تمہارے ہاتھ سے چھوٹے تو اتنے عام ہوئے
ہمارے ہاتھ، موتیوں کے پھر نہ دام ہوئے
ذرا یہاں بھی فراخ دستی ہونی چاہیے تھی
ہماری باری پہ صاحب وہ سبک گام ہوئے
ازل سے داغ لگا ہے ہمارے بخت جلا
بازئ عشق بھی ہارے اور بدنام ہوئے
تمہارے ہاتھ سے چھوٹے تو اتنے عام ہوئے
ہمارے ہاتھ، موتیوں کے پھر نہ دام ہوئے
ذرا یہاں بھی فراخ دستی ہونی چاہیے تھی
ہماری باری پہ صاحب وہ سبک گام ہوئے
ازل سے داغ لگا ہے ہمارے بخت جلا
بازئ عشق بھی ہارے اور بدنام ہوئے
مسلکوں کے نصاب پڑھ ڈالے
نفرتوں کے جواب پڑھ ڈالے
اُن کے چہروں پہ جو تعصب تھا
اُس کے سب پیچ و تاب پڑھ ڈالے
آج کچلے تھے اس نے مقتل میں
جس قدر بھی گلاب پڑھ ڈالے
تاجر کی موت
ہمیشہ کی تجارت سیم و زر کی
کوئی اب چال چل عقل و ہنر کی
بسر کی زندگی عیش و طرب میں
خبر کب تھی اجل کے نامہ بر کی
مآلِ زندگی سوچا نہ تاجر
عجب ماحول میں تُو نے بسر کی
واجب الاحترام ہوتے ہیں
چند ایسے بھی نام ہوتے ہیں
دوستوں کی زبان چلتی ہے
دشمنوں سے کلام ہوتے ہیں
اک ریاست کا نام لو جس میں
چور، عالی مقام ہوتے ہیں
آج کی رات انمول سوغات ہو گئی
میرے بِچھڑے بابا سے
میری خواب میں ہی ملاقات ہو گئی
ان کو دیکھا، انہیں چھُوا
میرے بابا کی شفقت کی برسات ہو گئی
ہائے بچھڑنے والوں سے اک دن مُلاقات ہونی ہی چاہیے
انتظار
سُلجھی زُلفوں
اُلجھی سوچوں والی لڑکی
دھڑکتے دل کی بے تابی سے
ہر آہٹ پہ چونک ہے جائے
گھڑی کی ٹِک ٹِک سُنتی جائے
نرم گداز سے صوفوں پر
خود اپنے آپ کو زنجیر کرتا رہتا ہے
وہ میرے خواب کی تعبیر کرتا رہتا ہے
عجب نہیں کہ اسے میری آرزو ہی نہ ہو
کہ اب وہ آنے میں تاخیر کرتا رہتا ہے
نئے مکان کی وسعت نہ اس کو راس آئی
وہ اب بھی ذہن میں تصویر کرتا رہتا ہے
اس غزل کا کریڈٹ یوٹیوب چینل سخنور کو جاتا ہے
ایک روز اس محبوبہ (عنیزہ) نے ٹیلے کی پشت پر آڑ میں کھڑے ہو کر
بڑی سختی اور ناگواری کے ساتھ مجھ سے ترک تعلق کی بات کی
اور مجھے چھوڑ کر چلے جانے کی قطعی قسم کھائی
ایسی قسم جس کو توڑا نہیں جا سکتا
میں نے اس سے کہا کہ اے فاطمہ (عنیزہ کا دوسرا نام)
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اُسی سے حق کا ظہور آپؐ کے زمانے میں
حِرا میں اُترا جو نُور آپؐ کے زمانے میں
اُسی پہ قافلۂ ارتقاء روانہ ہوا
کھلی جو راہِ شعور آپؐ کے زمانے میں
کسی کے آگے کسی کی جبیں نہ جھکتی تھی
غریب بھی تھے غیور آپؐ کے زمانے میں
بہت ملال تھا لہجے میں سوگواری تھی
زمینِ دل پہ محبت کی حمد جاری تھی
بدل گیا تھا معانی وہ رنجشوں کے سبھی
بلا کا ضبط تھا اس میں اور اِنکساری تھی
خدائے عالی و برتر سے مانگ رکھی تھی
وہ حاجتیں کہ زمانے سے رازداری تھی
اس کو یقین دہانی
کہیں یہ پُھول سی باتیں
دیکھو بھُول نہ جانا
وہ پُورے چاند کی راتیں
دیکھو بھُول نہ جانا
اکٹھے مِل کے رونا بھی
اِکٹھے مِل کے ہنس دینا
محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے
انا پرستوں نے اپنی انا وار دی ہے
تمہیں کیسے راس آئے گی یہ محبت
تم ہی نے کہا تھا کہ آوارگی ہے
پرندوں نے جنگل میں پیغام بھیجا
یہاں اک قفس میں فراوانگی ہے
نیلا آسمان
میری بچی نے مجھ سے کل پُوچھا
بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں؟
میں نے سوچا پر اس سے کہہ نہ سکا
یہ سوال اس کے دل میں آیا کیوں؟
کیوں یہ باتیں ہیں اتنی دلآویز
دولت درد کمانے کے لیے زندہ ہیں
لطف جینے کا اٹھانے کے لیے زندہ ہیں
فرق یہ کم ہے کہ تم اپنے لیے جیتے ہو
اور ہم سارے زمانے کے لیے زندہ ہیں
ٹوٹ کر بھی تو ہیں پیوستہ شجر سے اب تک
ہم نئی زندگی پانے کے لیے زندہ ہیں
کٹارِ عشق
سنو یہ جو ہجر کی کٹار ہے
بڑی تیز اس کی دھار ہے
یہ کلیجہ کاٹے جا رہی ہے
زیست کو دور لیے جا رہی ہے
ان نینوں میں اب ہر وقت برسات ہے
چاروں طرف اماوس کی سیاه رات ہے
پیاری لڑکی
بقول تمہارے
بے شک تم اور میں
آنے والے چند ماہ و برس میں
عمر کی اس منزل پر ہوں گے
جس پر پہنچ کے ہر راہی
جو طے نہیں ہے وہی شدہ لگے ہے مجھے
یہ زندگی تو کوئی حادثہ لگے ہے مجھے
کسی کی زلفِ پریشاں سے چاک داماں تک
غرض جنوں کا وہی سلسلہ لگے ہے مجھے
وہ شخص جس نے ہزاروں ستم کیے ایجاد
کہیں سے وہ بھی ستایا ہوا لگے ہے مجھے
نیا سفر ہے، کوئی کارواں ہے کہ نہیں؟
راستے پر کسی منزل کا نشاں ہے کہ نہیں؟
چراغ بجھنے لگے ہیں صبح کی ٹھنڈک سے
اب اگلی دھوپ میں بھی سائباں ہے کہ نہیں؟
تمہارے شہر کی ویرانی جاں لیوا ہے
تم ہی بتاؤ یہاں امن و اماں ہے کہ نہیں؟
گرمئ عشق کے بغیر لطف حیات رائیگاں
عشق ہے زندگی کا روپ عشق سے زندگی جواں
ہائے وہ چند ساعتیں گزریں جو تیرے قُرب میں
رشک سے دیکھتی رہی جن کو حیات جاوداں
اف ری منازل بلند تیرے حریم ناز کی
پائے طلب کو کتنے طے کرنے پڑے ہیں آسماں
ازل سے اپنے ہی ہونے کے انتظار میں ہوں
نمو پذیر ہوں لیکن تِرے حصار میں ہوں
کہاں پتا تھا کہ اپنا ہی پیش و پس ہوں میں
کسے خبر تھی کہ تنہا کھڑا قطار میں ہوں
تِرے وجود کی ہر دھوپ چھاؤں ہے جس میں
میں ریزہ ریزہ اسی خاک رہگزار میں ہوں
بِچهوڑا
ساتھی میرے
میرا ساتھ نِبھانے کا وعدہ کر کے
یہ آج تُو کس اور چل پڑا ہے
میں تنہا سی، سہمی سی
پُوچھ رہی ہوں سب سے
میرے جینے کی وجہ کہاں ہے؟
سرِ دارِ اُلفت ٹھہر جائیے
حدُودِ خِرد سے گُزر جائیے
نہ کیجے گدائی درِ یار کی
ہُنر ہے تو دل میں اُتر جائیے
وفاؤں کی قیمت نہیں جس جگہ
اُدھر مُسکرا کر مُکر جائیے
محبت سے کِنارہ کر رہے ہیں
وہ خُود اپنا خسارہ کر رہے ہیں
ہمارا حوصلہ کیا پوچھتے ہو؟
بغیر اس کے گُزارا کر رہے ہیں
جُھکائیں سر کہ آپ اہلِ زمیں ہیں
فلک کا کیا نظارہ کر رہے ہیں
سورج کے آس پاس
آشنائے رازِ دل کم ہیں بہت
ایک ہی ہم ہیں تو پھر ہم ہیں بہت
اشک، مژگاں، رات اور تاروں کا حُسن
جگمگاتے دیدۂ نم ہیں بہت
چند سیّاروں پہ کیا موقوف ہے
منتظر اس دل کے عالم ہیں بہت
دکھ درد، در و دیوار سبھی ایک ہوئے
غم کے میلے میں خریدار سبھی ایک ہوئے
ایک پنچھی کو رِہا کر کے یہ احساس ہوا
جیسے صحرا میں سزاوار سبھی ایک ہوئے
کیسے تسلیم کروں پھُول کی یکتا قیمت
تیری فُرقت کا سِتم، خار سبھی ایک ہوئے
روزِ اوّل سے یہی کرتا رہا ہے آدمی
سوچتا کم، اور زیادہ بولتا ہے آدمی
ہے یہ قاصر اپنے چہرے کو بدلنے سے مگر
آئینہ ہر زاویے سے دیکھتا ہے آدمی
کون سی منزل ہے اس کی اور جانا ہے کہاں
نِت نئے رستوں پہ چلتا جا رہا ہے آدمی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے دنیا میں پیغامِ حق لانے والے
اے فخرِ دوعالم کہے جانے والے
مدد کو غلاموں کے آ جانے والے
وہ یاسین و طہ لقب پانے والے
جبل دشت و صحرا کو چمکانے والے
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
گھروندہ
چلو آج پھر ریت پہ گھروندے بناتے ہیں
کچھ نئے خواب آنکھوں میں سجانے کو
گود میں اس وسِیع سمندر کی
آؤ سُورج اُترتا دیکھتے ہیں
کُچھ لالی لے کر شفق سے
لب و رُخسار تیرے سجاتے ہیں
ہمارے ہاتھ جو آتے نہیں ہیں
اگر آ جائیں تو جاتے نہیں ہیں
جنہیں ہم دیکھتے رہتے ہیں گھنٹوں
انہیں اک آنکھ بھی بھاتے نہیں ہیں
کسی دن دل میاں دو لخت ہوں گے
اگر آپ ان کو سمجھاتے نہیں ہیں
اسیرِ بے زباں
میں اپنے ہی تلاطم کا
