رکھنا نہ تھا پسند مگر رکھ دیا گیا
خودغرضیوں کے پاؤں پہ سر رکھ دیا گیا
کشتی کو اپنی لے کے چلا تھا میں جس طرف
دریا میں اس طرف ہی بھنور رکھ دیا گیا
جس نے زبان کھولی ستمگر کے سامنے
اس کا بدن سے کاٹ کے سر رکھ دیا گیا
جس بوجھ کو اٹھانے سے کترا رہے ہو تم
تب کیا کرو گے سر پہ اگر رکھ دیا گیا
عالم دعا کے واسطے جب بھی اٹھائے ہاتھ
میری دعا سے دور اثر رکھ دیا گیا
اشتیاق عالم کمالوی
No comments:
Post a Comment