عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے گُنبدِ خضرا ہے تِری یاد بھی کیا یاد
جب یاد تِری آئی تو کچھ بھی نہ رہا یاد
سب کھنچ کے سِمٹ جائیں گے دامانِ نبیؐ میں
آقاﷺ کے غلاموں کو ہے آقاﷺ کا پتا یاد
تُو چاہے تو بخشش کے لیے یہ بھی بہت ہے
دل میں تِری پیارے کی ہے اے میرے خدا یاد
اللہ رے سرکارﷺ کی زُلفوں کا تصور
بے ساختہ آ جاتی ہے زُلفوں کی گھٹا یاد
تسلیم بہرحال ہے عظمت تِری لیکن
اے خاکِ وطن مجھ کو مدینے میں نہ آ یاد
بیتاب سفر طیبہ کی جانب ہے مِری روح
شاید مِرے آقاﷺ نے مجھے آج کیا یاد
اس در پہ حضوری کی دعا خوب ہے لیکن
آقاﷺ کا وسیلہ بھی رہے وقتِ دعا یاد
راس آئے نہ اے حق اسے عشرت کا زمانہ
آتا ہے جسے صرف مصیبت میں خدا یاد
علامہ عبدالحق بنارسی
No comments:
Post a Comment