Thursday, 14 May 2026

رکھنا نہ تھا پسند مگر رکھ دیا گیا

 رکھنا نہ تھا پسند مگر رکھ دیا گیا

خودغرضیوں کے پاؤں پہ سر رکھ دیا گیا

کشتی کو اپنی لے کے چلا تھا میں جس طرف

دریا میں اس طرف ہی بھنور رکھ دیا گیا

جس نے زبان کھولی ستمگر کے سامنے

اس کا بدن سے کاٹ کے سر رکھ دیا گیا

جس بوجھ کو اٹھانے سے کترا رہے ہو تم

تب کیا کرو گے سر پہ اگر رکھ دیا گیا

عالم دعا کے واسطے جب بھی اٹھائے ہاتھ

میری دعا سے دور اثر رکھ دیا گیا


اشتیاق عالم کمالوی

No comments:

Post a Comment