرے تھے
نِگاہیں دیکھ کر وہ ڈر گیا ہے
اٹھتی نہیں زبان ستمگر کے رُوبرُو
بُت بن گیا ہوں اس بُتِ کافر کے روبرو
رعبِ جمالِ یار نے مبہوت کر دیا
پیکر کھڑا ہو جیسے صنم گر کے روبرو
ہم اس کے گیان دھیان میں جلووں کی آس میں
آسن جمائے بیٹھے ہیں اس گھر کے روبرو
جب سے دل میں تِرے بخشے ہوئے غم ٹھہرے ہیں
محرم اور بھی اپنے لیے ہم ٹھہرے ہیں
غم کہ ہر دور میں ٹھہرائے گئے حاصلِ زیست
اور اس دور میں ہم صاحبِ غم ٹھہرے ہیں
ہم تِری راہ میں اُٹھے ہیں بڑے عزم کے ساتھ
گردشِ دہر بھی ٹھہری ہے جو ہم ٹھہرے ہیں
حاکم کے یہ اطوار نرالے نہ رہیں گے
جب ظرف و انا بیچنے والے نہ رہیں گے
راہوں کے اندھیرے تو مِٹائے گئے لیکن
کیا عِلم تھا ذہنوں میں اُجالے نہ رہیں گے
تم نے جو بچھائے ہیں بہت راہ میں کانٹے
اچھا ہے مِرے پاؤں میں چھالے نہ رہیں گے
سانسوں کی جائیداد بھی لکھ دو اسی کے نام
سارے جہان لکھے ہیں جس آدمی کے نام
کوثر نگاریوں کے سلیقے ہیں جا ں فروز
شیشہ گری کا حسن ہے تشنہ لبی کے نام
صدیوں کی پیاس شہر میں بے نام ہو گئی
صحرا بھی سر جھکائے ہیں دریا دلی کے نام
نہ ہوتی حال دل کہنے کی گر ہمت تو اچھا تھا
نہ سُنتے کاش وہ شرحِ غمِ اُلفت تو اچھا تھا
مِری بیتابیٔ دل بڑھ گئی ہے الاماں کتنی
نکلتی گر نہ شوقِ دِید کی حسرت تو اچھا تھا
وہ راحت بیزیاں ثابت ہوئی کتنی حباب آسا
کبھی ہوتا نہ اتمامِ شبِ فُرقت تو اچھا تھا
اچھا اور برا تو اک پیمانہ ہوتا ہے
لیکن سرخی میں سارا میخانہ ہوتا ہے
آنسو پینا بھی کارِ مستانہ ہوتا ہے
پینے سے پہلے تھوڑا چھلکانا ہوتا ہے
ہم کو دیوانہ ہونا ہے سو ہم ہوتے ہیں
تُو تو میرے یار بس ایک بہانہ ہوتا ہے
دیکھے ذرا کوئی کہ ہوں کیسا ملنگ میں
برسات میں چلا ہوں اڑانے پتنگ میں
حیران آپ ہی نہیں ہیں دیکھ کر مجھے
اپنا مزاج دیکھ کے خود بھی ہوں دنگ میں
کیا پوچھتے ہیں آپ مِرے دل کی کیفیت
دن رات اپنے آپ سے لڑتا ہوں جنگ میں
بے صدا کی چوکھٹ پر
ٹوٹتے ارادوں کی اس عجیب دنیا میں
آنکھ کے جھپکتے ہی سب بکھرنے لگتا ہے
خواب جھڑنے لگتا ہے
رتجگوں کے نرغے میں
خواہشوں کا پنچھی جب بے تکان اُڑتا ہے
آخری وار کر رہا ہوں میں
اپنا انکار کر رہا ہوں میں
آڑ اپنے ہی جسم کی لے کر
روح کو تار کر رہا ہوں میں
اپنے دکھ بانٹ کر زمانے میں
کتنا ایثار کر رہا ہوں میں
آنکھوں کی تکرار اگر ہو جائے تو
دل پر دل کا وار اگر ہو جائے تو
میں تو اس کی پریم پجارن ہوں لیکن
اس کو مجھ سے پیار اگر ہو جائے تو
دنیا داری ساری دل کی بدولت ہے
سوچو دل 💗بیمار اگر ہو جائے تو
سفینے جو کِنارے آ گئے ہیں
عزیمت کے سہارے آ گئے ہیں
محبت میں گِرائے جب بھی آنسو
تو دامن میں سِتارے آ گئے ہیں
اندھیرے میں اُجالا ہو رہا ہے
زمیں پر چاند تارے آ گئے ہیں
خواب قُربان کِیا ہے میں نے
خُود کو وِیران کیا ہے میں نے
کچھ بھی باقی نہ بچا اپنے لیے
جب بھی مِیزان کیا ہے میں نے
عشق کی راہ میں چلتے چلتے
اپنا نُقصان کیا ہے میں نے
ان سے کیا پوچھتے ہو لوگ تو کم جانتے ہیں
اپنے حالات کو اچھی طرح ہم جانتے ہیں
ہم نے جانا ہے تجھے اپنی محبت کا خُدا
لوگ نادان ہیں پتھر کا صنم جانتے ہیں
تُو نے منہ پھیر لیا راہ میں ہم سے جب کہ
