مدت سے آسمان کو دیکھا نہیں حضور
کوئی بھی حال پوچھنے آیا نہیں حضور
تعلیم مجھ کو ساری ہی معکوس دی گئی
لیکن میں ایک لفظ بھی بولا نہیں حضور
پتھر بنا دیا ہے مجھے ظلم و جور نے
میں نے خدا کے بارے میں سوچا نہیں حضور
شاید غنودگی میں ہی لوٹا زمیں پہ میں
ہوش و حواس میں کبھی رویا نہیں حضور
سنتا ہے کون شوق سے دکھ کی کہانیاں
میں گہری نیند برسوں سے سویا نہیں حضور
رشید سندیلوی
No comments:
Post a Comment