اسیرِ بے زباں بن کر
کسی ایسے کنارے کی
مسلسل جستجو میں ہوں
جہاں دل کی جراحت پر
کوئی تہمت نہ دھرتا ہو
دل کو شاداب کیے رکھتا ہے نم آنکھوں کا
رکھ لیا ایک ہی بھرم آنکھوں کا آنکھوں کا
خشک آنکھوں میں بھی خوابوں کے سمندر جاگے
بھول سکتا ہوں کہاں خود پہ کرم آنکھوں کا
حسرتِ دید میں شب بھر یہ کھلی رہتی ہیں
کر دیا شوخ نے کیا ناک میں دم آنکھوں کا
قریۂ سنگ میں آئینہ گری کرتا ہوں
جو مرے دل میں سما جائے وہی کرتا ہوں
ایک عادت سی ہے مشکل میں پڑے رہنے کی
راہِ ہموار میں دیوار کھڑی کرتا ہوں
کتنے لمحے مرے ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں
میں جو اک لمحہ پکڑنے کی سعی کرتا ہوں
اردو کا جنازہ ہے ذرا دُھوم سے نِکلے
فکر اب نالہ و شیون کی نہ دمساز کی ہے
نہ مسیحا کی ضرورت ہے نہ غمّاز کی ہے
پر کترنے پہ نہ خُوش ہو میرے صیّاد بہت
بازوئے فِکر میں، طاقت ابھی پرواز کی ہے
نسسِ باریکئ نُدرت کی حلاوت کی قسم
میری غزلوں میں جھلک اک نئے انداز کی ہے
ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
جوگی اترا پہاڑوں سے
پتہ پوچھوں ساجن کا
کونجوں کی ڈاروں سے
سیما پیروز
خاک کی چادر پہ سونا چاہیے
بس یہی ہم کو بچھونا چاہیے
خون مکھن بن کے نکلے جسم سے
قوم کو اتنا بلونا چاہیے
ہم نے جو بویا وہی کاٹا میاں
اپنے کرتوتوں پہ رونا چاہیے
قصۂ غم دراز ہونا تھا
درد کو چارہ ساز ہونا تھا
تیری مستِ شباب آنکھوں کو
نرگسِ نیم باز ہونا تھا
فصلِ گُل کا شباب ہے ساقی
بابِ مے خانہ باز ہونا تھا
نوحہ ایک دھرتی کا
سنانے آج آیا ہوں
میں نوحہ ایک دھرتی کا
کہانی ایک مقتل کی
جہاں مقتول کے لب پر
صدا " اللہ اکبر" کی
جہاں قاتل کے لب پر بھی
یہی تو اک خرابی ہے تمہاری
سبھی کو دستیابی ہے تمہاری
وہاں تک کا نظارہ پہلے کر لوں
جہاں تک بے حِجابی ہے تمہاری
گُلابوں سے نہیں رشتہ تمہارا؟
تو کیوں رنگت گُلابی ہے تمہاری
محبت میں جفا ہوتی رہی ہے
نہ جانے کیا خطا ہوتی رہی ہے
کسے معلوم میرے دل کی حالت
تِری محفل میں کیا ہوتی رہی ہے
متاعِ کارواں لُٹتے ہوئے بھی
تلاشِ رہنما ہوتی رہی ہے
نئی صدی کے تقاضوں کا سامنا کرنا
پھر اس کے بعد وفا کا مطالبہ کرنا
لگام دوں اسے کیسے زبان ان پڑھ ہے
اسے تو آتا ہے سچ بات برملا کرنا
نئے زمانے کے بچوں کی شوخیاں دیکھو
شرارتوں میں بڑوں کا مقابلہ کرنا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تو بیاں اوصاف ہوں گے آپ کے تفصیل سے
ساتھ دینے کو کہوں گا میں اگر جبریلؑ سے
اور تو زادِ رہِ شہرِ نبیﷺ کچھ بھی نہ تھا
میں نے بس موتی نکالے آنکھ کی زنبیل سے
اک شبِ خوش بخت میں دیدارِ پیغمبرﷺ ہوا
اور مکمل ہو گیا میں خواب کی تکمیل سے
آگ گھی سے بُجھانا مُناسب نہیں
دل جلوں کو جلانا مناسب نہیں
مجھ پہ سارا زمانہ ہنسے تو ہنسے
پر تیرا مُسکرانا مناسب نہیں
جاں لُٹانا مناسب ہے پر عشق میں
آبرُو کو گنوانا مناسب نہیں
خون کی ندی بھی ہم نے پار کی
ہم سے باتیں کر رہے ہو دار کی
ہے یہاں کانٹوں سے اپنا واسطہ
کر رہا ہوں بات میں گُلزار کی
اک غریبِ شہر کو حق مل گیا
یہ خبر ہو گی کسی اخبار کی
اثر دِکھلائے گا خُوابِ سحر آہستہ آہستہ
دِلوں سے جائے گا راتوں کا ڈر آہستہ آہستہ
نہیں بربادیوں کے واسطے یہ شرط دُنیا میں
مگر آباد ہوتے ہیں نگر آہستہ آہستہ
کہاں پھیلی ہے خُوشبو دفعتاً افکارِ عالی کی
کِیا شاداب سوچوں نے سفر آہستہ آہستہ
گُنہگاروں کی بخشش گر انہیں منظور ہو جائے
سیاہی نامۂ عِصیاں کی خُود کافُور ہو جائے
گئی تھیں دُور تک چِھینٹیں لہُو کی ذبح کرنے میں
ہمارے قتل کا قِصہ نہ کیوں مشہُور ہو جائے
اسیرِ گیسُوئے پُر پیچ کو کیا لُطف جینے کا
شبِ فُرقت کی تاریکی اگر کافُور ہو جائے
تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے
دُنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے
میں آنکھ سے گِرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے عِلم
مُصحف میں اِک ہی نام بتایا گیا مجھے
بقا ہو یا ہو فنا کچھ نہیں ہے رہنے کا
بجُز خُدا، بخُدا کچھ نہیں ہے رہنے کا
نشاطِ وصل ہو یا ہجر کی قیامت ہو
صمُوم ہو کہ صبا کچھ نہیں ہے رہنے کا
کھڑاؤں پہنی، لِیا اِذن اور چل نکلے
ہمیں پتہ ہے دِلا کچھ نہیں ہے رہنے کا
دید کے قابل کہاں ہے رنگ میخانہ ابھی
خوں نظر آتا ہے پیمانہ پہ پیمانہ ابھی
کون سمجھائے اسے رازِ شکستِ رنگ و بو
اک طلسمِ رنگ و بو میں گم ہے دیوانہ ابھی
مسکرا کر تم نے دیکھا پھول سے کھلنے لگے
عزتِ گلشن ہے اب جو دل تھا ویرانہ ابھی
اپنی جاگیر اُٹھا جُود و سخا بھی لے جا
ٹُوٹ جائے نہ کہیں اپنی وفا بھی لے جا
میرا ہمدرد ہے تُو، تُجھ سے شکایت کیسی
زخم دیتا ہے تو پھر میری دُعا بھی لے جا
ہم سے دِیوانے بھی مِلتے ہیں بڑی مُشکل سے
اپنے بارے میں بتا، میرا پتہ بھی لے جا
نم آنکھوں میں کیا کر لے گا غصہ دیکھیں گے
اوس کے اوپر چنگاری کا لہجہ دیکھیں گے
شیشے کے بازار سے لے آئیں گے کچھ چہرے
وہی پہن کر ہم گھر کا بھی شیشہ دیکھیں گے
کتنی دور تلک جائے گی ضبط کی یہ کشتی
کتنا گہرا ہے اس درد کا دریا دیکھیں گے
کہیں نہ پھر کوئی دار و رسن سے ساز کرے
خدا کسی کو نہ اب آشنائے راز کرے
کہاں تک آدمی حِیل خِرد سے ساز کرے
فضائے دہر کو اللہ جنوں نواز کرے
نہ پُوچھ مرتبہ اس کے مقامِ عالی کا
جسے وہ فِکر دو عالم سے بے نیاز کرے
تختۂ مشق بنوں، جاں بہ سِپر ہو جاؤں
تو بتا؟ کون سا چہرہ لوں، کِدھر ہو جاؤں
بے زبانوں کی رفاقت بھی میسّر کر لی
بولیے! آپ کا منظورِ نظر ہو جاؤں؟
یونہی بے سمت سفر کتنا رہا ہے باقی
اُس طرف جاؤں مری جاں، یا اِدھر ہو جاؤں
زندگی اپنی یہاں اپنے لیے تعزیر ہے
شوق دل میں رقص کا اور پاؤں میں زنجیر ہے
تیشۂ جمہوریت ہے اہلِ زر کے ہاتھ میں
جُوئے خُوں کو وہ بتاتے ہیں کہ جُوئے شِیر ہے
گردشِ ایّام کو اب گردشِ انساں کہیں
کرتے رہنا ہجرتیں انسان کی تقدیر ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مُصطفیٰﷺ کے دیوانے ہر خُوشی لُٹاتے ہیں
مُفلسی میں رہ کر بھی سب کے کام آتے ہیں
ہم غریب جیتے ہیں مُصطفیٰﷺ کی اُلفت میں
سختیاں اُٹھاتے ہیں، پھر بھی مُسکراتے ہیں
آپﷺ سے محبت ہے، آپؐ سے عقیدت ہے
آپﷺ کی اطاعت میں زندگی لگاتے ہیں
آب پر وار کرنے لگ گیا تھا
ہِجر دِیوار کرنے لگ گیا تھا
کس طرح قتل کرتا میں اس کو
وه مجھے پیار کرنے لگ گیا تھا
دُشمنی میں بھی کوئی کرتا نہیں
جو مِرا یار کرنے لگ گیا تھا
سفر لگتا ہے سارا رائیگاں ہے
ہوائیں بھی مخالف تھیں ہماری
شکستہ تھے ہمارے بادباں بھی
مگر اک عزم تھا جوشِ جنوں تھا
سو ہم طُوفاں سے لڑ کر پار اُترے
سبھی کچھ ہار کر بھی شاد تھے ہم
یقیں تھا ہم کو، منزل مِل گئی ہے
مسرّت چیز کیا ہے رنج کیا ہے
یہ سارا کھیل اک احساس کا ہے
بہار زندگی کہتے ہیں جس کو
کسی کے اک تبسّم کی ضیا ہے
خطائے بے وفائی اور ہم سے
یقیناً آپ کو دھوکا ہوا ہے
وصل کا پیغام لے مجھ تک اجل آنے کو ہے
جان اِستقبالِ جاناں کے لیے جانے کو ہے
اس بُتِ کُرسی نشیں کا دیکھ جلوہ بام پر
حاملِ عرشِ بریں غش کھا کے گِر جانے کو ہے
ساجد و مسجود میں کیا فرق ہے پایا نہیں
شیخ طاعت آب کی خلقت کے دِکھلانے کو ہے
لگا کر دل کسی سے چھوڑ کر جایا نہیں کرتے