ہم تِری آنکھ کا جُھکنا بھی ستم جانتے ہیں
بِلا عُنوان افسانہ کہے گا تم بھی سُن لینا
خِرد کی بات دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا
رموزِ عشق دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا
وہ کعبہ کو صنم خانہ کہے گا تم بھی سن لینا
دلِ غم آشنا جب تنگ آ کر زندگانی سے
شبِ فُرقت کا افسانہ کہے گا تم بھی سن لینا
فلمی گیت
تم نے پکارا اور ہم چلے آئے
دل ہتھیلی پر لے آئے رے
تم نے پکارا اور ہم چلے آئے
جان ہتھیلی پر لے آئے رے
تم نے پکارا ۔۔۔۔
یہ دن تو جاگتی راتوں کے دن ہیں
ادھوری سی ملاقاتوں کے دن ہیں
مجھے معلوم ہے جھُوٹی ہیں پھر بھی
یہ تیری دلنشیں باتوں کے دن ہیں
میں خُود شرما رہی ہوں سوچ کر بھی
یہ کیسی ان کہی باتوں کے دن ہیں
خُود کو دے کر سزا بھی دیکھیں گے
تُجھ سے ہو کر جُدا بھی دیکھیں گے
کیسے کرتے ہیں ہم سے صَرفِ نظر
ان کی ہم یہ ادا بھی دیکھیں گے
اب کے ساون کی سُرمئی رُت میں
جُگنوؤں کی ضیا بھی دیکھیں گے
زباں دراز سے حُسنِ کلام کرتے ہوئے
میں تھک گیا ہوں اسے رام رام کرتے ہوئے
وہ کر رہا ہے غلط، عِلم اس کو بھی ہے یہ
وہ رو رہا ہے مجھے اِنہدام کرتے ہوئے
ہُوا تھا حُکم؛ بُجھا دو ابھی چراغوں کو
کہ کوئی دیکھ نہ لے ٭انہزام کرتے ہوئے
دل کی تسکین ہے کسی آس میں تپتے رہنا
عمر بھر گھر کے ہی بَن باس میں تپتے رہنا
ابر کا ایک بھی ٹُکڑا نہ یہاں اُترے گا
گُلستاں کو ہے اسی آس میں تپتے رہنا
ہائے گُلدانوں کے ان پھُولوں کی تقدیر جنہیں
سائباں ہوتے ہوئے گھاس میں تپتے رہنا
سلوک دوست سے بیزار کیا ہُوا ہوں میں
خیال یہ ہے بُلندی سے گِر گیا ہوں میں
محبتوں کا حسیں دور آنے والا ہے
یہ رُخ بھی ان کی عداوت کا دیکھتا ہوں میں
مِرے شعور میں ماحول کی ہے بے چینی
نوائے وقت ہوں، اک درد کی صدا ہوں میں
میری چاہت دور ہو کر دیکھتے
مجھ کو پانا تھا تو کھو کر دیکھتے
داستانِ عشق 💓 لکھنا تھا اگر
انگلیاں خوں میں ڈبو کر دیکھتے
نیند کو کیوں کہہ دیا اک مسئلہ
زلف کے سائے میں سو کر دیکھتے
نروان سے اقتباس
دھیان کی کیاریوں میں
سویٹ پیز کے پھول مسکرا رہے ہیں
اور شانت رو حس دھوپ کی کلیوں سے
آنکھ مچولی کھیل رہی ہیں
آؤ ہم تنہائی کے سمندر میں اتر جائیں
خوشبوؤں کی امین ہے اے دوست
تُو گُلِ یاسمین ہے اے دوست
پھول بن کر مہک اٹھے ہیں زخم
درد کتنا حسین ہے اے دوست
میرے لب ہیں جبینِ جاناں پر
یہ تصور کا سین ہے اے دوست
یہ سچ ہے کلمۂ حق ان کو ناگوار ہُوا
یہ اک قصور مگر ہم سے بار بار ہوا
قصاص مانگنے نکلے تھے آج شہر کے لوگ
یہ حادثہ پسِ دیوارِ شہریار ہوا
مِرے لہو نے دیا آب و رنگ پھولوں کو
ہر ایک قطرۂ خوں قاصدِ بہار ہوا
کیوں بھٹکتی صحرا میں گھر بھی اک خرابہ تھا
بے نشاں اداسی کا بے اماں احاطہ تھا
جب کبھی نظر آیا خواب میں نظر آیا
وہ جہاں پہ رہتا تھا کون سا علاقہ تھا
داخلی کشاکش سے با خبر تو ہو جاتا
ذہن سوچتا کیا تھا دل کا کیا تقاضہ تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
گزرگاہ سرورﷺ مدینے کی گلیاں
ہے بہتر سے بہتر مدینے کی گلیاں
ادھر سے ہی گزرے ہیں آقاؐ ہمارے
ہے بُو سے معطر مدینے کی گلیاں
