Showing posts with label فراق جلالپوری. Show all posts
Showing posts with label فراق جلالپوری. Show all posts

Thursday, 4 August 2022

جون کا تپتا مہینہ ہے بہت گرمی ہے

 جون کا تپتا مہینا ہے بہت گرمی ہے

سارا ماحول دہکتا ہے بہت گرمی ہے

دھوپ ہی دھوپ کا عالم ہے جدھر بھی دیکھ

یعنی دشوار سا جینا ہے بہت گرمی ہے

حالت ایسی ہے کہ کچھ بھی نہیں کہتے بنتا

بس پریشان سی دنیا ہے بہت گرمی ہے

Monday, 21 February 2022

چاندنی بن کے جگمگاؤ تم

 چاندنی بن کے جگمگاؤ تم

میری پلکوں پہ جھلملاؤ تم

میری تنہائیاں غزل بن جائیں

اتنی شدت سے یاد آؤ تم

چاند دن میں نکل پڑا کہ نہیں

آئینہ دیکھ کر بتاؤ تم

Wednesday, 24 November 2021

تمام اجنبی چہرے سجے ہیں چاروں طرف

 تمام اجنبی چہرے سجے ہیں چاروں طرف

مِری بہشت میں کانٹے اگے ہیں چاروں طرف

لہو میں ڈوبے ہوئے دائرے ہیں چاروں طرف

میں کیسے جاؤں کہیں حادثے ہیں چاروں طرف

کتاب درد کی پڑھ کر سنا رہی ہے حیات

اور آنسوؤں کے فرشتے کھڑے ہیں چاروں طرف

Friday, 12 March 2021

ابھی نکلو نہ گھر سے تنگ آ کے

 ابھی نکلو نہ گھر سے تنگ آ کے

ابھی اچھے نہیں تیور ہوا کے

فلک سے میں چلا شبنم کی صورت

زمیں نے رکھ دیا پتھر بنا کے

مِرے زخمی لبوں پر کچھ نہیں ہے

سوائے ایک لفظ بے نوا کے

Thursday, 11 March 2021

بڑا غرور ہے پل بھر کی نیک نامی کا

 بڑا غرور ہے پَل بھر کی نیک نامی کا 

رواج عام ہے اس دور میں غلامی کا 

امیرِ شہر نے دستار چھین لی اس کی 

صِلہ عجیب دیا روز کی سلامی کا 

لبِ فرات رہے پیاسے وارثِ زمزم 

شکار اکیلا نہیں میں ہی تشنہ کامی کا