محبت کرنے والوں کو تو تڑپایا نہیں کرتے
یہی تاریخ کہتی ہے، یہی کردار ہے اپنا
ہم اپنے دشمنوں پر بھی سِتم ڈھایا نہیں کرتے
شریعت بھی یہ کہتی ہے، یہی تہذیب ہے اپنی
بِنا دستک کسی کے گھر میں ہم جایا نہیں کرتے
وہ چاہتے ہیں کہ رستے میں شام ہو جائے
میں چاہتا ہوں کہ ظُلمت تمام ہو جائے
جنُون عزم نہیں ختم چند ناموں پر
مگر جو وقت کا اپنے امام ہو جائے
لگا کے آگ نشیمن کو دیکھنے والو
سکون دل نہ تمہارا حرام ہو جائے
جہانِ ابد
وحشتِ دل! فقط ایک لمحہ ٹھہر
میں ٹٹولوں ذرا دل کی زنبیل کو
اس میں رکھے تھے میں نے گئے دن کہیں
قُرب کے، سرخُوشی، شادمانی کے دن
وہ جوانی کے دن
کچھ تمنّائیں، کچھ حسرتیں، خواب بھی
ہر تار نفس شعلہ بدل، شعلہ بجاں ہے
اب دل کے دھڑکنے کا وہ انداز کہاں ہے
جلتے ہوئے صحرا میں ہیں کس کس کو صدا دیں
آواز کی شبنم ہے، نہ چشمِ نگراں ہے
یاں طنز کے پتھر ہیں فقط دستِ ہوس میں
اور حُسنِ سخن کارگہِ شیشہ گراں ہے
ظاہر تو کوئی غم کی علامت نہ ملے گی
چہروں پہ جو ہوتی ہے بشاشت نہ ملے گی
انصاف جہاں ہو وہ عدالت نہ ملے گی
اس شہر میں کوئی بھی شہادت نہ ملے گی
مانگے کا اُجالا تمہیں مِل جائے گا لوگو
آنکھوں کو مگر اس سے بصارت نہ ملے گی
دل تباہی کا پتہ دیتا ہے
کوئی شعلوں کو ہوا دیتا ہے
جب حسیں خواب میسر آئے
کوئی زنجیر ہِلا دیتا ہے
کوئی پلکوں سے اُٹھاتا ہے مجھے
کوئی نظروں سے گِرا دیتا ہے
تیرا غم بھی میرے ہی غم جیسا ہے
لگتا اب تُو بھی خُوش اچھا خاصا ہے
تُو ہے جفا کا اور وفا کا میں قائل
تیرا اپنا، میرا اپنا رستہ ہے
لوگ اس کو پتھر مارنے لگتے ہیں
پھل سے جب بھی کوئی شجر بھر جاتا ہے
فصلِ بہار ہو چکی، پھُول کوئی کِھلا نہیں
میں ہی خِزاں نصیب تھا، تجھ سے کوئی گِلہ نہیں
کچھ تو بہ پاسِ دوستی، ضبطِ خُوشی کی جہد کر
بار پہ میری ہنس مگر، ایسے تو کِھلکھلا نہیں
ہم نے یہ سوچ کر کِیا فرضِ نیاز سے گریز
ترک پر کیوں عتاب ہو، کرنے پہ جب صِلہ نہیں
ہوا کے دوش پہ کس کے پیام آتے ہیں
ہمارے گھر کے در و بام مہک جاتے ہیں
میں سُوکھی ڈال ہوں لیکن تمہاری یادوں کے
پرندے آ کے سرِ شام بیٹھ جاتے ہیں
ہماری آنکھوں میں یوں انتظار روشن ہے
ندی میں جیسے کئی دِیپ جِھلملاتے ہیں
درد بے درماں
اپنے خوابوں کی راکھ پر بیٹھے
عمر ہی رائیگاں گُزرنے پر
اک تہی دست ہجومِ دل زدگاں
سوچتا ہے مآل رنجِ سفر
مالکِ دو جہاں! شہِ شاہاں
کب تلک تیرگی رہے گی یہاں؟
عشق جائی کہاں سے آئی ہے
یہ جُدائی کہاں سے آئی ہے
جب گئی تھی جوان لڑکی تھی
بوڑھی مائی کہاں سے آئی ہے
میں نکمّا ہوں مانتا بھی ہوں
کامیابی کہاں سے آئی ہے
صدائے آفریں اُٹھی تھی جست ایسی تھی
خبر نہ تھی کہ مقدر شکست ایسی تھی
نظر ہٹا نہ سکا رائے کس طرح لیتا
وہ سب کو دیکھ رہا تھا نشست ایسی تھی
اسے خیال یہ گُزرا کہ گر گئی دِیوار
دلِ حزیں کی صدائے شکست ایسی تھی
اسِیری بے مزہ لگتی ہے بِن صیّاد کیا کیجے
قفس کے کُنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجے
مِری تمکیں گئی مثلِ جرس برباد کیا کیجے
کہ میں تو چُپ ہوں پر کرتا ہے دل فریاد کیا کیجے
اثر کرتا نہیں بِن سجدۂ تسلیم کے نالہ
ہم اس مصرع پہ غیر از حلقۂ قد صاد کیا کیجے
یوسف کی طرح رونق بازار میں ہی تھا
پونجی تھا میں ہی اور خریدار میں ہی تھا
وہ جس کے تیر سے مرا سینہ ہوا فگار
گر تو یقیں کرے مرے غمخوار میں ہی تھا
کل میکدے میں ٹھیک ہی دیکھا تھا آپ نے
با صاحبان جبہ و دستار میں ہی تھا
مِری نگاہ میں جاہل ہیں آپ کیا جانیں
سمجھتے خود کو جو فاضل ہیں آپ کیا جانیں
یہ وار کرتے ہیں لیکن دلوں پہ کرتے ہیں
یہ حُسن والے بھی قاتل ہیں آپ کیا جانیں
کِھلا رہے ہیں جو کھانا یہاں فقیروں کو
وہ لوگ پیار کے قابل ہیں آپ کیا جانیں
نگری
میرا بسیرا نگری کے پھاٹکوں سے باہر ہے
بے سُود ہے میرا نگری میں سُرنگ لگانا
اس پر پرواز کرنا
اس کا محاصرہ کرنا
اس میں گُھسنا
سب سے اونچے مینار پر چڑھنا
ہم کہاں آ گئے
جبر کے مستقل سلسلے، اور ہم
آندھیوں کے مقابل دِیے، اور ہم
اک سفر خواب کے اک نگر کی طرف
اور بڑھتے ہوئے فاصلے، اور ہم
اے دلِ بے خبر، ہم کہاں آ گئے؟
اے مِرے ہمسفر، ہم کہاں آ گئے؟
واپسی
ہم جب جنگل سے نکل کر
بستی میں آئے
تو اپنے ننگے بدن دیکھ کر
شرما گئے
اور پھر ہم نے توضیح کی
کہاں اے پردہ نشیں خُود کو چھُپایا ہوا ہے
تیرا دیوانہ تِرے شہر میں آیا ہوا ہے
تیری تصویر نے تسخیر کیا ہے دل کو
تیرا ہی عکس مِرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے
دل ہے سادہ کہ سمجھ بیٹھا ہے اس کو غمخوار
وہ جو اپنے ہی کسی کام سے آیا ہوا ہے
فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے
تیرے کہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے
کچھ قرض اپنی ذات کے ہو بھی گئے وصول
جیسے تِرے سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے
اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا مِلا
اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے
مجھے ہر دن ستاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
ہمیشہ دل دُکھاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
خدا کو یاد کر غافل، وہی تو رب ہمارا ہے
اسے تم بھُول جاتے ہو یہ تم اچھا نہیں کرتے
امیر شہر! ہمدردی ہے مزدوروں سے کب تم کو
انہیں بھُوکا سُلاتے ہو، یہ تم اچھا نہیں کرتے
طنزیہ و مزاحیہ کلام
ادھر تو شہر کے گنجے میری تلاش میں ہیں
ادھر تمام لفنگے میری تلاش میں ہیں
میں ان کا مال غبن کر کے جب سے بیٹھا ہوں
یتیم خانے کے لونڈے میری تلاش میں ہیں
ملا ہے نسخہ جوانی پلٹ کا جب سے مجھے
تمہارے شہر کے بُڈھے میری تلاش میں ہیں
لذتِ صحرا نوردی دُورئ منزل میں ہے
خواہشِ آسُودگی پھر کیوں ابھی سے دل میں ہے
اس کی لے پر سب ہیں رقصاں چاند، تارے، آفتاب
کیا کشش اے شاہدِ قُدرت! تِری پائل میں ہے
ان کو مِل جاتا ہے ساحل قلزمِ آفات میں
جن کو اک کامِل عقیدت رہبرِ کامل میں ہے
ہو نہ رُسوائے زمانہ مہِ کامل کی طرح
میرے سینے میں رہو آ کے مِرے دل کی طرح
تیرے دروازے پہ اے غیرت لیلیٰ! دن رات
سر پٹکتے رہے ہم پردۂ محمل کی طرح
اس قدر شوقِ شہادت نے مجھے دوڑایا
تھک گئے پاؤں مِرے بازوئے قاتل کی طرح
جل گئیں آنکھیں سبھی خوشرنگ چہرے اُڑ گئے
ایسی گرمی تھی کہ آئینوں کے پارے اڑ گئے
شام تک بھی جب کوئی نکلا نہ دانہ ڈالنے
آنکھ بھر بھر کر منڈیروں سے پرندے اڑ گئے
خُوشبوؤں کے رتھ سے اُترے بال پوچھا اور پھر
تتلیوں کے دوش پر کافوری لمحے اڑ گئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
صد شکر مدینے کی ہے خیرات مسلسل
یہ ابرِ کرم برسا ہے دن رات مسلسل
وہ حکمِ خدا ہے جو کہا میرے نبیﷺ نے
ملتی رہی امت کو یہی بات مسلسل
مانگے بنا سر اپنا رکھو ان کے جو درپر
ملتی ہی رہے گی تمہیں خیرات مسلسل
کیا ڈرائیں گی بجلیاں مجھ کو
جب نہیں فکرِ آشیاں مجھ کو
گلستاں کا تِرے نظام ہے کیا
دیکھنا ہے یہ باغباں مجھ کو
اب جھکانا ہے سرکشوں کا سر
کچھ نہیں فکرِ جسم و جاں مجھ کو
ایک اک مسجد، سارے مندر، ہر گُردوارا ڈُوب گیا
بجلی گھر کا باندھ بنا تو گاؤں ہمارا ڈوب گیا
بستی والوں سے کہتا تھا گھبرانا مت میں جو ہوں
