رنگِ حنا دیدِ پیا ہر اک ادا پہ مر گئے
ہم ایسے سادہ دل کہ ہم پہلی نگہ پہ مر گئے
اے ہجر دھیرج رکھ مِرے ہوئے کو کتنا مارے گا
مدت ہوئی ہم عشق زادے دلربا پہ مر گئے
پاگل نہیں تھے ہجر کو تیرے نبھایا جنہوں نے
پاگل نہیں تھے جو تِری حسن و ادا پہ مر گئے
رنگِ حنا دیدِ پیا ہر اک ادا پہ مر گئے
ہم ایسے سادہ دل کہ ہم پہلی نگہ پہ مر گئے
اے ہجر دھیرج رکھ مِرے ہوئے کو کتنا مارے گا
مدت ہوئی ہم عشق زادے دلربا پہ مر گئے
پاگل نہیں تھے ہجر کو تیرے نبھایا جنہوں نے
پاگل نہیں تھے جو تِری حسن و ادا پہ مر گئے
دلِ بے کار سے بیزار ہوئے پھرتے ہیں
اور یہ زعم کہ فنکار ہوئے پھرتے ہیں
اتنے برسوں کی رفاقت کا صِلہ ہے جو ہم
ایک دُوجے سے خبردار ہوئے پھرتے ہیں
ریگزاروں کی مسافت کی تھکاوٹ کے سبب
ہم سمندر کے طرفدار ہوئے پھرتے ہیں
زخم گنتے رہے اور زخم اٹھاتے رہے ہم
زندگی پھر بھی سہولت سے بِتاتے رہے ہم
لذتِ غم میں پذیرائیِ فن تک نہ ملی
شعر دیوار پہ لکھ لکھ کے مٹاتے رہے ہم
آنکھ لگتے ہی قفس میں شبِ ہجراں کی میاں
دو گھڑی ہی سہی پر ناچتے گاتے رہے ہم
جانے کتنے راز چھپا رکھے ہیں کرونا نے
سُورما بھی بُزدل بنا رکھے ہیں کرونا نے
بازارِ حُسن بھی ویران ہیں، سب پریشان ہیں
حُسن پرست سب ہی ستا رکھے ہیں کرونا نے
عاشق نہیں ملتے اب کسی گلی یا کوچے میں
مجنوِں فرہاد گھر بٹھا رکھے ہیں کرونا نے
یوں شر نا بناؤ دوستو
عشق کر کے نبھاؤ دوستو
یہ جو تمہیں آزماتے ہیں
انہیں بھی آزماؤ دوستو
یہ سب تو پرانی باتیں ہیں
کچھ اور بھی بتاؤ دوستو
میں حوا کی بیٹی ہوں مجھے رسوا نا کرو
میری حرمت کا پاس رکھو نیلام باخدا نا کرو
مجھے جہیز کے نام پہ ٹھکراتے ہیں
بازاروں سڑکوں پہ تمسخر اڑاتے ہیں
میں جو درد سہتی ہوں وہ بتاتی نہیں
گریہ نہیں کرتی آواز اٹھاتی نہیں
مجھے ورثے میں ملا تھا، سو پیارا تھا دُکھ
یعنی میں نے بھی خوشی سے ہی گزارا تھا دکھ
یار! میں نے کسی کے شہر سے جاتے ہوئے
اپنے سامان میں رکھا جو خسارہ تھا دکھ
مجھے بچپن سے ہی ادراک تھا اس رمز کا دوست
میری آنکھوں میں چمکتا ہوا تارا تھا دکھ