Showing posts with label دانیال رند. Show all posts
Showing posts with label دانیال رند. Show all posts

Saturday, 9 July 2022

رنگ حنا دید پیا ہر اک ادا پہ مر گئے

 رنگِ حنا دیدِ پیا ہر اک ادا پہ مر گئے

ہم ایسے سادہ دل کہ ہم پہلی نگہ پہ مر گئے

اے ہجر دھیرج رکھ مِرے ہوئے کو کتنا مارے گا

مدت ہوئی ہم عشق زادے دلربا پہ مر گئے

پاگل نہیں تھے ہجر کو تیرے نبھایا جنہوں نے

پاگل نہیں تھے جو تِری حسن و ادا پہ مر گئے

Wednesday, 13 October 2021

دل بیکار سے بیزار ہوئے پھرتے ہیں

 دلِ بے کار سے بیزار ہوئے پھرتے ہیں

اور یہ زعم کہ فنکار ہوئے پھرتے ہیں

اتنے برسوں کی رفاقت کا صِلہ ہے جو ہم

ایک دُوجے سے خبردار ہوئے پھرتے ہیں

ریگزاروں کی مسافت کی تھکاوٹ کے سبب

ہم سمندر کے طرفدار ہوئے پھرتے ہیں

Saturday, 19 June 2021

زخم گنتے رہے اور زخم اٹھاتے رہے ہم

 زخم گنتے رہے اور زخم اٹھاتے رہے ہم

زندگی پھر بھی سہولت سے بِتاتے رہے ہم

لذتِ غم میں پذیرائیِ فن تک نہ ملی

شعر دیوار پہ لکھ لکھ کے مٹاتے رہے ہم

آنکھ لگتے ہی قفس میں شبِ ہجراں کی میاں

دو گھڑی ہی سہی پر ناچتے گاتے رہے ہم

Tuesday, 15 June 2021

جانے کتنے راز چھپا رکھے ہیں کرونا نے

 جانے کتنے راز چھپا رکھے ہیں کرونا نے

سُورما بھی بُزدل بنا رکھے ہیں کرونا نے

بازارِ حُسن بھی ویران ہیں، سب پریشان ہیں

حُسن پرست سب ہی ستا رکھے ہیں کرونا نے

عاشق نہیں ملتے اب کسی گلی یا کوچے میں

مجنوِں فرہاد گھر بٹھا رکھے ہیں کرونا نے

Sunday, 2 May 2021

یوں شر نا بناؤ دوستو

 یوں شر نا بناؤ دوستو 

عشق کر کے نبھاؤ دوستو 

یہ جو تمہیں آزماتے ہیں 

انہیں بھی آزماؤ دوستو 

یہ سب تو پرانی باتیں ہیں 

کچھ اور بھی بتاؤ دوستو 

Saturday, 1 May 2021

میں حوا کی بیٹی ہوں مجھے رسوا نا کرو

 میں حوا کی بیٹی ہوں مجھے رسوا نا کرو

میری حرمت کا پاس رکھو نیلام باخدا نا کرو

مجھے جہیز کے نام پہ ٹھکراتے ہیں

بازاروں سڑکوں پہ تمسخر اڑاتے ہیں

میں جو درد سہتی ہوں وہ بتاتی نہیں

گریہ نہیں کرتی آواز اٹھاتی نہیں

Saturday, 3 April 2021

مجھے ورثے میں ملا تھا سو پیارا تھا دکھ

 مجھے ورثے میں ملا تھا، سو پیارا تھا دُکھ

یعنی میں نے بھی خوشی سے ہی گزارا تھا دکھ

یار! میں نے کسی کے شہر سے جاتے ہوئے

اپنے سامان میں رکھا جو خسارہ تھا دکھ

مجھے بچپن سے ہی ادراک تھا اس رمز کا دوست

میری آنکھوں میں چمکتا ہوا تارا تھا دکھ