ناؤ بنانے والا مانجھی وہ بے چارا ڈوب گیا
جانے کیسے اتنا پانی چھلکا چاند کٹورے سے
جس میں ہر اک جگمگ جگمگ ٹِم ٹِم تارا ڈوب گیا
کھل گئی کھڑکی اچانک پھر بھی مجھ کو ڈر نہ تھا
اب مری آنکھوں میں کوئی رات کا منظر نہ تھا
بہہ رہا تھا چار سو اک ریت کا دریا مگر
جس جگہ پر میں کھڑا تھا راستہ بنجر نہ تھا
شہر کے سارے مکاں لگنے لگے ہیں ایک سے
جس مکاں میں بھی گیا دیکھا میرا وہ گھر نہ تھا
میری آہ کا بھی اثر دیکھ لینا
زمانے کو زیر و زبر دیکھ لینا
یہی ہو گا اے چارہ گر دیکھ لینا
نہ جائے گا درد جگر دیکھ لینا
میرے بعد تجھ کو یہ میری وفائیں
رُلائیں گی آٹھوں پہر دیکھ لینا
جہاں ساری خدائی جا رہی تھی
وہاں سُولی سجائی جا رہی تھی
بس اتنا یاد ہے سُولی پہ مجھ کو
کوئی آیت سُنائی جا رہی تھی
وہ میری عُمر تھی پردے کے پیچھے
جو میرے ساتھ لائی جا رہی تھی
چمن میں ہم نے دیکھے ہیں
بہت ہی خوب صورت پھول
الگ رنگت بھی ہے ان کی
جدا خوشبو بھی ہے ان کی
ہوا چلتی ہے جب بھی تو
سبھی پھولوں کو آپس میں
کہیں جاتا نہیں یہ دردِ دل ٹھہرا بھی رہتا ہے
پرانے زخم سے رشتہ مِرا گہرا بھی رہتا ہے
وہ سب کچھ جان لیتا ہے مِرا چہرا ہی پڑھ پڑھ کر
بنا رہنے دو پہرا کوئی گر پہرا بھی رہتا ہے
بہت ساری سونامی ہیں مِرے دل کی طرح اس میں
بہت دِکھتا ہے پانی جھیل کا ٹھہرا بھی رہتا ہے
اندھی راہوں کی الجھن میں بیچاری گھبرائی رات
پہلے لہو میں پھر آنسو میں پھر کرنوں میں نہائی رات
اک پردے کو اٹھ جانا تھا اک چہرے کو آنا تھا
کتنی حسیں تھی کتنی دل کش شرمائی شرمائی رات
ہر شاخ گل میں تھی یہ نرمی غنچے تک گر جاتے تھے
آج ہر اک ٹہنی پتھر ہے کیسی آندھی لائی رات
ہر آنکھ پرکھتی رہی اندازِ دِگر سے
دیکھا نہ کسی نے بھی مجھے میری نظر سے
گم گشتہ مسافر ہوں، خبر یہ بھی نہیں ہے
منزل ہے مِری کون سی، آیا ہوں کدھر سے
دہلیز کو قدموں کی تھکن چُوم رہی تھی
میں شام کو گھر لوٹا جو دن بھر کے سفر سے
آنسو
انہیں اشکوں سے تو اقوام و امم زندہ ہیں
ہیں ادب زندہ اگر نامہ غم زندہ ہیں
سوز جب تک ہے زبانوں میں قلم زندہ ہیں
طفلِ نو رو کے بتاتا ہے کہ ہم زندہ ہیں
سانس لینے نہیں پاتے کہ گُزر جاتے ہیں
جن کو رونا نہیں آتا وہ مر جاتے ہیں
برائے نام سہی حاصلِ طلب ٹھہرا
وہ ایک لمحہ جو سرمایۂ طرب ٹھہرا
کُھلے سروں پہ گھنی چھاؤں لے کے آیا تھا
ہمارے پاس وہ ابرِ رواں بھی کب ٹھہرا
نقیبِ امن رہا میں محاذ جنگ پہ بھی
یہی اصول مِری فتح کا سبب ٹھہرا
صُورت اُتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی
کہہ دو کہ بات جھُوٹ ہے ان کے شباب کی
شامِ وِصال سیج پہ شرمائے جُوں دُلہن
شرمائی یوں ہیں شاخ پہ کلیاں گُلاب کی
پتھر اُچھال دیجیے یوں دل کی جھیل میں
ورنہ امید رکھیے نہ مجھ سے جواب کی
سر اُٹھا کے مت چلیے آج کے زمانے میں
جان جاتی رہتی ہے حوصلہ دِکھانے میں
کس سے حق طلب کیجے بیوفا زمانے میں
ہونٹ سُوکھ جاتے ہیں حال دل سُنانے میں
ہاتھ کی لکِیروں سے فیصلے نہیں ہوتے
عزم کا بھی حصہ ہے زندگی بنانے میں
غزل تم کو سُنانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں
میں یوں ہی مُسکرانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں
میں کافر ہوں خُدا کے در کبھی سجدہ نہیں کرتا
مگر میں سر جُھکانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں
کوئی بھی کھیل ہو میں احتیاط اتنی برتتا ہوں
میں پہلے ہار جانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں
سمندر کا سکوت
آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت
ہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہو گا
ہم کو ہر حال میں مجبور ہی رہنا ہو گا
مجھ کو اس دور جراحت سے گزر جانے دے
مجھ کو جینے کی تمنا نہیں مر جانے دے
میری تقدیر میں غم ہیں تو کوئی بات نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جس طرف بھی اٹھے اب نظر مصطفیٰﷺ
آپ ہی آپ ہوں جلوہ گر مصطفیٰﷺ
آسماں سے مقدس زمیں ہو گئی
فرش سے جب گئے عرش پر مصطفیٰﷺ
جب بھی میں نے وسیلہ لیا آپ کا
ہو گئی ہے دعا با اثر مصطفیٰﷺ
ہاتھ آگے کیا اور دستِ کرم تھام لیا
سر جھُکا پائی تو پلکوں سے حرم تھام لیا
میں نے اس دُنیا کے دستور سے باغی ہو کر
حق و انصاف و محبت کا علم تھام لیا
حق کو باطل سے مِلاتے ہوئے دیکھا سب کو
کچھ نہ کچھ سچ کے بتانے کو قلم تھام لیا
لے کہیں دُور چل اے غمِ دل مجھے
راس آئی نہیں تیری محفل مجھے
گُزرے ہیں دن جسے دیکھتے دیکھتے
دیکھتا ہی نہیں اب وہ قاتل مجھے
دل کی دُنیا کا عالم بتا دوں بھلا
پاس کچھ بھی نہیں سب ہے حاصل مجھے
نظر کو چار کرنے کا کرو پہلے ہُنر پیدا
بہت مُشکل سے ہوتی ہے محبت کی ڈگر پیدا
کئی تعویذ لکھوائے، دِئیے نذرانے کِتنوں کو
بڑی منت سماجت پر ہوا لختِ جگر پیدا
ہزاروں ناز نخرے بیویوں کے سہنے پڑتے ہیں
کبھی ہوتا ہے دردِ سر، کبھی دردِ کمر پیدا
پھُول ہے نہ خُوشبو ہے چاندنی نہ شبنم ہے
زندگی حقیقت میں حادثوں کا سنگم ہے
آپ ہی بتائیں اب، کون سا یہ عالم ہے؟
دوستی کے ہاتھوں میں دُشمنی کا پرچم ہے
پھیلتے اندھیروں میں، بے رُخی کے جھونکوں سے
آج کل وفاؤں کا ہر چراغ مدھم ہے
اب دل کے کاروبار میں شہرت ذرا سی ہو
ہم لوگ جب مِلیں تو سہولت ذرا سی ہو
یہ کیا کہ آج یاد کِیا، کل بھُلا دیا
چاہو کسی کو جب بھی تو شِدت ذرا سی ہو
اس دورِ نو میں ملتا ہے اعزاز بھی اسے
جو مطلبی ہو جس میں جہالت ذرا سی ہو
درس محبت
دوست مِلا تھا تجھ کو کیسا حیف اتنا بھی یاد نہیں
جان فدا کرتا تھا جس پر دل میں اس کی یاد نہیں
گردشِ دوراں نے جب اس کو آہ شکستہ حال کیا
دیکھ کر اس کے حالِ زبوں کو تُو نے کچھ نہ ملال کیا
کون شکستہ حال کہاں ہے یہ بھی دھیان آیا نہ تجھے
آہ تصور نے ایسے محسن کے تڑپایا نہ تجھے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو طاعت گزارِ پیمبر نہیں ہے
میسر اسے فضلِ داور نہیں ہے
جو یاد محمدﷺ پہ مضطر نہیں ہے
پھر اور کیا ہے جو پتھر نہیں ہے
نہیں ربط جس کو خدا سے نبیؐ سے
سکوں اس کو ہرگز میسّر نہیں ہے
ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
ٹہنی سے گری کلیاں
کیوں چھوڑ چلے ساجن
تم پیار بھری گلیاں
سیما پیروز
گیت
آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے
میرے دل میں یوں ہی رہنا تم پیار پیار بن کے
آنکھوں میں تم بسے ہو سپنے ہزار بن کے
میرے دل میں یوں ہی رہنا تم پیار پیار بن کے
آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے
آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے
گیت
یہ شام مستانی مدہوش کیے جائے
مجھے ڈور کوئی کھینچے تیری اَور لیے جائے
دور رہتی ہے تُو میرے پاس آتی نہیں
ہونٹوں پہ تِرے کبھی پیاس آتی نہیں
ایسا لگے جیسے کہ تُو ہنس کے زہر کوئی پیے جائے
یہ شام مستانی مدہوش کیے جائے
گیت
مہندی لگا کے رکھنا
ڈولی سجا کے رکھنا
لینے تجھے او گوری
آئیں گے تیرے سجنا
مہندی لگا کے رکھنا
ڈولی سجا کے رکھنا
ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
آنگن کو سجایا نہیں
بادل تھا وہ ساون کا
پھر لوٹ کے آیا نہیں
سیما پیروز
خُود کو تیرے نام لگا کر رقص کیا