یقیناً ہے رشکِ قمر، رشکِ انجم
تمہارا مقدر مدینے کی گلیاں
ایک خط کی چند سطریں
تم آؤ تو میرے خواب لیتی آنا
جو میں نے تمہارے تکیے تلے رکھے تھے
اور میری آنکھیں بھی
اور ہاں، ہاتھ بھی
میرے بوسے بھی
اک سِتمگر کو خُدا کہنا پڑا
ناروا کو بھی روا کہنا پڑا
یورشِ رنج و مصائب الاماں
زندگی کو اک سزا کہنا پڑا
چارہ گر جب کچھ نہ درماں کر سکے
دردِ دل 💔 کو لا دوا کہنا پڑا
درِیچے پر دِیے رکھے ہُوئے ہیں
اندھیرے کمرے کو گھیرے ہوئے ہیں
اگر میں دُھوپ میں تنہا کھڑا ہوں
تو اتنے سائے کیوں اُبھرے ہوئے ہیں
ہر اک انسان اچھا لگ رہا ہے
ہم اپنے آپ سے رُوٹھے ہوئے ہیں
کسی کی یاد مِرے دل میں اس طرح آئی
بجی ہو جیسے کسی غم کدے میں شہنائی
تمام عُمر فراموش ہی رہی ہم سے
بوقتِ مرگ مگر زندگی کی یاد آئی
بڑے خلوص سے اپنے ہی خون کی پوشاک
تمہارے خنجرِ عُریاں کو ہم نے پہنائی
انا للہ و انا الیہ راجعون، معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر آج اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے
چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے
کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے
تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے
عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر
محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے
انا للہ و انا الیہ راجعون، معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر آج اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے
اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو
ہم لوگ جب ملیں تو کوئی دوسرا بھی ہو
تُو جانتا نہیں مِری چاہت عجیب ہے
مجھ کو منا رہا ہے، کبھی خود خفا بھی ہو
تُو بے وفا نہیں ہے مگر بے وفائی کر
اُس کی نظر میں رہنے کا کچھ سلسلہ بھی ہو
وصال
ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں
ہماری آواز کی بازگشت اک اک موڑ پر ہے
دیکھو تو سہی
زمین کی ہر سلوٹ میں ایک قبر ہے
مگر ہم قبروں کے پتھر نہیں ہیں
لگا ہے آئینہ نظر چُرانے ہم کو دیکھ کر
نظر اسے بھی کچھ لگا ہے آنے ہم کو دیکھ کر
شمس جو نکلتا صحن سے تھا لے ہماری تاب
لگا ہے مینڈھ کا دیا بُجھانے ہم کو دیکھ کر
ہماری پانے کو جھلک گُزاری پوری شب ادھر
لگا گلی کا موڑ وہ بھُلانے ہم کو دیکھ کر
غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے
دو ہونٹوں کے بیچ یہ دریا کیوں آتا ہے
جیسے میں اپنی آنکھوں میں ڈوب رہا ہوں
غیروں کو اکثر یہ سپنا کیوں آتا ہے
میری راتوں کے سارے اسرار سمیٹے
مجھ سے پہلے میرا سایا کیوں آتا ہے
یہ دل میرا اُداس ہے تجھ کو پتہ تو ہے
لیکن تُو آس پاس ہے تجھ کو پتہ تو ہے
پہلی صفیں اور مسندیں ہوتی ہیں کس لیے
تُو بھی تو خاص الخاص ہے تجھ کو پتہ تو ہے
مُہرے بدل بدل کر پھر ڈوریاں ہلانا
یہ مشغلے ہیں کس کے تجھ کو پتہ تو ہے
دشتِ تخیّلات میں جب بھی سفر ہوا
جانے کہاں کہاں سے ہمارا گزر ہوا
لوگو کی تلخیوں کا کچھ ایسا اثر ہوا
دل کے ہر ایک گوشے میں رقصِ شرر ہوا
اس کی طرف سے میں تو ہوا بے خبر مگر
میری طرف سے وہ نہ کبھی بے خبر ہوا