جون کا تپتا مہینا ہے بہت گرمی ہے
سارا ماحول دہکتا ہے بہت گرمی ہے
دھوپ ہی دھوپ کا عالم ہے جدھر بھی دیکھ
یعنی دشوار سا جینا ہے بہت گرمی ہے
حالت ایسی ہے کہ کچھ بھی نہیں کہتے بنتا
بس پریشان سی دنیا ہے بہت گرمی ہے
جون کا تپتا مہینا ہے بہت گرمی ہے
سارا ماحول دہکتا ہے بہت گرمی ہے
دھوپ ہی دھوپ کا عالم ہے جدھر بھی دیکھ
یعنی دشوار سا جینا ہے بہت گرمی ہے
حالت ایسی ہے کہ کچھ بھی نہیں کہتے بنتا
بس پریشان سی دنیا ہے بہت گرمی ہے
چاندنی بن کے جگمگاؤ تم
میری پلکوں پہ جھلملاؤ تم
میری تنہائیاں غزل بن جائیں
اتنی شدت سے یاد آؤ تم
چاند دن میں نکل پڑا کہ نہیں
آئینہ دیکھ کر بتاؤ تم
تمام اجنبی چہرے سجے ہیں چاروں طرف
مِری بہشت میں کانٹے اگے ہیں چاروں طرف
لہو میں ڈوبے ہوئے دائرے ہیں چاروں طرف
میں کیسے جاؤں کہیں حادثے ہیں چاروں طرف
کتاب درد کی پڑھ کر سنا رہی ہے حیات
اور آنسوؤں کے فرشتے کھڑے ہیں چاروں طرف
ابھی نکلو نہ گھر سے تنگ آ کے
ابھی اچھے نہیں تیور ہوا کے
فلک سے میں چلا شبنم کی صورت
زمیں نے رکھ دیا پتھر بنا کے
مِرے زخمی لبوں پر کچھ نہیں ہے
سوائے ایک لفظ بے نوا کے
بڑا غرور ہے پَل بھر کی نیک نامی کا
رواج عام ہے اس دور میں غلامی کا
امیرِ شہر نے دستار چھین لی اس کی
صِلہ عجیب دیا روز کی سلامی کا
لبِ فرات رہے پیاسے وارثِ زمزم
شکار اکیلا نہیں میں ہی تشنہ کامی کا