عشق میں اپنا آپ لُٹا کر رقص کیا
دل کو رکھا پیار کے بہتے پانی میں
آنکھ میں تیرا عکس چھُپا کر رقص کیا
عزرائیل کو ہنستے ہنستے بدا کیا
میں نے موت کو نیند سُلا کر رقص کیا
جب اپنی آنکھوں سے اشکوں کا قافلہ نکلا
کِنارے ٹُوٹے تو دریا کا حوصلہ نکلا
وہ میری بزم میں آئے رقیب کے ہمراہ
چلو کہ ملنے کا کوئی تو سلسلہ نکلا
ملیں نہ آج بھی بچوں کو روٹیاں شاید
وہ گھر سے صبح یہی سوچتا ہوا نکلا
جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھا
بیگانہ خُو حسیں کو بیگانہ وار دیکھا
پیہم تجلیوں کی مجھ میں سکت کہاں تھی
نظریں چُرا چُرا کر سُوئے نگار دیکھا
آج اپنی بیخودی کو عرفاں کی روشنی میں
اس ماہِ سِیم تن کا آئینہ دار دیکھا
آؤ خُوشیاں بانٹیں
کیا کبھی ان معصوم چہروں کو
دیکھا ہے تم نے
رنگ ہیں نہ ہی ہنسی
نہ آنکھوں میں چمک ہے
نہ دلوں میں بسی کوئی خُوشی
جسم خالی ہیں اُن کے قوّتوں سے
تِرا وجود مِرے واسطے سعادت ہے
جو تیرا ہو نہ سکا میں تو مجھ پہ لعنت ہے
تِری نگاہِ محبت مِرا علاجِ ملال
مِری نمازِ اطاعت کی تُو اقامت ہے
قدم کے نیچے تِرے رب نے رکھ دی ہے جنت
تجھے تو دیکھنا اسلام میں عبادت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اپنے سکون دل کا اب مل گیا سہارا
امروز شاہ شاہاں مہماں شدست مارا
نام خدا محمدﷺ ہے کتنا نام پیارا
دل کی مراد پائی جس نے انہیں پکارا
قربان ہوں میں اس کی بندہ نوازیوں پر
پردے میں عبدیت کے اک روپ جس نے دھارا
چاک پر رکھ مجھے گھما پھر سے
معجزہ کوزہ گر دکھا پھرسے
میری دم توڑتی امنگوں کو
بخش جینے کا حوصلہ پھر سے
اے دلِ بے قرار کس کے لیے
لب پہ ٹھہری ہے اک دعا پھر سے
وہ میری فکر کی لذت سے آشنا ہو گا
دریچہ ذہن کا جس روز بھی کُھلا ہو گا
اداس شب ہے ستاروں کی آنکھ بھی نم ہے
کوئی ضرور اکیلے میں رو رہا ہو گا
اسے تو اپنی ہی اک فکر کھائے جاتی ہے
ہمارے بارے وہ کیسے سوچتا ہو گا
وہ تم سے بات نہ کرنا تو اک بہانہ تھا
کہ اس طرح تمہیں اپنے قریب لانا تھا
زمانے بھر نے مجھے آزما کے دیکھ لیا
تم آزماتے اگر اور آزمانا تھا
تمہاری نظروں سے بچ کر کوئی کہاں جاتا
کہ تیرے تکنے کا انداز عاشقانہ تھا
پھول خوشیوں کے رداؤں سے نکالے جائیں
لوگ اب غم کی فضاؤں سے نکالے جائیں
شام ہوتے ہی مِرے دل سے لپٹ جاتے ہیں
غم کے آسیب جو گاؤں سے نکالے جائیں
آسماں کو دئیے جاتے ہیں ستارے کہہ کر
آبلے جب مِرے پاؤں سے نکالے جائیں
سرابوں سے نوازا جا رہا ہوں
امیرِ دشت بنتا جا رہا ہوں
مِرے دریا ہمیشہ یاد رکھنا
تِرے ساحل سے پیاسا جا رہا ہوں
فضائیں سبز ہوتی جا رہی ہیں
میں جتنا زہر پیتا جا رہا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
الفاظ بھی اگرچہ ہیں اظہار کے سبب
بنتی ہے بات چشم گہر بار کے سبب
احساس کے دریچے پہ دستک ہے نعت کی
ورد درودﷺ و کثرت اذکار کے سبب
نور سحر میں چہرۂ انورﷺ کی ہے ضیا
شب ہے نبیﷺ کی زلف طرحدار کے سبب
بے چہرگیٔ غم سے پریشان کھڑے ہیں
ہم پھر بھی وہ ظالم ہیں کہ جینے پر اڑے ہیں
غم سے جو بلند اور مسرّت سے بڑے ہیں
ایسے بھی کئی داغ مِرے دل پہ پڑے ہیں
تاریخ کے صفحوں پہ جو انسان بڑے ہیں
ان میں بہت ایسے ہیں جو لاشوں پہ کھڑے ہیں
تُو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ
عنوان جس کا ہجر ہو ایسی کتاب ڈھونڈ
اوروں کی روشنی پہ نہ رکھ تو بُری نظر
اپنی ہی چھت کے نیچے کوئی آفتاب ڈھونڈ
کوشش کو اپنی ایک نیا رنگ رُوپ دے
دل کے اُجاڑ باغ میں تازہ گُلاب ڈھونڈ
اک جواں سی سنسناہٹ شوخ ساعت میں بسی
قلب و جاں کو دے گئی اک بیخودی، اک سرخوشی
کھیل تھا خوش فہمیوں کا جو رہا کچھ دیر تک
اک اداسی سی اداسی پھر فضا میں رچ گئی
درد کی دولت ملی تو دل قلندر ہو گیا
ہیچ تھی اب اس کے آگے دو جہاں کی خسروی
سمٹا تو میں ذرہ ہوں بکھرا تو میں صحرا ہوں
تھم جاؤں تو قطرہ ہوں بہہ جاؤں تو دریا ہوں
کیوں طور پہ میں جاؤں کیوں عرش پہ میں جاؤں
اس کا ہی تو پرتو ہوں میں اس کے سوا کیا ہوں
کیا کوئی شریک غم ہو گا مِرا دنیا میں
وہ عرش پہ تنہا ہے، میں فرش پہ تنہا ہوں
وہ سچ کے چہرے پہ ایسا نقاب چھوڑ گیا
رخ حیات پہ جیسے عذاب چھوڑ گیا
نتیجہ کوشش پیہم کا یوں ہوا الٹا
میں آسمان پہ موج سراب چھوڑ گیا
وہ کون تھا جو مِری زندگی کے دفتر سے
حروف لے گیا خالی کتاب چھوڑ گیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کتنی عجیب دیکھیے شانِ رسولﷺ بھی
برسائے جس نے سب پہ ہی رحمت کے پھول بھی
جب بھی چلا ہوں جانبِ کعبہ، تو دشت کا
میرے لیے تو پھُول بنا تھا، ببُول بھی
دُنیا کو کرتے اب بھی حقیقت سے رُوشناس
انمول گیان دیتے ہیں انﷺ کے اصول بھی
ہر اِک شے بانجھ کرتا شور ہے
دُعا کی کھیتیاں
اس میں اُگی اُمید، ساری گُفتگو، جُملے
خلِش اور واہموں کی تھاپ پر یہ ناچتے نوحے
یہ سارے سِلسلے چُپ کے
پروں کو نوچ کے بخشی گئیں آزادیاں دل کی
یہ سارے دائرے، رستے
مُحبت اس لیے چھُپائی گئی
کہ پگڑی درمیان لائی گئی
دو خُوشیاں اُجاڑ دی گئیں
ایک عزت ہے بچائی گئی
محبت رزق تھی میرے لیے
عُمر بھر کی کمائی گئی
گھر گیا آ کر دکانداروں سے ہی تکرار میں
جانے کیا آیا تھا لینے گھر سے میں بازار میں
ناز تھا اس کو وفا پر،۔ ناز مجھ کو پیار پر
وصل کی تھی رات ساری کٹ گئی تکرار میں
آپ کا دے کر حوالہ کہتے ہیں ہم ناز سے
کچھ ہمارے لوگ بھی ہیں آج کل سرکار میں
اگر شوقِ جنوں ہو آزمانا
دِیوں کو تیز آندھی میں جلانا
ہماری ایک عادت بن گئی ہے
غم و یاس و الم میں مُسکرانا
کُچل کر گردشِ شام و سحر کو
بہت تیزی سے چلنا ہے زمانہ
سحر ہونے کو ہے
تو کیا ہُوا اگر آج
چہرے سے ہنسی غائب ہے
اُلجھا ہوا ہے ذہن میرا
نیند آنکھوں سے بھی خائف ہے
کہتے ہیں یہ سبھی لوگ مجھے
کہ شاید تمہیں کچھ ’’ایسا‘‘ ہوا ہے
حِدتیں دم توڑتی ہیں
بہت سردی ہے
اپنی سرد مہری چھوڑ دو
جانے بھی دو شِکوے گِلے
کوتاہیاں انسان کی فطرت میں شامل ہیں
سنو! سردی ہے
سردی میں ہر اک شے منجمد ہے
آپ سے قطع رسم و راہ نہ کی
زندگی مُفت میں تباہ نہ کی
یہ ہے عظمت مِری محبت کی
تم کو پایا تو اور چاہ نہ کی
عُمر بھر ہم فقط رہے محکوم
آرزوئے جلال و جاہ نہ کی
دل اسے دیکھ کے ایسے مِرے اندر ناچا
جیسے اک پیڑ ہواؤں سے لِپٹ کر ناچا
ایک خُوشبو کی لہر سے مِرا آنگن مہکا
ایک دستک ہوئی ایسی کہ مِرا گھر ناچا
ایک سایہ تھا مِرے جسم سے لگ کر بیٹھا
ایک سایہ مِرے اندر سے نکل کر ناچا
جو تذکرہ نہ محبت کا چار سُو کرتے
ذرا سی دیر تو ہم سے وہ گفتگو کرتے
کچھ اور ہوتے جو امکاں حیات کے روشن
بڑی خوشی سے تمنائے رنگ و بُو کرتے
صِلہ ملا نہ وفا کا جب آج تک ہم کو
تو اور کیا تِری دنیا میں آرزو کرتے
جلدی میاں
ہے نام تو خورشید خاں
کہتے ہیں سب جلدی میاں
ہر کام میں گڑبڑ کریں
کمروں میں وہ کھڑبڑ کریں
ہیں دیر سے وہ جاگتے
اسکول جائیں بھاگتے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سمجھوں گا کہ حاصل ہوا مقصد حیات
گر جاں جدا ہو جسم سے مدینے میں
اور رُوح کرے طواف کعبے کا
اے کاش حشر میں مِلے
یوں میری محنتوں کا صلہ
آپﷺ مُسکرا کے دیکھیں مجھے
گُزرے گی کیا جمالِ رُخِ یار دیکھ کر
حیرت ہے حُسن حسرتِ دیدار دیکھ کر
نا سازیٔ جہاں کی تو پروا کبھی نہ تھی
جی بُجھ گیا ہے تم کو دلآزار دیکھ کر
اس دلفگار شوق کی حسرت نہ پوچھیے
مجروح ہو گیا ہو جو تلوار دیکھ کر
دل ہاتھ ہیں اور دُعا تیری یاد
ہم جیسوں کا حوصلہ تیری یاد
کچھ یوں بھی خموش ہو گیا ہوں
کرتی ہے مُکالمہ تیری یاد
پُوچھو کبھی میرے آنسوؤں سے
کس درجہ ہے خُوشنما تیری یاد
خوش فہمیوں میں رہ کے جو حد سے نکل گئے
بونے سمجھ رہے ہیں وہ قد سے نکل گئے
اب ہم کو چھُو نہ پائے گی دنیا تِری ہوس
ہم تیری خواہشات کی زد سے نکل گئے
آنتیں ہی بھر رہی ہیں لہو سے مِرا شِکم
اب بھُوک کے محاذ رسد سے نکل گئے
چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں اچھا بُرا ہو جائے گا
مان جا، ورنہ کوئی جھگڑا کھڑا ہو جائے گا
میں کہ بے نامی میں بھی خُوش اور وہ اہمیت طلب
ہم اگر ٹکرا گئے تو حادثہ ہو جائے گا
آخری پردہ بھی اس کو میری آنکھوں نے دیا
کیا خبر تھی وہ یہاں تک بے حیا ہو جائے گا
آج یہ کیسا مے خانے کا منظر منظر ہے
چھلکا ہوا پیاسوں کے لہُو سے ساغر ساغر ہے
ایسوں سے رُودادِ غمِ دل کہنے بیٹھے ہیں
جن کی زباں کا جُملہ جُملہ نشتر نشتر ہے
آؤ چلو تاریخ میں ڈُھونڈیں ایسے انساں کو
جس کی سچائی کا شاہد پتھر پتھر ہے
چند لمحے مجھ سے ملنے آ گیا
شعلۂ چاہت کو کچھ بھڑکا گیا
میرا غم تو بڑھ گیا ہے اور تُو
اپنی دانست میں مجھے بہلا گیا
اپنی قسمت پر نہ ہو نازاں رہے
چاہنے والا کہ جو چاہا گیا
اب تو یہ سوچ کے بھی دل مِرا گھبراتا ہے
صبح کا بھولا ہوا شام کو گھر آتا ہے
ایک اک کر کے بُجھے جاتے ہیں رخشندہ نجوم
ایک تُو ہے جو بہ ہر سمت نظر آتا ہے
اب تِرا خواب بھی اک پیکر سیمیں کی طرح
آسمانوں سے مِرے دل میں اتر آتا ہے
ندی
سچ یہ ہے
کہ آپ کہیں بھی رہتے ہوں
یہاں تک کہ سال کے سخت ترین دنوں میں
ندی جو اس وقت نہیں ہے آپ کے گھر میں
لیکن کہیں نہ کہیں ضرور ہو گی
کسی چٹائی میں
ہم خدا کہتے ہیں سب جس کو صنم کہتے ہیں
تم نہ کہنا اسے اللہ جو ہم کہتے ہیں
رنج کہتے ہیں کسے کس کو الم کہتے ہیں
ہم تو اس کو بھی تِرا فضل و کرم کہتے ہیں
پڑ کے بیمار عیادت کو بلایا تجھ کو
دیکھ او رشک مسیحا اسے دم کہتے ہیں
یہ جھوٹ ہے کہ تم سے محبت نہیں مجھے
لیکن غمِ معاش سے فرصت نہیں مجھے
میں ہوں مشینی دور کا مصروف آدمی
خود سے بھی بات کرنے کی مہلت نہیں مجھے
یہ زندگی ہے صبح کے اخبار کی طرح
دن بھر کے بعد جس کی ضرورت نہیں مجھے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خدا کے حکم سے مٹی کے پیکر بول اٹھے ہیں
نبیﷺ کے لمس سے بے جان پتھر بول اٹھے ہیں
ہے ان کی رحمۃ اللعالمینی کا یقیں شاید
کہ مداحِ رُسل کافر بھی اکثر بول اٹھے ہیں
محمد مصطفیٰﷺ ہیں خود ہمارے رہنما، ربی
خدا کے سامنے سارے پیمبر بول اٹھے ہیں
میرا مزاج دعاؤں جیسا
وہ شخص پتھر کے خداؤں جیسا
مرادیں کیسے بر آتی
وہ غرو پرور اناؤں جیسا
میں ہوں وہ ساون
جو جم کے برسے
یہ توبہ کا میری گھٹا بن کے چھانا
چھلکتا برستا ہوا جام 🍷 لانا
یہ وقتِ قبولِ دُعائے سحر ہے
ذرا بچ کے ہاتھوں سے دامن بچانا
غرورِ تغافل کے انداز والے
تِرا امتحاں ہے مِرا آزمانا
ہو گئی جو خطا خُدا بخشے
کر رہا ہوں دعا خدا بخشے
جس نے کی بے رُخی خدا پوچھے
کر گیا جو وفا خدا بخشے
وہ نہیں بخشے جو منافق تھے
جن میں تھی کچھ حیا خدا بخشے
آپ کو گر خیالِ وعدۂ باہم رہے
مبتلائے آرزو کیوں مبتلائے غم رہے
کر تڑپنے میں مدد اے دل کہ ٹھانی ہم نے ہے
آج قیدِ غم رہے، یا مبتلائے غم رہے
پھر وہی آشفتگی ہو، پھر وہی دیوانگی
دل پہ یا رب! پھر جنونِ عشق کا عالم رہے
جنونِ عشق کسی کو بھی یوں نہ راس آئے
وہ میرے پاس تو آئے مگر اُداس آئے
جسے حیات کسی رُخ سے بھی نہ راس آئے
کسی کے پاس نہ جائے ہمارے پاس آئے
وہاں سے جلد گُزر جائیں رہروانِ حیات
جہاں بھی راہ میں کوئی مقامِ یاس آئے
پھر آ گیا زباں پہ وہی نام کیا کریں
تُو ہی بتا اے گردشِ ایام! کیا کریں
اک پَل کو لب پہ آئی ہنسی پھر پلٹ گئی
یاد آ گیا ہو جیسے کوئی کام کیا کریں
ہر آرزُو کے ہونٹ زمانے نے سی دئیے
بُجھنے لگا چراغ سرِ شام کیا کریں
صورتِ آب کو بھی صورتِ صحرا رکھے
وہ تو ہر خواب کی تعبیر کو اُلٹا رکھے
ابرِ چاہت کوئی آئے کہ یہاں آگ بجھے
"ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ صحرا رکھے"
تھک گیا ہوں یہاں کردار نبھاتے ہوئے میں
بس کہانی سے مُجھے اب وہ الگ سا رکھے
تابِ فُرقت بھی نہیں ضبط کا یارا بھی نہیں
اسے گھبرا کے بھلا دیں یہ گوارا بھی نہیں
خُود فریبی سے تِرا لُطف جسے کہہ سکتے
اپنی قسمت میں وہ مُبہم سا اشارا بھی نہیں
موجِ ساحل ہی ڈبو دیتی تو کیا کہنا تھا
وہ سفینہ جسے طُوفاں کا سہارا بھی نہیں
کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں
ایک سورج ڈھونڈتا ہوں جو کہ سپنوں میں نہیں
دیکھتا رہتا ہوں مٹتے شہر کے نقش و نگار
آنکھ میں وہ صورتیں بھی ہیں کہ گلیوں میں نہیں
موسموں کا رخ ادھر کو ہے ہواؤں کا اِدھر
جنگلوں میں بات کوئی ہے کہ شہروں میں نہیں
الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں
کسی کے قتل کرنے کو بھبھوکا بن کے بیٹھے ہیں
سُبک سر ہے وہی جو دوسروں کے گھر پہ جاتا ہے
جو اپنے گھر میں بیٹھے ہیں وہ لاکھوں من کے بیٹھے ہیں
غضب ہے قہر ہے شامت ہے آفت ہے قیامت ہے
بغل میں وہ عدو کے آج کیوں بن ٹھن کے بیٹھے ہیں
گُماں سے بنتا نہیں ہے یہاں یقیں ہر روز
غزل کہو، مجھے کہتی ہے یہ زمیں ہر روز
قسم خُدا کی خُدا کو بھی تھا گِلہ ان سے
جو تیرے آگے جھُکاتے رہے جبیں ہر روز
ہم ایسے لوگ محبت سے بے نیاز رہے
ہمارے نام پہ مرتے رہے حسیں ہر روز
کب تک چلتے رہو گے
سر ہی کیا کم تھا وچاروں کی گھٹڑی سا
جو تم نے اُٹھا رکھا ہے پہاڑ سا
پگڑی کو
اس بوجھ کو لیے
تم کب تک چلتے رہو گے
پھُول کھلانے کے لیے اس تنتر میں
آپ تو اب آئے ہیں ان مرحلوں کے درمیاں
ہم نے صدیاں کاٹ دی ہیں زلزلوں کے درمیاں
فکرِ دُنیا، فکرِ عُقبیٰ، فکرِ ہستی، فکرِ موت
ایک انساں؛ اور اتنے مسئلوں کے درمیاں
دائرے تک ہی ذرا پرواز کو محدود رکھ
موت بھی ملتی ہے اکثر بادلوں کے درمیاں
مرنے کے انتظار میں زندہ رہا ہوں میں
شاید یہی سبب ہے کہ تنہا رہا ہوں میں
منزل کی بات چھوڑئیے رستے بھی کھو گئے
لگتا ہے جیسے خواب میں چلتا رہا ہوں
آئینہ رکھ کے سامنے دیکھا ہے غور سے
ویسا نہیں ہوں جیسا کہ لگتا رہا ہوں میں
عکاسی کریں دونوں کے حصے میں نہیں ہیں
آئینے میں وصف ہے شیشے میں نہیں ہیں
یہ ہو ہی نہیں سکتا کوئی میری طرف آئے
وہ راستہ ہوں جو کسی نقشے میں نہیں ہیں
میں جان گیا ہوں تری دنیا کی حقیقت
یہ بھیڑیا اب بھیڑ کے پردے میں نہیں ہیں
ہم آج بہت ان کو خفا دیکھ رہے ہیں
اے شوخیٔ تقدیر یہ کیا دیکھ رہے ہیں
یہ آپ کی پُرسش کا ملا ہے ہمیں انعام
کچھ درد محبت کو سوا دیکھ رہے ہیں
پہچان میں آتے نہیں پہچانے ہوئے لوگ
بدلی ہوئی دنیا کی ہوا دیکھ رہے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے دو جہاں کے مالک اعلیٰ ہے نام تیرا
پر دل کی بستیوں میں دیکھا مقام تیرا
موقوف کب ہے جن و انس و ملائکہ پر
طائر بھی نام لیتے ہیں صبح و شام تیرا
تخصیص نعمتوں میں ابرار کی نہیں کچھ
اشرار پر بھی ہر دم ہے لطف عام تیرا
مانگتے ہیں تو ذرا سا تو نہیں مانگتے ہیں
اے سمندر! تِرا دریا تو نہیں مانگتے ہیں
کیا خبر دُھوپ نہ دے جائے وہ خیرات کے ساتھ
لوگ دِیوار سے سایہ تو نہیں مانگتے ہیں
وحشتیں بانٹتے پھرتے ہیں تِری گلیوں میں
بدلے میں کوئی سِکہ تو نہیں مانگتے ہیں
مریدو یہ مُٹاپا دِیدنی ہے شیخِ کامِل کا
خُدا معلوم کھاتے ہیں یہ آٹا کون سے مِل کا
رہا مصروف پھر بھی رات بھر اختر شماری میں
اثر اُلٹا ہوا اے ڈاکٹر! مجھ پر تِری پِل کا
حیاتِ نو مبارک، اپنا ماضی یاد کر لیلیٰ
تِری موٹر کا شوفر، سارباں تھا تیری محمل کا
تخریبِ باغباں کی حقیقت چُھپی رہی
جب تک نقاب گُل کی چمن پر پڑی رہی
اُمید ناخُداؤں سے جب تک بندھی رہی
تب تک ہماری ناؤ بھنور میں پڑی رہی
جو جبر و اختیار کے بس میں پڑی رہی
کہیے وہ زندگی بھی کوئی زندگی رہی
دردِ دل کو داستاں در داستاں ہونے تو دو
شہرِ قاتل میں ذرا امن و اماں ہونے تو دو
میری آہِ نِیم شب منزل نمائے شوق ہے
نالۂ دل کو رحیلِ کارواں ہونے تو دو
اور بھی نا قدردانئ ہُنر یاد آئے گی
ہمنشینوں کو ملال رفتگاں ہونے تو دو
قاتل یہاں بھی بھائی کا بھائی ہے دوستو
دنیا یہ کیسے موڑ پہ آئی ہے دوستو
مہر و وفا سے اب ہمیں رغبت نہیں رہی
محفل کدورتوں کی سجائی ہے دوستو
لُٹنے پہ گھر ہمارا وہ ایسے ہیں مطمئن
اُمید ان کی جیسے بر آئی ہے دوستو
اُمید کے چراغ سب بُجھا کے ہم رُکے نہیں
یوں عشق میں بساطِ جاں گنوا کے ہم رکے نہیں
تمہارا وصل کھینچ کر تو لا سکے نہ زندگی
تمہارے ہِجر کو گلے لگا کے ہم رکے نہیں
سوال اور جواب کے، عذاب سے رِہا ہوئے
ورق ورق کتابِ جاں جلا کے ہم رکے نہیں
ہمت تمام پیشِ سفر ختم ہو گئی
منزل ہے دُور اور ڈگر ختم ہو گئی
کیسے کٹے گی رات تِرے اِنتظار میں
سگریٹ جو آخری ہے اگر ختم ہو گئی
پھیلی فضا میں کیا تِرے انفاس کی تپش
پھر سرد رات کھو کے اثر ختم ہو گئی
کب سے پھرا رہا ہے جنوں کُو بہ کُو ہمیں
کر لو کبھی خدا کے لیے رُوبرُو ہمیں
بُجھتا ہوا چراغ ہے سُورج کے سامنے
لے آئی ہے کہاں پہ رہِ آرزُو ہمیں
کرتے ہیں اک سراب سے باتیں ہم آج کل
زمزم کی ریگزار میں ہے جُستجُو ہمیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیرے نام سے ابتداء کر رہا ہوں
میرے رب میں تیری ثناء کر رہا ہوں
گُناہوں سے مجھ کو بچا دے تُو مولا
میں تُجھ سے یہی اِلتجا کر رہا ہوں
میں کمزور ہوں کر دے مجھ پہ عنایت
میں تُجھ سے یہی استدعا کر رہا ہوں
نہ بڑھ جائے حد سے خبردار دیکھو
یہ تقلیدِ مغرب کی رفتار دیکھو
بچایا جو کچھ سینما میں گنوایا
ذرا قومِ مُسلم کے اطوار دیکھو
اصول اور آئین کا فُقدان یکسر
پھر اس پر عزائم کا طومار دیکھو
اُٹھ کے در سے تمہارے اگر جائیں گے
تم ہی کہہ دو کہاں اور کدھر جائیں گے
جاں دے دیں گے ہم تم پہ مر جائیں گے
جاں نثاروں میں نام اپنا کر جائیں گے
تیرے عاصی بھی ہیں تجھ سے اُلفت بھی ہے
قہر بھی تیرا، تیری رحمت بھی ہے
روایت آپ ہی جِدّت کے حق میں بیٹھ گئی
قدیم دور کی پٹڑی سڑک میں بیٹھ گئی
ہمارے مِلتے ہی قطبی ستارا ڈُوب گیا
وہ رہنمائی کی حسرت فلک میں بیٹھ گئی
وہ لالٹین جو سِگنل کے پاس ٹُوٹ گئی
وہ پوری آنکھ ادھوری دھنک میں بیٹھ گئی
پھُول بہت مہنگے ہو گئے ہیں
تم پھُول خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے
یہ بھی پتہ ہے کہ تم میں پھُول چُرانے کا پتہ نہیں
تم تو پتا ہِلے تو ڈر جاتے ہو
لیکن تم نے اپنے سر پر قبرستان اُٹھا رکھا ہے
جس کے بھار سے تمہاری گردن ٹُوٹ رہی ہے
لاعنوان
وہ ان گنت خط
جو کتنی ہی زندگیوں میں
میں نے تمہیں لکھے تھے
اور تم نے ہر ایک خط
مسکراتے ہنستے روتے
کئی کئی بار پڑھا
اب یہاں زیست کے آثار نہیں دیکھو گے
تم مِرے شہر میں دِیوار نہیں دیکھو گے
حالتِ جنگ میں بیٹھا ہوں قلمدان لیے
اب مِرے ہاتھ میں تلوار نہیں دیکھو گے
جن درختوں کی طبیعت میں ذرا خم نہ ہو
اُن درختوں کو ثمر بار نہیں دیکھو گے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مرحبا صل علیٰ فخر امم وہ شاہ دیںﷺ
جن کے در کی خاک سے روشن ہے عالم کی جبیں
اے خوشا شمس الضحیٰ بدرالدجیٰ صدر العلیٰ
حضرت آدم کی پیشانی کے نور اولیں
دی شب معراج وہ رفعت انہیں اللہ نے
آپ کے قدموں کے نیچے آ گیا عرش بریں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے خُدا! دل کا حال کس سے کہوں
شرحِ رنج و ملال کس سے کہوں
لُطف و اخلاص و مہر و اُلفت کا
ہے زمانہ میں کال کس سے کہوں
اپنے لُطف و کرم سے بارِ الٰہ
دُور کر یہ وبال کس سے کہوں
پتلۂ خاک میں ہے بھید چھپا کیا کہیے
کھول دیں پھر تو ہو اک شور بپا کیا کہیے
ہم ہوں معدوم جہاں آپ ہوں ممکن ہی نہیں
کب ضیا شمس سے ہوتی ہے جدا کیا کہیے
تم کو ہی چھوڑ دیں یا خود کو ہی ہم کھو بیٹھیں
اتنی ہی بات میں ملتا ہے پتا کیا کہیے
نظر نیچی قدم دھیمے کلام آہستہ آہستہ
سلیقہ سیکھ لیتے ہیں غلام آہستہ آہستہ
ہماری جلد بازی نے ہمیں بہکا دیا ورنہ
ہمارے ساتھ چلتی خوش خرام آہستہ آہستہ
ابھی بیکار بیٹھا سب کے قصے سنتا رہتا ہوں
مِری مرضی کا مل جائے گا کام آہستہ آہستہ
بسی خیال میں اب تیری جلوہ گاہ تو ہے
بلا سے آنکھ نہیں ہے مگر نگاہ تو ہے
ہزار شکر عنایت کی اک نگاہ تو ہے
جو روز روز نہیں اب وہ گاہ گاہ تو ہے
حریمِ کعبہ کو گر میں پہونچ سکتا
مگر بُتوں ہی سے اک گونہ رسم و راہ تو ہے
مٹا کر ہی چھوڑے گی یادِ حبیب
یہ کانٹا کھٹکتا ہے دل کے قریب
بہت انقلابات آتے رہے
محبت کا لیکن نہ بدلا نصیب
فقط اک محبت ہے آگاہِ راز
نہ وہ دُور ہیں اور نہ مجھ سے قریب
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شوقِ نعتِ سیدالابرارﷺ ہونا چاہیے
سامنے قرآن کا معیار ہونا چاہیے
خونِ دل صرف از پئے اشعار ہونا چاہیے
نعت گو کو حاملِ ایثار ہونا چاہیے
بختِ خفتہ اس طرح بیدار ہونا چاہیے
ان کے رُخ کا خواب میں دیدار ہونا چاہیے
کیسے حالات میں آ گئے، کیا کریں
ناتواں غم، تناور ہوئے، کیا کریں
یہ ہوا جانفزائی کا پیغام تھی
کیا کریں،ب جھ رہے ہیں دیے، کیا کریں
بے خبر تھے تو ہر کام آسان تھا
اب خبر کا تحیّر بہے، کیا کریں
اسمِ ظاہر سے تِرے جو کہ خبردار ہوا
تا ابد دِید سے پھر اپنی وہ بیزار ہوا
تیری وحدت میں خریداری کا دعویٰ کس کو
حُسن کا اپنے تُو ہی آپ خریدار ہوا
خُود کو کھو کے نہ لیا جس نے کبھی نام اللہ
حق اگر پُوچھو وہی مخزن اسرار ہوا
کہا جا چکا ہے سنا جا چکا ہے
مقدر میں کیا کیا لکھا جا چکا ہے
میں بیٹھا یہاں ہوں مگر یہ مرا دل
مدینے، نجف، کربلا جا چکا ہے
تجھے زعم ہے پارسائی کا لیکن
نگاہوں سے تجھ کو چھوا کا چکا ہے
ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
سہمی ہوئی آہوں نے
سب کچھ کہہ ڈالا
خاموش نگاہوں نے
ہمت رائے شرما
بد بلا ہے یہ بد بلا ہے عشق
پری خانم! بہت برا ہے عشق
حسن دریا ہے اے بوا خضرو
دل کی کشتی کا ناخدا ہے عشق
اے عزیز! دن پڑھا زلیخا نے
دل ہی یوسف تو بھیڑیا ہے عشق
خلش و سوز دلفگار ہی دی
دل میں شمشیر آبدار ہی دی
بے وفا سے معاملے کے لیے
اک طبیعت وفا شعار ہی دی
کیفیت دل کی بیان کرنے کو
ایک آواز دلفگار ہی دی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بُلند تر ہے فلک سے وقارِ کُوئے رسولﷺ
نہ کیوں ہو عرش نشیں خاکسارِ سُوئے رسولﷺ
بہ التجا متمنی ہے چند پھولوں کی
بہارِ خُلد نے دیکھی بہار کوئے رسولﷺ
وہ خاک رہتی ہے تاصبح کہکشاں بہ کنار
جہاں پہ خاک ہو خاکسارِ کوئے رسولﷺ
پھول توڑو نہ یوں تتلی کو پریشان کرو
کِھلتا رہنے دو چمن، اس کو نہ وِیران کرو
تم سے مایوس بہت دل ہے کبھی ایسا کرو
سامنے آؤ اچانک، مجھے حیران کرو
ظُلم کرنا جو بُرا ہے تو ہے سہنا بھی غلط
تم کو بھی حق ہے کہ ظالم کو پشیمان کرو
رکھیو بچا کے وار ابھی راستے میں ہوں
آتا ہوں میرے یار ابھی راستے میں ہوں
اس نے بلایا ہی نہیں پر اپنے آپ سے
کہتا ہوں بار بار ابھی راستے میں ہوں
یہ بات سنتے سنتے مِرے کان پک گئے
تھوڑا سا انتظار ابھی راستے میں ہوں
حق کی خاطر بولو گے، مر جاؤ گے
کوئی راز بھی کھولو گے، مر جاؤ گے
صدیوں سے ٹھہرے نفرت کے جوہڑ میں
پیار محبت گھولو گے، مر جاؤ گے
چاہے گھر سے پانی پی کے نکلو گے
تھوڑا سا بھی ڈولو گے، مر جاؤ گے
اس کے ہاتھوں میں وہ تاثیر مسیحائی تھی
سوکھتے پیڑ سے بھی شاخ نکل آئی تھی
زندگی بھر وہ اداسی کے لیے کافی ہے
ایک تصویر جو ہنستے ہوئے کھنچوائی تھی
کل تو مرنے میں سہولت بھی بہت تھی مجھ کو
ہجر تھا رات تھی برسات تھی تنہائی تھی
مجھ سے ملنے کے لیے آنا کہاں آسان ہے
اک سڑک پر رش بہت ہے اک سڑک سنسان ہے
کیوں کنارہ کش ہوں تیرے چہرہ و آواز سے
آنکھ آخر آنکھ ٹھہری کان بھی پھر، کان ہے
کچھ بتاؤ تو دسمبر میں ہے کیسا رنگ و روپ
وہ عدم آباد جنت کیسی عالی شان ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہیں کس کو اب کہ ہے تُو ہی تُو تِری شان جل جلالہ
ہوئے ہم تو ہم سے ہی دُو بدُو تری شان جل جلالہ
تِرا حکم جاری ہے کُو بکُو تُو ہی خود نما بھی ہے سُو بہ سُو
سوا تیرے کون ہے رُو بہ رُو تری شان جل جلالہ
کبھی دُشمنوں پہ کرم کیا کبھی دوستوں پہ ستم کیا
یہ عجب طرح کی ہے تیری خُو تری شان جل جلالہ
آنسُو ہیں اور دیدۂ خُونبار دوستو
دامن ہے اور اشک گُہربار دوستو
آنکھوں میں چُبھ رہی ہے غمِ زندگی کی دُھوپ
بیٹھے ہیں زیرِ سایۂ دیوار دوستو
اب دل ہے اور ماتمِ صد شہرِ آرزو
اک سر ہے اور لاکھ خریدار دوستو
لذتِ جورِ ناروا کی قسم
دل ستم دوست ہے خدا کی قسم
نہ اٹھا بارِ منتِ الفاظ
نازکی ہائے مُدعا کی قسم
نغمۂ رُوح و نالے میں
اس گدائے اثر دُعا کی قسم
آنکھ میں خواب بے حجاب آئے
اس سے کہہ دو کہ بے نقاب آئے
لا زمانے لہو کو گردش میں
تاکہ چہروں پہ پھر شباب آئے
شامِ محشر ہو جب نگاہوں میں
کیا سوال آئے، کیا جواب آئے
ہر بار صبر و ضبط کو بخشوں زبان کیوں؟
ہر بار لازمی ہے مِرا امتحان یوں؟
میرے سوا ہیں اور بھی کتنے ہی سر بلند
میرے ہی سر پہ بوجھ تِرا آسمان کیوں؟
جل کر تو راکھ ہو چکے اے چشمِ نم، مگر
یاد آ رہے ہیں آج وہ سارے مکان کیوں؟
چمک کلی کی گُلوں کی ادا بھی کتنی دیر
بہار نغمۂ بادِ صبا بھی کتنی دیر
ان آندھیوں کو بھی ضِد ہے قدم نہ روکیں گی
رہے لبوں پہ کسی کے دُعا بھی کتنی دیر
ہوا کی موج بھی کب تک کرے گی اپنا کام
جنُوں مزاجئ برگِ نوا بھی کتنی دیر
شہرت کے ستائش کے طلبگار بہت تھے
یہ لوگ کبھی ہم سے وفادار بہت تھے
میں نے ہی تِرے بعد سنبھالے اسے رکھا
ورنہ تو مِرے دل کے خریدار بہت تھے
کب میں نے کبھی چارہ گرو تم کو پکارا
مُشکل میں سہارے مجھے دو چار بہت تھے
ایسا ہوا کہ آج پھر آئے وہ خواب میں
یہ خاکسار رہ گیا اُلجھا حساب میں
جس دن سے بن گیا ہوں میں ہڈی کباب میں
وہ شوخ پڑ گیا ہے عجب پیچ و تاب میں
دل کے بجائے کیسے وہ پہلو میں آ گیا
اے شیخ جی پڑھا یہ سبق کس کتاب میں
میں زخمِ آبلہ پائی سے تنگ آتا نہیں
ملال کیسا کوئی میرے سنگ آتا نہیں
اُسی کو آتا ہے ہر کارگرِ رمزِ حیات
مجھے تو جینے کا کوئی بھی ڈھنگ آتا نہیں
میں بے دلی پہ مگر روز مُسکراتا ہوں
عجیب شخص ہوں میں خود سے تنگ آتا نہیں
انسان اپنے نفسِ ستم گر کو مارتا
جس حال میں بھی عمر گزرتی گزارتا
زاہد نے کچھ بھی قدر نہ کی تیرے حُسن کی
حُورانِ خُلد کو تِری صُورت پہ وارتا
اس بُوالہوس کو حُسن و وفا کی تمیز کیا
دُشمن ہمارے سامنے شیخی بگھارتا
سب بدلتا ہے
بس انسان نہیں بدلتا
لوگ بدلتے ہیں
آنکھیں بدلتی ہیں
اُمید بدلتی ہے
رُخ بدلتے ہیں
جو میرے پیار میں اُلجھا ہوا دکھائی دے
خدا کبھی نہ مِری قید سے رہائی دے
مِری بہو کو جو کوئی بھی منہ دکھائی دے
تو ساتھ نقد کے زیور کوئی طلائی دے
عجیب شخص سے پالا پڑا ہے اے بھابی
میں کچھ کہوں تو اسے کچھ کا کچھ سنائی دے
کسی کسی پہ تو کُھلتا ہے عاشقی کا مزاج
کوئی کوئی تو سمجھتا ہے روشنی کا مزاج
وفورِ محفلِ یاراں سے دشتِ مجنوں تک
بدلتا رہتا ہے تیزی سے آدمی کا مزاج
ذرا سی ٹھیس سے منظر ہی ٹوٹ جاتا ہے
جمال آئینہ خانہ ہے زندگی کا مزاج
آخرش خوابِ پریشاں کو کہاں تک دیکھوں
ہر طرف رات کا سایہ ہے جہاں تک دیکھوں
اب تو عادت ہے سرِ شام بکھر جانے کی
ٹُوٹ جانا تو مقدر ہے یہاں تک دیکھوں
ہے تِرے شہر میں زخموں کی نمائش کا رواج
پھر تِرا شوق لبِ زخمِ گُماں تک دیکھوں
ذہن کا کچھ مُنتشر تو حال کا خستہ رہا
کتنا میری ذات سے وہ شخص وابستہ رہا
صُبحِ کاذب روشنی کے جال میں آنے لگی
سیمگوں سُورج اُجالے پر کمر بستہ رہا
دیکھنے میں کچھ ہوں میں محسوس کرنے میں ہوں کچھ
چشم بینا پر مِرا یہ راز سربستہ رہا
اُگی تھی صحن میں دیوار ہر چڑھی ناں تھی
وہ عشق پیچاں کی اک بیل تھی، بڑھی ناں تھی
میاں! یہ لوگ ہی تاریکیوں کے عادی تھے
چراغ بیچنے والوں کی کچھ کمی ناں تھی
پھر اس کے بعد ہُوا یوں کہ ایک دن اُس نے
وہ بات کہہ دی جو پہلے کبھی کہی ناں تھی
بجز وہم و گماں کچھ بھی نہیں ہے
ہمارے درمیاں کچھ بھی نہیں ہے
جھلک ہم آرزو کی دیکھتے ہیں
حقیقت میں یہاں کچھ بھی نہیں ہے
ہمیں بے چین کیے رکھتا ہے آخر
اگر سوز نہاں کچھ بھی نہیں ہے
دُھوپ سر سے گُزرنے والی ہے
زندگی شام کرنے والی ہے
آج رشتوں کو جوڑ کر رکھیے
کل تو ہستی بکھرنے والی ہے
یہ جو بل کھا کے چل رہی ہے بہت
یہ ندی تو اُترنے والی ہے
ایک سرد جنگ ہے اب محبتیں کہاں
ٹُوٹتے ہوئے طلسم، پھیلتا ہوا دُھواں
وہ بھی اپنے حُسن سے بے خیال ہو چلا
اور خواب بن گئیں میری سرگِرانیاں
قیس کی محبتیں، کوہکن کی چاہتیں
اور یہ روایتیں بھُولتی کہانیاں
تب کہیں دے گا اذیت سے رہائی مجھ کو
ہجر کھا جائے گا جب ایک تہائی مجھ کو
اے خُدا مجھ کو بتا پھر میں کہاں جاؤں گا
تیری جنت بھی اگر راس نہ آئی مجھ کو
صرف اُلفت سے یہاں کام نہیں چلتا ہے
اس لیے تھوڑی لگی اپنی کمائی مجھ کو
بدن ہے کانچ کانچ سا خطا کی تیز آنچ سا
پگھل رہا ہے آگ میں وجودِ عشقِ نام سے
ہوس کی اونچی شاخ پر ٹھکانہ ہے ہواؤں کا
گماں کا دیپ جل اٹھا خطوطِ حسنِ خام سے
دھنک بنی ہوئی حیا بدن کا رُوپ دھار کے
بدل رہی ہے پیرہن مقیمِ صُبح و شام سے
بس ہم نے ساتھ تِرا ہر دُعا میں مانگا ہے
کہ اپنی جاں سے زیادہ تُجھی کو چاہا ہے
زمانے بھر کے بہت لوگ تم نے دیکھے ہیں
ہمارے جیسا کہیں کوئی تم نے دیکھا ہے
اندھیری رات کے اے چاند تُو بتا مجھ کو
مِری طرح وہ کبھی تیرے ساتھ جاگا ہے
محوِ فریاد ہو گیا ہے دل
آہ، برباد ہو گیا ہے دل
سینہ کاری میں اپنے ناخن سے
رشکِ فرہاد ہو گیا ہے دل
دیکھتے دیکھتے ستم تیرا
سخت ناشاد ہو گیا ہے دل